Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • آپریشن سندور کی شکست کی سالگرہ منانے والے بھارتی اے سی دھماکےسے خوفزدہ

    آپریشن سندور کی شکست کی سالگرہ منانے والے بھارتی اے سی دھماکےسے خوفزدہ

    آپریشن سندور میں عبرتناک شکست کی پہلی سالگرہ منانے والے بھارتیوں کے لیے بدھ کی رات ایک دھماکہ خیز تحفہ لائی۔

    اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا کے سیکٹر 1 میں ایک رہائشی مکان میں ایئر کنڈیشنر کے دھماکے سے زبردست آگ بھڑک اٹھی۔ دھواں کے سیاہ بادل اٹھتے دیکھ کر محلے والوں کے ہوش اڑ گئے اور فوراً چیخ و پکار مچ گئی کہ یہ تو IED بلاسٹ ہے، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ ادارے حرکت میں آگئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ رات تقریباً 10:15 بجے اے سی کمپریسر میں دھماکہ ہوا جس سے آگ کی لپیٹیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تو پہنچ گئیں مگر سوشل میڈیا پر فوراً پاکستان نے ایک اور دھماکہ کر دیا کی تھیوریاں چل پڑیں۔ ایک صارف نے لکھا ہر دھماکہ سن کر لگتا ہے آئی ایس آئی کا کام ہے، اب تو اے سی بھی پاکستان سے کنٹرول ہوتے ہیں!

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت اور بجلی کے وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے اے سی بلاسٹ عام بات ہے، مگر بھارتیوں کا پاکستان فوبیا اتنا شدید ہے کہ ایک عام گھریلو حادثے کو بھی دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل دہلی کے وویک ویہار میں بھی اے سی بلاسٹ سے آگ لگی تھی جس میں جانی نقصان ہوا، اس پر بھی را والوں نے پاکستان کا نام لینا شروع کر دیا تھا۔ بھارتی پولیس نے اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، البتہ تفتیش جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹس میں شارٹ سرکٹ کی بات کی جا رہی ہے مگر کچھ قومی سلامتی کے ماہرین اصرار کر رہے ہیں کہ یہ کوئی عام بلاسٹ نہیں، پیچھے بڑا ہاتھ ہے۔ آپریشن سیندور کی سالگرہ پر بھارت جہاں اپنی شکست خوردہ فتح منا رہا تھا وہیں معمولی دھماکوں کی آوازوں نے ان کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ کیا واقعی پاکستان اتنا طاقتور ہے کہ بھارتی اے سی بھی اس کے اشارے پر پھٹتے ہیں؟ یا پھر بھارتیوں کا خود ساختہ خوف ہی ان کا سب سے بڑا دشمن ہے؟ دیکھتے ہیں کب تک "را” والے پاکستان پر الزام لگانے کا کوئی ثبوت ڈھونڈ لیتے ہیں! 

  • بھارتی فوج نےفارورڈ پوسٹ پر ریڈ فلیگ لہرا کر خطرے کی گھنٹی بجا دی

    بھارتی فوج نےفارورڈ پوسٹ پر ریڈ فلیگ لہرا کر خطرے کی گھنٹی بجا دی

    بھارتی فوج کی طرف سے کشمیر میں حساس سرحدی پٹی وادی نیلم میں لائن آف کنٹرول پر سخت کشیدگی میں اضافے کے اشارے مل رہے ہیں۔

    بھارتی فوج نے ایک فارورڈ پوسٹ پر ریڈ فلیگ لہرا کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔فوجی اصطلاح میں ریڈ فلیگ عام طور پر ہائی الرٹ، ممکنہ خطرے یا کسی ممکنہ کارروائی کی پیشگی وارننگ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اس واقعے نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایل او سی پر غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے جن میں مبینہ دراندازی کی کوششیں، ڈرون سرگرمیوں میں اضافہ، اور بھارتی فوج کی جانب سے نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنا شامل ہے۔ ان پیش رفتوں نے دونوں اطراف سرحدی علاقوں میں بسنے والی مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ 

