Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران پر لبنان کے معاملات میں مداخلت کرنے کے لبنانی صدر جوزف عون کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ صدر عون کے بیانات سن کر ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، چوتھائی لبنانی آبادی کو ایران نے بے گھر کیا ہو اور روزانہ بمباری بھی ایران ہی کر رہا ہوایرانی وزیرِ خارجہ نے لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کر کے کہا کہ جنابِ صدر! لبنان کو اصل دشمن سے بچائیں، امریکا کے ساتھ لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا۔

    واضح رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے سی این این کو حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایران کو لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں  گرمی کی شدت میں اضافہ

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں خشک اور شدید گرم موسم کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے تاہم بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان اور مالاکنڈ میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اسی طرح باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔

    سوات، چترال اور دیر کے چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، چارسدہ، مردان اور دیگر میدانی اضلاع کے بعض علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی توقع ہے ہری پور، وزیرستان اور کرم کے بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جس سے مقامی سطح پر موسم خوشگوار ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے جبکہ ملک کے دیگر میدانی علاقوں میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،جبکہ لاہور میں اس وقت درجہ حرارت تقریباً 32 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کے بعد زیادہ سے زیادہ 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

    ماہرین کے مطابق دن کے ساتھ ساتھ اب راتوں میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا، اور کم سے کم درجہ حرارت 26 سے بڑھ کر 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جس سے حبس اور گرمی مزید محسوس ہوگی محکمہ موسمیات پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک سے دو روز کے دوران گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ متوقع ہے، جبکہ کل درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہےشہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ ہو گیا۔

    اوگرا نے مٹی کا تیل 8روپے70پیسےفی لیٹر مہنگا کردیا جس کانوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت280 روپے70پیسےفی لیٹر ہوگئی ہے نئی قیمت کا اطلاق آج سے ہی ہو گا اس سے قبل مٹی کے تیل کی قیمت272روپےفی لیٹر تھی دوسری جانب حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی 20 روپے چھتیس پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے، تاہم مٹی کا تیل مزید مہنگا کر دیا گیا ہے دوسری جانب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹرپر برقرار رکھی ہے۔

  • ایشین گیمز: عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا

    ایشین گیمز: عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا

    ایشین گیمز کے ریسلنگ فائنل میں پاکستانی کھلاڑی عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو ہرا کر گولڈ میڈل جیت لیا۔

    عائشہ بلوچ نے سری لنکا میں جاری ایشین گیمز 2026کے ریسلنگ فائنل میں بھارتی حریف کو شکست دی، عائشہ بلوچ نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران غیر معمولی اعتماد، بہترین داؤ پیچ اور اعلیٰ تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث ایشیا بھر سے آنے والی حریف کھلاڑی ان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔

    فائنل مقابلے میں عائشہ بلوچ کی تکنیکی برتری نمایاں رہی اور بھارتی ریسلر ان کے مؤثرکھیل کا مقابلہ نہ کرسکی بھارتی حریف کیخلاف فیصلہ کن فتح کے بعد عائشہ بلوچ نے سجدۂ شکر بھی ادا کیاوکٹری پوڈیم پر پاکستان کاسبز ہلالی پرچم لہرا کر عائشہ بلوچ نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، ان کی اس تاریخی کامیابی پر ملک بھر، خصوصاً بلوچستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جبکہ عوام اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کی جانب سے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

    عائشہ بلوچ کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ ملک بھر خصوصاً بلوچستان کی نوجوان لڑکیوں کے لیے حوصلے، عزم اور امید کا روشن پیغام بھی ہے۔

  • ایران جنگ کے دوران آذربائیجان میں اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف

    ایران جنگ کے دوران آذربائیجان میں اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف

    ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان سمیت مشرق وسطیٰ اور خطے کے کئی ممالک میں خفیہ فوجی اور انٹیلی جنس اڈے قائم کیے تھے، جہاں سے ایرانی سرحد کے قریب نگرانی، انٹیلیجنس جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز انجام دیے گئے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان خفیہ تنصیبات نے اسرائیل کو ایران کی شمالی، جنوبی اور مغربی سرحدو ں تک غیر معمولی رسائی فراہم کی، تاہم آذربائیجان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر اپنی ایلیٹ فوجی اور انٹیلیجنس یونٹس آذربائیجان میں تعینات کی تھیں،یہ فورسز جنوبی آذربائیجان کے متعدد مقامات پر موجود تھیں جو ایران کی شمالی سرحد سے متصل ہیں اور بعض مقامات ایرانی شہر تبریز سے محض 60 میل کے فاصلے پر واقع تھے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈو دستوں، خصوصی آپریشن فورسز اور موساد اہلکاروں نے ان مقامات سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز انجام دیے، جس سے اسرائیل کو شمالی ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں نمایاں برتری حاصل ہوئی۔

    سی این این کے مطابق آذربائیجان میں موجود یہ تنصیبات اسرائیل کے وسیع خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھیں، جس میں عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ میں قائم خفیہ اڈے بھی شامل تھے ابتدائی طور پر ان اڈوں کا مقصد ہنگامی صورتحال میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تھا، تاہم بعد میں انہیں فوجی اور انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ان تعیناتیوں کے نتیجے میں اسرائیلی افواج ایران کی جنوبی، مغربی اور شمالی سرحدوں کے گرد موجود رہیں، جس سے انہیں ایرانی علاقوں کے اندر سینکڑوں میل تک کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی اور ایران بھر میں متعدد حملوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

