Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سموگ کا راج برقرار،مزید 5 اضلاع میں تعلیمی ادارے بند

    سموگ کا راج برقرار،مزید 5 اضلاع میں تعلیمی ادارے بند

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سموگ کا راج، لاہوریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی، زہریلے دھویں کے باعث فضاؤں میں دھندلا پن محسوس ہونے لگا

    دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں آج بھی لاہور پہلے نمبر پر ہے، لاہورشہر میں سموگ کی مجموعی شرح 910 تک جا پہنچی ہے،لاہور علاقے ڈی ایچ اے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1236، جوہر ٹاؤن کا 991، سید مراتب علی روڈ کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1256 ریکارڈ کیا گیا، غازی روڈ انٹرچینج کا اے کیو آئی 904 ریکارڈ کیا گیا ہے، ملتان کا اے کیو آئی 800 تک جا پہنچا جبکہ پشاور 258، فیصل آباد 252 اور اسلام آباد میں اے کیو آئی 253 ریکارڈ کیا گیا ہے،فیصل آباد اور گردونواح میں سموگ میں معمولی کمی آئی ہے ائیر کوالٹی انڈکس 290 ریکارڈ کیا گیا ہے،سموگ کے باعث خشک کھانسی، سانس میں دشواری، بچوں میں نمونیا اور چیسٹ انفیکشن میں اضافہ ہو رہا ہے،

    این ڈی ایم اےکا کہنا ہے کہ پاکستان اوراسکے گردونواح میں موجودہ بڑھتی ہوئی سموگ کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے،ہماری ٹیم جدیدزمینی اور خلائی ٹولز کواستعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی اورسموگ کا باعث بننے والے عوامل کا جائزہ لیا جا رہا ہے ،صنعتی کارخانوں، دھواں چھورٹی گاڑیوں ،گھاس پوس کو آگ لگانے، نائٹروجن آکسائیڈکے اخراج وغیرہ کا بغورجائزہ لینے کے بعد سموگ سے متاثرہ ہونے والے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے،موجودہ موسمی اور موحولیاتی صورتحا ل،ہوا میں نمی کے تناسب اور دیگر عوامل کی موجوگی ظاہر کرتی ہے، پنجاب کے میدانی علاقوں میں نومبر اور دسمبر کے دوران سموگ کی صورتحال جار ی رہے گی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، پشاور، نوشہرہ اورمردان اور دیگر شہری علاقوں میں نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں سموگ کی بڑھتی ہوئی صورتحال متوقع ہے، اسموگ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں،صبح اور شام کے اوقات میں سموگ میں شدید اضافہ ہو جاتا ہے،لہذا ان اوقات میں غیر ضروری سفر اورباہر نکلنے سے گریز کریں،مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں،ہوا کے میعار کو بہتر بنانے کے لیے دستیاب طریقہ کار مثلاً ڈی ہمیوڈیفائر اور ائیر پیوریفائر کا استعمال کریں۔

    دوسری جانب شدید دھند اور اسموگ کی وجہ سے موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم تک بند، ایم 4 عبدالحکیم سے شیر شاہ تک بھی بند جب کہ ایم 5 شیر شاہ سے سکھر اور سیالکوٹ موٹروےکو بھی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے، شدید دھند کے باعث 10 سے زائد پر وازیں بھی متاثر ہوئیں جس کے سبب مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    لاہور، ملتان کے بعد راولپنڈی سمیت دیگر ڈویژنز میں بھی اسکول اور کالجز کو 17 نومبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔راولپنڈی سمیت منتخب ڈویژنز میں 12ویں کلاس تک تمام اسکولوں اور کالجز کو 13 نومبر سے 17 نومبر تک کے لیے بند رکھا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے تحت بندش کا اطلاق راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، ساہیوال، اور سرگودھا ڈویژن پر ہوگا۔لاہور سمیت دیگر ڈویژنز میں تعلیمی اداروں کی بندش کے جو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں وہ اسی طرح فعال رہیں گے۔اسکول اور کالجز بندش کے دوران آن لائن کلاسز کا اجراء جاری رکھ سکیں گے۔

    پنجاب : اسموگ کے باعث ایک کروڑ سے زائد بچے خطرےمیں

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

  • آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات

    آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات

    آئی ایم ایف کے پاکستان کے دورے پر آئے وفد نےوزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی ہے۔