  • مودی سرکار مشرق وسطی جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کر یگی؟ بھارتی صحافی رویش کمار کا تجزیہ

    مودی سرکار مشرق وسطی جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کر یگی؟ بھارتی صحافی رویش کمار کا تجزیہ

    خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھارتی صحافیوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فارن پالیسی پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔ ممتاز صحافی رویش کمار نے مودی پر بھرپور انداز میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں جو کہا اس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بات بھی کی۔ فنانشل ٹائمز میں خبر شائع ہوئی ہے کہ جنرل منیر نے ٹرمپ کو فون کیا اور بیچ بچاؤ کی پیشکش کی ہے۔ تو اس موڑ پر اس جنگ میں پاکستان کا کردار اچانک بڑا دکھائی دینے لگا ہے۔

    اور سوال یہ ہے کہ اب تک کے حالات میں بھارت کا کیا کردار رہا ہے؟ جنگ رکوانے میں پاکستان کا کردار ہو اور بھارت کا نہ ہو۔ بھارت کے سفارتی ماہرین کو یہ سب کیسا لگ رہا ہوگا؟ پوری دنیا میں یہ بحث ہے کہ مغربی ایشیا کے سب سے بڑے بحران میں اچانک پاکستان کا کردار اتنا اہم کیسے ہو گیا؟ کیا پاکستان بھی امن کا پجاری بن گیا ہے؟ اب تک کی سفارتی کوششوں میں بھارت کہاں ہے اور کیوں نہیں ہے؟ یہ سوال پوچھا جانا چاہیے۔

    23 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے۔ تب انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ایران نے بھی مانا کہ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی مگر کسی اور کے ذریعے ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ ٹرمپ اور منیر کے درمیان بات ہوئی ہے۔

    کیا اسلام آباد میں آگے کوئی میٹنگ ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے بھارت کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرائن لیویٹ سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ قیاس آرائیاں نہ کریں۔ اے این آئی کے سوال سے پہلے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ اسی ہفتے اسلام آباد میں جنگ ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس گفتگو میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس ملاقات میں ایرانی حکام امریکی حکام سے مل سکتے ہیں۔

    اسی رپورٹ کی بنیاد پر اے این آئی نے سوال کیا ہوگا کہ کیا اسلام آباد میں کوئی میٹنگ تجویز کی گئی ہے؟ پریس سیکریٹری نے جواب تو نہیں دیا مگر ایسی کسی میٹنگ سے صاف انکار بھی نہیں کیا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ اس وقت تمام حساس معاملات کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا۔ حالات بدل رہے ہیں اور کسی بھی میٹنگ کے بارے میں قیاس آرائی کو اس وقت تک حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس اس کا اعلان نہ کرے۔

    23 مارچ کو ٹرمپ کے بیان کے بعد ہی امریکہ کی ایک ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ اس گفتگو میں مصر، ترکی اور پاکستان کا کردار ہو سکتا ہے۔ وہ رپورٹ ذرائع کے حوالے سے تھی لیکن اب صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے۔ فنانشل ٹائمز نے بھی پاکستان کے حوالے سے ایک تجزیہ کیا ہے۔ لکھا ہے کہ ایران بحران کے معاملے میں پاکستان بطور ثالث ابھر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کا یہ مضمون کافی پڑھا جا رہا ہے اور اسے پانچ صحافیوں نے مل کر لکھا ہے۔

    پاکستان کو یہ کردار کیوں ملا ہوگا؟ نام تو ترکی اور مصر کا بھی آیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ ترکی کو وہ پلیٹ فارم ملے، اس لیے ممکن ہے وہ پاکستان کو آگے کر رہا ہو۔ ترکی بھی سعودی عرب کی طرح ایک بڑی سنی طاقت ہے اور سعودی عرب کے لیے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے سعودی عرب خود کو ترکی سے اوپر رکھنا چاہے گا، اسی لیے مانا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہوگا۔

