Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے  حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ایڈز کا دن منایا جا رہا ہے،دنیا بھر میں ہر سال یکم دسمبر کو ایڈز سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے،ایڈز کا عالمی دن دنیا میں پہلی بار 1987ء میں منایا گیا،اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکمت عملی کو مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہیں، یقینی بنا رہے ہیں کہ ایڈز کے خلاف مہم میں کوئی پیچھے رہ نہ جائے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ کی پاسداری اور تمام برادریوں کی شمولیت کو فروغ دینا ایڈز کو صحت عامہ کے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے، ایسے افراد جو ایڈز کے خطرے سے دو چار ہیں ان کے لیے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے، صحت کے نظام کو مضبوط بناتے رہیں گے-

    شہباز شریف نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز نہ صرف صحت کا ایک چیلنج بلکہ ایک اہم سماجی و اقتصادی مسئلہ ہے جو کہ معاشی نظام کے لیے بھی ایک خطرہ ہے، ایڈز کی جانچ اور علاج کی کوریج میں ایک خلا ہے جس کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ہماری اجتماعی کوششوں کے باوجود پاکستان میں ایچ آئی وی کی وبا بڑھ رہی ہے جس کے لیے اختراعی اور پائیدار کوششوں کی ضرورت ہے-

    وزیراعظم نے کہا کہ مساوات اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ہی ہم ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، مضبوط سیاسی ارادہ اور مؤثر قیادت قومی ایچ آئی وی حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے ضروری ہیں، آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ایڈز سے پاک ملک کے لیے متحد ہو جائیں، ایڈز سےپاک مستقبل صرف اجتماعی کوششوں کےذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جو انسانی وقار، مساوات اور شمولیت کو فروغ دے۔

  • ٹرمپ نےبرکس ممالک کو ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا

    ٹرمپ نےبرکس ممالک کو ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا

    واشنگٹن: برکس ممالک کو امریکی ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ برکس کو تنبیہ کرتے ہوئے تنظیم کے ممالک کو امریکی ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برکس ممالک نہ تو اپنی کرنسی لائیں نہ ڈالر کے متبادل کسی کرنسی کی حمایت کریں، ڈالر کے مقابلے میں کسی بھی کرنسی کی حمایت پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کے متبادل کا کوئی امکان نہیں، ڈالر کے متبادل کرنسی کی حمایت کرنے والے برکس ممالک کو امریکی معیشت میں جگہ نہیں ملے گی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق برکس اتحاد کے اراکین ممالک عالمی مالیاتی نظام پر امریکا کے غلبے سے تنگ آچکے ہیں، برکس ممالک تجارتی مقاصد کے لیے اپنی کرنسی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں،برکس برازیل،روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا پر مشتمل گروپ ہے، رواں برس برکس میں عرب امارات،ایران،مصر اور ایتھوپیا نے بھی شمولیت اختیار کی۔

  • روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ  کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    امریکا کے پاس مہلک ترین بی 83 جوہری ہتھیار ہے، اگر یہ طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی-

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے نیوز ویک نے بی 83 نیو کلیئر بم سے تباہی کا تخمینہ پیش کردیا، جریدے کے مطابق امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ 4 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ 175 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی، اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو 14 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے،نیوکلیئر بم بیجنگ پر پھینکا گیا تو 15 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ بم پیانگ یانگ پر پھینکا گیا تو 13 لاکھ شہری ہلاک اور 11 لاکھ زخمی ہوں گے۔

    جریدے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 211 مربع میل کے اندر موجود افراد جل جائیں گے، دھماکا کئی افراد کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے، دھماکے کے 535 مربع میل کے فاصلے پر موجود عمارتوں میں لگے شیشے ٹوٹ سکتے ہیں اور لوگ زخمی ہوسکتے ہیں، امریکا نادانستہ طور پر اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد تنازعات میں ملوث ہے، چین کے ساتھ تجارت سمیت متعدد مسائل پر تناؤ کا بھی سامنا ہے۔