    آئی ایم ایف مشن چیف نتھن پورٹر کی قیادت میں وفد وزارت خزانہ پہنچا اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ابتدائی ملاقات کی، وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو خوش آمدید کہا،اس موقع پر وزیرمملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام ملاقات میں موجود تھے

    وزیر خزانہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان نے پیر کے روز آئی ایم ایف کو مطلع کیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس مشینری نے ریٹیلرز، تھوک فروشوں اور ڈسٹری بیوٹرز سے 11 ارب روپے جمع کیے ہیں۔تاہم، تاجِر دوست اسکیم ے بارے میں توقعات پوری نہیں ہو سکیں اور اس مخصوص اسکیم کے ذریعے ٹیکس کی جمع شدہ رقم تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف 1.7 ملین روپے ہے جب کہ پہلی سہ ماہی کے لئے مقرر کردہ ہدف 10 ارب روپے تھا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کی شام آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ بات چیت کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا،سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور چیئرمین ایف بی آر رشید محمود لنگریال نے آئی ایم ایف وفد کے ساتھ پہلے سیشن کا آغاز کیا جو 11 سے 15 نومبر 2024 تک اسلام آباد میں قیام پذیر رہے گا۔

    یہ دیکھنا باقی ہے کہ آئی ایم ایف کس طرح جواب دیتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا مشکل ہوگا،آئی ایم ایف دو اختیارات کی تجویز دے رہا ہے،یا تو ایک منی بجٹ پیش کیا جائے تاکہ ایف بی آر کو پہلے چار مہینوں میں ہونے والے 189 ارب روپے کے محصولات کے خسارے کو پورا کیا جا سکے یا غیر محدود اخراجات کو کم کرنے کا قابل عمل منصوبہ تیار کیا جائے،

    آئی ایم ایف کو پاور ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دی اور شمسی توانائی کے نظام میں کمی کے ساتھ آن گرڈ کے لیے بڑھتی ہوئی مقررہ شرحوں کا امکان۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران مضبوط تجاویز کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے۔

    (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط وصول

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    آئی ایم ایف وفد کی جانب سے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا، جو معیشت کی مضبوطی اور استحکام کی طرف حکومتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس دورے سے پاکستان اور عالمی برادری کو پاکستان کی معیشت کی صورتحال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بہتر آگاہی حاصل ہوگی۔

  • لاہور ہائیکورٹ،فون کالز کی ریکارڈنگ کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ،فون کالز کی ریکارڈنگ کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ ،سیکورٹی اداروں کو شہریوں کے فون کالز کی ریکارڈنگ کی اجازت دینے کے خلاف متفرق درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے متفرق درخواست ابتدائی دلائل سننے کے بعد نمٹا دی ،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ آتا ہے تو جسٹس فاروق حیدر ایسے کیسز کی سماعت کریں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر پیش ہوئے ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی متفرق درخواست پر سماعت کی،درخواستوں میں 8 جولائی کے حکومتی نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ شہریوں کی کالز ریکارڈ کرنا آئین کے منافی ہے،عدالت نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں درج مقدمات کے چالان عدالتوں کو بھیجوانے کے کیس کی سماعت ہوئی
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پراسکیوشن کی جانب سے بھیجوائے گے کیسز اور سیشن ججز کی رپورٹس میں تضاد ہے،عدالت نے پراسکیوشن کو سیشن ججز کی رپورٹس کا جائزہ لیکر آئندہ اعدادوشمار سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ رپورٹس میرے آفس میں بھیج دیں تاکہ پھر اس کیس کو نمٹایا جائے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ 31 جولائی 2024 تک کے تمام مقدمات کے چالان عدالتوں میں بھیجوا دیے ہیں،عدالت نے کہا کہ اٹک ،ملتان ،قصور ،چکوال ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پراسکیوشن اور سیشن ججز کی رپورٹ درست ہے،باقی اضلاع میں اعداد شمار میں فرق آرہا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • وزیراعظم تین روزہ دورے پر آذر بائیجان میں

    وزیراعظم تین روزہ دورے پر آذر بائیجان میں

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا تین روزہ دورہء آذربائیجان،وزیرِاعظم آج باکو میں مصروف دن گزاریں گے.

