Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • وزیراعظم کا  یونان میں جزیرے کے قریب پاکستانیوں کی اموات پر  افسوس کا اظہار

    وزیراعظم کا یونان میں جزیرے کے قریب پاکستانیوں کی اموات پر افسوس کا اظہار

    اسلام آباد:و زیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اندوہناک جرم ہے، اس گھناؤنے فعل کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف نے یونان میں جزیرے کے قریب پاکستانیوں کی اموات پر اظہار افسوس کیا اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے،ان کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ ایک اندوہناک جرم ہے جس کی وجہ سے کئی افراد کی جانیں جاتی ہیں اور ہر سال کئی گھر اجڑ جاتے ہیں، انسانی سمگلر ایک ایسا ظالم مافیا ہے جو غریب عوام کوجھوٹے اور سنہری خواب دکھا کر ان سے پیسے بٹورتا ہے۔

    وزیر اعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو واقعہ کی انکوائری رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملو ث افراد کی شناخت کی جائے اور ان کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ وہ ایسے قبیح فعل کو نہ دھرائیں، ایسے واقعات کے مستقبل میں تدارک کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

    واضح رہے کہ یونان کے ساحلی علاقے میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 5 افراد ہلاک اور کئی لاپتا ہوگئے،ہفتے کو یونان کےجنوبی جزیرے کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، یونانی کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ حادثے میں 5 افراد ہلاک ہوئے، 40 افراد لاپتا ہیں جبکہ 39 کو بچا لیا گیا ہے کشتی میں زیادہ تر پاکستانی تھے ،کشتی کے لاپتا مسافروں کی تلاش کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے غیرقانونی طور پر یورپ جانے والے پاکستانیوں کی اموات پر اظہار افسوس کیا ہے۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی جو واقعےکی تحقیقات کر کے 5 روزمیں رپورٹ وزیرداخلہ کو دے گی۔

  • زمین کی سطح کے نیچے ایندھن کے خزانے کی ایک بڑی مقدار پوشیدہ ہے،سائنسدان

    زمین کی سطح کے نیچے ایندھن کے خزانے کی ایک بڑی مقدار پوشیدہ ہے،سائنسدان

    سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین کی سطح کے نیچے ہائیڈروجن کے خزانے کی ایک بڑی مقدار پوشیدہ ہے یہ ہائیڈروجن تیل اور گیس جیسے ایندھن کی جگہ لے کر 200 سال تک توانائی فراہم کر سکتا ہے یا مکمل طور پر ان کی ضرورت ختم کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :تحقیق کے مطابق زیر زمین تیل کے ذخائر میں موجود تقریباً 26 گنا زیادہ ہائیڈروجن موجود ہے لیکن سائنسدان یہ بات جاننے سے قاصر ہیں کہ یہ ہائیڈروجن کس جگہ پر موجود ہےہائیڈروجن مستقبل کے لیے ایک امید افزا ایندھن ہے یہ وافر، ہلکا پھلکا ہے اور تیل اور گیس کی جگہ لے سکتا ہے دنیا بھر کی حکومتیں اس کی صلاحیت کو تلاش کر رہی ہیں۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن کچھ صنعتوں میں درکار توانائی کا 30 فیصد تک فراہم کر سکتا ہےسال 2050 تک ہائیڈروجن کی عالمی طلب میں پانچ گنا یا اس سے زائد اضافہ متوقع ہے 2050 تک دنیا کی ہائیڈروجن کی ضرورت میں بہت زیادہ اضافہ متوقع ہے اگر ہم دستیاب ہائیڈروجن کی 2 فیصد بھی مقدار حاصل کر لیں، تو یہ تقریباً 200 سال تک دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

    سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ہائیڈروجن زیر زمین زیادہ مقدار میں ذخیرہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایک چھوٹا مالیکیول ہے جو چٹانوں کی چھوٹی جگہوں سے آسانی سے نکل سکتا ہےلیکن نئی دریافتوں نے اس خیال کو تبدیل کیا جیسا کہ محققین کو البانیہ اور مغربی افریقہ میں کرومیم کی ایک کان میں زیر زمین ہائیڈروجن کی ایک بڑی مقدار ملی جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہائیڈروجن کو واقعی زمین کی سطح کے نیچے کافی مقدار میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔

  • 2024 میں آؤٹ سورسنگ سروسز کے لیے 10 بہترین ممالک

    2024 میں آؤٹ سورسنگ سروسز کے لیے 10 بہترین ممالک

    آؤٹ سورسنگ کاروباروں کو دوسرے ممالک کی مہارت اور لاگت کے فوائد سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتی ہے، جس سے کارکردگی اور مسابقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی: کیا آپ 2024 میں اپنی خدمات کو آؤٹ سورس کرنے پر غور کر رہے ہیں؟ تو مندرجہ ذیل ممالک اس کیلئے بہترین رہیں گے-آؤٹ سورسنگ دنیا بھر کے کاروباروں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوئی ہے یہاں تین زبردست وجوہات ہیں کہ آپ کو 2024 میں آؤٹ سورسنگ پر کیوں غور کرنا چاہئے:

    بہتر لاگت کی کارکردگی

    آؤٹ سورسنگ آپ کو کم مزدوری کی لاگت والے ممالک کی طرف سے پیش کردہ لاگت کے فوائد کو استعمال کرنے دیتا ہے،یہ آپ کو اپنے وسائل کو بہتر بنانے اور اپنے بجٹ کو زیادہ مؤثر طریقے سے مختص کرنے کی اجازت دیتا ہے، بالآخر اعلی منافع اور ترقی کو آگے بڑھاتا ہے۔

    خصوصی مہارتوں اور ہنر تک رسائی
    آؤٹ سورسنگ عالمی سطح پر خصوصی مہارتوں اور ہنر کے وسیع دروازے کھولتی ہے۔ آپ مختلف شعبوں میں ایسے ماہرین تلاش کر سکتے ہیں جو مقامی طور پر خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں اکثر قیمت کے ایک حصے پر اعلیٰ معیار کا کام فراہم کر سکتے ہیں۔

    عالمی ہنر کو ملازمت دینے سے آپ کو مسابقتی برتری اور اعلیٰ درجے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ تعاون کرنے کا موقع ملتا ہے جو آپ کے کاروبار میں قدر بڑھا سکتے ہیں۔

    بنیادی کاروباری کارروائیوں پر توجہ دیں:غیر بنیادی کاروباری افعال کو فارم کرنا آپ کو اپنی توجہ اور وسائل کو اپنی بنیادی صلاحیتوں کی طرف ری ڈائریکٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بیرونی ماہرین کو بار بار یا وقت طلب کام سونپ کر، آپ اپنے کاموں کو ہموار کر سکتے ہیں اور ایسے تزویراتی اقدامات پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں جو آپ کے کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کے انتخاب کے معیارات

    آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کا انتخاب کرتے وقت، کامیاب شراکت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ معیارات پر غور کرنا ضروری ہے۔

    معیاری انفراسٹرکچر

    مضبوط انفراسٹرکچر والے ممالک کی تلاش کریں آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کے پاس قابل بھروسہ ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک اور جدید سہولتیں ہیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے مواصلات اور آپریشنز کو سپورٹ کرتی ہیں۔

    سیاسی اور معاشی استحکام

    طویل مدتی کامیاب آؤٹ سورسنگ تعلقات کے لیے سیاسی اور اقتصادی ماحول میں استحکام بہت ضروری ہے،سازگار کاروباری ماحول اور مستحکم حکمرانی والے ممالک کا انتخاب کریں۔

    ثقافتی مطابقت

    ثقافتی اختلافات کو سمجھنا اور ان کی تعریف کرنا موثر تعاون میں حصہ ڈال سکتا ہے ثقافتی مطابقت رکھنے والے ممالک کا انتخاب کریں جو آپ کی کاروباری اقدار اور طرز عمل سے اچھی طرح ہم آہنگ ہوں۔

    زبان کی مہارت

    آؤٹ سورسنگ کی کامیابی کے لیے موثر مواصلت ضروری ہے ہموار تعامل کو یقینی بنانے کے لیے انگریزی بولنے والے افرادی قوت یا کثیر لسانی ہنر کی دستیابی کے حامل ممالک پر غور کریں۔