    دوسری جانب روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے خدشے کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا اور واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بحال کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے یہ بات امریکی جریدے کی جانب سے روس پر ممکنہ نیوکلیئر حملے سے تباہی کے تخمینے پر ردعمل میں کہی یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے واقعات کو ماڈل کیا گیا ہے، یہ خدشات موجود ہیں لیکن روس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ایسی تباہ کن صورتحال سے گریز کیا جائے۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار روس پر نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کیسے برتاؤ کرتا ہے، اگر وہ اُس صورتحال کی طرف بڑھتے ہیں جس کا روسی نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ذکر کیا گیا ہے تو یہ دشمن پر منحصر ہوگا،اب پہلی بار نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کرنے پر غور کررہا ہے؟ سوال پر نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی سوال اس وقت درپیش ہے اور صورتحال کافی مشکل ہے،اس پر مستقل طور پر غور کیا جارہا ہے۔

  • اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے،ترک صدر

    اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے،ترک صدر

    استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، دنیا کو سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : انادولو کی رپورٹ کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں ٹی آرٹی ورلڈ فورم میں خطاب کے دوران طیب اردوان نے سلامتی کونسل کے اس نظام کو مسترد کردیا جس کے تحت 5 مستقل اراکین کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور کہا کہ دنیا ان 5 ممالک سے بڑی ہے۔

    اقوام متحدہ میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے سامنے تبدیلیوں کی فہرست پیش کی گئی ہے، جس میں عالمی فوجدوری عدالت (آئی سی سی) اور تہذیبوں کا اتحاد شامل ہے، جس کا بیڑا ترکیے اور اسپین نے اٹھایا تھا اور اس کا مقصد 2001 میں امریکا پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا تھا۔

    ترک صدر نے کہا کہ تجارت سے سفارت کاری تک ممالک کے درمیان مسابقت مزید تباہ کن انداز میں بڑھی ہے اور دن بدین مزید جارحانہ طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور انسانیت بدترین موڑ پر کھڑی ہے جو واقعات پیش آرہے ہیں وہ نہ صرف اگلے 5 سے 10 سال پر اثرانداز ہوں گے بلکہ ہمارے آنے والی دوسری اور تیسری نسلوں کو بھی متاثر کریں گے، روس اور یوکرین کی جنگ کو اب 4 سال ہونے والے ہیں، اس سے ہمیں بین الاقوامی نظام کے تحت رولز کی کمزوریوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • 2016 کے بعد پہلی بار حلب پر  شامی باغیوں کا قبضہ

    2016 کے بعد پہلی بار حلب پر شامی باغیوں کا قبضہ

    اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شامی باغی شمالی علاقوں حلب اور ادلب میں داخل ہوگئے ہیں، باغیوں نے شامی فوج کے اڈے اور حلب ائیرپورٹ سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضےکا دعویٰ کیا ہے شامی فوج شمالی شہر حماہ سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے،شامی باغیوں کے حملے میں درجنوں شامی فوجی مارے جانےکی بھی اطلاعات ہیں۔

    2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں،اطلاعات کے مطابق حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں،شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔

    شام کے معاملات پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے برطانوی ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق 2016 کے بعد روس نے پہلی مرتبہ حلب پر فضائی حملے بھی کیے ہیں ملک میں بدھ سے شروع ہونے والی لڑائیوں میں اب تک 20 عام شہریوں سمیت 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے نے شامی فوج کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتھارٹیز نے حلف کا ایئر پورٹ بند کردیا ہے۔ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے بند کردیئے گئے ہیں لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

    دوسری طرف شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حلب اور ادلب گورنریوں پر بڑے حملے کا مقابلہ کر رہی ہے حلب اور ادلب پر حملے میں مسلح دھڑوں نے بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا ان کی فوج نے حلب اور ادلب پر حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان مسلح گروہوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور درجنوں گاڑیاں اور ڈرون تباہ کر دیے۔