    ایران پر حملے کے بعد ترک صدر اردگان نے جب اپنی پارلیمنٹ میں خطاب کیا کہ شیعہ اور سنی ایک ہیں تو تالیاں بجیں۔ یوکرین جنگ کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ترکی کی جگہ اب اچانک پاکستان کا کردار بڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ اسرائیل ترکی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ جس سنی محور کی بات کرتا ہے، اس میں ترکی بھی شامل ہے۔ امریکہ بھی ترکی کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں ہوگا کیونکہ جب ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے میں ترکی کو شامل کرنا چاہا تو اسرائیل نے اعتراض کیا تھا۔

    لیکن اس بار امریکہ نے یہ موقع پاکستان کو دے دیا ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں دکھا دیا کہ خلیج کی دونوں سنی طاقتیں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ ترکی کو پیچھے کر رہا ہے لیکن سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان کو گفتگو میں شامل کر لیا ہے۔ اس لیے سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان سے بات کرنے کے فیصلے میں سعودی عرب نے کوئی کردار ادا کیا ہوگا؟ آخر اچانک پاکستان اتنا بڑا کھلاڑی کیسے بن گیا؟

    پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے ہیں۔ اس سے بات کر کے امریکہ ایران کو یہ پیغام دے رہا ہوگا کہ آپ پاکستان کو اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس کی بات ہم سے بھی ہے، وہ ہمارا بھی دوست ہے۔

    کرکٹ کی زبان میں کہیں تو بھارت کا گودی میڈیا کیچ کے لیے تیار تھا مگر گیند باؤنڈری لائن کے باہر چلی گئی۔ یہاں خوب بحث ہو رہی ہے کہ صرف وزیر اعظم نریندر مودی ہی جنگ رکوا سکتے ہیں۔ کیا ہندوستان جنگ رکوا پائے گا؟ تین دن پہلے انڈیا ٹی وی پر یہ سوال اٹھا۔ تباہی کے بیچ دنیا کو مودی سے امید، کیا پی ایم مودی مہا جنگ روکیں گے؟ ریپبلک بھارت کا سوال تھا۔ صرف بھارت روک سکتا ہے ایران جنگ—نیوز 18۔ ایران اسرائیل کی جنگ ختم کرا سکتا ہے بھارت—ٹی وی 9 کی سرخی۔

    کس بنیاد پر بھارت میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ بھارت کے پاس امن کا منتر ہے؟ امن کا منتر ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جس ملک نے حملہ کیا اس کا نام لے کر مذمت کی جائے۔ کیا بھارت ایسا کر سکا؟ فن لینڈ کے صدر نے 18 مارچ کو کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ جنگ بندی کون کرا سکتا ہے—یورپ یا بھارت۔ مگر نام پاکستان کا سامنے آ گیا۔

    جب سے یہ جنگ شروع ہوئی، بھارت کے اخبارات میں کئی مضامین شائع ہوئے کہ بھارت اس جنگ کو روکنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ 20 مارچ کو ناگپور میں وشو ہندو پریشد کے پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بیان بھی میڈیا میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگیں ہو رہی ہیں اور کئی ممالک سے آواز اٹھ رہی ہے کہ صرف بھارت ہی جنگ ختم کر سکتا ہے کیونکہ وہ بھارت کی فطرت اور انسانی اقدار کو جانتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں دنیا میں ہونے والی بڑی جنگوں—روس یوکرین اور ایران اسرائیل—کو روکنے میں بھارت نے کیا کردار ادا کیا؟ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارت جنگ رکوا سکتا ہے تو مثالیں بھی دینی چاہئیں۔

    اگر بھارت جنگ رکوا سکتا تھا تو اس نے پہل کیوں نہیں کی؟ اسے کس نے روکا؟ اگر کوئی روک رہا ہے تو پھر بھارت کیسے جنگ رکوا سکتا ہے؟

    ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جنگ ختم ہو گئی اور بھارت کا کوئی کردار نہیں رہتا، لیکن اس اہم مرحلے پر اگر پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے تو سوال بھارت سے ہونا چاہیے۔