    قانونی اور دانشورانہ املاک کا تحفظ

    اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جس ملک کا انتخاب کرتے ہیں اس میں املاک دانش کے حقوق کے تحفظ اور معاہدوں کو نافذ کرنے کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک موجود ہے یہ آپ کی حساس معلومات اور ملکیتی ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔

    آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے 10 بہترین ممالک

    2024 میں آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے بہترین ممالک ، یہ ممالک لاگت کے فوائد، ہنر مند افرادی قوت، سازگار کاروباری ماحول، اور قابل اعتماد انفراسٹرکچر کا مجموعہ پیش کرتے ہیں:

    1. فلپائن

    فلپائن آؤٹ سورسنگ سروسز، خاص طور پر کسٹمر سپورٹ اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (BPO) کے لیے ایک بہترین انتخاب کے طور پر ابھرا ہے انگریزی بولنے والی بڑی آبادی اور کام کی مضبوط اخلاقیات کے ساتھ، فلپائنی پیشہ ور ثقافتی مطابقت کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کا کام فراہم کرتے ہیں۔

    2. ہندوستان

    ہندوستان طویل عرصے سے آؤٹ سورسنگ کا ایک مقبول مقام رہا ہے، جو مختلف ڈومینز جیسے کہ IT، کسٹمر سپورٹ، اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں ہنر مند پیشہ ور افراد کے وسیع پول کے لیے جانا جاتا ہے۔یہ ملک لاگت کے فوائد اور بین الاقوامی کاروباری طریقوں کی گہری تفہیم پیش کرتا ہے۔

    3. پولینڈ

    پولینڈ یورپ میں آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر پہچان حاصل کر رہا ہے یہ ملک اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت، سستی مزدوری کے اخراجات اور سازگار کاروباری ماحول کا حامل ہے، پولینڈ آئی ٹی آؤٹ سورسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور تحقیق و ترقی کے لیے ایک پرکشش انتخاب بن گیا ہے۔

    4. یوکرین

    یوکرین تیزی سے آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے ٹیک ہب بن رہا ہے یہ اپنے انتہائی ہنر مند آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے مشہور ہے، جو مختلف شعبوں میں کام کرنے میں بھی ماہر ہیں، یوکرین کا اسٹریٹجک مقام اور مغربی کلائنٹس کے ساتھ ثقافتی مطابقت آؤٹ سورس کرنے کے خواہاں کاروباروں کے لیے بے مثال فوائد فراہم کرتی ہے۔

    5. چین

    چین آؤٹ سورسنگ لینڈ سکیپ میں خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور پروڈکشن میں ایک نمایاں کھلاڑی ہے،اپنی وسیع مینوفیکچرنگ صلا حیتوں، سازگار مزدوری لاگت، اور قائم کردہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ، چین ایک اور قابل اعتماد آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر کام کرتا ہے۔

    6. ملائیشیا

    آئی ٹی اور کاروباری عمل کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے ملائیشیا بھی بہترین ممالک میں شامل ہےتعلیم اور ٹیکنالوجی پر زور دینے کے ساتھ، ملائیشیا ایک ٹیلنٹ پول پیش کرتا ہے جو آئی ٹی سے لے کر کسٹمر سروس تک مختلف صنعتوں میں علم رکھتا ہے، کاروبار ملائیشیا کے سازگار کاروباری ماحول، جدید سہولیات اور معاون حکومتی پالیسیوں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    7. میکسیکو

    میکسیکو اپنی جغرافیائی قربت اور مشترکہ ٹائم زونز کی بدولت شمالی امریکہ کی کمپنیوں کے لیے ایک ترجیحی آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر ابھرا ہےملک ہنر مند دو لسانی پیشہ ور افراد اور لاگت کے فوائد پیش کرتا ہے، جو اسے کسٹمر سپورٹ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔

    8. برازیل
    برازیل کا تیزی سے بڑھتا ہوا آئی ٹی سیکٹر اسے آؤٹ سورسنگ کی ایک اور پناہ گاہ بناتا ہے۔ اس خودمختار ریاست کے پاس سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ایپلی کیشن مینٹیننس، اور آئی ٹی سپورٹ پر توجہ کے ساتھ آئی ٹی کے ماہر ماہر ہیں۔

