Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اٹلانٹا سے شکاگو  کی پرواز میں دوران پرواز جہاز کی چھت گر پڑی

    اٹلانٹا سے شکاگو کی پرواز میں دوران پرواز جہاز کی چھت گر پڑی

    اٹلانٹا سے شکاگو جانے والی ڈیلٹا ایئر لائن کی پرواز میں دورانِ پرواز اچانک جہاز کی چھت گر گئی، مسافروں کو اپنی جان بچانے کے لیے چھت کو اپنے ہاتھوں سے تھامنا پڑا-

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 30 ہزار فٹ کی بلندی پر متعدد مسافر اپنے ہاتھ اوپر کر کے چھت کی پینل کو سنبھال رہے ہیں اس واقعے کی ویڈیو ٹک ٹاک پرلوکاس مائیکل پینے نے شیئر کی، جسے 1.95 لاکھ سے زائد ویوز مل چکے ہیں۔

    لوکاس مائیکل پینے نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ میرا دوست اس ڈیلٹا فلائٹ پر تھا جب جہاز کی چھت نیچے گر گئی، اٹینڈنٹس نے آخرکار ڈکٹ ٹیپ سے اسے ٹھیک کیا، لیکن کافی دیر تک مسافروں کو ہی اسے سہارا دینا پڑا-

    سابق آسٹریلوی کرکٹر کو 4 سال قید کی سزا

    ڈیلٹا ایئر لائن کے ترجمان نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ ہم اپنے صارفین کی صبر و تحمل اور تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہیں ہم تاخیر پر معذر ت خواہ ہیں، بوئنگ 717 طیارے کی اندرونی پینل کو دوبارہ اپنی جگہ پر لگا دیا گیا تھا تاکہ مسافروں کو مزید اس کو تھامنے کی ضرورت نہ پڑے، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متاثرہ مسافروں کو تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر کے بعد متبادل جہاز سے شکاگو روانہ کیا گیا۔

    پہلے دن سے کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے،شرجیل انعام میمن

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں کئی ہوائی حادثات پیش آئے ہیں، 15 اپریل کو فلوریڈا سے پورٹو ریکو جانے والی فرنٹیئر ایئر لائنز کی پرواز میں لینڈنگ کے دوران ایک پہیہ ٹوٹ گیا، جس کے بعد مسافروں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اسی طرح، فروری میں ٹورانٹو کے پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ڈیلٹا طیارہ لینڈنگ کےدوران الٹ گیا تھا، ڈیلٹا ایئر لائن پر دباؤ ہے کہ وہ مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے، اور مستقبل میں ایسے واقعا ت کی روک تھام کرے۔

    مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • سابق آسٹریلوی کرکٹر کو 4 سال قید کی سزا

    سابق آسٹریلوی کرکٹر کو 4 سال قید کی سزا

    آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کمنٹیٹر مائیکل سلیٹر کو 4 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

    آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق مائیکل سلیٹر نے 7 چارجز میں اپنا جرم قبول کیا جس میں گھریلو تشدد کا الزام بھی شامل ہےکوئنز لینڈ کی ماروچیڈور ڈسٹرکٹ کورٹ میں مائیکل سلیٹر کے کیس کی سماعت ہوئی، سابق کرکٹر پر 2023 کے آخر میں ایک خاتون پر گھریلو تشدد سمیت مختلف الزامات عائد کئے گئے تھے۔

    عدالت نے مائیکل سلیٹر پر واضح کیا آپ شراب نوشی میں رہے ہیں اس لیے ری ہیب بھی آسان کام نہیں رہا، بعد ازاں عدالت نے انہیں 4 سال قید کی سزا سنائی تاہم وہ ایک سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔

    پہلے دن سے کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے،شرجیل انعام میمن

    واضح رہےکہ مائیکل سلیٹر نے 74 ٹیسٹ اور 42 ون ڈے میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی تھی، تقریباً 43 کی اوسط سے 5,312 رنز بنائے۔ 2004 میں پیشہ ورانہ کرکٹ سے ریٹائر ہونے اور ٹیلی ویژن کمنٹری میں کیریئر کا آغاز کرنے سے قبل انہوں نے 42 محدود اوورز کے بین الاقوامی میچز بھی کھیلے۔

    مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • پہلے دن سے کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے،شرجیل انعام میمن

    پہلے دن سے کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے،شرجیل انعام میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کینالز معاملے پر ن لیگ کے سنجیدہ لوگوں سے بات ہورہی ہے اور کچھ وزراء بیان بازی کر رہے ہیں، وہ لوگ غیر سیاسی ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، سیاستدان اس صورتحال میں معاملے کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔

    کراچی میں ناصر حسین شاہ اور عاجز دھامراہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ متنازع کینالز پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف رہا ہے، کوشش ہے کہ مسئلے کو حل کیا جائے، لوگوں کے جائز خدشات ہیں نگراں حکومت کے دوران ارسا نے سرٹیفکیٹ جاری کیا اور کہا کہ کینالز بنائیں پانی موجود ہے اس وقت بھی سندھ کے نمائندے نے مخالفت کی تھی، جو لوگ کہتے ہیں پیپلز پارٹی بعد میں جاگی ہمارے پاس رکارڈ موجود ہے کہ وزیر اعلی سندھ نے مخالفت کی، 16 جون کو وزیر اعلی نے سمری سائن کی اور 3 جولائی کو سمری وفاق کو پہنچ چکی تھی۔

    پاکستان اسپیس ٹیکنالوجی شعبے کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے ،وزیراعظم

    شرجیل میمن نے کہا کہ ہمارے پاس سارے خطوط موجود ہیں جو ہم نے کینالز کی مخالفت کی، پیپلز پارٹی کا یہی موقف ہے کہ متنازع کینالز نہیں بنائے جائیں، جہاں سے آپ پانی لیتے ہیں ان کو بھی بتا دیں کہ ہم آپ کا پانی لے رہے ہیں، صدر مملکت نے جوائنٹ سیشن میں کہا کہ ہم اس منصوبے کو سپورٹ نہیں کر سکتے، پہلے دن سے کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہےجہاں جہاں ہماری میٹنگز ہوئی وہاں ہم نے مخالفت کی پنجاب میں زیر زمین میٹھا پانی موجود ہے اس سے کاشتکاری ہوسکتی ہے۔

    بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ تباہ ہوگیا،پائلٹ ہلاک

    انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کا دو دن پہلے فون آیا اور انہوں نے کہا وزیر اعظم صاحب اس معاملے کو حل کرنا چاہتا ہیں، رانا ثناءاللہ سے کل اور آج بھی بات ہوئی، شہباز شریف پوری ملک کے وزیر اعظم ہیں، لوگوں کے خدشات ختم کرنے چاہیے ملک عوام کے ساتھ ہوتا ہے91 کے معاہدے کے تحت بھی ہمیں پانی نہیں مل رہا ہے قانونی اور آئینی طور پر جو ہمارا پانی کا شیئر بنتا ہے وہ دے دیں احتجاج کرنا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن سڑکوں کو بلاک نہ کریں، ٹرکوں میں مویشی پھنسے ہوئے ہیں ان کو خوراک نہیں پہنچ پا رہی ہے، ایکسپورٹ کا سامان پھنسا ہوا ہے میری التجا ہے کہ لوگوں کا خیال کریں، احتجاج کو پرامن رکھیں۔

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    شرجیل میمن نے کہا کہ اس معاملے پر ن لیگ کے سنجیدہ لوگوں سے بات ہورہی ہے اور کچھ وزراء بیان بازی کر رہے ہیں، وہ لوگ غیر سیاسی ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، سیاستدان اس صورتحال میں معاملے کو ٹھنڈا کرتے ہیں رانا ثنااللہ نے بات کی ہم خوش آئند قرار دیتے ہیں،اگر ہمارے طرف سے بھی شعلہ بیانی ہوئی تو بات بنے گی نہیں، شہباز شریف اور نواز شریف اپنے لوگوں کو سمجھائیں، ن لیگ اپنی وزراء کو سمجھائے ورنہ پھر شاید ہم اپنے ترجمانوں کو روک نہ سکیں، یہی روش رہی تو بات نہیں بنی گی۔