    بھارت اور ایران کی دوستی کا تعلق تاریخ، ثقافت اور روایات سے ہے۔ کیا اسرائیل کا دورہ کر کے بھارت نے غلطی کی؟ کیا یہ سفارتی حکمت عملی تھی یا وزیر اعظم مودی کا ذاتی فیصلہ کہ ایران جیسے پرانے دوست کو چھوڑ کر اس ملک کا دورہ کیا جائے جو ایران پر حملہ کرنے والا تھا؟

    اس نئی دوستی کا کیا نتیجہ نکلا؟ امریکہ نے عالمی اسٹیج پاکستان کو دے دیا۔ اگر یہی موقع بھارت کو ملتا تو آج اسے عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا۔

    سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کے قریب جا کر وزیر اعظم مودی نے اپنی خارجہ پالیسی کو خود کمزور کر دیا؟ امریکہ نے بھارت کو ایک طرف کر کے پاکستان کو آگے کر دیا، اس پر بحث ہونی چاہیے۔

    2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی سفارتکاری کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کیا جائے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو دہشت گرد ملک کہہ رہے ہیں، کیا بھارت اس کی مذمت کر سکتا ہے؟

    بھارت نے مذمت کی اخلاقی آواز کھو دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس پاکستان کو بھارت دہشت گردی کا حامی کہتا ہے، وہی پاکستان امن عمل میں کیسے شامل ہو رہا ہے؟

    امریکہ نے پاکستان کو وہ حیثیت دے دی ہے جو شاید بھارت کے تصور سے بھی زیادہ ہے، اور وزیر اعظم مودی کی خاموشی اس حیثیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔

    اگر بھارت نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہوتی تو شاید اسے بھی ثالثی کا کردار مل سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    پاکستان نے کم از کم ایران پر حملے کی مذمت کی، اس کی پارلیمنٹ میں تعزیت پیش کی گئی اور ایران نے اس کا شکریہ ادا کیا۔

    اس کے باوجود، اگرچہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، پھر بھی اس کا کردار سامنے آ رہا ہے۔

    اسرائیل ایک بڑا فریق ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ آئی ڈی ایف کرے گی، یعنی امریکہ نہیں۔

    بھارت کے اسرائیل سے قریبی تعلقات کے باوجود وہ ثالثی میں نظر نہیں آ رہا۔

    وزیر اعظم مودی نے خلیجی ممالک کے کئی دورے کیے، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، عمان اور کویت گئے اور اعلیٰ اعزازات حاصل کیے، لیکن اس جنگ میں بھارت کا کردار واضح نہیں۔

    پارلیمنٹ میں مودی نے کہا کہ وہ مختلف ممالک سے بات کر رہے ہیں اور بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ بھارت جنگ رکوانے کی کوئی پہل کر رہا ہے۔

    تو کیا صرف بات کرنا ہی کردار ادا کرنا ہے؟

    یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن پاکستان کا ابھرتا کردار بھارت کے لیے ایک سوال بن چکا ہے۔

    اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا وزیر اعظم مودی پاکستان کے کردار کی تعریف کریں گے؟

  • امریکہ-بھارت تجارتی معاہدہ: ٹرمپ نے مودی سے کال کے بعد ٹیرف میں کمی اور بڑے وعدوں کا اعلان کیا

    امریکہ-بھارت تجارتی معاہدہ: ٹرمپ نے مودی سے کال کے بعد ٹیرف میں کمی اور بڑے وعدوں کا اعلان کیا

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے فوراً بعد امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎معاہدے کے تحت امریکہ بھارتی مصنوعات پر عائد ریسی پروکل ٹیرف کو فوری طور پر 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔ اس کے بدلے بھارت نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے کی سمت عملی اقدامات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے امریکی برآمدات کو بھارتی منڈی میں نمایاں سہولت ملے گی۔
    ‎صدر ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم مودی نے روس سے تیل کی خریداری کم کرنے اور اس کی جگہ امریکہ اور وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کو یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
    ‎معاہدے کے ایک اور اہم پہلو کے تحت بھارت نے Buy American پالیسی کے تحت 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی انرجی، ٹیکنالوجی، زرعی مصنوعات، کوئلہ اور دیگر اشیا خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جس سے امریکی معیشت اور روزگار کے مواقع کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
    ‎امریکی صدر نے کہا کہ وہ اور وزیراعظم مودی ایسے رہنما ہیں جو وعدے کر کے انہیں پورا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بعد امریکہ اور بھارت کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

  • عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس،بھارت کو سفارتی طور پر بڑی ناکامی

    عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس،بھارت کو سفارتی طور پر بڑی ناکامی

    بھارت کو سفارتی طور پر ایک بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں بھارت اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس 30 اور 31 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے جس میں عرب لیگ کے صرف 6 ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں کوموروس، فلسطین، صومالیہ، سوڈان، لیبیا اور عمان شامل ہیں جبکہ سعودی عرب، قطر، مصر اور بحرین جیسے اہم اور اثر و رسوخ والے عرب ممالک نے نائب وزرائے خارجہ یا کم سطح کے نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنا وفد بھیجنے سے معذرت کر لی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ابتدائی طور پر 20 سے زائد عرب لیگ کے ممالک کی شرکت کا دعویٰ کیا تھا تاہم حتمی صورتحال میں صرف 6 ممالک کی وزیر خارجہ سطح کی نمائندگی کنفرم ہوئی ہے جو بھارت کی عرب دنیا میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو شدید دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ناکامی بھارت کی اسرائیل کے ساتھ گہری شراکت داری اور غزہ جنگ میں غیر جانبداری کی بجائے اسرائیل کی حمایت اور علاقائی تنازعات جیسے سوڈان، لیبیا اور فلسطین میں متوازن پالیسی نہ اپنانے کا نتیجہ ہے۔ عرب ممالک نے اعلیٰ سطح پر شرکت سے گریز کرکے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ابھی تک عرب دنیا کے لیے مکمل اعتماد کے قابل نہیں۔ یہ اجلاس انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور اور معاشی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر سفارتی سطح کی کمزوری نے اس کی اہمیت کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقاتوں کا پروگرام ہے، لیکن محدود شرکت سے بھارت کی علاقائی تنہائی اور سفارتی چیلنجز مزید واضح ہو گئے ہیں۔

  • مودی۔ٹرمپ فون کال تنازعہ: بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئی کشیدگی

    مودی۔ٹرمپ فون کال تنازعہ: بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئی کشیدگی

    بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مبینہ فون رابطے پر پیدا ہونے والا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد بھارت۔امریکہ تعلقات ایک بار پھر سفارتی دباؤ کی زد میں آ گئے ہیں۔

    امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے ایک بیان نے اس معاملے کو سیاسی اور سفارتی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک اہم دوطرفہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں اس لیے رک گیا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق معاہدے کے بیشتر نکات طے پا چکے تھے، تاہم حتمی منظوری کے لیے ٹرمپ کی براہ راست مداخلت ضروری سمجھی جا رہی تھی، جو مودی کی فون کال کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔

    لٹنک نے کہا کہ صدر ٹرمپ ذاتی سطح پر معاملات طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی طرزِ سفارت کاری کے تحت بھارت سے بھی توقع کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم مودی براہ راست رابطہ کریں گے۔ امریکی مؤقف کے مطابق یہ رابطہ نہ ہونے کے باعث تجارتی معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

    تاہم دوسری طرف بھارت نے امریکی دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 2025 کے دوران کم از کم آٹھ مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جن میں تجارت، دفاعی تعاون اور عالمی امور پر تبادلہ خیال شامل تھا۔ بھارتی ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا یا مودی نے دانستہ طور پر ٹرمپ سے بات نہیں کی۔ ترجمان کے مطابق بھارت۔امریکہ تعلقات مسلسل رابطے اور مشاورت پر مبنی رہے ہیں اور کسی ایک فون کال کو بنیاد بنا کر پورے عمل کو ناکام قرار دینا درست نہیں۔

    اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ کانگریس کے مطابق ایک جانب حکومت قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ 

