Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کوہاٹ زون نے ورک ویزا کے نام پر فراڈ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک ایجنٹ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی میں اہم شواہد برآمد ہوئے ہیں جو اس کارروائی کو مزید موثر بناتے ہیں۔

    ایف آئی اے کی ٹیم نے ایجنٹ فہیم خان کو بنوں سے گرفتار کیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ وہ سادہ لوح شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کے لیے بھجوانے کے بہانے لاکھوں روپے وصول کرتا تھا۔ اس نے شہریوں کی مدد سے غیر قانونی طور پر ویزوں کے فراڈ میں ملوث ہونے کا عمل جاری رکھا تھا۔ایف آئی اے نے فہیم خان کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کی، جس میں 32 پاسپورٹس، بیرون ملک ملازمت کے کنٹریکٹ کی نقول، موبائل فون اور دیگر اہم شواہد برآمد کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، یہ انکشاف ہوا کہ ملزم بغیر لائسنس کے شہریوں سے پاسپورٹس وصول کر رہا تھا، جس سے اس کی غیر قانونی سرگرمیاں واضح ہوتی ہیں۔

    ملزم فہیم خان سے برآمد ہونے والے پاسپورٹس کے حوالے سے ایف آئی اے حکام مطمئن نہیں ہو سکے اور اس سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایف آئی اے نے اس گرفتاری کے بعد دوسرے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ایف آئی اے کوہاٹ زون کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس مقصد کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹلیجنس کی بنیاد پر ان کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ڈائریکٹر کوہاٹ زون نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ ٹھوس شواہد کی روشنی میں تمام ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دلوا کر ان کے غیر قانونی دھندے کا قلع قمع کیا جائے گا۔

    اس کارروائی کے ذریعے ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ اور ویزہ فراڈ کے خلاف اپنے عزم کو مزید مستحکم کیا ہے اور اس بات کا پیغام دیا ہے کہ ایسے غیر قانونی عناصر کو سخت سزائیں ملیں گی۔

    برطانوی حکومت کا گرومنگ گینگز کی انکوائری کا فیصلہ

  • برطانوی حکومت کا گرومنگ گینگز کی انکوائری کا فیصلہ

    برطانوی حکومت کا گرومنگ گینگز کی انکوائری کا فیصلہ

    برطانوی وزیر داخلہ یوویٹ کوپر نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے گرومنگ گینگز کی تحقیقات کے لیے پانچ مختلف جائزوں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت مختلف شہروں اور ٹاؤنز میں ہونے والے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی انکوائری کی جائے گی۔

    یوویٹ کوپر نے ایک بیان میں کہا کہ اس انکوائری کی قیادت ٹام کروتھر کریں گے جو ٹیلفورڈ میں انکوائری کی سربراہی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کا دائرہ اولڈہم اور دیگر چار مقامات تک بھی پھیلایا جائے گا، اور یہ جائزہ تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس انکوائری میں جنسی زیادتی کے متاثرین اور گینگز کے نسلی، سماجی اور دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔آڈٹ کی سربراہی بیرونس لوئیس کیسی کریں گی جو اس تحقیقات کے دوران متاثرین کی حالت اور ان پر اثرات کا بغور جائزہ لیں گی۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے بچوں کی گرومنگ اور جنسی زیادتی میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ایسے جرائم کے خلاف مزید موثر کارروائی کی جا سکے۔

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 1997 سے 2013 کے درمیان برطانیہ کے مختلف شہروں جیسے رادھرم، اولڈہم اور دیگر مقامات پر 11 سال تک کی عمر کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، صرف رادھرم میں تقریباً 1400 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور ان جرائم میں پاکستانی نژاد مرد بھی ملوث تھے۔

    دوسری جانب، اپوزیشن کے شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے حکومت کے اس اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ایک مکمل نیشنل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف پانچ مقامات تک محدود تحقیقات سے اس معاملے کی گہرائی تک نہیں پہنچا جا سکتا اور یہ انکوائری پوری ملک گیر سطح پر ہونی چاہیے تاکہ تمام متاثرین کو انصاف مل سکے۔

