پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں میڈیاکودبانے،صحافیوں کوہراساں کرنےپربھارت کی مذمت کرتاہے. ترجمان دفترخارجہ کی طرف سے جاری کئے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیرکےصحافیوں کومسلسل ہراساں کیاجارہا ہے. ترجمان نے کہا کہ کشمیری صحافیوں کی جرات کوسلام اور فرائض کی انجام دہی میں جانیں قربان کرنےوالوں کوخراج عقیدت پیش کرتےہیں. ترجمان نے کہا کہ
سیاہ قوانین کےتحت بھارتی اقدامات کےباوجودکشمیری صحافی فرائض سرانجام دےرہےہیں جب کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں میڈیاکی آوازکومسلسل دبایاجارہاہے. ترجمان دفترخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ 5اگست کےاقدامات کےبعدمقبوضہ کشمیر میں صورتحال بہت زیادہ خراب ہوچکی ہے.
Author: Khalid Mehmood Khalid

پاکستان کی مقبوضہ کشمیرمیں میڈیاکودبانےاور صحافیوں کوہراساں کرنےپربھارت کی مذمت

پاکستان کی پہلی اردو فلم تیری یاد کے ہیرو ناصر خان کی 46 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
پاکستان کی پہلی اردو فلم تیری یاد کے ہیرو ناصر خان کی 46ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے 3مئی 1974کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں وفات پائی۔بھارتی فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ اداکاریوسف خان المعروف دلیپ کمارکے چھوٹے بھائی ناصرخان 11جنوری 1924کو پشاور میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز 1945میں ریلیز ہونے والی فلم مزدور سے کیا لیکن ان کی یہ فلم ناکام ہو گئی۔1947میں انہوں نے فلم شہنائی میں کام کیا۔ یہ فلم موسیقار سی رام چندر کی موسیقی کی وجہ سے کامیاب ہوئی لیکن عوام نے ناصر خان کی اداکاری کو پسند نہیں کیا۔ قیام پاکستان کے بعد ناصر خان اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود لاہور آگئے اور ہدایت کار داؤد چاند کی ڈائریکشن میں بننے والی پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد میں اداکارہ آشا پوسلے کے مد مقابل ہیرو کا کردار کیا۔ فلم کے دیگر اداکاروں میں سردار محمد، غلام محمد اور راگنی شامل تھے جب کہ موسیقی عنایت علی نااتھ نے دی۔یہ فلم 7اگست 1948کو ریلیز ہوئی تاہم یہ فلم بھی باکس آفس پرکامیاب نہیں ہوسکی۔ اس کے بعد19مارچ 1949 کو ریلیز ہونے والی ہدایت کار لقمان اور انور کمال کی فلم شاہدہ میں ناصر خان نے ایک بار پھر اداکاری کی لیکن اس فلم کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ فلم کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر اور جی اے چشتی نے دی تھی۔فلم کی ناکامی کے بعد ناصر خان1951میں بمبئی واپس چلے گئے۔اس دوران بمبئی میں ان کے بھائی دلیپ کمار کی فلم میلہ باکس آفس پر کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کر چکی تھی اور ناصر خان کی سوچ تھی کہ دلیپ کمار اپنے بھائی کی مدد کریں گے۔ 1951میں انہوں نے اداکارہ نوتن کے ساتھ فلم نگینہ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فلم کامیاب ہو گئی اور یوں ناصر خاں کو فلمی دنیا میں نئی زندگی مل گئی۔فلم کے ایک سین میں ناصر خان نوتن کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے بھارتی سنسر بورڈ نے فلم کو بالغوں کے لئے سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ اس سرٹیفکیٹ کے جاری ہونے کے بعد فلم کو دیکھنے کے لئے 18سال سے کم عمر کی خواتین سنیما نہیں جا سکتی تھیں۔ نوتن جب اپنی فلم کا پہلا شو دیکھنے گئیں تو ان کی عمر اس وقت 16سال تھی جس کی وجہ سے انہیں سنیما کے گیٹ کیپر نے روک دیا جس کے بعد انہیں اپنی فلم دیکھنے کے لئے برقع پہننا پڑا۔ناصر خان نے بھارت میں فلم خزانہ، نخرے، نازنین، پھولوں کے ہار، لال کنور، دائرہ، انگارے، آغوش، شیشم اور سوداگر میں اداکاری کی لیکن ان کے بھائی دلیپ کمار نے ان کی کسی بھی طرح سے مدد نہیں کی۔ناصر خان نے بھارت کی خوبرو اداکارہ بیگم پارا سے شادی کی۔ ان کے ساتھ ناصر خان نے تین فلموں میں کام کیا۔ ان کی آخری کامیاب ہونے والی فلم 1961میں ریلیز ہونے والی فلم گنگا جمنا تھی جس میں انہوں نے دلیپ کمار کے ہمراہ جمنا کا کردار ادا کیااور یہ فلم ان کے کیریر کی سب سے کامیاب فلم تھی۔ناصر خان کی بطور اداکار آخری فلم 1976میں بننے والی فلم بیراگ تھی جس میں انہوں نے مختصر کردار اداکیا۔ناصر خان 3مئی 1974کو نئی دہلی میں چل بسے۔ان کا بیٹا ایوب خان بھارتی فلمی صنعت میں اداکاری کر رہا ہے۔