  • نومسلم سربجیت کور کی بھارت ڈیپورٹیشن میں رکاوٹ؛ ایک دو روز میں واپسی کا امکان

    نومسلم سربجیت کور کی بھارت ڈیپورٹیشن میں رکاوٹ؛ ایک دو روز میں واپسی کا امکان

    غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم بھارتی سکھ خاتون سربجیت کور کو گزشتہ روز بھی واہگہ بارڈر کے راستے بھارت ڈی پورٹ کرنے کے لئے دستاویزات مکمل نہیں ہوسکیں جس کے بعد سربجیت کور کو شیلٹر ہاوس منتقل کر دیا گیا۔ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ذرائع کے مطابق سربجیت کور کو لینے کیلئے اس کے خاندان کے افراد گزشتہ روز بھی اٹاری بارڈر پہنچے لیکن شام کو مایوس واپس لوٹ گئے۔ سربجیت کور، جو پنجاب کے ضلع کپور تھلہ کی رہائشی ہے، نومبر 2025 میں گورو نانک دیو جی کی 556ویں جنم سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں سکھ یاتریوں کے ایک بڑے جتھے کے ساتھ پاکستان آئی تھی۔ اس کا ویزہ 13 نومبر 2025 کو ختم ہو گیا تھا لیکن وہ بھارت واپس نہیں گئی۔ پاکستان میں قیام کے دوران اس نے اسلام قبول کیا اور پاکستانی شہری ناصر حسین سے نکاح کرنے کے بعد اپنا نام نور حسین رکھ لیا۔ 4 جنوری کو ننکانہ صاحب کے قریب پہرے والی گاؤں سے پولیس نے سربجیت کور اور ان کے شوہر ناصر حسین کو گرفتار کر لیا اور سربجیت کور کو بھارت ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر اور پنجاب کے وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے اس کی تصدیق کی ہے کہ ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر سربجیت کو ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ 5 جنوری کو ایف آئی اے حکام نے اسے واہگہ بارڈر تک پہنچایا جہاں ڈی پورٹیشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ تاہم آخری لمحے اسے بھارت بھیجنے کا عمل روک دیا گیا۔دریں اثنا پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار مہیندرپال سنگھ نے جنگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے سربجیت کور کو ڈی پورٹ کرنے کی دستاویزات مکمل کر لی گئی ہیں اور اب سربجیت کور کو ائند دو روز تک بھارت واپس بھیج دیا جائے گا۔

  • آئی سی سی میں جے شاہ کی کمزور قیادت، عالمی کرکٹ سیاست کی نذر

    آئی سی سی میں جے شاہ کی کمزور قیادت، عالمی کرکٹ سیاست کی نذر

    2025 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی قیادت ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں بھارتی شخصیت جے شاہ کی سربراہی کو عالمی کرکٹ میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور سیاسی اثرورسوخ روکنے میں ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔

    مبصرین کے مطابق آئی سی سی اس عرصے میں غیرجانبدار عالمی ادارے کے بجائے طاقتور بورڈز کے دباؤ میں فیصلے کرتی دکھائی دی۔ جے شاہ جو بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں، انہوں آج تک ایک بار بھی کرکٹ بیٹ کو نہیں پکڑا اور صرف اپنے والد کے اثرورسوخ کی وجہ سے آج کرکٹ کی دنیا کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں۔ 2025 کے دوران پاک بھارت کرکٹ تعطل، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور میچز کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایشیا کپ ٹرافی کا تنازعہ بھی سامنے آیا جس نے آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل دونوں کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے۔ ایشیا کپ کی میزبانی، ٹرافی کی نمائش اور شیڈول سے جڑے معاملات میں شفافیت کا فقدان نظر آیا جس پر کئی رکن ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا۔ کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اجے شاہ کے دور میں ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ کو بھی سیاست سے الگ نہ رکھا جا سکا جس کے نتیجے میں ٹرافی تنازعہ ایک علامت بن کر سامنے آیا کہ کس طرح طاقتور بورڈز کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کمزور فیصلوں کی بدولت ٹرافی جیتنے کے باوجود آج تک ایشین چیمپیئن بھارت کو نہیں مل سکی۔ اگر آئی سی سی کی قیادت مضبوط ہوتی تو اس تنازعے کو بروقت اور غیرجانبدارانہ فیصلوں کے ذریعے ختم کیا جا سکتا تھا۔ 2025 میں بھارت کا پاکستان میں کھیلنے سے انکار اور پاکستان اور اب بنگلہ دیش کا بھارت جانے سے انکار کرنے کا بھی اسی کمزور قیادت کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی ان معاملات میں ثالث کا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی جس کے باعث نیوٹرل وینیوز اور متبادل انتظامات مستقل حل کی شکل اختیار نہ کر سکے۔