    شیر افضل مروت شوکاز نوٹسز سے تنگ

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

  • شیر افضل مروت شوکاز نوٹسز سے تنگ

    شیر افضل مروت شوکاز نوٹسز سے تنگ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت پارٹی کی جانب سے بار بار ملنے والے شوکاز نوٹسز سے تنگ آگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ردعمل کا اظہار پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    شیر افضل مروت نے کہا کہ ایک یوٹیوبر نے ان کے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ بالکل جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا ہے تو شوکاز نوٹس صرف ایک رسمی کارروائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر چھ ماہ بعد شوکاز نوٹس آنا معمول بن چکا ہے، حالانکہ ان کا موقف صرف جواب دینے کا ہوتا ہے، بیان دینے کا نہیں۔شیر افضل مروت نے واضح کیا کہ اگر انہیں پارٹی میں رکھا بھی جاتا ہے تو وہ اپنے جوابات دیتے رہیں گے اور کسی بھی شخص کو جو ان کے خلاف بات کرے گا، وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں جس قبیلے سے ہوں، ہم اپنے مرشد اور لیڈر کے لیے جان دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ کچھ افراد پارٹی کے بانی عمران خان کے خلاف غلط بیانی کرتے ہیں اور ان کی آراء کو متاثر کرتے ہیں۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ جمعہ کو بیرسٹر گوہر کو اپنے مؤقف سے آگاہ کریں گے۔اس دوران انہوں نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بعض لوگوں نے ان کے خلاف بیانات دیے جس کا انہوں نے جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاست عزت کے لیے کر رہے ہیں اور ان کے گھر کسی کے ہاں سے کھانا نہیں آتا، لہذا وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ اگر عمران خان کے سوا کوئی اور شخص ان کے خلاف بات کرے گا تو وہ آئندہ بھی جواب دیں گے۔ وہ شوکاز نوٹسز سے تنگ آ چکے ہیں اور اگر عمران خان نے انہیں نکالنا ہے تو وہ نکال سکتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق، انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

  • بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

    برطانیہ میں بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر محمد صدیقی کو 5 سال 7 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس مقدمے میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بچوں کے ختنوں کے دوران حفاظتی تدابیر اور صفائی کے اصولوں کو نظرانداز کیا، جس کے باعث متعدد بچوں کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر محمد صدیقی کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے کا عمل بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا۔ ان کے طریقے نے کئی بچوں کو شدید درد میں مبتلا کیا اور کئی بچوں کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ ان میں سے ایک بچہ تو موت کے منہ میں جانے کے قریب تھا، لیکن وقت پر علاج کے باعث وہ بچہ بچ گیا۔ڈاکٹر محمد صدیقی 58 سالہ برمنگھم کے رہائشی تھے اور وہ یونیورسٹی اسپتال ساؤتھمپٹن این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم انہوں نے اضافی آمدنی کے لیے گھروں میں جا کر ختنہ کرنے کا غیر قانونی کاروبار شروع کیا تھا۔ حکام نے ان کی سرگرمیوں کا پتہ چلنے پر انہیں پہلے معطل کیا اور پھر ان کا نام جنرل میڈیکل کونسل (جی ایم سی) کے رجسٹر سے خارج کردیا۔لیکن اس کے باوجود، ڈاکٹر صدیقی نے بچوں کے ختنے کے عمل کو جاری رکھا اور اس دوران انہوں نے صحت و صفائی کے تمام اصولوں کو نظرانداز کیا۔ ہیمپشائر پولیس کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد صدیقی بچوں کے لئے خطرات اور ان کی تکالیف کے حوالے سے بالکل بے حس تھے اور انہوں نے اپنے عمل کے سنگین نتائج پر کوئی توجہ نہیں دی۔

    سابق ڈاکٹر محمد صدیقی نے 25 جرائم کا اعتراف کیا ہے، جن میں بچوں کو غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے کی وارداتیں شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ انہوں نے مقدمے کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی، مگر جج نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا اور انہیں سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا۔یہ کیس نہ صرف طبی اخلاقیات کی پامالی کا معاملہ ہے بلکہ یہ ایک سنگین مثال بھی پیش کرتا ہے کہ کس طرح بعض افراد ذاتی مفاد کے لیے بچوں کی صحت اور زندگی سے کھیلتے ہیں۔ اس فیصلے نے برطانیہ میں طبی خدمات کے نظام کے حوالے سے عوامی تحفظ کو مزید اہمیت دی ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

    ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا،

    ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔،عدالت نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی عدالت موجودگی میں فیصلہ سنایا، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی عدالت میں موجود تھے،نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی، علیمہ خان سمیت عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،سلمان صفدر، شعیب شاہین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

