Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • جے شاہ نے  چیئرمین آئی سی سی کا چارج سنبھال لیا

    جے شاہ نے چیئرمین آئی سی سی کا چارج سنبھال لیا

    دبئی: بی جے پی رہنما اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ نے آئی سی سی چیئرمین شپ کا چارج سنبھال لیا۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ جے شاہ نے بطور آئی سی سی چیئرمین عہدے پر کام کا آغاز کر دیا ہے، چیئرمین آئی سی سی کی حیثیت سے جے شاہ کے عہدے کی مدت شروع ہو گئی ہے۔

    جے شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی سی سی چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے پر فخر محسوس کر رہا ہوں، آئی سی سی ڈائریکٹرز اور رکن بورڈز کی حمایت اور اعتماد کا شکر گزار ہوں،یہ کھیل کے لیے پُرجوش لمحہ ہے، ہم اولمپکس 2028 کی تیاری کر رہے ہیں، ہم کرکٹ کو شائقین کے لیے مزید دلچسپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم ایک اہم موڑ پر ہیں جہاں مختلف فارمیٹس ایک ساتھ موجود ہیں۔

    آئی سی سی چئیرمین کو ایک ماہ کی توسیع دینے کا فیصلہ

    انہوں نے کہا کہ خواتین کے کھیل کی ترقی کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، کرکٹ میں عالمی سطح پر بے پناہ صلاحیت موجود ہے، کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے آئی سی سی ٹیم اور رکن ممالک کے ساتھ قریبی کام کرنے کا منتظر ہوں۔

    پاکستان ہائبرڈ ماڈل پر راضی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

  • اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو امن و امان ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ہدایت کی،ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کے حوالے سے پی ٹی ائی قیادت سے رابطہ کریں بیلاروس کے صدر اور اعلی سطحی چینی وفد کے دورے کے پیش نظر پی ٹی آئی کومتعدد بار احتجاج موخر کرنے کا کہا گیا،پی ٹی آئی کے احتجاج جاری رکھنے کی ضد پر انہیں سنگجانی مقام کی تجویز دی گئی۔

    مظاہرین نے سنگجانی کے بجائے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی، پر تشدد مظاہرین نے پشاور تا ریڈ زون تک مارچ کے دوران ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا،مظاہرین نے اسلحہ بشمول سٹیل سلنگ شاٹس، سٹین گرنیڈ، آنسو گیس شیل اور کیل جڑی لاٹھیوں وغیرہ کا استعمال کیا۔پر تشدد احتجاج میں خیبر پختونخواہ حکومت کے وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شر پسند اور غیر قانونی افغان شہری بھی شامل تھےیہ سخت گیر 1500 شرپسند براہ راست مفرور اشتہاری مراد سعید کے ماتحت سرگرم تھےجو خود بھی ہمراہ تھااس گروہ نے عسکریت پسندانہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پر تشدد مظاہرین کے ساتھ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

    اسلام آباد میں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی پر متعین تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی چڑھا کر شہید کیا گیا پر تشدد مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا شر پسندوں کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 232 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔پرتشدد مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگائی، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا

    پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اور غیر ملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پر آئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا پولیس اور رینجرز نے اس پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا –

    واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی منتشر کرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔

    مظاہرین کے علاقے سے فرار کے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی، پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے،پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنےکی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی، من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے بد قسمتی سے غیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں۔

    وزراء، حکومتی اہلکار، پولیس آفیشلز اور کمشنر اسلام آباد نے بار بار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے، اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔

    وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا، پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں،جیل وینز کو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سینکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔

    ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے، پاکستان بشمول خیبر پختونخواہ کے قابل فخر عوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں، عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں۔۔۔پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے لئے اپنے اداروں کیساتھ یکجا کھڑی ہے۔

  • ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر

    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر

    کراچی: ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث آن لائن کام کرنے والے صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی: صارفین کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، گلشن اور کارساز کے کئی مقامات پر انٹرنیٹ اسپیڈ متاثر ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بھی انٹرنیٹ سست روی کا شکار ہےکوئٹہ میں انٹرنیٹ صارفین نے حکام سے سروس کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پشاور کے بھی مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہے، پشاور میں صارفین کا کہنا ہے کہ وائس نوٹ، تصاویر، ویڈیو اپلوڈنگ اور ڈاؤن لوڈنگ میں مشکلات ہیں،کئی علاقوں میں وائی فائی سروس میں بھی خلل آرہا ہے۔

  • اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں کے تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں کے تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں نے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاج میں شریک جل حبیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں نے ہمیں پیسے دے کر ڈی چوک میں توڑ پھوڑ کرنے کیلئے چھوڑا،عابد نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ہمیں یہاں لے کر آئے اور پھر ہمیں چھوڑ کر خود بھاگ گئے، ایک اور شر پسند صدیق نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل ہونے اسلام آباد آیا تھا اور یہاں ہمیں پولیس نے گرفتار کیا لیکن پی ٹی آئی کا کوئی بندہ ہمیں چھڑانے نہیں آیا۔

    ایک شرپسند عباس خان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی والوں کے کہنے پر یہاں آیا لیکن وہ ہمیں یہاں چھوڑ کر بھاگ گئے اور پولیس والے ہمیں یہاں لے آئے لیکن کوئی تشدد نہیں کیا، ایک شرپسند طاہر خان نے کہا کہ ہمارا لیڈر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا اور لوگوں نےبہت توڑ پھوڑ بھی کی لہذا اب سے میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہم سب یہاں پی ٹی آئی کی کال پر آئے تھے لیکن ہمیں بہت ذلالت کا سامنا ہوا اور اب ہم انہیں اپنا لیڈر نہیں مانتے۔

  • اسموگ تدارک کیلئے پنجاب حکومت کے اقدامات تسلی بخش قرار

    اسموگ تدارک کیلئے پنجاب حکومت کے اقدامات تسلی بخش قرار

    لاہور: لاہور کے عوام نے اسموگ کے تدارک کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی :پنجاب میں اسموگ کے حوالے سے نجی ادارے نے سروے رپورٹ شائع کردی، سروے انوائرنمنٹل ریسرچ کے نجی ادارے ارتھ پیپل گلوبل کی جانب سے لاہور میں بڑھتی ہوئی اسموگ پر عوامی رائے جاننے کیلئے کیا گیا، جس میں لاہور میں رہائش پذیر 1500 نوجوان لڑکے لڑکیوں کی رائے ریکارڈ کی گئی۔
    lahore
    lahore
    سروے کے مطابق اسموگ کا پھیلاؤ 3 چیزوں حکومتی اقدامات، عوامی اقدامات اور ہوا کا رخ پر منحصر ہے،63 فیصد لاہوریوں کی رائے ہے کہ بطور وزیر اعلٰی مریم نواز نے گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں بہتر انداز میں ماحول دوست اور مؤثر اقدامات کئے ہیں، حکومتی اقدا ما ت سے لاہور کے نوجوان بخوبی آگاہ ہیں، 69 فیصد لوگ اسموگ کے خلاف حکومت اقدامات کی آگاہی رکھتے ہیں، جو حکومت کی جا نب سے مؤثر آگاہی مہم کا نتیجہ ہے۔
    lahore
    lahore
    lahore
    90 فیصد نوجوان اسموگ سے ہونے والی بیماریوں سے واقف ہیں سروے میں 88 فیصد شہریوں نے صنعتوں کی رہائشی علاقوں سے منتقلی کے اقدام کو سپورٹ کیانوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد یعنی 44 فیصد کا ماننا ہے کہ گاڑیوں کا دھواں اسموگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    lahore
    lahore
    40 فیصد نوجوانوں نے آج تک اپنی گاڑی یا موٹر بائیک کا سائلنسر یا انجن ٹھیک/ چیک نہیں کروایا 44 فیصد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اسموگ کم کرنے کیلئے یا درخت لگانے کیلئے انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کیے 82 فیصد شہریوں نے اسموگ میں کمی کے لیے گاڑیوں اور صنعتوں کی سخت نگرانی کی حمایت کردی۔
    lahore
    سروے میں ہوا کے رخ کو فضائی آلودگی کے پھیلاؤ کا اہم سبب قرار دیا گیا بھارتی پنجاب میں دھان کی باقیات کو جلانے سے آلودگی ہوائی رُخ کے باعث پاکستان میں داخل ہوتی ہے بارڈر کے ایک طرف حکومتی اور عوامی اقدامات کا فائدہ تب تک نہیں ہوگا جب تک دوسری جانب بھی حکومت اور عوام اسموگ کے تدارک پر عملدرآمد نہ کرے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس اسموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مصروف عمل ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شاہراہوں، انڈسٹریل ایریاز، زرعی سمیت دیگر مقامات پر انسداد اسموگ کریک ڈاؤن میں تیزی لانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اسموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائیں۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اسموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کریک ڈاؤن جا ری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں کریک ڈاؤن کے دوران 06 مقدمات درج اور ملزمان گرفتار کرلیے گئے، 479 افراد کو 09 لاکھ 62 ہزار روپے جرمانے عائد جبکہ 40 کو وارننگ جاری کی گئی ہے، فصلوں کی باقیات جلانے کی 15، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 387 کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، صنعتی سرگرمی کی 04، اینٹوں کے بھٹوں کی 05، دیگر مقامات کی 13 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔

    رواں برس انسداد اسموگ کریک ڈاؤن میں مجموعی طور پر 3735 ملزمان گرفتار اور 3176 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 7380 افراد کو وارننگ جاری، 37975 افراد کو 09 کروڑ اور 56 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کیے گئے فصلوں کی باقیات جلانے کی 2049، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 33001 خلاف ورزیاں ہوئیں، صنعتی سرگرمی کی 364، اینٹوں کے بھٹوں کی 1395 اور دیگر مقامات کی 360 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں زیادہ دھواں چھوڑنے والی 5232 گاڑیوں کے چالان، 405 کو تھانوں میں بند، 05 کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کئے گئے،رواں برس شاہرات پر زیادہ دھواں چھوڑنے والی 08 لاکھ ، 59 ہزار 528 گاڑیوں کے چالان کئے گئے، 01 لاکھ 69 ہزار 881 گاڑیوں کو بند اور 10 ہزار 94 گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کیے گئے۔

  • لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانے پر رات گئے دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشت گر فرار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق لکی مروت کے علاقے تھانہ درہ پیزو پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دو اطراف سے حملہ کیا اور اسنائپر گن سے پولیس کانسٹیبل کرامت اللہ کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا،دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان مقابلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے، واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا،شہید اہلکار کی لاش ریسکیو حکام کی مدد سے اسپتال منتقل کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لکی مروت پہاڑ خیل پکہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے شہید پولیس اہلکار چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا جو اس دہشت گردی کا شکار بن گیا، وزیراعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

  • کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    پاراچنار : ضلع کرم میں قبائل کے درمیان جھڑپیں گیارہویں روز بھی جاری ہیں جس میں مزید 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعات میں اب تک 130 افراد جاں بحق اور 186 زخمی ہو چکے ہیں قبائلی جھڑپوں کے باعث پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمدورفت کے دیگر راستے بھی بند ہیں جبکہ مرکزی شاہراہ اور پاک افغان خرلاچی بارڈر پر آمدورفت بھی معطل ہے،شاہراہوں کی بندش سے تیل، اشیائے خورونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنرجاویداللہ محسود کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے مختلف مقامات پر پولیس، فورسز کے دستے تعینات ہیں، باقی علاقوں میں بھی آج فائر بندی کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں کرم میں امن امان سے متعلق گرینڈ جرگے سے خطاب میں ضلع کرم کے عوام کو پرُامن رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام غیرت مند اور پُرامن ہیں، امن و امان کے لیے حکومت کسی بھی حد جانے کے لیے تیار ہے۔

    انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدا یت دی کہ جو بھی امن کو خراب کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جائے صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج علا قے میں امن کے لیے تعینات ہے، فوج، پولیس اور انتظامیہ مل کر علاقے میں پائیدار امن کے لئے مربوط کوششیں کر رہے ہیں، علاقے میں قائم تمام کے تمام مورچے بلا تفریق ختم کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، علاقے میں امن کے لئے وفاقی حکومت ایف سی کے پلاٹونز فراہم کرے، گرینڈ جرگہ مکمل امن کے قیام تک علاقے میں رہے، صوبائی حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی، جو لوگ علاقے میں امن خراب کر رہے ہیں مقامی کمیونٹی اس کی نشاندہی کرےفریقین کے درمیان نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے مقامی عمائدین اپنا کردار ادا کریں انہوں نے ہدایت دی کہ علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً جمع کیا جائے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے، علاقے کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں، صوبائی حکومت ان بے گھر افراد کی باعزت واپسی یقینی بنائے گی۔

  • پی ٹی اے کا  وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے ملک بھر میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق تمام ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) 30 نومبر کے بعد کام جاری رکھیں گے کیونکہ ٹیلی کام ریگولیٹر نے قانونی بنیادوں کی کمی کی وجہ سے ان پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے.وزارت قانون کے مطابق حکومت کے پاس الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت اس طرح کی پابندی نافذ کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین سے کہا تھا کہ وہ 30 نومبر تک اپنے وی پی این رجسٹر کر لیں، جس کے بعد غیر رجسٹرڈ کنکشن بلاک کر دیے جائیں گے۔

    وزیر داخلہ نے ٹیلی کام ریگولیٹر سے غیر رجسٹرڈ VPNs پر پابندی لگانے کی درخواست کی تھی، یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دہشت گرد "پرتشدد سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے” اور "فحش اور گستاخانہ مواد تک رسائی” کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔، تاہم، وزارت قانون نے واضح کیا کہ PECA مخصوص آن لائن مواد کو بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ اس ماہ کے شروع میں کی گئی درخواست کو واپس لے لیا جائے گا،یہ فیصلہ وزارت قانون کی ایک رائے کے بعد لیا گیا جس میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس VPNs کو بلاک کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    وزارت داخلہ پابندی کی درخواست واپس لے۔ لاء ڈویژن نے حکومت کو بتایا کہ وہ PECA کے تحت VPNs کو نہیں روک سکتی

    "برقی جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (PECA) 2016 کی شقوں کے ساتھ تشریح کا مسئلہ تھا، اور بالآخر، یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی ریڈنگ کمزور تھی، اور عدالتیں اس کے کام کرنے کی اجازت دیں گی.

    PECA کے سیکشن 34 جس کا عنوان ‘غیر قانونی آن لائن مواد’ ہے حکام کو اختیار دیا ہے کہ وہ "اسلام کی شان یا پاکستان کی سالمیت، سلامتی یا دفاع یا کسی بھی حصے کے مفاد میں” کسی بھی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے یا ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کریں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے کاروباری افراد اور فری لانسرز سے 30 نومبر تک اپنے وی پی این کو رجسٹر کرنے کا مطالبہ کیا تھا ممکنہ پابندی کے اعلان کے بعد 7 ہزار اضافی رجسٹریشن کے ساتھ تقریباً 27 ہزار وی پی این رجسٹرڈ ہوئے سافٹ ویئر ہاؤسز کی جانب سے ان کے کاروبار پر پابندی کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، رواں برس فروری میں پاکستان میں ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) پر پابندی کے بعد وی پی این کے استعمال میں اضافہ ہوا۔

  • اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے،جبکہ جوابی کارروائی میں شامی باغی رہنما ‘روسی فضائی حملے میں مارا گیا-

    باغی ٹی وی : مقامی میڈیا کے مطابق شامی باغیوں کا ایک رہنما ابو محمد الجولانی ممکنہ طور پر روسی فضائی حملے میں مارا گیاجب اس کی فورسز نے حلب پر قبضہ کر لیا،ابو محمد الجولانی، حیات تحریر الشام گروپ کے موجودہ کمانڈر انچیف، سمجھا جاتا ہے کہ حملے کے وقت وہ عمارت کے اندر تھے۔
    syria
    باغی رہنما ابو محمد الجولانی