    9. ویتنام
    ویتنام نے آؤٹ سورسنگ انڈسٹری میں خاص طور پر آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ میں نمایاں ترقی دیکھی ہے۔یہ ملک ایک نوجوان اور ٹیک سیوی افرادی قوت، مسابقتی اخراجات اور معاون حکومت پیش کرتا ہے۔

    10. بلغاریہ
    مشرقی یورپ میں واقع بلغاریہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کی ترقی کے لیے ایک مثالی آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ملک ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت اور سازگار کاروباری ماحول پیش کرتا ہے بڑی یورپی منڈیوں سے بلغاریہ کی قربت ان کاروباروں کے لیے ایک مثالی انتخاب پیش کرتی ہے جو لاگت سے موثر اور موثر آؤٹ سورسنگ حل تلاش کرتے ہیں۔

    اپنی ضروریات کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے بہترین ممالک میں سے انتخاب کریں۔
    آؤٹ سورسنگ آپ کے کاروبار کے لیے ایک تبدیلی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، جو آپ کو عالمی مہارت اور وسائل سے فائدہ اٹھانے، کارکردگی بڑھانے، اور ترقی کو آگے بڑھانے کے قابل بناتا ہے۔

  • شام میں ترکیے کا سفارت خانہ  12 سال بعد دوبارہ  فعال

    شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال

    دمشق: شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال ہو گیا۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ہفتے کے روز ترکیے کے سفارتی مشن نے 12 سال کے وقفے کے بعد اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں اور ترکیے کا پرچم سفارتخانے پر لہرایا گیاسفارتی مشن شروع ہونے کے بعد ترکیے نے شام میں برہان کور اوغلو کو ناظم الامور مقرر کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیے نے سابق صدر بشارالاسد حکومت کے خلاف 2011 میں مظاہرے کرنے والوں پر بدترین کریک ڈاؤن کے خلاف 2012 میں شام میں اپنی سفارتی سرگرمیاں روک دی تھیں جبکہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اب استنبول میں شامی قونصلیٹ جنرل نے بلا تعطل اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں،گزشتہ دنوں شام میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے دارالحکومت دمشق پر کنٹرول اور شامی صدر بشار الاسد کے فرار کے بعد ترکیہ میں شامی قونصل خانے سے شامی پرچم اتار دیا تھا-

  • شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    دمشق: شام میں اپوزیشن فورسز ہیئت تحریر الشام اور اتحادی گروپوں کے سربراہ احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام ہونے والی تبدیلی خطے میں ایران کے خطرناک منصوبے کے خلاف بڑی کامیابی ہے،جبکہ یہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصو بہ بندی کا نتیجہ ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق احمد الشرع نے کہاکہ ایران کے منصوبے خطے کے عوام کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوئے، ایرانی عوام سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں،سابق صدر بشار الاسد نے منشیات کی پیداوار میں عالمی ریکارڈ قائم کیا، روس بشارالاسد کی گرتی ہوئی ساکھ سے بیزار ہونےلگا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ خط وکتابت کےذریعے روس کےساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی ہےاور روس کو نئےسرے سے تعلقا ت قائم کرنےکا موقع فراہم کیا ہے،موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی بلکہ کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، شام کےعلاقوں اور شہرو ں پر اپوزیشن فورسز کے قبضوں کےدوران کوئی نقل مکانی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل ایران کے بہانے شام میں مداخلت کرتا آیا ہے، اب شام میں غیرملکی مداخلت کا کوئی وجود نہیں رہا، اسرائیل کیلئے غیرملکی مداخلت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے دعویٰ کیا تھاکہ شام میں بشارالاسد حکومت کاخاتمہ امریکا، اسرائیل اور شام کے پڑوسی ملک کے منصوبےکا نتیجہ ہےشام میں باغی گروپوں کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ ہیں ،شام کے ہر باغی گروپ کے اپنے علیحدہ مقاصد اور ایجنڈا ہے، وقت ثابت کرےگا کہ ان لوگوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہيں ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، فتنہ داعش کے دوران ایران کی شام میں موجودگی کا مقصد مقدس مقامات کا تحفظ تھا، ایران کی موجودگی کا مقصد امن قائم کرنے میں شامی حکومت کی مدد کرنا تھا۔

