Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • غزہ میں قتل عام، برطانوی صحافی نے لائیو شو میں اسرائیلی سفیر کو لاجواب کردیا

    غزہ میں قتل عام، برطانوی صحافی نے لائیو شو میں اسرائیلی سفیر کو لاجواب کردیا

    غزہ میں فلسطینیوں پر اتنے مظالم ڈھائے گئے کہ اسرائیل کی حمایت کرنے والے بھی مخالف ہوگئے،سخت اور بے باک سوالات کی وجہ سے مشہور برطانوی صحافی پیئرز مورگن نے فلسطین اسرائیل حالیہ جنگ کے معاملے پر اسرائیلی سفیر کو لاجواب کر دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی صحافی پیئرز مورگن نے اسرائیلی سفیر کو لاجواب کردیا پیئرز مورگن نے سوال کیا کہ آپ نے کتنے فلسطینی بچوں کو قتل کیا جس پر اسرائیلی سفیر تعداد نہ بتاسکیں، اور انکار کرتی رہیں،، صرف اتنا کہہ سکیں میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ پیئرز مورگن کا کہنا تھا اسرائیلی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے حماس کے 30 ہزار جنگجوؤں کو قتل کیا لیکن افسوس کے ساتھ ان کے پاس یہ ڈیٹا نہیں ہے کہ غزہ میں کتنے بچوں کو قتل کیا جا چکا ہے-

    پیئرز مورگن نے بدھ کے روز اسرائیل کی برطانیہ میں سفیر تزیپی ہوتوویلی کو ایک انٹرویو میں آڑے ہاتھوں لیا، اور الزام لگایا کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے،مورگن نے سوال اٹھایا کہ اسرائیل غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت کیوں نہیں دیتا، جبکہ خطہ 7 اکتوبر 2023 سے مسلسل اسرائیلی محاصرے میں ہے؟

    برطانوی صحافی نے پوچھا کہ آپ بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ جانے کیوں نہیں دیتے تاکہ وہ وہاں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رپورٹنگ کر سکیں، بغیر اس کے کہ انہیں اسرائیلی فوج ساتھ لے کر چلے؟،مورگن کے ان سخت سوالات نے اسرائیلی سفیر ہوتوویلی کو دفاعی پوزیشن پر لا دیا، جب کہ انہوں نے اسرائیل کے اس مؤقف کا دفاع کیا کہ صحافیوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 54 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، اگرچہ وزارت کی جانب سے ہلاک ہونے والوں میں جنگجو اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا۔

    مورگن کا کہنا تھا کہ جب تک بین الاقوامی میڈیا کو زمینی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسرائیل کے بیانات پر شکوک و شبہات برقرار رہیں گے۔

  • آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی،آئی جی آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی،آئی جی آزاد کشمیر

    مظفر آباد: آئی جی آزاد کشمیر رانا عبدالجبار نے کہا ہےکہ آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی،دہشتگرد زرنوش آزاد کشمیر میں خوارج کا ٹھکانہ بنارہا تھا-

    مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے کہا کہ گزشتہ روز دہشتگردوں کی موجودگی اطلاع پر پولیس نے حسین کوٹ میں کارروائی کی جس دوران دہشتگردوں نے پولیس پر دستی بم اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

    آئی جی رانا عبدالجبار نے بتایا کہ مقابلے میں فتنہ الخوارج کے مقامی سربراہ زرنوش سمیت 4 دہشتگرد مارے گئے جب کہ مقابلے میں پولیس کے 2 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے،وزیراعظم آزاد کشمیر نے شہید اہل کاروں کے ورثا کےلیے فی کس ایک کروڑ روپے جب کہ زخمی اہلکاروں کو 20، 20 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

    چھکا کھانے کے بعد بولر کا بیٹر پر دھاوا، ویڈیو وائرل

    آئی جی رانا عبدالجبار نے مزید بتایا کہ دہشتگرد زرنوش آزاد کشمیر میں خوارج کا ٹھکانہ بنارہا تھا، افغانستان فرار ہونے والے دہشتگرد ڈاکٹر عبدا لرؤف اورغازی شہزاد دشمن ملک کی پراکسیز بنے ہوئے ہیں، آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی، حکومت پاکستان کے ذریعےافغانستان کی حکومت کو شواہد مہیا کریں گے۔