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کانفرنس آف پارٹیز کے 29ویں کلائمیٹ ایکشن سربراہی اجلاس (COP-29) کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم، پاکستان کی جانب سے منعقدہ کلائیمیٹ فنانس گول میز کانفرنس کی میزبانی کریں گے جس میں متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان جن کا زہریلی اور ماحول کو آلودہ کرنے والی گیسوں کے اخراج میں کم ترین حصہ ہے مگر وہ موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے دوچار ہیں، کے چیلینجز پر روشنی ڈالیں گے. وزیرِ اعظم اس کے ساتھ ساتھ تاجک صدر عزت مآب امام علی رحمن کی جانب سے گلیشیئرز کے تحفظ کیلئے منعقدہ اعلی سطح تقریب "گلیشئیرز 2025: گلیشیئرز کیلئے اقدامات” میں بھی شرکت کریں گے.

    وزیرِ اعظم COP-29 میں شرکت کیلئے آئے ڈنمارک اور چیک ریپبلک کے وزراءِ اعظم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے جہاں نہ صرف باہمی تعلقات کے فروغ پر گفتگو ہوگی بلکہ وزیرِاعظم، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات پر بھی روشنی ڈالیں گے

    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کانفرنس آف پارٹیز کے 29ویں اجلاس (COP-29) میں شرکت کیلئے باکو، آذربائیجان پہنچ گئے. آذربائیجان کے وزیرِ دفاعی صنعت وگار والح اوعلو مصطفییف ے وزیرِ اعظم کا باکو ائیر پورٹ پر پرتپاک استقبال کیا.نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِاعظم کے ہمراہ ہیں. وزیرِ اعظم باکو میں منعقدہ کانفرنس آف پارٹیز کے 29 ویں کلائیمیٹ ایکشن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے.

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • مشہور گلوکار محمد رفیع اور ان کی اہلیہ بلقیس بانو کی نایاب، دل کو چھو لینے والی تصویر

    مشہور گلوکار محمد رفیع اور ان کی اہلیہ بلقیس بانو کی نایاب، دل کو چھو لینے والی تصویر

    ایک نایاب اور دلکش تصویر میں، بھارتی موسیقی کے بے تاج بادشاہ، محمد رفیع اپنی اہلیہ بلقیس بانو کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تصویر ان کے درمیان گہری محبت اور سمجھ بوجھ کی علامت ہے، جو ان کی شادی شدہ زندگی کا ایک خوبصورت لمحہ پیش کرتی ہے۔

    محمد رفیع، جن کی آواز نے لاکھوں دلوں کو چھوا، ہمیشہ اپنی اہلیہ بلقیس بانو کو اپنی زندگی کا مضبوط ستون قرار دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیاب موسیقی کیریئر کے دوران بلقیس کو اپنے لیے ایک ایسا سہارا سمجھا جس نے نہ صرف انہیں جذباتی سکون دیا بلکہ ان کے فن کو نکھارنے میں بھی مدد فراہم کی۔ ان کی شادی شدہ زندگی نے یہ ثابت کیا کہ رفیع صاحب کی شہرت اور کامیابی کے پیچھے صرف ان کی موسیقی کا کمال نہیں تھا، بلکہ ان کی بیوی کا سکون اور سپورٹ بھی تھا۔

    اس تصویر میں محمد رفیع کی سکون اور عاجزی سے بھری ہوئی شخصیت دکھائی دیتی ہے، جبکہ بلقیس بانو کی موجودگی ان کی زندگی میں ایک خاموش مگر انتہائی اہم کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں کی یہ تصویر محبت، ایثار، اور ہم آہنگی کی ایک مکمل مثال ہے جو رفیع کے فن سے بڑھ کر ان کی ذاتی زندگی میں بھی جھلکتی ہے۔

    اس لمحے میں یہ جوڑی ایک ایسی تصویر ہے جو نہ صرف گلوکار کی بے مثال صلاحیتوں کو نمایاں کرتی ہے بلکہ ان کے اور بلقیس کے درمیان کی مضبوط اور نیک محبت کی گواہی دیتی ہے۔

  • اداکار رحمان سینما کے دلدادہ افراد کے دلوں میں  آج بھی زندہ

    اداکار رحمان سینما کے دلدادہ افراد کے دلوں میں آج بھی زندہ

    ہندی سنیما کے بہترین اداکاروں میں شمار ہونے والے رحمان کو ان کی تیز نظر، گہری مگر نرم ادکاری اور متنوع کرداروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ چاہے وہ فلم "پیا سا” میں کرپٹ پبلشر مسٹر گھوش کا کردار ہو، "صاحب بیوی اور غلام” میں چھوٹے ٹھاکر کا کردار ہو، "چودھویں کا چاند” میں وفادار دوست پیارے نواب کا کردار ہو، یا "وقت” میں چنوں سیٹھ کا چالباز کردار ہو، رحمان ہر جگہ جیسے پانی کی طرح فٹ ہو جاتے ہیں۔