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

  • مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    لاہور:وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں سے زیادہ پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہے، سندھ 16 سالہ کارکردگی بتائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں سے زیادہ پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہے پنجاب کے کسانوں کی فکر کرنے کے لیے پنجاب کے وار ث خود موجود ہیں کیا سندھ میں کاشتکار نہیں؟ اور کیا سندھ حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کی ہے؟ کیا سندھ حکومت نے کسانوں سے گندم خرید لی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ اور ان کی جماعت گزشتہ 16 سالوں سے سندھ میں حکمران ہیں، اب انہیں اپنی کارکردگی بتانی چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک سال میں پنجاب کے کسانوں کو 110 ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیا ہے پنجاب کے کسانوں کو کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر اور سپر سیڈر بھی فراہم کیے جا چکے ہیں مریم نواز نے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن اور گندم پر 15 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے۔

    بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ تباہ ہوگیا،پائلٹ ہلاک

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں اس سال ریکارڈ گندم کی پیداوار ہوئی ہے اور آئندہ سال اس سے بھی زیادہ پیداوار حاصل ہو گی، پنجاب کی ترقی اور خوشحالی اب دو صوبوں کی حکومتوں کے اعصاب پر سوار ہو چکی ہے مراد علی شاہ سندھ کی مرکزی شاہراہ بند کرنے والے مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے۔

    واضح ر ہے کہ پاکستان میں پانی کے وسائل کے معاملے پر صوبائی کشیدگی دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بارہا کہا گیا ہے کہ متنازعہ کینال منصوبے ختم کیے جائیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ منصوبے پر کام نہ ہونے کے برابر ہے اور جو کچھ ہوا وہ بھی صرف جولائی میں ہوا،سندھ کے عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔

    آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    انہوں نے نہر معاملے پر احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ احتجاج ضرور کریں مگر عوام کی تکلیف کا باعث نہ بنیں کہ ضمانت دیتا ہوں کہ کینالز نہیں بنیں گے، اگر بات ہاتھ سے نکل گئی، اگر ناکام ہوئے تو احتجاج کی قیادت خود کریں گے۔

    مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت نے معاملے کو سی سی آئی اور ایکنک تک پہنچایا، اور اب یہ منصوبہ ایکنک میں رکا ہوا ہے انہوں نے وکلاء برادری کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ کی عوام اور حکومت ایک پیج پر ہیں، اور کینالز کی مخالفت مشترکہ مقصد ہے پنجاب کے فارمر کی بات سنی، وہ کہہ رہے تھے کہ اگلےسال گندم کاشت نہیں کریں گے،چین میں 60 سے 65 من فی ایکڑ گندم پیداوار ہے، گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

  • بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ   تباہ ہوگیا،پائلٹ ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ تباہ ہوگیا،پائلٹ ہلاک

    بھارتی ریاست گجرات میں فضائیہ کا ایک اور طیارہ تباہ ہوگیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گجرات میں بھارتی فضائیہ کا ٹرینر ایئرکرافٹ تباہ ہوا حادثے میں طیارے کا پائلٹ ہلاک ہوگیا،طیارہ نجی ایوی ایشن اکیڈمی کا تھا یہ حادثہ امریلی شہر کے گریہ روڈ علاقے کے قریب دوپہر تقریباً 12:30 بجے پیش آیا۔

    سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنجے کھرات کے مطابق، پائلٹ، جو تنہا پرواز کر رہا تھا، نامعلوم وجوہات کی بناء پر طیارہ گرنے سے پہلے امریلی ہوائی اڈے سے ٹیک آف کر گیا مبینہ طور پر ہوائی جہاز شاستری نگر علاقے کے قریب ایک کھلے پلاٹ میں کریش لینڈنگ سے پہلے ایک درخت سے ٹکرا گیا، جس سے مزید جانی نقصان کو روکنے میں مدد ملی طیارہ آگ کی لپیٹ میں آگیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    کھرات نے تصدیق کی کہ یہ طیارہ دہلی میں واقع ایوی ایشن اکیڈمی کا تھا جو امریلی ہوائی اڈے سے چل رہا تھامقامی پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حادثاتی موت کا مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ میں بھارتی فضائیہ کے ایک ہی دن میں دو طیارے گر کر تباہ ہوگئے، جن میں سے ایک لڑاکا طیارہ تھا،بھارتی فضائیہ کے مطابق جیگوار لڑاکا طیارہ تربیتی مشق کے لیے امبالا ایئر بیس سے اڑا اور کچھ دیر بعد ہریانہ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    فضائیہ کا کہنا تھا کہ پائلٹ نے طیارے کو آبادی سے دور لے جا کر بحفاظت نکلنے میں کامیابی حاصل کی حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی گئی ہے اور پائلٹ کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے واقعے کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

    دوسرا واقعہ مغربی بنگال میں پیش آیا تھا جہاں بھارتی فضائیہ کا ٹرانسپورٹ طیارہ اے این 32 بگڈوگرا ایئرپورٹ پر حادثے کا شکار ہوا تھا، اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور عملہ محفوظ رہا، نومبر 2024ء میں بھی ایک MiG-29 لڑاکا طیارہ آگرہ، اتر پردیش کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔

    آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    حالیہ دفاعی رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کی جنگی جہازوں کی تعداد 42 سے کم ہو کر محض 30 تک محدود ہوچکی ہے۔ 2025-26 تک بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد 28 تک گر سکتی ہے، جو ممکنہ خطرات کے مؤثر دفاع کے لیے درکار 42 اسکواڈرنز سے بہت کم ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثات بھارتی فضائیہ کی آپریشنل تیاریوں اور حفاظتی معیار پر سنگین سوالات ہیں مودی کی ناقص پالیسیو ں کی وجہ سے بھارت کا دفاعی نظام کھوکھلا ہو چکا ہے بھارتی فضائیہ کے زنگ آلود جنگی جہاز مودی سرکار کی ناکامی کا شرمناک ثبوت ہیں، مودی حکومت کے دفاعی بہتری کے وعدے صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔ ان مسلسل حادثات کے باوجود مودی سرکار کی جانب سے اصلاحات اور جدید کاری کے بلند و بالا دعوے صرف ایک فریب ہیں۔

    نہروں کا مسئلہ،سندھ بار کونسل کی کال، کراچی بار میں ہڑتال

  • آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ  دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    دنیا بھر میں لوگ 25 اپریل کو آسمان پر ایک مسکراتے چہرے کو دیکھیں گے۔

    دنیا بھر میں ستاروں کے شوقین افراد کو 25 اپریل، جمعہ کے روز ایک منفرد اور شاندار منظر کا سامنا ہوگا جب تین سیارے، زہرہ (وینس)، سیٹرن (زحل)، اور چاند کی ہلالی شکل آسمان پر ایک ”مسکراہٹ“ بنائیں گے یہ نایاب سیاروی ہم آہنگی کچھ ہی وقت کے لیے نظر آئے گی، لیکن یہ دنیا بھر میں دیکھی جا سکے گی،اس نظارے میں زہرہ اور زحل آنکھوں جبکہ پتلا چاند منہ کا کام کرے گا۔

    تِریپل کنجَنکشن اُس وقت کو کہا جاتا ہے جب تین آسمانی سیارے ایک ساتھ آسمان پر ایک خاص ترتیب میں نظر آئیں، جیسا کہ 25 اپریل کو ہوگا اس دن صبح کے وقت، زہرہ، زحل اور ہلالی چاند آسمان کے مشرقی افق پر بہت قریب نظر آئیں گے، اور یہ ترتیب ایک مسکراہٹ کی مانند دکھائی دے گی۔