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

  • چھکا کھانے کے بعد بولر کا بیٹر پر دھاوا، ویڈیو وائرل

    چھکا کھانے کے بعد بولر کا بیٹر پر دھاوا، ویڈیو وائرل

    ڈھاکہ میں ٹیسٹ میچ کے دوران بنگلا دیش اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ہاتھا پائی پر اتر آئے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقا اور بنگلادیش کی ایمرجنگ ٹیموں کے درمیان میرپور کے شیر بنگلا کرکٹ اسٹیڈیم میں 4 روزہ ٹیسٹ میچ جاری تھا دوران میچ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ناقابل قبول صورتحال اسوقت پیش آئی جب جنوبی افریقا کے بولر ٹی شیپو نٹولی اور بنگلا دیش کے بیٹر رپن مونڈول ہاتھا پائی پر اتر آئے۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب بنگلا دیشی بیٹر رپن مونڈول نے جنوبی افریقی بولر شیپو نٹولی کے خلاف چھکا لگایا، چھکا کھانے کے بعد ٹی شیپو نٹولی اور رپن مونڈول کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد افریقی بولر نے بنگلادیشی بیٹر پر دھاوا بول دیا۔

    جنوبی افریقی بولر ٹی شیپو نٹولی نے بنگلادیشی بیٹر کو پہلے دھکا اور پھر ہاتھا پائی شروع کردی، اس دوران امپائر سمیت ٹیم کے دیگر کھلاڑی دونوں کوعلیحدہ کرتے نظر آئے، وائرل ویڈیو میں دونوں کرکٹر کو دوران میچ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ پائی کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    آن فیلڈ امپائر کی جانب سے واقعے کی باضابطہ رپورٹ فی الحال جمع نہیں کرائی گئی، رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد شیپو نٹولی اور رپن مونڈول پر سخت پابندیاں لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ اور ہلاکتیں،  مودی سرکار نے حقائق  چھپا دئیے

    ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ اور ہلاکتیں، مودی سرکار نے حقائق چھپا دئیے

    ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ اور ہلاکتیں، مودی سرکار نے حقائق چھپا دئیے

    ذرائع کاکہنا ہے کہ ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ 26 مئی کو ہوا، بھارتی فوج نے ہلاکتوں کو چھپانے کا پرانا حربہ ایک بار پھر استعما ل کیا، کمار ہٹی ریلوے اسٹیشن کے قریب حملے میں کئی بھارتی فوجی مارے گئے، حسب روایت مودی سرکار نے گودی میڈیا کو فوجی ہلا کتوں کی خبر نشر کرنے سے روک دیا –

    ذرائع کاکہنا ہے کہ ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘ نے مودی کے حکم پر ویب سائٹ پر نشر ہونے والی خبر بھی ہٹا دی، یہ خبر صرف ایک بھارتی چینل پر نشر ہوئی جو کچھ دیر بعد ہٹا دی گئی، بھارتی فوج کے جوان بطور ہتھیار استعمال ہورہے ہیں ،مرنے کے بعد نام تک نہیں لیا جاتا، ہماچل واقعہ پر مودی سرکار کی خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ "مودی سرکار حقائق چھپانے کی ماہر ہے-”

    آپریشن سندور کے دوران گودی میڈیا نے کراچی بندر گاہ کی تباہی کی جھوٹی خبریں بھی چلا دی تھیں،فیکٹ چیک کے بعد جب اس خبر کی تردید کی گئی تو تمام گودی میڈیا چینلز سے اس خبر کو ہٹا دیا گیا، معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارتی فوج نے اپنے ہی میزائل کو د شمن کا کہہ کرایکس اکاؤنٹ پر شیئر کردیا، جھوٹ پکڑے جانے پر بھارتی فوج نے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے اس وڈیو کو بھی ڈیلیٹ کر دیا-