    تاہم آذربائیجان نے سی این این کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک کی سرزمین کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف فوجی، انٹیلی جنس یا دیگر دشمنانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ ”مکمل طور پر بے بنیاد“ ہے آذربائیجان نے ماضی میں بھی ایسے الزامات کی تردید کی ہے اور رپورٹ شائع ہونے سے قبل بھی اپنا مؤقف سی این این کو آگاہ کر دیا تھارپورٹ میں گمنام ذرائع پر انحصار کیا گیا جبکہ کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    آذربائیجان کی میڈیا ڈویلپمنٹ ایجنسی نے بھی رپورٹ کو ”من گھڑت معلومات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا، بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا اور بین الریاستی تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔

  • کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    ڈیجیٹل یوتھ موومنٹ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کی بھارت آمد اور مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر دہلی پولیس نے شہر بھر میں خصوصاً جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آج کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک کے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف پُرامن احتجاج ہونے جا رہا ہے جس کی قیادت کرنے پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے بھی بھارت پہنچ چکے ہیں

    رائٹرز کے مطابق بھارت کی وائرل نوجوان تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچے اور انہوں نے جنتر منتر کے مقا م پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کی، یہ پہلا موقع ہے کہ اس آن لائن تحریک نے اپنی بڑی ڈیجیٹل موجودگی کو منظم عوامی احتجاج میں تبدیل کیا ہے۔

    ابھیجیت دیپکے جو گزشتہ 2 برس سے امریکا میں مقیم تھے، نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے احتجاج کے دوران دارا لحکومت کے حساس علاقے جنتر منتر کے اطراف سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور پولیس نے کئی سڑکیں بند کر دیں، جبکہ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے میں نعرے بازی کی۔

    بھارتی پولیس حکام کے مطابق مرکزی دہلی اور جنتر منتر کے گرد ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو اہم مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں احتجاجی مقام تک پہنچنے والے تمام مرکزی راستوں پر کئی سطحوں پر بھاری بیریکیڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کے داخلے کو منظم اور کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینئر پولیس افسران مقام کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ممکنہ ہجوم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا رہی ہے،دہلی پولیس نے سیکیورٹی اقدامات کے تحت ڈرون یونٹس بھی تعینات کر رکھے ہیں جو نئی دہلی میں ہجوم کی تعداد، طلبہ کے اجتما عات اور نقل و حرکت کے انداز کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے عہدیداروں نے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے تمام طلبہ حامیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل طور پر پرامن رہیں، کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں، قومی پرچم (ترنگا) اپنے ساتھ رکھیں اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں۔

    حکومت کی جانب سے اس تحریک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کیا جا چکا ہے، جس پر تنظیم نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کے ایک سینیئر وزیر نے اس گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخالف عناصر سے رابطے رکھتا ہے، تاہم تحریک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

    یہ تحریک مختصر عرصے میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کر چکی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے وزیرِاعظم مودی کی سیاسی شبیہ پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ حکمران جماعت حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیاب رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی نوجوان طبقے میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 40 کروڑ افراد موجود ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس بڑی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کی فراہمی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

  • ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    امریکا کی جانب سےساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں ’دشمن اڈوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔

    سی این این اور عرب نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ بعد ازاں کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے 7 میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا، ان حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں موجود ’دشمن اڈوں‘ کو ایرو اسپیس فورس کے میزائلوں سے نشانہ بنایا ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے جواب میں ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ بھی کی۔

    کشیدہ صورتحال کے باعث بحرین میں ہفتے کی صبح خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت جاری کی۔

    اسی طرح کویتی فوج نے بھی ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کرنے کا اعلان کیا، کویت میں متعدد فضائی خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ بعض پروازوں کو بھی عارضی طور پر انتظار کی حالت میں رکھا گیا۔

    ادھر ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرے،اس دوران لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے علاقائی تنازعات میں لبنان کو ’سودے بازی کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

  • محسن نقوی  کی  پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

    محسن نقوی کی پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

    بشکیک: وزیر داخلہ محسن نقوی نے روس سمیت پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں کیں-

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستا ن کے وزرائے داخلہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف کے ساتھ ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی وطن واپسی اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

    تاجکستان کے وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ کے ساتھ ملاقات میں افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں، دہشت گردوں کے کیمپوں اور منشیات کی پیداوار سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی سرگرمیاں پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

    ازبکستان کے وزیر داخلہ میجر جنرل عزیز تاشپولاتوف کے ساتھ ملاقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ تربیتی پروگراموں پر غور کیا گیا، جبکہ دونوں وزارتوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    کرغزستان کے وزیر داخلہ نیاز بیکوف اولان اوموکانوچ کے ساتھ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا محسن نقوی نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ایس سی او اجلاس کے بہترین انتظامات پر اپنے ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

    قازقستان کے وزیر داخلہ یرژان سادینوف کے ساتھ ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے وزارت داخلہ کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

  • ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں اور بالآخر اس کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

    وسکونسن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر طے نہیں ہوتے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو طاقتور اور غیور سمجھتا ہے ایران کے ساتھ معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی موجودہ صورتحال بھی مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے امریکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

  • طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی کے نتیجے میں افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

    ناروے کی ریفیوجی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جاری معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت نے شہریوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے طالبان رجیم کی ناکام اور سخت پالیسیوں کے باعث ملک سیاسی، اقتصادی اور انسانی مسائل کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے ملک کی تقریباً آدھی آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں افغان شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے طالبان رجیم کے دوران 400 سے زائد صحت کے ادارے بند ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بنیادی طبی سہولیات اور علاج سے محروم ہو گئے ہیں افغا نستا ن عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کے آدھے حصے کو عملی طور پر نظام سے باہر کر دیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچہ، طالبان رجیم کی ناکامی اور نااہلی نے افغان عوام کو مکمل طور پر عالمی امداد کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے افغانستان ایک دہشت گرد گروہ کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