    عمران خان بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب،بشریٰ معاون،تحریری فیصلہ جاری
    احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب پائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے،عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے ،بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے،القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی جاتی ہے، دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021 میں ڈونیشن قبولیت کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج بھگتنا ہوں گے، عمران خان اور بشری بی بی القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے جوائنٹ اکاونٹ کے دستخط کنندہ ہیں،اس مقدمے کا زیادہ تر دار و مدار دستاویزی ثبوتوں پر ہے، شہادتوں کے جواب میں ملزمان کے وکلاء دفاع فراہم نہیں کر سکے جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم فیصلہ نہیں سنایا گیا، آج 17 جنوری جمعہ کو فیصلہ سنایا گیا

    بشریٰ بی بی فیصلہ سننے کے لئے اڈیالہ جیل پہنچیں تو بشریٰ بی بی کی گاڑیاں اڈیالہ جیل کے اندر انہیں اُتارکر واپس باہر آگئیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی اور داماد بھی فیصلہ سننے کے لئے کمرہ عدالت میں موجود تھے،اڈیالہ جیل کے گیٹ پر قیدی وین بھی پہنچائی گئی، میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی،رہنما مسلم لیگ ن طاہرہ اورنگزیب بھی فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی تھیں،انکا کہنا تھا کہ فیصلے تو سارے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں، ہر ادارہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، میں فیصلے کا انتظار کر رہی ہوں،رضوان رضی، حسن ایوب، گوہر بٹ، شفقت عمران بھی فیصلہ سننے اڈیالہ جیل کے عدالت پہنچے،تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری، بشریٰ بی بی کی بیٹی کو داخلے کی اجازت نہ ملی،سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج نہیں جانے دیا گیا، پہلے میں سب سماعتوں پر آتا رہا ہوں مجھے نہیں علم کہ کیوں نہیں جانے دیا گیا،

    ن لیگی رہنما طاہرہ اورنگزیب اور دانیال چوہدری بھی فیصلہ سُننے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، کمرہ عدالت میں 22 صحافی آج موجود تھے،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم سمیت نیب پراسیکیوشن ٹیم کے تین ممبران عرفان احمد،سہیل عارف،اویس ارشد اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں، عمران خان کے وکیل بھی عدالت پہنچ گئے ہیں

    فیصلے سے قبل پولیس نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی پلان کے تحت اڈیالہ جیل کے اطراف کی نگرانی ایس پی صدر نیبل کھوکھر نے کی، جبکہ ایس ڈی پی او صدر دانیال رانا کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایچ او صدر اعزاز عظیم کو سکیورٹی انتظامات کے سب انچارج کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ایس ایچ او تھانہ چونترہ ثاقب عباسی اور انسپیکٹر محمد سلیم کو اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے علاقے میں 6 تھانوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، سکیورٹی کے امور کی نگرانی کے لیے ایلیٹ اور ڈولفن فورس کی بھی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ تمام اہم مقامات پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انسپیکٹر نسرین بتول کی نگرانی میں خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی امور کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے دوران کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچنے کے لیے محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    بھارتی اداکار سیف علی خان پر ایک حملہ آور نے ان کے گھر میں گھس کر چاقو کے وار سے حملہ کیا، جس کے بعد متعدد سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس حملے کے بعد پولیس تحقیقات میں مصروف ہے اور مختلف پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔

    سیف علی خان کے گھر میں موجود عملے نے حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اس حملے میں ملزم کے پاس صرف چاقو تھا اور اس نے اسی سے حملہ کیا۔ پولیس یہ بھی جانچ رہی ہے کہ حملہ آور کس طرح سیف علی خان کے گھر تک پہنچا، کیونکہ وہ اس کارروائی کے لیے کسی کی مدد کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔پولیس کے مطابق، رات 3 بجے کے قریب انہیں اداکار سیف علی خان پر حملے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کر سیف علی خان کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ بھارتی پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ حملے کے دوران ملزم نے سیف علی خان کے گھر کے قریب واقع ایک ملحقہ عمارت سے دیوار پھلانگ کر گھر کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کسی فرد نے ملزم کو اداکار کے گھر میں داخل ہونے میں مدد فراہم کی۔