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق "این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی ٹینک راجستھان کی طرف بڑھ رہے ہیں بعد میں اس خبر کو ہٹا دیا "،بھارتی میڈیا بالخصوص ٹائمز ناؤ، ریپبلک ورلڈ، نیوز نائن اور انڈیا ٹی وی نیوز نے جھوٹی رپورٹنگ کی،ان چینلز نے ایک پاکستانی پا ئلٹ کو گرفتار کرنے کی خبر چلائی جو جھوٹ نکلی، انڈیا ٹو ڈے اور دکن کرانیکلز نے جے ایف 17 اور ایف 16 مار گرائے جانے کی جھوٹی خبریں چلائیں، متعد د بھارتی نیوز چینلز نے جھوٹی خبریں شائع کرنے پر معافی بھی مانگی-

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار، بھارتی میڈیا کو محض اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہے، میڈیا پر کنٹرول اور سچ کا گلا دبانا بھارتی دفاعی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے-

  • لاہور: مبینہ پولیس مقابلے میں خاتون کیساتھ زیادتی میں ملوث تین ڈاکو ہلاک

    لاہور: مبینہ پولیس مقابلے میں خاتون کیساتھ زیادتی میں ملوث تین ڈاکو ہلاک

    لاہور:چوہنگ کے علاقے میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ پولیس مقابلے میں تین ڈاکو ہلاک جبکہ دو فرار ہوگئے۔

    ڈی ایس پی سی سی ڈی کے مطابق دو موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ مشتبہ ڈاکو چوہنگ سے ملتان روڈ کی جانب جا رہے تھے، جنہیں سی سی ڈی اہلکاروں نے مشکوک جان کر رکنے کا اشارہ کیا تاہم ملزمان نے رکنے کے بجائے پولیس پر فائرنگ کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے جبکہ دو فرار ہو گئے، ہلاک ڈاکوؤں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ابتدائی تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکو ایک واردات کے دورا ن خاتون سے زیادتی میں بھی ملوث تھے پولیس کو جائے وقوعہ سے اسلحہ اور دیگر مشکوک سامان بھی ملا ہے۔

    بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان

    فرار ڈاکوؤں کی تلاش اور ہلاک ملزمان کی شناخت کے لیے مزید تفتیش جاری ہےپولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

  • بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان

    بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان

    اسلام آباد: بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 27 پیسے اضافے کا امکان ہے۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں سی پی پی اے کی ماہ اپریل کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کی درخواست پر سماعت چیئرمین نیپرا سربراہی میں ہوئی، درخواست منظوری کی صورت میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 27 پیسے اضافے کا امکان ہے۔

    دورانِ سماعت سی پی پی اے حکام نے بتایا کہ اپریل میں 10 ارب 51 کروڑ 30 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی اور بجلی کمپنیوں کو10 ارب 19 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی، بجلی کی فی یونٹ لاگت 8.94پیسے جبکہ ریفرنس لاگت 7.68 روپے تھی، پانی سے 21.94 فیصد، مقامی کوئلے سے 14.51 فیصد بجلی پیدا کی گئی ا سی طرح درآمدی کوئلے سے 10.02، فرنس آئل سے 0.97 فیصد، مقامی گیس سے 8.01 اور درآمدی ایل این جی سے 20.52 فیصد بجلی کی پیداوار رہی، اپریل میں جوہری ایندھن سے 17.91 فیصد بجلی پیدا کی گئی، اپریل میں سالانہ بنیادوں پر بجلی کی کھپت میں 30 کروڑ یونٹ اضافہ ہوا۔

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

    سماعت کے دوران کراچی چیمبر آف کامرس کی جانب سے بجلی کے اعدادوشمار ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ نہ ہو نے کا شکوہ کیا گیا، نمائندے نے کہا کہ سی پی پی اے کی درخواست پر نیپرا ابھی فیصلہ نہ کرے پہلے ہمیں اعدادو شمار دیئے جائیں، اس کے بعد فیصلہ کیا جائے حکومت نے ساڑھے 7 روپے ریلیف کا کہا تھا اگر سی پی پی اے کی درخواست منظور ہو گئی تو ریلیف صرف 3 روپے رہ جائے گا سستی گیس کی فیلڈز بند کرکے مہنگی آر ایل این جی استعمال کی جارہی ہے، جس کی وجہ سے ایف سی اے بڑھا ہے یہاں انتظامی نااہلی صاف نظر آرہی ہے۔