    شامی سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں فوجی کمک پہنچ گئی ہے۔

    حلب شہر کے مرکز اور گردونواح میں شامی فوج اور مسلح دھڑوں کے درمیان ابھی تک لڑائی جاری ہے،دھڑوں کا کہنا ہے کہ وہ حلب کے محلوں میں داخل ہوئے جبکہ شامی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے حملے کا جواب دیا اور عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔

    واضح رہےکہ 2016 میں شامی صدر بشارالاسد کی افواج نے حلب سے باغیوں کو نکال دیا تھا اس کے بعد سے یہاں پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا-

    باٹی وی : حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 72 پیسے اضافہ کر دیا ، پیٹرول کی نئی قیمت 252 روپے 10 پیسے ہوگئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 29 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 12 بجے سے ہو گیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز کیلئے کیا گیا ہے۔

  • امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تائیوان کو 385 ملین ڈالر مالیت کے ایف-16 جنگی طیاروں کے پارٹس اور ریڈارز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے،جس کی لاگت 385 ملین ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے کہا کہ اسلحے کی فروخت 320 ملین ڈالر پر مشتمل ہے، جس میں اسپیئرپارٹس اور ایف-16 جنگی جہازوں کے لیے مدد اور ایکٹیو الیکٹرونیکلی اسکینڈ ایرے رایڈارز اور اس سے منسلک اشیا شامل ہیں،اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تائیوان کو جدید موبائل سبسکرائیبرآلات کی فراہمی کی اجازت بھی دے دی ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 65 ملین ڈالر لگایا گیا ہے اور اس معاہدے کا ٹھیکا جنرل ڈائنامکس کو دیا گیا ہے۔

    تائیوان کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مذکورہ اسلحے کی فراہمی ایک ماہ کے اندر شروع ہوجائے گی اور ان آلات سے ایف-16 طیاروں کو بحال رکھنے اور قابل اعتماد دفاعی فورسز تشکیل دینے میں مدد ملے گی تائیوان اور امریکا ایک دوسرے کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے، آبنائے تائیوان اور پورے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں گے

    امریکا کی جانب سے تائیوان کو باقاعدہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اسلحے کی فروخت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں، جس پر چین کا سخت ردعمل ہوتا ہے کیونکہ چین کا ماننا ہے کہ تائیوان ان کی ریاست کا ایک حصہ ہےتائیوان آزادی ریاست کا دعویٰ کرتے ہوئے چین کے مؤقف کو مسترد کر رہا ہے،چین نے جمعے کو ایک بیان میں امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ تائیوان کے ساتھ اپنے تعلقات پر احتیاط برتیں۔

    واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ تائیوان کو ممکنہ طور پر دو ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فراہم کیا جائے گا، جس میں تائیوان کو پہلی مرتبہ ایڈوانسڈ ڈیفنس میزائل سسٹم فراہم کیا جائے گا جو یوکرین میں جنگ کے دوران آزمایا گیا ہے۔

  • ٕایف بی آر میں 344 ارب کا شارٹ فال

    ٕایف بی آر میں 344 ارب کا شارٹ فال

    اسلام آباد: ایف بی آر کو حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعداد وشمار کے مطابق ایف بی آر کو نومبر 2024 میں مجموعی طور پر 855 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئیں-

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ایف بی آر کے افسر نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں گزشتہ ماہ (نومبر 2024) کے دوران 148ارب روپے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ(جولائی تا نومبر)کے دوران سے 344 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے ۔

    ایف بی آر کو حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعداد وشمار کے مطابق ایف بی آر کو نومبر 2024 میں مجموعی طور پر 855 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئیں، تاہم یہ 1,003 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 148 ارب روپے کم ہے-

    ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 کے دوران محصولات کی عبوری وصولی 851 ارب روپے رہی ہے جو مقررہ ہدف 1,003 ارب روپے کے مقابلے میں 152 ارب روپے کم ہے تاہم حتمی اعداد و شمار اور ڈیٹا کی تصدیق کے بعد یہ فرق 150 ارب روپے تک محدود ہونے کی توقع ہے-

    رواں مالی سال 2024-2025 کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران ایف بی آر نے 4,295 ارب روپے محصولات جمع کیے، جو چار ہزار چھ سو 39 ارب روپے کے ہدف سے 344 ارب روپے کم ہیں، اپ ڈیٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں 851 ارب روپے محصولات جمع کیے گئے جو نومبر 2023 میں جمع شدہ 736 ارب روپے کے مقابلے میں 115 ارب روپے زائد ہیں۔

  • عمران خان  کی رہائی کیلئے زیک گولڈ اسمتھ کی عالمی برادری سے اپیل

    عمران خان کی رہائی کیلئے زیک گولڈ اسمتھ کی عالمی برادری سے اپیل

    لندن: بانی نی پی ٹی آئی عمران خان کیلئے زیک گولڈ اسمتھ نے عالمی برادری سے اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی زیک گولڈ اسمتھ نے اپنے ایکس اکائونٹ پر کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستانی عوام کے پسندیدہ ترین لیڈر ہیں،اس وقت پاکستان میں عمران خان کے لئے صورتحال کافی خطر ناک ہوچکی ہے، یہ لوگ اقتدار اور طاقت کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ان عناصر کی کوئی بھی حرکت عمران خان اور پاکستان کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے، اب وقت آچکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے لئے بھرپور آواز اٹھائی جائے۔

    واضح رہے کہ زیک گولڈ اسمتھ کا ایکس اکاؤنٹ پرٹوئٹ ڈینئیل حنان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کی گئی پوسٹ کے بعد کی گئی جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے آرمی کی جیل میں بھیج دیا گیا ، ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

  • شمالی کوریا کے صدر کی  یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت”

    شمالی کوریا کے صدر کی یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت”

    روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے جمعے کے روز شمالی کوریا کے صدر کم یونگ اُن سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں کے بیچ فوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق رائے ہوا، اس موقع پر شمالی کوریا کے سربراہ نے یہ عزم کیا کہ ان کا ملک یوکرین میں روس کی جنگ کی "بھرپور حمایت” کرے گا۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیلوسوف کا دورہ "دونوں ملکوں کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے، دونوں ملکوں کے بیچ دوستانہ اور متبادل تعاون بڑھانے اور دونوں ملکوں کی افواج کے بیچ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا”۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی کی حمایت کی تھی۔ ماسکو اور پیانگ یانگ دونوں ہی اسے مشرق میں نیٹو اتحاد کی "غیر ذمے دارانہ” پیش قدمی اور امریکا کے زیر قیادت اقدامات کے جواب میں دفاعی رد عمل قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو اور امریکا کے اقدامات کا مقصد روس کی بطور ایک طاقت ور ریاست حیثیت ختم کرنا ہےمغرب یہ سمجھتا ہے کہ شمالی کوریا کے تقریبا 10 ہزار فوجی روس کے مغربی حصے میں یوکرین کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے کورسک بھیجے گئے۔ ماسکو اور پیانگ یانگ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    فروری 2022 میں یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد سے روس اور شمالی کوریا نے اپنے فوجی تعلقات میں اضافہ کیا ہے، دونوں ملکوں نے رواں سال جون میں تزویراتی شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے اس معاہدے کے مطابق کسی بھی حملے کی صورت میں متبادل عسکری مدد کی جائے گی اور مغرب کی جانب سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کیا جائے گا۔

    شمالی کوریا کی جانب سے اپنی افواج روس میں بھیجے جانے کے نتیجے میں جنوبی کوریا اب یوکرین کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات گہرے بنانے پر مجبور ہو گیا ہے۔