    دراصل 2025 آئی سی سی کے لیے ایک فیصلہ کن سال تھا مگر جے شاہ کی قیادت میں ادارہ کرکٹ کو سیاست سے آزاد رکھنے میں ناکام دکھائی دیا۔ اگر آئی سی سی نے اپنی خودمختاری بحال نہ کی تو مستقبل میں ایشیا کپ جیسے ایونٹس سمیت عالمی کرکٹ مزید تنازعات، بائیکاٹس اور تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے جس کا نقصان براہ راست کھیل اور اس کے کروڑوں شائقین کو ہوگا۔

  • ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس،ٹرمپ،شہباز شرکت کی تصدیق،مودی نہیں جائیں گے

    ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس،ٹرمپ،شہباز شرکت کی تصدیق،مودی نہیں جائیں گے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس سال ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ 19 جنوری سے شروع ہونے والے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے اجلاس میں شمولیت کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ٹرمپ اور شہباز شریف کی ایک ہی جگہ موجودگی سے پیدا ہونے والے ممکنہ سفارتی تناؤ سے بچنے کے لیے وزیراعظم مودی نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی نہیں چاہتے کہ فورم کا فوکس عالمی معاشی مسائل سے ہٹ کر علاقائی تنازعات پر جائے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی موجودگی میں پاکستان کے ساتھ کوئی غیر متوقع ملاقات یا بیانات سامنے آ سکتے ہوں۔ تاہم بھارت کی طرف سے ایک بڑا وفد جا رہا ہے جس میں مرکزی وزرا اشونی ویشنو، شیوراج سنگھ چوہان اور پرلہاد جوشی سمیت پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلی شامل ہیں تاہم مودی کی عدم شرکت کو سفارتی حلقوں میں اسٹریٹجک غیر حاضری قرار دیا جا رہا ہے۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بورگے برینڈے نے وزیراعظم مودی کی شرکت کی امید ظاہر کی تھی لیکن بھارت کی طرف سے وفد میں شامل افراد کی فہرست جاری ہونے کے بعد مودی کی شرکت کا امکان ختم ہو گیا۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے گزشتہ سال کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

  • ریاستی انتخابات 2026،بی جے پی کی مہم میں پاکستان مخالف بیانیہ نمایاں ہونے کا امکان

    ریاستی انتخابات 2026،بی جے پی کی مہم میں پاکستان مخالف بیانیہ نمایاں ہونے کا امکان