    بعد ازاں نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ،اتھارٹی اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کرے گی۔

    سری لنکا : دو سابق وزیروں کوکرپشن پر 25 سال قید کی سزا

  • عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

    حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ کی تاریخ میں ایک بار پھر تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے –

    عیدالاضحیٰ کی وجہ سے 7 اور 8 جون کو عام تعطیل ہو گی جبکہ عید کے تیسرے دن 9 جون کو ورکنگ ڈے کا اعلان کرنا پڑے گا ، عید کے تیسرے دن 9 جون کو اقتصادی سروے جاری کرنے کا شیڈول ہے،بجٹ اب 10 جون کے بجائے 12 یا 13 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایک ہی دن این ای سی اور اقتصادی سروے جاری کرنا ممکن نہیں ہو گا قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم شریک ہوں گےقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس اور بجٹ پیش کرنے میں روایتی طور پر 2 دن کا وقفہ رکھا جاتا ہے، حکومت وفاقی بجٹ پیش کرنے کے تاریخ میں دو دن کی توسیع کر سکتی ہے۔

  • سری لنکا : دو سابق وزیروں کوکرپشن پر   25 سال قید کی سزا

    سری لنکا : دو سابق وزیروں کوکرپشن پر 25 سال قید کی سزا

    کولمبو : سری لنکا کی ایک عدالت نے بدعنوانی کے مقدمے میں دو سابق وزیروں کو 20 سے 25 سال قید کی سزا سنا دی-

    سابق کھیلوں کے وزیر مہیندناندا الُتھگامگے اور سابق تجارت کے وزیر انیل فرنینڈو کو عدالت نے ریاستی خزانے سے 53 ملین سری لنکن روپے (تقریباً 1.77 لاکھ امریکی ڈالر) کی خردبرد کا مجرم قرار دیادونوں نے یہ رقم 14,000 کیرم بورڈز اور 11,000 ڈرافٹس سیٹس خرید کر تقسیم کرنے میں استعمال کی، تاکہ سابق صدر مہندا راجاپاکسا کی 2015 کی انتخابی مہم کو فائدہ پہنچایا جا سکے، جو ناکام ہوئی تھی۔

    عدالت نے الُتھگامگے کو 20 سال اور فرنینڈو کو 25 سال قید کی سزا دی، ساتھ ہی 2,000 ڈالر جرمانہ بھی عائد کیامہیندناندا الُتھگامگے اب راجاپاکسا حکومت کے سب سے سینئر رکن بن گئے ہیں جنہیں کرپشن پر سزا ملی ہے ان پر ایک اور کیس بھی جاری ہے، جس میں انہو ں نے مبینہ طور پر چینی کمپنی کو 60 لاکھ ڈالر کی کھاد کی ادائیگی کی، حالانکہ کھاد کبھی فراہم نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ الُتھگامگے نے 2020 میں ورلڈ کپ 2011 کے فائنل میں میچ فکسنگ کا دعویٰ کیا تھا، جسے بعد میں تحقیقات کے باوجود ثابت نہیں کیا جا سکاہمیں 2011 کا ورلڈ کپ جیتنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے میچ بیچ دیا،سری لنکا نے وہ فائنل میچ بھارت کے خلاف چھ وکٹوں سے ہارا تھا اس الزام کی کھلاڑیوں نے سختی سے تردید کی تھی۔

  • مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو،وکیل فیصل صدیقی

    مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو،وکیل فیصل صدیقی

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواستوں کی سماعت میں وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو-