    شام کے اخبار الوطن نے اطلاع دی ہے کہ مبینہ طور پر تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے ارد گرد سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے لیکن الجولانی مارا گیا ہے یا نہیں اس کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی رہنما ابو محمد الجولانی ان مسلح دھڑوں کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک ہے جو شامی فوج کے ساتھ لڑائیوں میں مصروف ہیں اور اس کے سر پر 7.9 ملین ڈالر کا انعام ہےیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر اسد کی افواج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ وہ دوبارہ تعینات ہو گئے ہیں اور جوابی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
    syiran rebel
    دریں اثنا، کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے منظر نامے کی تیاری کر رہا ہے جہاں صورت حال بگڑنے پر اسے کارروائی کرنے کی ضرورت ہوگی،انٹیلی جنس سربراہوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ ‘اسد حکومت کے خاتمے سے ممکنہ طور پر افراتفری پھیلے گی جس میں اسرائیل کے خلاف فوجی خطرات پیدا ہوں گے۔’

    القاعدہ سے منسلک باغیوں نے ہفتے کے روز دمشق کی طرف جنوب کی طرف پیش قدمی کی، جس کے ایک دن بعد انہوں نے حلب پر حکومتی دستوں کی جانب سے تھوڑی مزاحمت کے ساتھ قبضہ کر لیا،باغیوں نے شامی فوج کے اڈے اور حلب ائیرپورٹ سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضےکا دعویٰ کیا ہے شامی فوج شمالی شہر حماہ سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے،شامی باغیوں کے حملے میں درجنوں شامی فوجی مارے جانےکی بھی اطلاعات ہیں۔

    2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں،اطلاعات کے مطابق حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں،شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔

    دوسری جانب روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام میں پیدا کی جانے والی نئی صورت حال پر باہم تبادلہ خیال کیا ہے،ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تبادلہ خیال دونوں وزرائے خارجہ نے فون پر کیا ہے دونوں ملکوں نے اس موقع پر شامی اپوزیشن کے مسلح حملوں کے خلاف بشارالاسد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں حملے امریکی واسرائیلی منصوبے کا نتیجہ ہیں، تاکہ خطے میں عدم استحکام بڑھایا جاسکے۔

    ہفتے کے روز شام کی فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ اس کے فوجیوں کو قتل کیا گیا ہے یہ فوجی اپوزیشن کے حملوں میں اس وقت ہلاک ہوئے ہیں جب اپوزیشن نے حلب شہر پر حملے کیے اس واقعے سے بشارالاسد کے شمال مغربی صوبے میں ایک نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے کہ وہ فوج کی تعینات کو نئے سرے سے کریں۔

    روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے شام میں صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان دہشت گردانہ حملوں سے شام میں صورت حال خطرناک ہو گئی-

  • غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید  100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آگئی ہے، ہفتے کو غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم ازکم 100 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں سے 75 فلسطینی بیت لاحیا کی رہائشی عمارتوں پر بمباری میں شہید ہوئے۔

    اس کے علاوہ جنوبی غزہ کے شہرخان یونس پر اسرائیل کی بمباری میں17 افرا دشہید ہوئے، اسرائیلی طیاروں نےخان یونس میں 2 مقامات کو نشانہ بنایا، غزہ میں خوراک تقسیم کےدوران اسرائیلی حملے میں 3 امدادی کارکن بھی شہید ہوئے، حملے کے بعد امدادی ادارے نے غزہ میں خوراک تقسیم کا کام بند کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے دوران وحشیانہ زمینی اور فضائی حملوں میں 2700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں فلسطینیوں کو سنگین غذائی بحران کی صورتحال کا سامنا ہے۔

    فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 44 ہزار 382 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 5 ہزار 142 فلسطینی زخمی بھی ہوئے،جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے-