Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کی یقینی ضمانت موجود نہ ہو۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بیان آج صبح منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران دیا کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،ایران کے لیے واحد معیار یہ ہے کہ وہ اپنی جانب سے کسی بھی عہد و ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے عملی اور ٹھوس نتائج حاصل کرے۔

    یہ بیان انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے اور پارلیمانی پریزیڈیم کے ہمراہ حلف اٹھانے کے بعد دیا کہا کہ تہران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب اس بات کا یقین ہو کہ ایرانی عوام کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں اور معاہدے کے نتائج عملی طور پر سامنے آ چکے ہیں،محض وعدوں یا یقین دہانیوں کی بنیاد پر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایٹم بم حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گااگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

  • کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے، شرجیل انعام میمن

    کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے، شرجیل انعام میمن

    سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم بے بنیاد الزامات اور پرانی فرسودہ کہانیوں کے سہارے اپنی سیاست زندہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم کی سیاست ہمیشہ نعروں، الزامات اور بحران پیدا کرنے کے گرد گھومتی رہی ہے، آج بھی وہی پرانا طرزِ عمل دہرایا جا رہا ہے، صوبائی خود مختاری، آئینی اختیارات اور بلدیاتی نظام کو سب سے زیادہ ایم کیو ایم نے متنازع بنانے کی کوشش کی۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے زمینی حقائق ہیں جنہیں کسی بھی پروپیگنڈے سے جھٹلایا نہیں جا سکتا، یلو لائن، شاہراہ بھٹو اور دیگر منصوبے ثبوت ہیں کہ سندھ حکومت عملی کام پر یقین رکھتی ہے، کسی بھی عوامی مقام کے حوالے سے اگر کوئی قانونی یا انتظامی مسئلہ ہے تو اس کا حل عدالتوں اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ہونا چاہئے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ افسوس ہے کہ جو عناصر برسوں اپنی ناکام انتظامیہ اور مفاداتی سیاست کے ذریعے شہر کے مسائل بڑھاتے رہے، آج دوبارہ خود کو نجات دہندہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو نہ صرف اختیارات دیے ہیں بلکہ مالی وسائل اور قانونی سپورٹ بھی فراہم کی ہے،کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے، جو عناصر ترقی کے ہر قدم پر تنقید کو اپنا سیاسی ہتھیار بناتے ہیں، وہ دراصل خود اپنے سیاسی زوال کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے (قلعۃ الشقیف) پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع اس اہم اور تاریخی مقام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے قلعے پر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔

    صلیبی دور میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی چوٹی پر واقع ہے اور لبنان۔اسرائیل سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر (9 میل) کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث اسے غیرمعمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے،تاحال لبنانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی فوری ردعمل یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    بیوفورٹ قلعہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحفظ میں شامل ایک تاریخی ورثہ ہے اسرائیل ماضی میں اس قلعے اور اس کے اطراف کے علاقے پر 18 برس تک قابض رہا تھا، تاہم وہ 2000 میں لبنان سے انخلا کے دوران یہاں سے واپس چلا گیا تھااسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری توسیع پذیر فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ۔ اسرائیل پر اس جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بیوفورٹ قلعے پر قبضے کو ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا ہےٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گولانی بریگیڈ کی قیادت میں اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی کو عبور کرتے ہوئے بیوفورٹ کی پہاڑی چوٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایات اور میری رہنمائی میں اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا، دریائے لیتانی کو عبور کیا اور بیوفورٹ ریج پر قبضہ کیا، جو الجلیل (گیلیلی) کی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم تزویراتی مقام ہے اس آپریشن کو پہلے خفیہ رکھا گیا تھا اور اس پر اطلاعاتی پابندی عائد تھی، علاقے میں لڑائی ابھی بھی جاری ہے اور اسرا ئیل حزب اللہ کو مزید کمزور کرنے اور اپنی شمالی سرحد کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

    مبصرین کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوج کی یہ پیش قدمی گزشتہ 25 برس سے زائد عرصے کے دوران ملک کے اندر سب سے گہری دراندازی شمار کی جا رہی ہے-