    راولپنڈی :7 سالہ بھانجی کےقتل اور زیادتی کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    اس سیاروی ہم آہنگی کو دنیا بھر میں دیکھا جا سکے گا، بشرطیکہ آسمان صاف ہو، آپ کو 25 اپریل کی صبح، سورج اُٹھنے سے ایک گھنٹہ قبل،صبح ساڑھے 5 بجے مشرقی افق کی طرف دیکھنا ہوگا زہرہ مشرقی افق زیادہ بلند ہوگا جبکہ زحل کچھ نیچے ہوگا چاند ان دونوں اسے کافی نیچے ہوگا اور اتنا پتلا ہوگا کہ محسوس ہوگا کہ وہ مسکرا رہا ہےزہرہ اور زحل تو اتنے جگمگا رہے ہوں گے کہ انہیں آنکھوں سے دیکھنا آسان ہوگا مگر چاند کی مسکراہٹ کی بہترین تفصیلات دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کا استعمال بہتر ہوگا۔

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس آسمانی چہرے کو دنیا بھر میں دیکھا جاسکے گا بس مطلع صاف ہونا ضروری ہوگا اس نظارے کو دیکھنے کے لیے ضروری ہوگا کہ آپ 25 اپریل کو سورج طلوع ہونے سے ایک گھنٹے قبل مشرقی افق پر دیکھیں، اگر افق صاف ہوا تو اس مسکراتے ‘چہرے’ کے نیچے سیارہ عطارد کو بھی دیکھنا ممکن ہوگا،یہ نایاب واقعہ لیریڈ میٹر شاور کے عروج کے بعد ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ رات کا آسمان پہلے ہی سرگرمیوں سے بھرا ہوا ہوگا، یہ ایک شاندار قدرتی منظر کا حصہ بننے کا بہترین موقع ہے۔

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

  • راولپنڈی :7 سالہ بھانجی کےقتل اور زیادتی کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    راولپنڈی :7 سالہ بھانجی کےقتل اور زیادتی کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    راولپنڈی میں پولیس پر مبینہ حملے کے دوران بچی کے قتل اور زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزم سنیل فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا، جب کہ اس کے ساتھی ملزمان فرار ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق راولپنڈی کے علاقے مندرہ میں 7 سال کی بچی کےقتل اور زیادتی کے الزام میں گرفتار ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا ملزم کو حراست سےچھڑانے کےلیے اس کے ساتھیوں نے پولیس ٹیم پرفائرنگ کی جس دوران زیر حراست ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا جو اسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہوگیا،پولیس نے فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے قتل و زیادتی میں ملوث ملزم اس کا ماموں تھا، ملزم کو گزشتہ رات پولیس نے گرفتار کیا تھا جسے برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اسی دوران ملزمان نے فائرنگ کردی ملزم آئس کا نشہ کرتا تھا اور مقتولہ کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا، ملزم بچی کو زیر تعمیر عمارت میں لےگیاجہاں اس نے بچی سے زیادتی کی کوشش کی-

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    پولیس کے مطابق بچی کے شور کرنے پر ملزم نے قینچی سے بچی کا گلا کاٹا اور سر پر اینٹ سے وار کیا اور ملزم نے قتل کے بعد بچی سے زیادتی کی، ملزم واردات کے بعد گھر آگیا اور فیملی کے ساتھ بچی کو تلاش کرتا رہا، ملزم کی مشکوک حرکات پر شامل تفتیش کیا تو اس نےاعتراف جرم کرلیا۔

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

  • علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    لاہور: انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔

    لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف 5 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لاہور میں احتجاج اور پولیس پر تشدد کا معاملے کے کیس کی سماعت کی۔

    دوران سماعت تفتیشی افسر نے بتایا کہ پولیس نےکئی بار شامل تفتیش ہونے کےلیے طلب کیا لیکن علی امین گنڈا پور سمیت دیگر شامل تفتیش نہیں ہورہے، ملزمان 5 اکتوبر کے احتجاج اور پولیس پر تشدد کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    بعد ازاں عدالت نے شامل تفتیش نہ ہونے پر علی امین، حماد اظہر، سعید سندھو اور شہباز احمد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جب کہ عدالت نے تمام افراد کو پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔

    نہروں کا مسئلہ،سندھ بار کونسل کی کال، کراچی بار میں ہڑتال

  • ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    ہارون نور محمد — ایک ایسا نام جو با بصیرت قیادت، انسانیت کی خدمت اور بین الاقوامی سفارت کاری کا استعارہ بن چکا ہے — ایک بار پھر اپنے پیارے وطن پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں، عالمی تجارت اور سماجی خدمت میں 48 سال سے زائد کا شان دار تجربہ رکھنے والے ہارون نور محمد کی حکومتِ پاکستان کی دعوت پر وطن واپسی ایک باوقار لمحہ، سنجیدہ غور و فکر اور تجدیدِ عہد کی علامت ہے۔

    جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے ہارون نور محمد صرف 13 سال کی عمر میں پاکستان آ گئے تھے، ان کی ابتدائی تعلیم ملک کے مایہ ناز اداروں میں ہوئی، جن میں کراچی گرامر اسکول، سینٹ پیٹرک کالج اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) شامل ہیں، جہاں سے انہوں نے 1963 سے 1976 کے دوران ایم بی اے مکمل کیا اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف تب سامنے آیا جب وہ 1971-72 میں سینٹ پیٹرک کالج کے صدر منتخب ہوئے، یہی جذبہ انہیں آگے لے گیا اور 1976 میں انہوں نے HNM انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد رکھی—ایک ایسا تجارتی ادارہ جو آج بین الاقوامی تجارتی تعاون اور اقتصادی خوشحالی کی پہچان بن چکا ہے۔

    اگرچہ آج کل وہ پریٹوریا، جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں، لیکن ان کا کردار کاروبار سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ ہارون ایک پُرخلوص انسان دوست کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہوں نے قومی سانحات کے موقع پر، خاص طور پر 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران، معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی مرحوم کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا۔ انسانیت کی بے لوث خدمت پر انہیں دنیا بھر کے رہنماؤں نے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    پاکستان کی سابق وزیرِاعظم، شہید محترمہ بینظیر بھٹو بھی ہارون نور محمد کی معترف تھیں انہوں نے ہمیشہ انہیں ’’پاکستان کا بیٹا‘‘ قرار دیا اور ان کی انسان دوستی و سماجی خدمات کو سراہا ان دونوں شخصیات کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ہارون نور محمد نے کبھی اپنی جڑوں اور قوم سے رشتہ نہیں توڑا۔

    اب پندرہ سال کے طویل عرصے کے بعد وہ ایک بار پھر لاہور آئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ روحانی جذبات اور حب الوطنی سے لبریز ہے۔ انہوں نے داتا دربار پر حاضری دی، فاتحہ پڑھی اور خاص طور پر پاکستان کی سلامتی، خوش حالی اور عوام کی فلاح کے لیے دعائیں کیں۔ اس موقع پر اپنے دل کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

    "پاکستان میری ماں دھرتی ہے، میرے آباؤ اجداد کی سرزمین ہے۔ مجھے اس ملک اور اس کے لوگوں سے بے حد محبت ہے۔ ان کی سلامتی اور خوش حالی میری دل کی دعا ہے، اور میں ہمیشہ ان کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہوں۔”

    بیرون ملک رہنے کے باوجود، ان کے یہ الفاظ اس سچائی کو بیان کرتے ہیں کہ وطن سے محبت کا کوئی فاصلہ اور کوئی وقت حد نہیں بنتا، یہ محض ایک کامیاب بزنس مین اور سماجی کارکن کی واپسی نہیں، بلکہ ایک بیٹے کی اپنی مادرِ وطن سے جذباتی واپسی ہے۔

    ہارون نور محمد کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قیادت، خلوص، اور حب الوطنی نہ صرف سرحدوں کے اندر بلکہ باہر بھی دیرپا اثرات پیدا کرتی ہے۔ جیسے جیسے وہ پاکستان میں اپنی مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں — قومی رہنماؤں سے ملاقاتیں، عوام سے روابط، اور خدمت کے نئے امکانات تلاش کر رہے ہیں — قوم ان کا پرجوش خیر مقدم کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ صرف ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایک اُمید، حوصلے، اور اتحاد کا استعارہ بن چکے ہیں