  • خواب ہے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کیمطابق تعلیم کے مسائل حل کروں،رانا سکندر

    خواب ہے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کیمطابق تعلیم کے مسائل حل کروں،رانا سکندر

    چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ گرلز ہائی اسکول میں شاندار سالانہ سپورٹس ڈے کا اہتمام کیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : والدین اور مہمانوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی،تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، طالبات نے چاٹی ریس ، پچاس میٹرریس، تھری لیگ ریس، فش ریس اور دیگر کھیلوں میں حصہ لیااس موقع پر بچوں نے کراٹے اور ایروبیکس کا بھی شاندار مظاہرہ کیا، علاقائی ثقافت کے اظہار کے سلسلے میں طالبات نے چاروں صوبوں کی ثقافت پر مبنی رنگا رنگ ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا۔

    مختلف گیمز میں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور دیگر نمایاں مہمانوں نے انفرادی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات اور ٹیموں میں میڈلز ، انعامات اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے،رانا سکندر حیات نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے ذاتی طور پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا اورکہا کہ میرا خواب ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کے مطابق 76 سالہ تعلیم کے شعبہ کے درپیش مسائل کو حل کروں۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری خالد محمود رسول کا کہنا تھا کہ بچوں کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کیلئے غیرنصابی سرگرمیوں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے جبکہ تقریب میں چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے صدر ڈاکٹر سید عثمان واسطی اورپرنسپل نجم الصباح سمیت مہمانوں کی ایک کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

    گیمز میں حصہ لینے والی کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ کھیل کود میں حصہ لینے سے ان میں خوداعتمادی پیدا ہوئی ، ایسی غیر نصابی سرگرمیوں سے ٹیم سپرٹ اور مقابلے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو ان کی شخصیت کے لئے ضروری ہے۔

  • تیسرا ٹی 20  بارش کی نذر ،  جنوبی افریقا نے پاکستان کیخلاف سیریز اپنے نام کرلی

    تیسرا ٹی 20 بارش کی نذر ، جنوبی افریقا نے پاکستان کیخلاف سیریز اپنے نام کرلی

    پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ بارش کی نذر ہوگیا اور جنوبی افریقا نے تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی۔

    باغی ٹی وی: پاکستان اور جنوبی افریقا کےدرمیان تیسرا ٹی ٹوئنٹی آج جوہانسبرگ میں کھیلا جانا تھا۔ تین میچوں کی سیریز میں جنوبی افریقا کو دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل تھی تاہم مسلسل بارش کی وجہ سے ٹاس ہی نہیں کیا جاسکامسلسل بارش کی وجہ سے ایمپائرز نے میچ کو منسوخ کر دیا اور میزبان ٹیم نے تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی۔

    جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے لیے پاکستان کی پلیئنگ کا اعلان کیا گیا، جس میں ایک تبدیلی کی گئی تھی،قومی ٹیم کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی کے لیے ایک تبدیلی کے ساتھ میدان میں اترنا تھا، جس میں عثمان خان کی جگہ پر سلمان علی آغا کو پلینگ الیون کا حصہ بنایا گیا تھا،ٹیم کے کپتان محمد رضوان جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں بابر اعظم، صائم ایوب، طیب طاہر، محمد عرفان خان، سلمان علی آغا، عباس آفریدی، شاہین آفریدی، جہاندادخان، حارث رؤف اور ابرار احمد شامل تھے۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقا نے 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کو 11 رنز سے شکست دی تھی جبکہ دوسرے میچ میں جنوبی افریقا کے ہاتھوں پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • فیصلے ذاتی نہیں ملکی مفاد میں کیے جائیں،شازیہ مری

    فیصلے ذاتی نہیں ملکی مفاد میں کیے جائیں،شازیہ مری

    کراچی:پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی پی) کی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو آئین سے کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے، آئین کے آرٹیکل 158 کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی: شازیہ مری نے کہا کہ وفاقی حکومت ہوش کے ناخن لے، فیصلے ذاتی نہیں ملکی مفاد میں کیے جائیں، درآمدشدہ مہنگی ایل این جی کا بوجھ عوام پر ڈالنے نہیں دیں گے ،قدرتی گیس پاور پلانٹ کو دے کر عوام کو گیس سے محروم رکھا جا رہا ہے، وزیراعظم اپنے وفاقی وزیر توانائی سے پوچھیں کہ وہ کس کے ایماء اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، قومی اسمبلی کے فلور پر معاملہ اٹھایا گیا مگر وفاقی وزیر توانائی ایوان کو مطمئن نہ کر سکے۔