    اس حملے کی تحقیقات میں مزید پیشرفت ہونے کی توقع ہے، اور پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ حملہ کسی اور بڑے منصوبے کا حصہ تھا یا صرف ایک اتفاقی واقعہ تھا۔اس حوالے سے باغی ٹی وی کے باخبر ذرائع کے مطابق، سیف علی خان کی برطانیہ میں امیگریشن ہے اور وہ جلد برطانیہ جانے کے خواہشمند ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیف علی خان کا انڈرورلڈ سے تعلق ہے اور ان کے منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔یہی وجہ سے کہ سیف علی خان پر حملے کے بعد تحقیقات کے لئے انڈر ورلڈ کے خلاف کاروائیوں کے لئے مشہور انکاؤنٹر اسپیشلسٹ دیا نائک بھی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہیں جو نہ صرف سیف علی خان پر حملے بلکہ انکے انڈر ورلڈ سے رابطوں بارے بھی تحقیقات کریں گے،

    جمعرات کی صبح ممبئی میں بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان کو ان کے گھر پر متعدد بار چھریوں سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف سیف علی خان کے مداحوں بلکہ پورے فلمی حلقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ سیف علی خان کی اہلیہ، اداکارہ کرینہ کپور خان اور ان کے دونوں بچے اس حملے میں محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد ممبئی پولیس فوراً سیف علی خان کے باندرہ ویسٹ میں واقع اپارٹمنٹ کمپلیکس، "ستگرو شرن”، پہنچی جہاں تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ پولیس ٹیم میں معروف انکاؤنٹر اسپیشلسٹ د یا نائک بھی شامل تھے۔د یا نائک کا نام ممبئی پولیس میں ایک بہادر افسر کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں 80 سے زائد زیر زمین گینگسٹرز کو ہلاک کرکے اپنی شناخت بنائی۔ ان کی جرات مندانہ کارروائیاں اور ان کی پولیس فورس میں اہم خدمات نے انہیں ایک لیجنڈ کے طور پر شہرت حاصل کی۔

    د یا نائک کا جنم 1960 کی دہائی میں کرناٹکا کے اڈوپی شہر میں ایک کونکنی بولنے والے خاندان میں ہوا۔ وہ اپنے والد بدّا نائک اور والدہ رادھا نائک کے سب سے چھوٹے بچے تھے۔ اپنے تعلیمی سفر کا آغاز انہوں نے مقامی اسکول سے کیا، جہاں وہ ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ممبئی (اس وقت بمبئی) آگئے۔ممبئی آنے کے بعد ان کی پہلی ملازمت ایک مقامی ہوٹل میں تھی، تاہم، انہوں نے مالی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی اور 12ویں جماعت تک تعلیم مکمل کی۔ ان کے دل میں پولیس آفیسر بننے کا خواب اس وقت جاگا جب وہ ایک پلمبروں کی تربیت کے دوران منشیات کے محکمہ کے افسران سے متعارف ہوئے۔
    saif ali

    1995 میں د یا نائک نے پولیس فورس میں سب انسپکٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور جے ہو پولیس اسٹیشن میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ 1996 کے آخر میں ان کی مشہوری کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے چوٹا راجن کے گینگ سے تعلق رکھنے والے دو گینگسٹرز کو جے ہو میں اینکاؤنٹر کے دوران ہلاک کیا۔ اس کارروائی کے بعد انہیں پولیس محکمے میں عزت و شہرت حاصل ہوئی۔دیا نائک کی پولیس فورس میں کامیاب مگر متنازعہ کیریئر رہا ہے۔ 2004 میں، مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کی عدالت نے اینٹی کرپشن بیورو کو ان کے خلاف تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔ اس تحقیقاتی عمل میں چھ مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن میں بنگلور کی دو جگہیں بھی شامل تھیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ د یا نائک نے مبینہ طور پر لگژری بسوں کی دو فلٹیں خرید رکھی تھیں، ایک ممبئی میں "ویشال ٹریولز” کے نام سے اور دوسری بنگلور میں۔

    سیف علی خان پر حملے کے واقعہ کے بعد د یا نائک کی قیادت میں پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملے کے ملزمان تک پہنچا جا سکے۔وہیں دیا انکاؤنٹر سپیشلسٹ سیف علی خان کے انڈر ورلڈ سے رابطوں بارے بھی تحقیقات کریں گے،پولیس تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس حملے کے پس پردہ وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے، اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس حملے کے پیچھے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں۔