  • امسال حجاج کو پرانے سسٹم کے تحت حج کی اجاز ت دی جائے،حج آرگنائزر ایسوسی ایشن سندھ

    امسال حجاج کو پرانے سسٹم کے تحت حج کی اجاز ت دی جائے،حج آرگنائزر ایسوسی ایشن سندھ

    کراچی:67 ہزار عازمین حج کے حجاز مقدس روانگی اور حج سے محروم ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے،حج آرگنائزر ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین زعیم اختر صدیقی نے وزیراعظم اورآرمی چیف سے مداخلت کی اپیل کر دی۔

    کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حج آرگنائزر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے میڈیا کوآرڈی نیٹر محمد سعید نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ سعودی ڈیجیٹل سسٹم نسک کی ٹائم لائن گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ماہ پہلے ہی درخواستوں کے لیے بند کردی گئی اس وجہ سے انھیں رہ جانے والے عازمین حج کے ویزا کے حصول کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی جائے۔

    انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ بحران ٹور آپریٹرز کی غلطی سے پیدا ہوا ہے پاکستان کا کل حج کوٹہ 1,79,210 ہے جس کا 50 فیصد حصہ پرائیویٹ سیکٹر کو دیا گیا تھا، مگر تاحال صرف 23 ہزار افراد کی درخواستیں ہی کنفرم ہو سکی ہیں، جب کہ 67 ہزار افراد اب تک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں ان میں سے 13 ہزار ایسے حجاج ہیں جن کا اندراج سعودی نسک سسٹم میں سرے سے ہوا ہی نہیں 2024ء تک سعودی تعلیمات میں ہمیشہ ٹائم لائن میں تخفیف ہوتی رہی، اس سال سعودی ٹائم لائن میں اب تک کوئی تخفیف نہیں دی گئی۔

    پاکستانی ٹک ٹاکر دبئی ایئرپورٹ پر زیر حراست

    چئیرمین حج آرگنائزر زعیم اختر صدیقی کا کہنا تھا کہ 27 نومبر 2024ء کو حکومت پاکستان نے حج پالیسی جاری کی، وزارت مذہبی امور نے صرف گورنمنٹ حج اسکیم کے حجاج کو قسط وار ادائیگی پر حج درخواستوں کی وصولی شروع کی جو کہ 28 نومبر سے 25 مارچ تک وقفہ وقفہ تک جاری رہی، 14 جنوری کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے پرائیوٹ سیکٹر کو باقاعدہ حج درخواستوں کی وصولی کی اجازت دی گئی، 8 جنوری کو پرائیوٹ سیکٹر کے حج پیکیجز کی جزوی منظوری دی گئی جس میں خامیوں کو درست کرتے ہوئے 18مارچ کو دیکھ فائنلائز ہوئے۔

    پوپ فرانسس کے انتقال کے بعدنئے پوپ کا انتخاب کیسے کیا جائے گا؟

    انہوں نے کہا کہ سعودی ٹائم لائن 21 فروری تک تھی اور اس کے بعد سسٹم بند ہوگیا کچھ تاخیر ہوئی جو کہ محکموں کے انتظامی امور کی وجہ سے تھی، ایس ای سی پی منظوری اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فہرست بھیجے میں 2 ماہ کا وقت لگ گیا، عازمین حج کی حجاز مقدس روانگی کے لیے جمع کروائی گئی رقم کا حجم مجموعی طور پر 50 ارب روپے کا ہے، جس کی فوری واپسی کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑگیا۔

    حج آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 500 افراد پر مشتمل کلسٹر کی حد تھی، جبکہ اس سال سعودی حکومت نے اچانک 2000 افراد والے کلسٹر نافذ کر دیئے، جس پر عمل تو کیا گیا مگر اس میں وقت لگا انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سال حجاج کو پرانے سسٹم کے تحت حج کی اجاز ت دی جائے۔

    اسرائیل کی حامی لابی ہر جگہ موجود، لیکن ان کی کوئی حیثیت نہیں،مولانا فضل الرحمان