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دئیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ن لیگی وکیل سے سوال کیا کہ ایک جماعت کے امیدواروں کو آزاد کیسے قرار دیا گیا؟ اور کیا انہوں نے اپنی تحریری گزارشات میں اس کا جواب دیا؟ جس پر وکیل حارث عظمت نے کہا کہ جواب دینے کی کوشش کی ہے، فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ درخواستوں میں سپریم کورٹ رولز کو مدنظر نہیں رکھا گیا، اس لیے ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ ان سے پوچھا گیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ نشان گھوڑا ہے، مگر حامد رضا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے وہ اس کا جواب دیں گے کہ حامد رضا آزاد حیثیت میں کیوں لڑے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے یہ معاملہ نہیں کہ کون کیسے لڑا جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہیں سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملا، صاحبزادہ حامد رضا کی 2013 سے سیاسی جماعت موجود ہے، اور جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے، تو پھر وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے تو پارلیمانی جماعت کیوں بنائی؟مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کہا گیا کہ ووٹ بنیادی حق ہے، جبکہ ووٹ بنیادی حق نہیں ہےفیصلے میں تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کرنا آئین دوبارہ تحریر کرنے جیسا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ گیارہ ججز نے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا،جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 39 امیدواروں کی حد تک وہ اور قاضی فائز عیسیٰ بھی آٹھ ججز سے متفق تھے، اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اقلیتی ججز نے بھی انہی گراؤنڈز پر پی ٹی آئی کو مانا جن پر اکثریتی ججز نے مانا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اب نظرثانی درخواستوں میں ان اقلیتی فیصلوں پر انحصار کیا جا رہا ہے، جبکہ ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو ریلیف مل ہی نہیں سکتا تھا، نظرثانی ان فیصلوں پر انحصار کر کے کیسے لائی جا سکتی ہے جبکہ ان فیصلوں میں تو پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا گیا ہے، جسٹس صلاح الدین پنہور نےکہا کہ نظرثانی لانے والوں نے تو جس فیصلے کو چیلنج کیااسے ہمارے سامنے پڑھا ہی نہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا جج آئینی اسکوپ سے باہر جا کر فیصلہ دے سکتے ہیں؟ عوامی امنگوں اور جمہوریت کے لیے ہی سہی، مگر کیا جج آئین ری رائٹ کر سکتے ہیں؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ کوئی آئین ”ری رائٹ“ نہیں کیا گیا جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ری رائٹ کیا گیا، تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کیا گیا فیصل صدیقی نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں، اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جان بوجھ کر حقوق نہیں دیے گئے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جمہوریت کی بات کی گئی ہے، تو کیا امیدواروں کا اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا جمہوریت نہیں؟ کسی کو زبردستی دوسری جماعت میں شمولیت پر مجبور تو نہیں کیا جا سکتا، جو آزاد امیدوار کسی اور پارلیمانی جماعت میں جانا چاہیں، جا سکتے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں الیکشن کمیشن کا کردار اہم ہے، اور الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد قرار دیا اکثریتی ججز نے کہا کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنی چاہئیں،جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ آپ اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی فلم تو پھر فلاپ ہو جائے گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ فلم آپ کی مرضی سے فلاپ ہونی ہے، آپ کا فیصلہ قبول ہو گا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں، اور یہ پہلا موقع ہے کہ 13 رکنی بینچ کے فیصلے پر نظرثانی آئی ہےجس فیصلے پر نظرثانی آئی وہ ابھی تک عدالت کے سامنے پڑھا ہی نہیں گیا، اور عدالت سے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ کہا جا رہا ہے اکثریتی فیصلہ نظرثانی میں پڑھا ہی نہ جائے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو کس نے روکا ہے فیصلہ پڑھنے سے؟ کیوں گلہ کر رہے ہیں؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی کیس کے فیصلے کے بعد بھی ایک جماعت تھی، اور اس معاملے پر پی ٹی آئی کو کوئی غلط فہمی نہیں تھی اگر غلط فہمی ہوتی تو وہ پارٹی سرٹیفکیٹ جاری نہ کرتے۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ پورا پاکستان دیکھ رہا ہے، وہ اقلیتی فیصلہ بھی پڑھنا چاہتے ہیں وہ جسٹس امین کے فیصلے سے متفق نہیں مگر وہ ایک ”فورس فل“ فیصلہ تھا جسٹس امین الدین سے فیصل صدیقی نے کہا کہ آپ کی چیل کی طرح مجھ پر نگاہ ہے، جس پر جسٹس امین نے کہا کہ اس کے باوجود آپ اتنا وقت لے رہے ہیں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تعریف کرنا ویسے کوئی آپ سے سیکھے، فیصل صدیقی نے کہا کہ سوری، چیل نہیں، عقاب کی طرح بولنا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات لڑنے سے روکا گیا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین سے بتا دیں کہ جماعت انتخابات لڑتی ہے یا امیدوار؟ کیسے کہہ رہے ہیں کہ پارٹی انتخابات میں حصہ لیتی ہے؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ پارٹی کے امیدوار انتخابات لڑتے ہیں، اور مشترکہ نشان کا یہی مطلب ہےسیاسی جماعت کے پاس انتخابات لڑنے کا حق بھی ہے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ کوئی امیدوار اگر پارٹی کے نشان پر انتخابات لڑنا چاہتا ہے تو پارٹی سے امیدوار سرٹیفیکیٹ لے گا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی۔