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    بھارتی اداکار سیف علی خان پر بھارت میں گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا ہے، چور گھر میں گھسا اور سیف علی خان پر چاقو سے وار کئے،

    پولیس کے مطابق ایک شخص نے باورچی خانے کے مددگار کی مدد سے سیف علی خان کے گھر داخل ہواور جس کے پاس چاقو تھا اور اس نے سیف علی خان پر چاقوؤں سے وار کئے،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی تصویر سامنے آ گئی ہے او رملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا اس ضمن میں ٹیمیں تشکیل دی گئی تاہم عوام کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ مذہبی انتہاپسندی کے باعث پیش آیا، جس کی جڑیں بھارتی سیاست دان،وزیراعظم نریندر مودی کے حامی شاعر کمار وشواس کی تقاریر سے جڑتی ہیں۔

    عوام کا خیال ہے کہ یہ واقعہ اس پس منظر میں ہوا ہے جب چند دن پہلے کمار وشواس، جو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حامی ہیں، نے معروف بالی وڈ اداکار سیف علی خان کی اہلیہ کرینہ کپور اور ان کے بیٹے "تیمور” کے نام پر سخت تنقید کی تھی۔ کمار وشواس نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ کرینہ کپور نے اپنے بیٹے کا نام "تیمور” رکھا، جو تاریخ میں ایک مشہور فاتح کا نام تھا، جسے بعض حلقے مسلمانوں کے ساتھ جڑے متنازعہ تصورات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کمار وشواس کی اس تنقید نے مذہبی انتہاپسندی کو مزید بڑھاوا دیا اور کچھ افراد نے اس تنقید کو اپنے مذہبی خیالات کی تائید کے طور پر لیا۔
    saif
    مودی کے حامی شاعرکمار وشواس نے سیف علی خان کے بیٹے بارے کیا کہا تھا؟
    کمار وشواس کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے، یہ لوگ یہاں ریکارڈنگ کرنے بیٹھے ہیں، لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اب مایا نگری میں بیٹھے لوگوں کو سمجھنا پڑے گا کہ ملک کیا چاہتا ہے،اب یہ نہیں چلے گا کہ آپ ہماری وجہ سے مقبولیت حاصل کریں گے، ہم پیسے دیں گے، ہم ٹکٹ خریدیں گے، ہم آپ کو ہیرو اور ہیروئن بنائیں گے۔ پھر اگر آپ کی تیسری شادی سے بچہ ہوتا ہے تو آپ اس کا نام باہر سے آنے والے کسی حملہ آور کے نام پر رکھیں گے۔ یہ نہیں چلے گا، دوست اور بھی بہت سارے نام ہیں، آپ کچھ بھی رکھ سکتے تھے۔ وہ رضوان رکھ سکتے تھے، عثمان رکھ سکتے تھے، یونس رکھ سکتے تھے، حضور کے نام سے کوئی نام رکھ سکتے تھے۔ آپ کو صرف ایک نام ملا،وہ آدمی جس نے بھارت آکر ہماری ماؤں بہنوں کی عصمت دری کی، آپ لوگوں کو اپنے بیٹے کا نام رکھنے کے لئے وہی ملا اب اگر آپ اسے ہیرو بنائیں گے تو آپ اسے ولن نہیں بننے دیں گے، یہ یاد رکھیں، یہ نیا ہندوستان ہے۔

    یہ واقعہ اس بات کی علامت بن گیا ہے کہ کس طرح مذہبی اور سیاسی بیانات بعض افراد کے ذہنوں میں شدت پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور اس سے زیادہ خطرناک واقعات جنم لے سکتے ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے متعلق تمام تفصیلات جلد عوام کے سامنے آئیں گی۔سیف علی خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں،

    اداکارہ کرینہ کپور نے 2016 میں اپنے پہلے بیٹے تیمور علی خان کو جنم دیا تھا، جس کے بعد ان کے بیٹے کے نام پر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ تیمور کے نام پر ہونے والی بحث و تکرار نے اس وقت خاصی توجہ حاصل کی تھی، لیکن سیف علی خان اور کرینہ کپور دونوں نے اس پر خاموش رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، اب کئی سالوں بعد کرینہ کپور نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑی تھی،کرینہ کپور نے معروف صحافی مِس مالنی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے دادا جی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ لوگ تمہارے بارے میں بات کریں گے، چاہے وہ اچھی بات ہو یا بری، لیکن وہ تمہارے بارے میں ہی بات کر رہے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ سپراسٹار بننا چاہتے ہیں تو اس بات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ کرینہ نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو یہ جگہ آپ کے لیے نہیں ہے، اور آپ کو پتھردل بننا پڑے گا۔کرینہ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ تیمور کے نام پر ہونے والا تنازعہ انہیں کافی پریشان کن لگا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا اور اس کا گہرا اثر ان پر پڑا تھا۔ وہ کہتی ہیں، "تیمور کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اس کے نام کے بارے میں اتنا ڈرامہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، لوگوں نے اسے بہت پسند کیا اور اس میں کافی دلچسپی بھی ظاہر کی۔”

    اسی دوران، کرینہ کپور نے اپنے شوہر سیف علی خان کے ردعمل کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف اس مسئلے پر بہت مطمئن اور سنجیدہ تھے۔ انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ اس معاملے پر خاموش رہنا بہتر ہے اور ہمیں اس پر مطمئن رہنا چاہیے۔

    کرینہ کپور نے اس سے پہلے بھی ایک انٹرویو میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ تیمور اور جہانگیر کے ناموں پر ہونے والی ٹرولنگ پر ان کا ردعمل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "تیمور اور جہانگیر وہ نام ہیں جو ہمیں پسند تھے، اور یہ دونوں نام ہمیں بہت خوبصورت لگے۔ لیکن مجھے نہیں سمجھ آتا کہ لوگ بچوں کے ناموں پر کیوں ٹرول کرتے ہیں۔ یہ بہت عجیب بات ہے اور مجھے یہ بہت خطرناک لگتا ہے۔ لیکن میں اس میں نہیں پڑنا چاہتی، کیونکہ میں اپنی ذاتی زندگی کو ٹرولرس کے نظریے سے نہیں دیکھتی۔”

    سیف علی خان نے بھی اس تنازعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ممبئی مرر کے مطابق، سیف علی خان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کا نام تیمور ترک حکمران کے نام پر رکھا گیا ہے، لیکن وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس نام کا کسی زندہ یا مردہ شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیف نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کا نام رکھتے وقت ایک وضاحت دینی چاہیے تھی کہ "اس نام کا کسی بھی تاریخی شخصیت یا حملہ آور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کو جمعرات کی صبح ممبئی کے پوش باندرہ ویسٹ محلے میں ان کے گھر پر چاقو سے وار کرنے والے شخص نے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا،

    پولیس ذرائع کے مطابق سیف علی خان کے گھریلو عملے کے ایک رکن نے بیان دیا کہ مسٹر خان کے چار سالہ بیٹے جہانگیر کی دیکھ بھال کرنے والی نرس نے بتایا کہ چاقو بردار حملہ آور پہلے لڑکے کے کمرے میں داخل ہوا۔اور اس نے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا،اس مطالبے کے بعد ہونے والے حملے میں تین افراد – 54 سالہ سیف علی خان، نرس اور ایک اور عملے کا رکن زخمی ہو گئے۔ سیف علی خان پر چھ بار وار کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹیں آئیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اداکار کی طبی حالت اب مستحکم ہے۔

    سیف علی خان اور ان کا خاندان ، اہلیہ اداکار کرینہ کپور خان اور ان کے بیٹے ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں ،چار منزلہ اپارٹمنٹ باندرہ ویسٹ میں ہے۔ پولیس ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ حملہ آور جو اپارٹمنٹ میں چوری کرنا چاہتا تھا – ملحقہ راستے سے کمپاؤنڈ میں داخل ہوا۔ اسے اداکار کے گھر کی سیڑھی سے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا۔ اسے ٹی شرٹ اور جینز میں دیکھا جا سکتا ہے، اس کے کندھے پر نارنجی رنگ کا اسکارف ہے۔ جہانگیر کی دیکھ بھال کرنے والی نرس، ایلیاما فلیپس، جو چار سال سے سیف علی خان گھرانے کے ساتھ ہیں، سب سے پہلے اس نے چور کی آواز سنی ۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ جمعرات کی صبح گھر میں شور کی آواز سے بیدار ہوئی تھی۔ یہ تقریباً 2 بجے کا وقت تھا، ، جہانگیر کو سونے کے تین گھنٹے بعد۔ہ اس نے باتھ روم کا دروازہ کھلا اور لائٹ آن دیکھی، اور سب سے پہلے یہ سمجھا کہ کرینہ کپور خان اپنے چھوٹے بیٹے کو دیکھ رہی ہیں۔ "…پھر میں سونے کے لیے واپس چلی گئی لیکن، دوبارہ، میں نے محسوس کیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ تو میں دوبارہ بیدار ہوئی اور دیکھا کہ ایک آدمی باتھ روم سے نکل کر لڑکے کے کمرے میں چلا گیا ہے۔”اس موقع پر اس نے اس کا سامنا کیا – اس نے جواب میں اپنی طرف انگلی اٹھائی اور ہندی میں کہا، ‘آواز مت نکالو’ – اور اس نے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔اور جب اس نے چور کے ساتھ مزاحمت کی تو 56 سالہ نرس کی کلائیوں اور ہاتھوں پر چوٹیں آئیں۔

