بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک نوجوان کاروباری شخصیت کی پراسرار موت نے ایسا رخ اختیار کر لیا ہے کہ یہ واقعہ اب ملک کے سب سے زیادہ زیرِ بحث ہائی پروفائل قتل کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں اس واقعے کو ایک افسوسناک حادثہ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم پولیس تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے دعوؤں نے اس معاملے کو محبت، دھوکے، مبینہ سازش اور قتل کی سنسنی خیز کہانی میں تبدیل کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق 26 سالہ کاروباری شخصیت کیتن اگروال کی موت 18 جون کو لوہا گڑھ قلعے پر گہری کھائی میں گرنے سے ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے، تاہم تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن کے بعد پولیس نے اسے مبینہ منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی منگیتر 20 سالہ سیا گوئل اور اس کے مبینہ دوست چیتن چودھری کو گرفتار کر لیا۔کیتن اگروال کی موت کے فوراً بعد سیا گوئل نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ "تم مجھے میری سالگرہ پر چھوڑ گئے، واپس آ جاؤ۔” اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ہمدردی کی لہر دوڑا دی تھی، لیکن چند روز بعد پولیس کی تحقیقات نے اس واقعے کو ایک بالکل نئے زاویے سے پیش کر دیا۔
لوناؤلہ دیہی پولیس کے تفتیشی افسر دنیش تیاڈے کے مطابق واقعے کے ابتدائی مرحلے میں ہی کئی تضادات سامنے آ گئے تھے۔ پولیس نے موبائل فون ریکارڈ، دونوں ملزمان کی نقل و حرکت اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا، جس کے بعد شبہ مزید مضبوط ہوا کہ کیتن اگروال کی موت حادثاتی نہیں بلکہ مبینہ طور پر قتل کا نتیجہ تھی۔تحقیقات کے مطابق سیا گوئل نے کیتن اگروال کو لوہا گڑھ قلعے پر آنے کے لیے آمادہ کیا، جبکہ چیتن چودھری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے مل کر کیتن کو گہری کھائی میں دھکا دیا اور بعد ازاں اس واقعے کو حادثاتی موت ثابت کرنے کی کوشش کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی کئی ہفتے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ تحقیقات کے مطابق 31 مئی کو سیا گوئل اور کیتن پہلی مرتبہ ٹریکنگ کے لیے اسی مقام پر گئے تھے، جہاں مبینہ طور پر منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے بعد 14 جون کو دونوں دوبارہ قلعے پہنچے، جہاں فوٹو شوٹ کے دوران سیا نے مبینہ طور پر سانپ دیکھنے کا شور مچا کر کیتن کو کھائی کے قریب لے جانے کی کوشش کی، لیکن منصوبہ ناکام رہا۔پولیس کے مطابق 18 جون، جو سیا گوئل کی سالگرہ سے ایک دن پہلے تھا، اس نے ایک مرتبہ پھر لوہا گڑھ قلعے جانے پر اصرار کیا۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسی روز چیتن چودھری کی مدد سے کیتن اگروال کو کھائی میں دھکا دیا گیا اور بعد میں پولیس کو بتایا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے تھے۔
یہ کیس اس لیے بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ دونوں خاندان شادی کی بھرپور تیاریوں میں مصروف تھے۔ دونوں کی منگنی رواں سال فروری میں ہوئی تھی جبکہ نومبر میں راجستھان کے شہر اودے پور میں شاندار شادی طے تھی۔ اطلاعات کے مطابق شادی پر تقریباً 14 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جبکہ کیتن اگروال نے سیا گوئل کی سالگرہ کی تقریب کے لیے مہابلیشور کے ایک لگژری ریزورٹ میں 40 سے 50 کمرے بھی بک کروا رکھے تھے۔پولیس کی تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ سیا گوئل اور چیتن چودھری کے درمیان گزشتہ تقریباً ایک سال سے قریبی تعلقات تھے۔ دونوں خاندان کاروباری روابط رکھتے تھے اور اسی دوران ان کی قربت بڑھی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سیا کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور مبینہ طور پر اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
دوسری جانب مقتول کے والد وشال اگروال نے اپنے بیٹے کی موت پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا 26 سالہ بیٹا ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ ان کے مطابق کیتن نے امریکہ سے ایم بی اے مکمل کرنے کے بعد خاندانی کاروبار سنبھال لیا تھا اور مستقبل کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیتن نے کئی مرتبہ سیا کے رویے پر خدشات ظاہر کیے تھے، تاہم خاندان نے ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔پولیس نے سیا گوئل اور چیتن چودھری کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کو سات روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر لوہا گڑھ قلعے پر واقعے کی دوبارہ منظر کشی بھی کی جا سکتی ہے تاکہ تمام حقائق کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکے۔