Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • کراچی میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، الیکٹرک بس سروس متاثر

    کراچی میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، الیکٹرک بس سروس متاثر

    کراچی میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے اثرات اب شہری ٹرانسپورٹ نظام پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث الیکٹر ک بس سروس جزوی طور پر متاثر ہو گئی ہے۔

    پیپلز بس سروس کی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ 3 روز سے مہران ڈپو کو بجلی کی فراہمی معطل ہے، جس کے نتیجے میں الیکٹرک بسوں کو چارج کرنے کا عمل متا ثر ہوا، اس مسئلے کے باعث انتظامیہ نے عارضی طور پر ای وی بسوں کے متبادل کے طور پر ہائبرڈ بسیں مختلف روٹس پر چلانا شروع کر دی ہیں تاکہ مسا فر وں کو کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے، ای وی ون روٹ ملیر کینٹ سے سی ویو تک جبکہ ای وی تھری روٹ ملیر کینٹ سے نمائش تک سرو س فر اہم کرتا ہے۔

    اسی طرح آر ون پنک بس سروس کھوکھرا پار سے ڈاکیارڈ تک چلائی جاتی ہے۔ یہ تمام روٹس مہران ڈپو سے آپریٹ ہوتے ہیں اور بنیادی طور پر الیکٹرک بسو ں کے لیے مختص ہیں،بس سروس حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر مہران ڈپو کو بجلی کی فراہمی جلد بحال نہ کی گئی تو ان روٹس پر سروس جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا اور انتظامیہ کو آپریشن معطل کرنے کا فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہری متاثر ہو سکتے ہیں۔

  • تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔

    عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل 93 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے، ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے، ماہرین نے اس اضافے کی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان متوقع ڈیل کا نہ ہونا قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر بھی پڑتا ہے، پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے، سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.66 سے بڑھ کر 3.95 درہم فی لیٹر کر دی گئی ہے، اسپیشل 95 پیٹرول 3.55 سے بڑھ کر اب 3.83 درہم فی لیٹر کا ہو گیا ہے-

  • قلعہ عبداللہ میں قبائلی رہنما سمیت 6 افراد قتل

    قلعہ عبداللہ میں قبائلی رہنما سمیت 6 افراد قتل

    قلعہ عبداللہ میں قبائلی رہنما سمیت 6 افراد قتل کو قتل کر دیا گیا-

    قلعہ عبداللہ میں میزئی اڈا بازار میں فائرنگ کے نتیجے میں قبائلی رہنما داد محمد کاکڑ سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے حملہ آور فائرنگ کے بعد موٹرسائیکل پر فرار ہو گئے لاشوں کو میزئی ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا واقعے کے خلاف لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ چمن شاہراہ پر دھرنا دیا، جس کے باعث سڑک بلاک ہو گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کی جانب سے لبنان میں تقریخی قلعے بیفورٹ پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جارحیت کو وسعت دینے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ایک ہنگامی اجلا س کرے گی، اجلاس کی درخواست فرانس کی طرف سے کی گئی تھی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں جاری بڑی کشیدگی کا کو ئی جواز نہیں بنتا، انہوں نے لڑائی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ لبنان پر جنگ اُس وقت مسلط کی گئی جب حزب اللہ نے امریکی اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کے بدلے میں اسرائیل کی طرف راکٹ داغے۔

  • کراچی میں آج سے لین کی خلاف ورزی پر ای چالان نافذ

    کراچی میں آج سے لین کی خلاف ورزی پر ای چالان نافذ

    کراچی: آج سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف ای چالان کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔

    ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں یہ اقدام صرف شارع فیصل تک محدود رکھا گیا ہے، تاہم آئندہ مرحلوں میں اس نظام کو شہر کی دیگر اہم سڑکوں اور شاہراہوں تک بھی توسیع دی جائے گی اس اقدام کا مقصد شارع فیصل پر ٹریفک کے نظام کو مزید منظم اور مؤثر بنانا ہے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیاں مقررہ لین میں چلائیں تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور حادثات میں کمی لائی جا سکے سڑکوں پر نصب کیمروں کی مدد سے لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے گی، جس کے بعد ای چالان متعلقہ افراد کو موبائل فون یا گھر کے پتے پر بھیج دیا جائے گا۔

    ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے آغاز سے قبل عوامی آگاہی مہم بھی چلائی گئی تھی تاکہ شہریوں کو نئے نظام سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں، ٹریفک نظم و ضبط برقرار رکھنے میں عوام کا تعاون انتہائی اہم ہے لین ڈسپلن کو یقینی بنانے سے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، جبکہ حادثات میں کمی اور محفوظ سفر کو فروغ ملے گا۔

  • گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے، جس کے لیے ووٹنگ 7 جون کو ہوگی، جبکہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے مختلف اضلاع میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون کو ہوں گے اور مجموعی طور پر 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدوار میدان میں ہیں،گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق گلگت حلقہ 1 سے 34، حلقہ 2 سے 58 اور حلقہ 3 سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں نگر 1 سے 38 اور نگر 2 سے 30 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار سیاسی قسمت آزمائی کریں گے، اسکردو 1 سے 33، اسکردو 2 سے 23، اسکردو 3 سے 18 اور اسکردو 4 سے 25 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔

    اسی طرح کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں گانچھے 1 سے 15، گانچھے 2 سے 29 اور گانچھے 3 سے 15 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں استور 1 سے 19 جبکہ استور 2 سے 57 امیدوار مدمقابل ہوں گے، اسی طرح دیامر 1 سے 29، دیامر 2 سے 15، دیامر 3 سے 14 اور دیامر 4 سے 11 امیدوار میدان میں ہیں، غذر 1 سے 20، غذر 2 سے 42 اور غذر 3 سے 25 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں، گلگت 2 میں سب سے زیادہ 58 امیدواروں کے درمیان بڑا مقابلہ ہوگا، جبکہ دیامر 4 میں سب سے کم 11 امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہوں گے۔

    گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے اور پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی جبکہ موجودہ گورنر مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے اس کے بعد 2015 میں مدت ختم ہونے پر دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ن لیگ کو اکثریت ملی اور حافظ حفیظ الرحمان دوسرے وزیراعلیٰ بنے ن لیگ کی حکومت نے بھی مدت پوری کی اور سال 2020 میں تیسرے عام انتخابات ہوئے جن میں اس وقت وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی اور خالد خورشید تیسرے وزیراعلیٰ بن گئے۔

    تاہم پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور 2023 میں خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت ختم ہو گئی، بعد ازاں حاجی گلبر خان کی سربراہی میں نیا گروپ سامنے آیا اور مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بن گئے اب حاجی گلبر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد چوتھے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

  • ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے اپنے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تباہ شدہ زیرِ زمین میزائل تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا اور بھاری مشینری، بلڈوزرز اور ڈمپ ٹرکوں کی مدد سے بند سرنگوں اور راستوں کو کھول دیا امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈوں کے داخلی راستے تباہ کرکے اس کی میزائل صلاحیت محدود کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے متعدد مقامات پر بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران نے 18 زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر حملوں کے بعد بند ہونے والے 69 میں سے 50 سرنگی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں، جبکہ کئی تباہ شدہ سڑکیں بھی مرمت یا دوبارہ تعمیر کر دی گئی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ کشیدگی یا حملے شروع ہوئے تو ایران اب بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن اسٹڈیز سے وابستہ تجزیہ کار سیم لیئر کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور جب تک لانچرز اور عملہ موجود ہے، ایران میزائل فائر کرتا رہ سکتا ہے،ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کئی سو میٹر گہری چٹانوں کے نیچے قائم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنگ کے دوران ایران مسلسل خطرات کے باوجود سرنگوں کی کھدائی اور بحالی میں مصروف رہا، جبکہ امریکا اور اسرائیل اکثر ان مشینوں کو بھی نشانہ بناتے رہے جو ملبہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران بارہا ایران کے میزائل پروگرام کو بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنا جنگ کے اہم اہداف میں شامل بتایا تھا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سی این این کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان شان پارنل نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً 1000 میزائل زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ موجود ہیں، جبکہ ایران کا میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔

  • ایرانی صدر کے استعفیٰ سے متعلق افواہوں پر تہران کا سخت ردعمل

    ایرانی صدر کے استعفیٰ سے متعلق افواہوں پر تہران کا سخت ردعمل

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مبینہ استعفے سے متعلق غیر ملکی میڈیا میں چلنے والی خبروں کو ایرانی حکومت نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔

    ایران کی انفارمیشن کونسل کے سربراہ الیاس حضرتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ صدر کے استعفے یا عہدہ چھوڑنے سے متعلق تمام دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں۔

    انہوں نے ان خبروں کو پھیلانے والے ذرائع کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانیے کا مقصد ایران کے اندر سیاسی بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے تاہم ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا صدر مسعود پزشکیان اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق ادا کر رہے ہیں اور ریاستی امور کی انجام دہی میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تبدیلی نہیں آئی۔

    قبل ازیں بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صدر نے مبینہ طور پر استعفیٰ سپریم لیڈر کے دفتر کو ارسال کیا ہے اور حکومت کے اندر اختیارات سے متعلق اختلافات بڑھ رہے ہیں،تاہم تہران کی جانب سے ان تمام رپورٹس کو محض افواہیں اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا ہے.

  • امریکا آسٹریلیا کو سیکنڈ ہینڈ  ورجینیا کلاس آبدوزیں دے گا

    امریکا آسٹریلیا کو سیکنڈ ہینڈ ورجینیا کلاس آبدوزیں دے گا

    امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے تاریخی ’آوکس‘ سیکیورٹی معاہدے میں ایک اہم ترین تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت امریکا اب آسٹریلیا کو ایک بھی نئی جوہری آبدوز فراہم نہیں کرے گا، بلکہ اس کی جگہ تینوں سیکنڈ ہینڈ (استعمال شدہ) ورجینیا کلاس آبدوزیں دی جائیں گی۔

    آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی بھی نئی ورجینیا کلاس کشتی نہ خریدنے کا مقصد نظام کو آسان ترین بنانا ہے اس سے قبل آسٹریلیا کو ایک نئی اور 2 پرانی آبدوزیں ملنے کی توقع تھی، تاہم اب تینوں ہی استعمال شدہ آبدوزیں خریدنے سے آسٹریلیا کے دفاعی بجٹ میں خطیر رقم کی بچت ہوگی۔

    آسٹریلوی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ اگرچہ اس تبدیلی سے طویل المدتی معاہدے کی مجموعی لاگت پر کوئی بنیادی اثر نہیں پڑے گا، جس کا تخمینہ اب بھی کم از کم 370 ارب ڈالرز ہے، لیکن تینوں استعمال شدہ آبدوزوں کے انتخاب سے آسٹریلوی عملے کے لیے تربیت اور آپریشنل امور انتہائیجوہری آبدوز آسان اور سستے ہو جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس راستے پر چلتے ہوئے ہر ممکنہ کفایت شعاری کے آپشن کو تلاش کررہے ہیں، جو مجموعی پروگرام کی لاگت میں ایک مفید مالیاتی بچت کا باعث بنے گا آوکس معاہدے کی لاگت اس کے پورے دورانیے کے دوران آسٹریلیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا محض 0.15 فیصد بنتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے ایک مشترکہ بیان میں آبدوزوں کی فراہمی کے اس معاہدے میں کی جانے والی حالیہ ترمیم کی باقاعدہ تصدیق کی تھی اس نئی حکمت عملی کے تحت سال 2030 کے اوائل سے آسٹریلوی عملہ ان استعمال شدہ امریکی آبدوزوں پر باقاعدہ فرائض سرانجام دینا شروع کر دے گا، جس سے خطے میں دفاعی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

  • طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کے جنسی اورانسانیت سوزمظالم دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے لگے اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رہنما اورجنگجوؤں نے خواتین کے جنسی تشدد کا ارتکاب کیا افغان انٹرنیشنل کے طالبان حکام اورجنگجوؤں نے افغان خواتین کوانفرادی اوراجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،طالبان حکام خواتین کی جبری شادیوں میں ملوث ہیں ۔

    یوناما رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے احتجاجی خواتین کو حراست میں لے کرتشدد،بدسلوکی اورجنسی استحصال کا نشانہ بنایا افغانستان کی قومی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ معاملے کی آزاد، شفاف اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں ۔