    نرس کے بیان کے مطابق، اس نے پھر چیخ ماری، جس نےسیف علی خان کو چوکنا کر دیا جس نے گھسنے والے سے لڑنے کی بھی کوشش کی۔ اس لڑائی میں ملزم نے چھ بار وار کیا ، اور چھری کا ڈھائی انچ کا ٹکڑا ٹوٹ کر سیف علی خان ریڑھ کی ہڈی میں جا لگا۔

    اس حملے نے ہائی پروفائل عمارت میں ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈز کے ردعمل کے بارے میں سخت سوالات کو جنم دیا ہے، کہ کیسے ایک چور اداکار کے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • معاہدے کے بعد اسرائیل کا غزہ پر بڑا حملہ،45 شہید

    معاہدے کے بعد اسرائیل کا غزہ پر بڑا حملہ،45 شہید

    غزہ میں "آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق” کے ڈائریکٹر رافت صالحہ اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    حکام کے مطابق، رافت صالحہ 12 جنوری کو اسرائیلی فضائی حملے کی زد میں آ گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے خاندان کے 12 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ان کی بیوی اور چار بچے بھی شامل ہیں۔ حملہ غزہ کے شہر دیر البلح میں ان کے پناہ گزین گھر پر کیا گیا تھا۔ رافت صالحہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں فوری طور پر "الاقصی” اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق نے اسرائیل کو اس حملے کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ غزہ کے شہریوں کے خلاف اسرائیل کے مسلسل جرائم کا حصہ ہے۔ کمیشن نے اس قتل کو ایک انتہائی سنگین واقعہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے جواب طلب کیا ہے۔

    اسی دوران،بدھ کو حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی یرغمالی معاہدے پر اتفاق ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل کے حملوں میں غزہ کے مختلف حصوں میں مزید جانی نقصان ہوا۔ غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے 20 افراد شیخ رڈوان کے رہائشی علاقے میں ایک حملے میں ہلاک ہوئے، جبکہ ایک دوسرے حملے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ، الغزہ سٹی کے دیگر علاقوں میں بھی بمباری کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔غزہ کے اسپتالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ "الآہلی” اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فاضل نعیم نے کہا کہ اسپتال میں زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری حملے اور جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، ان حملوں کی شدت کم ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ان کے مطابق، غزہ میں اگلے 70 گھنٹے بہت سخت اور خونریز ہو سکتے ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بدھ کو بات چیت ہوئی تھی۔ معاہدے کے تحت، اسرائیل کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد، اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کر دیے تھے، جس سے علاقے کی بڑی حد تباہ ہو گئی تھی۔ اس جنگ میں 46,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر بچے اور عورتیں ہیں۔ اس کے علاوہ، غزہ کی صحت کے نظام پر بھی شدید دباؤ ہے، اور اسپتالوں میں مریضوں کا علاج کرنا مشکل ہو چکا ہے۔

    اس معاہدے پر دنیا بھر میں ردعمل آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک اہم قدم ہے اور تمام فریقوں سے درخواست کی کہ وہ اس معاہدے کی مکمل تعمیل کریں۔ اس کے علاوہ، ترکی، لبنان، اور جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک نے اس معاہدے کی حمایت کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔

    یہ معاہدہ تین مراحل میں مکمل ہوگا۔حماس اور اس کے اتحادی جنگجو گروپ پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو رہا کریں گے جن میں عام شہری اور خواتین فوجی، بچے، بوڑھے اور بیمار شامل ہیں۔ حماس اور اس کے اتحادیوں کے پاس 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل سے اٹھائے گئے 250 میں سے 94 افراد ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق، ان میں سے کم از کم 34 ہلاک ہو چکے ہیں، حالانکہ حقیقی تعداد زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ یرغمالیوں میں سے 81 مرد اور 13 خواتین ہیں۔ حماس نے 2014 سے مزید چار یرغمال بنائے ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم دو ہلاک ہو چکے ہیں۔غزہ میں 44 یرغمالیوں کا تعلق اسرائیل سے ہے، جب کہ آٹھ تھائی لینڈ، ایک نیپال اور ایک تنزانیہ سے ہے۔ غزہ میں سات امریکی یرغمال بنائے گئے ہیں۔ جن تین امریکیوں کو زندہ سمجھا جاتا ہے وہ ایڈن الیگزینڈر، ساگوئی ڈیکل-چن اور کیتھ سیگل ہیں۔ چار دیگر کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے اور ان کی باقیات کو واپس کرنا ابھی باقی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ غزہ میں موجود امریکی یرغمالیوں کو پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس نے معاہدے کے بعض حصوں پر عمل نہیں کیا، اور اس کی وجہ سے اسرائیل نے کابینہ کے اجلاس کو ملتوی کیا۔ حماس نے تاہم کہا کہ وہ معاہدے کی تکمیل کے لیے تیار ہے۔اس معاہدے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا بھی ذکر ہے۔ اسرائیل نے 1,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں وہ قیدی شامل ہیں جو حماس کے حملے میں ملوث نہیں تھے۔

  • گلوکار جواد احمد  مشکل میں،اہلیہ بجلی چور نکلی،لیسکوٹیم سے ہاتھا پائی

    گلوکار جواد احمد مشکل میں،اہلیہ بجلی چور نکلی،لیسکوٹیم سے ہاتھا پائی

    لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں معروف گلوکار جواد احمد ایک سنگین تنازعے میں پھنس گئے ہیں۔ لیسکو (لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی) کے عملے نے گلوکار جواد احمد کی اہلیہ کے بیوٹی پارلر میں بجلی چوری پکڑ لی

    لیسکو کے عملے نے جوہر ٹاؤن میں واقع بیوٹی پارلر کے بجلی میٹر میں چھیڑ چھاڑ کا پتہ چلایا، جس کا مقصد بجلی چوری کرنا تھا۔ اس کے بعد لیسکو کا عملہ تحقیقات کے لیے پارلر پر پہنچا۔ تاہم، جب گلوکار جواد احمد موقع پر پہنچے، تو انہوں نے عملے کے ساتھ تلخ کلامی کی اور الزام ہے کہ انہوں نے گالم گلوچ کرتے ہوئے عملے کو دھمکایا۔لیسکو حکام کے مطابق، جواد احمد نے نہ صرف اپنے الفاظ سے عملے کو ہراساں کیا بلکہ اپنی گاڑی (ویگو ڈالا) کو عملے پر چڑھانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ، گلوکار نے میٹر ریڈر اصغر اور شاہد کو زد و کوب کیا اور ان سے میٹر بھی چھین لیا۔لیسکو حکام نے اس واقعے کے بعد تھانہ نواب ٹاؤن میں ایک درخواست درج کرائی ہے جس میں جواد احمد، ان کے ساتھی عدیل اور چار نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جواد احمد اور ان کے ساتھیوں نے لیسکو کے عملے کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔

    لیسکو حکام کے مطابق بیوٹی پارلر کے بجلی میٹر کا فیز ڈیڈ پایا گیا، جو کہ بجلی چوری کے واضح شواہد ہیں۔ اس حوالے سے لیسکو نے اعلیٰ حکام کو تفصیلات فراہم کر دی ہیں اور ان کے مطابق پارلر کی بجلی کو غیر قانونی ترسیل کو روکنے کے لیے منقطع کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے اس درخواست پر کارروائی شروع کر دی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، ابھی تک گلوکار جواد احمد یا ان کے ترجمان کی جانب سے اس واقعے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    عمران نیازی کا سورس آف انکم بتا دیں، لاہور میں پچیس کروڑ کا گھر کیسے بنایا ،عطا تارڑ

    کرم،امدادی سامان لے جانے والے تیسرے قافلے پر راکٹ حملہ