  • پاکستان یو این امن مشنز کیلئے فوجی تعاون کرنے والا سرکردہ ملک ہے، اسحاق ڈار

    پاکستان یو این امن مشنز کیلئے فوجی تعاون کرنے والا سرکردہ ملک ہے، اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے کہا ہے کہ پاکستان یو این امن مشنز کے لئے فوجی تعاون کرنے والا سرکردہ ملک ہے،پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کے لئے اقوام متحدہ کے امن مشن کے لئے اپنے مضبوط عزم کو برقرار رکھتا ہے اور رکھے گا۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اقوام متحدہ کی امن فوج کے دستے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے دنیا کے کئی حصوں میں لگن اور حوصلے کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے امن دستوں کی لگن، حوصلے اور خدمات کو تسلیم کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دن اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل بڑی تعداد میں اہلکاروں کی جانب سے اپنی ڈیوٹی کے دوران دی گئی جانوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بھی ایک یاد دہانی ہے جن میں پاکستان کے 181 بہادر امن فوجی بھی شامل ہیں۔

    آسٹریلیا: مسلمان خاتون سینیٹر نے شراب پینے کیلئے دباؤ ڈالنے والے ساتھی کیخلاف شکایت درج کروادی

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ برسوں کے دوران پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لئے فوجی تعاون کرنے والا ایک سرکردہ ملک رہا ہے، امن فوج میں دو لاکھ 35 ہزار سے زیادہ پاکستانی مرد اور خواتین اہلکار دنیا کے کئی حصوں میں امتیاز کے ساتھ خدمات انجام دے چکے اور دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے قدیم ترین امن مشن میں سے ایک اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) کا میزبان بھی ہے خطے میں حالیہ پیش رفت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے ساتھ ساتھ (یو این ایم او جی آئی پی) کی موجودگی اور کردار کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت کو تقویت دیتی ہے۔

    فرانسیسی کمپنی اور بھارتی حکومت کے درمیان رافیل کی کارکردگی پر شدید اختلافات

    انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو کثیر جہتی خطرات کا سامنا ہے، اقوام متحدہ کی امن فوج بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے سب سے زیادہ قابل اعتماد اور موثر ہے بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس دن کی یاد کے موقع پر اقوام متحدہ کی امن فوج کو عصری اور مستقبل کے چیلنجز بشمول تکنیکی جدت طرازی اور علاقائی شراکت داری کو مضبوط کرنا ،سے نمٹنے کے لئے سیاسی عزم کی تجدید کی ضرورت ہے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریہ کوریا نے 15 سے 16 اپریل کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی وزارتی تیاری کے تیسرے اجلاس کی ”محفوظ اور زیادہ موثر امن قائم کرنے کی طرف: ٹیکنالوجی کا استعمال اور مربوط نقطہ نظر“ کے موضوع کے تحت مشترکہ میزبانی کی،اجلاس کے نتائج اس مقصد کے حصول کے اقدامات کی رفتار تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔

    بھارت کی جارحیت اور جاہلیت دونوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم تیار ہے،تابش قیوم