ماضی کی معروف اداکارہ نرگس دت کی 39 ویں برسی
برصغیر کی معروف اداکارہ نرگس دت کی 39 ویں برسی اتوار کے روز منائی جا رہی ہے۔وہ 3مئی 1981کو ممبئی میں انتقال کر گئی تھیں۔نرگس جن کا اصل نام فاطمہ رشید تھا، یکم جون 1929کو بنگال میں ایک پنجابی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ان کے والد عبدالرشید راولپنڈی کے ایک انتہائی امیرشخص تھے جب کہ ان کی والدہ جدن بائی اس وقت کی مقبول کلاسیکل گلوکارہ تھیں۔نرگس نے اپنی فنی زندگی کا آغاز صرف 6 سال کی عمر میں 1935میں فلم تلاش حق سے کیا تھا جہاں ان کو فلمی نام بے بی نرگس دیا گیا۔ 1943میں انہوں نے بطور ہیروئن پہلی مرتبہ محبوب خان کی فلم تقدیر سے کیا جس میں ان کے مد مقابل اس وقت کے معروف اداکار موتی لال نے بطور ہیرو کام کیا۔ تقدیر میں کام کرنے کے بعد نرگس کی ملاقات راج کپور سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنی کئی فلموں میں ہیروئن کے طور پر کام کرنے کا موقعہ دیا۔1949میں فلم برسات کی کامیابی کے بعدآگ، انداز، جوگن، آوارہ، دیدار، انہونی، شری 420، آہ سمیت جتنی بھی فلموں میں اداکاری کی انہوں نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔1957میں فلم مدر انڈیا کو آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا۔ اس فلم میں لازوال اداکری کرنے پر انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازہ گیا۔ نرگس فلم مدر انڈیاکی شوٹنگ کے دوران کھیتوں میں لگائی جانے والی آگ کی لپیٹ میں آگئیں جہاں سنیل دت نے اپنی جان پر کھیل کر نرگس کو بچایاجس سے متاثر ہو کر نرگس نے11مارچ 1958کو سنیل دت سے شادی کر لی۔نرگس اداکار راج کپور سے شادی کی خواہش مند تھیں۔ وہ انہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے پر زور دیتی رہیں لیکن 9سال انتظار کرنے کے بعد انہوں نے سنیل دت سے شادی کا فیصلہ کیا۔ سنیل دت نے فلم مدر انڈیا میں ان کے بیٹے کا کردار ادا کیا تھا۔نرگس نے 1967میں فلم رات اور دن میں آخری مرتبہ اداکاری کی۔اس فلم میں کام کرنے کے عوض انہیں بھارت کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا۔1980-81میں نرگس کو بھارتی راجیہ سبھا کا رکن بنایا گیا لیکن کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث ان کا 3مئی1981کو انتقال ہو گیا۔ان کا ایک بیٹا سنجے دت بھارتی فلمی دنیا میں کامیاب ہیرو کے طور پر ابھرا جب کہ ان کی دو بیٹیاں نمرتا اور پریا ہیں۔ نمرتا نے اداکار راجندر کمار کے بیٹے کمار گورو سے شادی کی جب کہ دوسری بیٹی پریاسیاست میں آگئیں اور ان کو14ویں لوک سبھا کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔

سابق چیف جسٹس کورونا وائرس سے ہلاک
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے کے ترپاٹھی کورونا وائرس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے۔ان کی عمر62سال تھی۔ جسٹس ترپاٹھی جو کہ اس وقت بھارتی محتسب عدالت کے رکن بھی تھے 2اپریل کو کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے اور انہیں نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کیا گیا تھا جہاں گزشتہ روز ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تاہم ہفتہ کی شام کووہ چل بسے۔ان کی بیٹی اور باورچی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے لیکن وہ صحت یاب ہو کر گھر واپس چلے گئے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارت میں کورونا وائرس کے 2411مریضوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے بھارت میں کل مریضوں کی تعداد 37776ہو گئی جب کہ گزشتہ روز 76افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 1223ہو گئی ہے۔