  • منی لانڈرنگ کیس:جیکولین فرنینڈس کیخلاف  فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    منی لانڈرنگ کیس:جیکولین فرنینڈس کیخلاف فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    بھارتی عدالت نے 200 کروڑ بھارتی روپے کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں مشہور بولی ووڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس سمیت 17افراد پر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ ان تمام لوگوں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں اب اس کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہونے والا ہے اور تمام ملزمان کو 3 جون کو فرد جرم کی باقاعدہ کاروائی کے لیےعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے عدالت کے حکم میں جن افراد کے نام شامل ہیں ان میں سکیش چندر شیکھر، ان کی اہلیہ لینا ماریا پال، پنکی ایرانی، دیپک رمنانی اور اداکارہ جیکولین فرنینڈ س سمیت 17 ملزمان شامل ہیں۔

    انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق سکیش چندر شیکھر نے مبینہ طور پر جعل سازی، بھتہ خوری اور سرکاری شخصیات کا روپ دھار کر 200 کروڑ بھارتی روپے سے زائد رقم حاصل کی، بعد ازاں انہوں نے ان پیسوں سے لگژری گاڑیاں، جائیدادیں اور مہنگے تحائف خریدے، جیکولین فرنینڈس سکیش چندر شیکھر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھیں اور انہوں نےسکیش چندر شیکھر سے کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی تحائف اور مالی فوائد حاصل کیے۔

    تفتیشی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ جیکولین کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ پیسہ اور تحائف غیر قانونی کمائی سے آئے ہیں دوسری طرف، جیکولین فرنینڈس کا کہنا ہے کہ وہ اس سارے فراڈ سے بالکل بے خبر تھیں اور انہیں نہیں معلوم تھا کہ سکیش کون ہے اور یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے انہوں نے اس کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن ای ڈی نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ جیکولین سب کچھ جانتی تھیں۔ اس مخالفت کے بعد جیکولین نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی، 0 ای ڈی نے کیس کے دوران موبائل فونز، واٹس ایپ چیٹس، ٹیلی گرام پیغامات، بینک ٹرانزیکشنز، کال ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی عدالت میں پیش کیے ہیں۔

  • سربیا کے صدر کی بھارتی ایس-400 دفاعی نظام سے متعلق پاکستانی مؤقف کی تصدیق

    سربیا کے صدر کی بھارتی ایس-400 دفاعی نظام سے متعلق پاکستانی مؤقف کی تصدیق

    وسطی یورپ کے ملک سربیا کے صدر نے بھارتی ایس-400 دفاعی نظام سے متعلق پاکستانی مؤقف کی تصدیق کر دی ہے۔

    آپریشن سندور کے دوران بھارت کی نام نہاد دفاعی برتری اور اس سے متعلق کیے جانے والے دعوؤں پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں،سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک حالیہ انٹرویو میں بطور غیر جانبدار تجزیہ کار زمینی شواہد اور دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر اپنے خیالات کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران چینی ساختہ ہتھیاروں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    سربیا کے صدر کے مطابق بھارتی ایس-400 دفاعی نظام کے ریڈار کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا چینی سیٹلائٹس کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ فرانسیسی ریڈار کہاں تباہ ہوا اور ایس- 400 کے ریڈار نظام کو کہاں نشانہ بنایا گیا، بھارتی تردید کے باوجود دستیاب رپورٹس ایس- 400 ریڈار سسٹم کے متاثر ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں، بھارت کی جانب سے اس دعوے کی تردید کے باوجود دستیاب رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایس-400 ریڈار سسٹم متاثر ہوا تھا۔

  • جعلی چیئرپرسن بن کر سرکاری پروٹوکول لینے کی کوشش،خاتون ساتھی سمیت گرفتار

    جعلی چیئرپرسن بن کر سرکاری پروٹوکول لینے کی کوشش،خاتون ساتھی سمیت گرفتار

    جہلم میں وزیراعلیٰ شکایات سیل کی جعلی چیئرپرسن بن کر سرکاری پروٹوکول اور سہولیات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی ایک خاتون کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے-

    جہلم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب شکایات سیل کی جعلی چیئرپرسن بننے والی خاتون مہناز سعید کو گرفتار کر لیا ہےملزمہ نے جہلم سٹی پولیس کو خود کو وزیراعلیٰ شکایات سیل کی چیئرپرسن کے طور پر تعارف کرایا اور سرکاری پروٹوکول و خصوصی سہولیات کا مطالبہ کیا، ملزمہ کے دعوے پر شک ہونے پر متعلقہ وزیراعلیٰ شکایات سیل سے رابطہ کیا گیاجہاں سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ مہناز سعید کا اس عہدے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ خود کو جعلی طور پر ظاہر کر رہی تھیں۔

    پولیس کے مطابق جعلسازی ثابت ہونے پر ملزمہ کو اس کے ایک ساتھی سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران ان کی گاڑی سے مبینہ طور پر شراب بھی برآمد ہوئی ہے، جس پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے ملزمہ نے پولیس سے سرکاری پروٹوکول اور سہولیات کی ڈیمانڈ بھی کی تھی، جس سے اس کے دعوؤں پر مزید شبہات پیدا ہوئے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق ملزمہ کا تعلق مظفرگڑھ سے بتایا جا رہا ہے اور بعض ذرائع کے مطابق اس کا سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے بھی تعلق ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری مذاکرات گزشتہ روز کسی حتمی اور مثبت نتیجے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی اپنی کال برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی مثبت اور حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے، جس کے بعد 9 جون کو ہڑتال کی کال بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران حکومت نے مسلسل لچک اور مفاہمت کا مظاہرہ کیا اور تمام متعلقہ امور پر بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، تاہم اس کے باوجود فریقین کسی قابلِ قبول نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

    حکومتی مؤقف کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب عوامی مسائل کے حل، معاشی سرگرمیوں کے تسلسل اور ریاستی استحکام کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کے راستے پر قائم رہنے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اگر مذاکرات جاری تھے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا عمل موجود تھا تو پھر ایسی کون سی مجبوری تھی جس کے باعث ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کے آپشن کو ترجیح دی،جس قیادت کا منشور مسائل کے حل کے بجائے مسلسل احتجاج اور دھرنوں پر مبنی ہو، وہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی کشیدگی کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی ہے ذمہ دار قیادت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل راستے تلاش کرے، نہ کہ ایسے اقدامات اختیار کرے جو معمولاتِ زندگی کو متاثر کریں۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام سکون، ترقی، معاشی استحکام اور معمولاتِ زندگی کے تسلسل کے خواہاں ہیں، ایسی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو مسائل کے حل، باہمی مفاہمت اور ریاستی استحکام کو فروغ دے، نہ کہ ہر چند ماہ بعد ہڑتالوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے نظامِ زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بنے، حکومتی حلقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے رہیں گے اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

  • پیپلز پارٹی نےغیر قانونی کاموں میں رکاوٹ بننے پر کامران ٹیسو ری کو عہدے سے ہٹایا،فاروق ستار

    پیپلز پارٹی نےغیر قانونی کاموں میں رکاوٹ بننے پر کامران ٹیسو ری کو عہدے سے ہٹایا،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو ان کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ پیپلز پارٹی کے مبینہ غیر قانونی کاموں میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

    کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے منصب سے ہٹانے کی اصل وجوہات عوام کے سامنے آنی چاہئیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کو کامران ٹیسوری سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، جیسا کہ رانا ثناء اللہ کہہ رہے ہیں، تو پھر انہیں عہدے سے کیوں ہٹایا گیا،پیپلز پارٹی نے کامران ٹیسوری کو اس لیے ہٹایا کیونکہ وہ ان کے مبینہ غیر قانونی اقدامات اور مفادات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے، بلدیاتی انتخابات سے قبل کامران ٹیسوری کو دوبارہ گورنر سندھ بنایا جانا چاہیے تاکہ صوبے میں شفاف اور منصفانہ سیاسی ما حول یقینی بنایا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ بالخصوص اندرون سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کی سیاسی گرفت کمزور ہو رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس جماعت کا خاتمہ شروع ہو جائے گا آئین کے آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد ایم کیو ایم پاکستان کا گزشتہ 30 برس سے بنیادی مطالبہ ہے جبکہ 28ویں آئینی ترمیم بھی ان کی جماعت کا پیش کردہ تصور ہے، جسے آج نہیں تو کل نافذ کرنا پڑے گا، مقامی حکومتوں کے اختیارات کے معاملے پر دیگر سیاسی جماعتیں بھی ایم کیو ایم کے مؤقف کی تائید کر رہی ہیں۔

    رہنما ایم کیو ایم نے کراچی میں زمینوں پر قبضوں اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہائیکور ٹ کے فیصلے کے باوجود بعض منصوبوں کو این او سی کیسے جاری کیے گئے 62 ایکڑ پر مشتمل ہل پارک کی زمین کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تا ہم اب ایسے اقدامات مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

    فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ کراچی کی تمام زمینوں کی لیز کا اختیار کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے پاس ہونا چاہیے کراچی کو وفاق کے زیر انتظا م دینے کی بحث نئی نہیں، کیونکہ 1947 سے 1970 تک یہ شہر وفاقی نگرانی میں رہا ہے قبضہ مافیا نے شہر کے وسائل کو نقصان پہنچایا اور اب کراچی کے عوام ایسے عناصر کو معاف نہیں کریں گے، ایم کیو ایم قبضہ مافیا کو کھلا چیلنج دیتی ہے اور شہر میں جہاں کہیں بھی زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی سرگرمیاں ہوں گی، ان کے خلاف آواز بلند کی جائے گی،بعض جماعتیں، خصوصاً جماعت اسلامی، قبضوں کے بعض معاملات پر خاموش کیوں ہیں؟-

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 18 برس کے دوران کراچی کو قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، پی ای سی ایچ ایس سمیت مختلف علاقوں میں زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں جبکہ شہر کی پہاڑیوں کو کاٹ کر پلاٹ نکالے جا رہے ہیں اور انہیں مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے کراچی بتدریج جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوگوں کو پہاڑ فروخت کر دیے گئے اور بعد میں انہیں خود ہی پہاڑ کاٹنے کا کہا گیا۔

    انہوں نے میئر کراچی سے مطالبہ کیا کہ وہ قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کریں ان کا الزام تھا کہ کے ایم سی کے بعض افسران قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں فاروق ستار نے یاد دلایا کہ جب وہ خود میئر کراچی تھے تو انہوں نے ہل پارک کی اراضی پر ہونے والے قبضے ختم کرائے تھے ایم کیو ایم آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور تیاری کے ساتھ حصہ لے گی اور کراچی کے حقوق، اختیارات اور وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • فُٹ بال کلب ٹیم پی ایس جی کی چیمپئنز لیگ فتح کے بعد پیرس میں ہنگامے، 400 سے زائد گرفتاریاں

    فُٹ بال کلب ٹیم پی ایس جی کی چیمپئنز لیگ فتح کے بعد پیرس میں ہنگامے، 400 سے زائد گرفتاریاں

    یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا مظاہرین اور پولیس کے در میان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی، ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

    مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 7 پولیس اہلکار زخمی ہوئے بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوافرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے،حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔

    واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔

  • مس فرانس نے 73 سالوں بعد مس یونیورس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا

    مس فرانس نے 73 سالوں بعد مس یونیورس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا

    مس فرانس نے 73 سالوں بعد مس یونیورس 2026 کے مقابلے میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق مس یونیورس 2026 کیلئے ابھی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم اس سے قبل ہی مس فرانس کی کمپنی کی جانب سے ایک اہم اعلان کیا گیا ہے،فرانس نے مس یونیورس کے مقابلے میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، فرانس اس مقابلے میں 1952 سے حصہ لے رہا ہے تاہم اب 7 دہائیوں بعد اس مقابلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

    مس فرانس کی کمپنی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آئندہ ایڈیشن کے لیے کیا گیا ہے، مس فرانس کی تنظیم مقابلے کی مستقبل کی پیشرفت پر دھیان دیتی ہے اور مستقبل قریب میں دوبارہ شرکت کرنے کے قابل ہونے کی امید رکھتی ہے،مسلسل تنازعا ت اور تنظیمی خرابیوں سے لے کر مقابلہ کے مالکان کی مجرمانہ شمولیت کے ارد گرد بڑھتے ہوئے الزامات تک، مقابلے کی تصویر تیزی سے نقصان دہ ہوتی جا رہی ہے،کسی وقت، اپنی ساکھ کی حفاظت دوڑ میں تاج رکھنے سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اور مس فرانس نے اسے واضح طور پر سمجھا۔

    اپنے سرکاری بیان میں، تنظیم نے وضاحت کی کہ مس فرانس کی اقدار اور شناخت بین الاقوامی مقابلے کے حالیہ ارتقاء اور سمت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، خاص طور پر 2025 کے ایڈیشن کے دوران مشاہدہ کیے گئے بہت سے مسائل کے بعد،مقابلے کے شائقین کے لیے ایک افسوسناک لمحہ، لیکن ایمانداری سے، یہ فیصلہ ناگزیر محسوس ہوا-

    دوسری جانب مس یونیورس انتظامیہ کی جانب سے بھی مقابلہ حسن میں فرانس کی نمائندگی نہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