    بھارت میں چار اہم ریاستوں آسام، کیرالہ، تامل ناڈو، مغربی بنگال اور ایک یونین ٹیریٹری پڈوچیری میں اسمبلیوں کی مدت 2 مئی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ ان ریاستوں میں نئے انتخابات مارچ سے مئی کے درمیان مختلف مراحل میں کرائے جائیں گے۔ بھارت میں مودی سرکار نے ان اتخابات کو جیتنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے کے لئے کئی منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اہم لیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئی دہلی سے فون پرباغی ٹی وی سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مودی نے وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چند دیگر سرکردہ لیڈروں کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی ہے جس میں انخابات کے حوالے سے اہم حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 60 نشستوں سمیت این ڈی اے الائنس کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) CPI(M) کی قیادت میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت ہے جبکہ این ڈی اے کے پاس کوئی سیٹ نہیں۔ تامل ناڈو میں دراویڑ منیتر کڑگم (DMK) کی حکومت ہے جس میں این ڈی اے کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت ہے۔ اس ریاست میں این ڈی اے کے پاس 77 سیٹیں ہیں جن میں زیادہ تر بی جے پی کی ہیں۔ پڈوچیری میں آل انڈیا این آر کانگریس کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ہے جن میں سے بی جے پی کی 6 نشستیں ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آنے والے انتخابات نہ صرف بھارت کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ مختلف ریاستی حکومتوں کی مجموعی کارکردگی کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ اجلاس میں تہیہ کیا گیا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی بھر پور کوشش ہو گی کہ انتخابات کے بعد ان تمام ریاستوں میں بھی ان کی مکمل حکومتیں قائم ہوں خواہ اس کیلئے کوئی بھی حربہ کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔ اجلاس میں انتخابات کے دوران پاکستان کے خلاف مختلف بیانیے استعمال کر کے عوامی ہمدردیاں حاصل کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور اس سلسلے میں مختلف آپشنز سامنے رکھے گئے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ انتخابی مہم کے دوران سب سے نمایاں بیانیہ سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کا ہو گا جس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی موجودہ کشیدہ حالات کو پاکستان سے منسوب کر کے سخت موقف اپنانے کا تاثر دینے کا منصوبہ ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے حکومت خود کو قومی سلامتی کی ضامن کے طور پر پیش کر سکتی ہے اور مخالف سیاسی جماعتوں پر کمزوری یا نرمی کے الزامات عائد کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بیانیہ نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک یا محدود فوجی کارروائی کی یاد دہانی ہو سکتا ہے جس سے ماضی کے واقعات کو اجاگر کر کے یہ پیغام دیا جائے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ یہ بھی تجویز دی گئی کہ مودی سرکار ایسے حوالہ جات جلسوں اور میڈیا بیانات میں عوامی جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو اجاگر کر کے دو محاذی خطرے کا بیانیہ بھی پیش کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے جس میں یہ مؤقف اپنایا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف سرگرم ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت ضروری ہے۔ اس بیانیے کا مقصد عوام میں قومی اتحاد اور حکومت کی دفاعی پالیسیوں کے لیے حمایت پیدا کرنا ہے۔ ایک اور تجویز پر غور کیا گیا کہ انتخابی ماحول میں سفارتی محاذ پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا دکھانے کا بیانیہ بھی کارآمد ہو سکتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ بھارت نے دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری میں پاکستان کے خلاف مؤقف مضبوط اپنایا اور نئی دہلی خطے میں امن و استحکام کا ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔

    اس بیانیے سے حکومت اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو انتخابی فائدے میں بدل سکتی ہے۔ اندرونی سلامتی اور سخت قوانین کا بیانیہ بھی پاکستان سے جوڑ کر پیش کئے جانے کی تجویز پیش کی گئی جس کے مطابق یہ تاثر دیا جائے گا کہ پاکستان سے جڑے خطرات کے باعث ملک بھر میں سخت سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے تحت قومی سلامتی کو داخلی نظم و نسق اور انتخابی وعدوں سے جوڑنے کی کوشش سے عوامی ہمدردیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ میٹنگ میں اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ انتخابی عمل کے دوران ایل او سی پر محدود اور کنٹرولڈ کشیدگی کی فضا پیدا کی جائے خاص طور پر دہشت گردی اور در اندازی کے الزامات اور پاکستان مخالف بیانیے کے استعمال سے سرحدی کشیدگی یا سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم مکمل جنگ کے امکانات کم رہیں۔ ان حالات میں عالمی دباؤ اور جوہری توازن ایسے عوامل ہیں جو دونوں ممالک کو محتاط رہنے پر مجبور کریں گے۔ جس کی آڑ میں سیاسی فائدہ حکومتی جماعت کو حاصل ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ فوری ردعمل دے سکتی ہے تاکہ صورت حال قابو سے باہر نہ جائے۔