    شازیہ مری نے کہا کہ( ن) لیگ کی حکومت کے 10 ماہ میں سی سی آئی کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا آئینی طور پر حکومت 90 دن میں اجلاس بلانے کی پابند ہے وفاق مسلسل آئین شکنی کر رہا ہے، وفاق اجلاس نہ بلا کر صوبوں کو فیصلہ سازی میں ان کے آئینی حق سے محروم کر رہا ہے وفاقی حکومت کو آئین سے کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے، آرٹیکل 158 کے تحت جس علاقے میں قدرتی گیس کا کنواں واقع ہے پہلے اس علاقے کی ضرورت کو پورا کرنا لازم ہےسی سی آئی کا اجلاس نہ بلانا شراکت داری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، وزیر موصوف بتائیں اضافی ایل این جی کیوں خریدی اور آج سرپلس کیوں ہے؟ –

  • مریم نواز کی زیر صدارت انویسٹمنٹ کانفرنس، چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی

    مریم نواز کی زیر صدارت انویسٹمنٹ کانفرنس، چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی

    بیجنگ: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت گوانگ ژو میں انویسٹمنٹ کانفرنس ہوئی جس میں چینی کمپنیوں نے پاکستان اور پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چین میں چھٹا روز بھی مصروف گزارا اور گوانگ ژو شہر میں انویسٹمنٹ سمٹ کی میزبانی کی،چین کے شہرگوانگ ژو پہنچنے پر وزیراعلیٰ مریم نواز کے اعزاز میں اسٹیٹ ڈنر کا اہتمام کیا گیا گوانگ ژو کے وائس گورنر زینگ گوزی سے ملاقات میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ دورہ چین میں بہت کچھ جاننے، سمجھنےاور دیکھنےکا موقع ملا ہے،وائس گورنر گوانگ ژو نےکہاکہ مریم نواز کی آمد کو خوش بختی سمجھتےہیں۔

    گول میز کانفرنس میں چین اور ہانگ کانگ کی 60 سے زائد کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی، ان میں صحت، مصنوعی ذہانت، زراعت، آئی ٹی، ویسٹ مینجمنٹ، سولر انرجی اور دیگر شعبوں کے ماہرین شامل تھےسمٹ میں شریک چینی و ہانگ کانگ کی کمپنیوں نے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا جس پر وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کا ورکنگ گروپ، فوکل پرسن مقرر اورہیلپ ڈیسک قائم کر نے کا اعلان کیا۔

    چین کی نمایاں کمپنیوں کے نمائندوں نے اپنے اداروں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی پاک چین فری ٹریڈ کے بارے میں تجاویز اور سفارشات کا جائزہ بھی لیا گیا وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت دی جس پر چینی ٹیکنالوجی کمپنیز کا پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے چینی کمپنیوں کو پنجاب میں ون ونڈو آپریشن سے سہولت دینے کا فیصلہ دیتے ہوئے پنجاب کو چینی کمپنیوں کے لئے”مواقعوں کی زمین“ قرار دیا اور انوسٹمیںٹ کانفرنس میں شرکت پر شرکا کا شکریہ ادا کیا اور پنجاب کے معاشی،جغرافیائی اور کاروباری اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کے ویژن کو سراہا جبکہ پنجاب میں نو پلاسٹک مہم کے آغاز کو سراہا،مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے ”نو ٹو پلاسٹک“مہم شروع ہوچکی ہے، ماحول کو متاثر کرنے والے پلاسٹک کی خرید و فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کررہے ہیں۔

    انہوں نےکہا کہ چھٹی کے باوجود چینی کمپنیوں کے حکام کی آمد ہمارے لیے بے حد حوصلہ افزا امر ہےستھرا پنجاب کے تحت زیرویسٹ مشن شروع ہوچکا ہے،چینی کمپنیوں کی معاونت اور اشتراک کار کا خیر مقدم کریں گے کوڑا کرکٹ، کچرے کو قابل تجدید انرجی میں تبدیل کرنے کے پراجیکٹ شروع کررہے ہیں جبکہ زراعت کوجدت کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے میکانائزیشن کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سستی بجلی کے حصول کیلئے ونڈ مل، سولر انرجی اور قابل تجدید انرجی کے ذرائع پر توجہ دی جارہی ہے۔ ایکو سسٹم میں بہتری کیلئے انڈسٹری میں اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہے پنجاب میں سولر انرجی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، پنجاب میں سولرائزیشن کے لئے میگا پراجیکٹ کا آغاز ہوچکا، سولرائزیشن پراجیکٹ میں چینی کمپنیوں کے اشتراک کار کا خیر مقدم کریں گے۔

    مریم نواز نے کہا کہ زراعت کے سب سیکٹر میشن مینوفیکچرنگ، فوڈ پراسیسنگ اور ہائیبرڈ بیج ڈویلپمنٹ کو اشتراک کار سے ممکن بنائیں گے۔ پنجاب میں ینگ انڈسٹریل ہیومن ریسورس کے قابل قدر اثاثے کو استعمال میں لانا چاہتے ہیں بائیو اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کے استعمال سے رجوع کرنا چاہتے ہیں، آئی ٹی کے شعبے میں جدت لانا وقت کی ضرورت ہے، پنجاب میں ای کامرس،انکیوبیٹر سنٹر،ای لرننگ میں سرمایہ کاری کو ویلکم کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ نوازشریف آئی ٹی سٹی کو اسٹیٹ آف دا آرٹ بنانا چاہتے ہیں، چینی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں، پاک چین تعلقات کے فروغ کیلئے چینی سرمایہ کاروں کا رد عمل حوصلہ افزاء ہے پاکستان وسطی ایشیا، مڈل ایسٹ اور دیگر ممالک کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہےپاکستان گلوبل ٹریڈ روٹ کا قابل قدر حصہ ہے، ٹیلی میڈیسن ٹیکنیک کیلئے چین کے ہیلتھ سسٹم سے مستفید ہوں گے، زراعت میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، پنجاب میں واٹر ایفی شنٹ اریگیشن سسٹم متعارف کرانا چا ہتے ہیں، چین کی کمپنیوں کے لئے پنجاب میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانا کا بہترین وقت ہے۔

  • علی امین گنڈاپور کے گارڈز نےاحتجاج میں فائرنگ کی،عطااللہ تارڑ

    علی امین گنڈاپور کے گارڈز نےاحتجاج میں فائرنگ کی،عطااللہ تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے گارڈز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج میں فائرنگ کی۔

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے ساتھ مسلح جتھوں سے لیس ہو کر احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ ہےانہوں نے ہمیشہ ریاست اور عوام کا نقصان چاہا ہے، تحریک انتشار نے پچھلی مرتبہ بھی جدید اسلحے، اسٹین گنز، ٹیئر گیس شیل اور گرینیڈ سے لیس مسلح جتھوں کے ساتھ وفاق پر لشکر کشی کی تھی۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ تحریک انتشار کے مسلح جتھوں نے بلا اشتعال فائرنگ کی اور علی امین گنڈاپور کے گارڈز کو گولی چلاتے ہوئے دیکھا گیا، یہ لاشیں گرا کر ان پر سیاست کرنا چاہتے ہیں، ان کا کوئی احتجاج کبھی پرامن نہیں ہوا، یہ ملک میں بدامنی چاہتے ہیں، انہوں نے ہمیشہ سیاسی مفاد پر ریاست کے مفاد کو قربان کیا ہے،9 مئی اور 26 نومبر ملکی تاریخ کے سیاہ ترین دن ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملتان میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے جلسہ کے دوران بھگدڑ مچنے سے کئی ہلاکتیں ہوئیں لیکن بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی تقریر جاری رکھی، انہیں کبھی عوام کے جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں رہی، خیبر پختونخوا کےعوام پہلے ہی ان کی کال کو مسترد کر چکے ہیں، عوام تحریک انتشار کی اگلی کال بھی مسترد کردیں گے۔