    رحمان کا اصل نام سعید الراحل خان تھا، اور وہ 23 جون 1921 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کا تعلق افغانستان کی شاہی نسل سے تھا۔ انہوں نے جابالپور کے رابرٹسن کالج سے گریجویشن کی اور وہاں بیوہار نیواس محل میں رہائش اختیار کی۔ کالج کے بعد (1942) انہوں نے رائل انڈین ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی اور پونا میں پائلٹ کی تربیت حاصل کی۔ تاہم، ان کا فلموں کے لیے جذبہ انہیں ایئر فورس چھوڑنے پر مجبور کر گیا، اور وہ بمبئی آ کر اداکاری کے میدان میں قدم رکھ چکے تھے۔

    رحمان نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز ویشرام بیڈیکر کے ساتھ تیسرے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کیا تھا۔ بیڈیکر کی فلموں میں کرداروں کے لیے افغان پگڑی باندھنے کے لیے رحمان کی مدد کی ضرورت پیش آئی، جس پر بیڈیکر نے انہیں اپنے کام کی تعریف کی۔ اس کے بعد رحمان نے "چاند” (1944)، "ہم ایک ہیں” (1946)، اور "شاہجہان” (1946) جیسی فلموں میں اداکاری کا آغاز کیا۔

    رحمان نے "پیار کی جیت” (1948)، "بڑی بہن” (1949)، "شان” (1950)، "پارس” (1949)، "پردیس” (1950)، "مغرور” (1950)، "عجیب لڑکی” (1952) اور "گاہور” (1953) جیسی فلموں میں اہم کردار ادا کیے۔ ان کی صلاحیت نے انہیں بہترین اداکار کے طور پر متعارف کروایا اور ان کی اداکاری کا دائرہ وسیع ہوگیا۔

    ان کی سب سے اہم فلموں میں 1957 کی "پیا سا” شامل ہے، جس میں انہوں نے کرپٹ پبلشر مسٹر گھوش کا کردار ادا کیا۔ اس کردار میں انہوں نے ایک تعلیمی اور ذہین مگر چھوٹے مفادات والے شخص کو نبھایا جس پر کوئی ندامت یا پچھتاوا نہیں تھا۔ یہ کردار ان کی اداکاری کی کلاسک مثال بن چکا ہے۔

    رحمان کی فنی زندگی کا ایک اور یادگار لمحہ 1962 میں آیا جب انہوں نے "صاحب بیوی اور غلام” میں منفی کردار ادا کیا۔ یہ کردار ایک ایسے شوہر کا تھا جو اپنی بیوی کو مسلسل نظرانداز کرتا اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرتا تھا۔

    رحمان کے کیریئر میں ان کے کئی اہم کرداروں میں "چودھویں کا چاند” (1960)، "گھنگھٹ” (1960)، "دھرم پتر” (1961)، "غزال” (1964)، "وقت” (1965) اور "چلیہ” (1966) شامل ہیں۔ ان کی اداکاری نے انہیں ہدایتکاروں کے لیے ایک پسندیدہ اداکار بنا دیا۔رحمان نے اپنے کیریئر میں چار بار فلمفئیر ایوارڈ کے لیے نامزدگی حاصل کی، جن میں "پھر صبح ہوگی” (1958)، "چودھویں کا چاند” (1960)، "صاحب بیوی اور غلام” (1962) اور "دل نے پھر یاد کیا” (1966) شامل ہیں۔

    رحمان کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو ان کی ذاتی زندگی ہے۔ ان کا خاندان تقسیم کے وقت پاکستان میں رہ گیا تھا، لیکن رحمان نے بھارت میں رہنا پسند کیا۔ ان کے بھائی مسعود الرحمان پاکستان کے مشہور سینماٹوگرافر تھے، اور ان کے بھتیجے فیصل رحمان معروف ٹی وی اداکار ہیں۔رحمان 5 نومبر 1984 کو گلے کے کینسر کے باعث وفات پا گئے۔ ان کی وفات سنیما کی دنیا میں ایک عظیم خلا چھوڑ گئی، مگر ان کی اداکاری آج بھی سینما کے دلدادہ افراد کے دلوں میں زندہ ہے۔

  • نئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک تہائی تک کمی

    نئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک تہائی تک کمی

    کار ساز کمپنیاں اپنے سالانہ سیلز کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے نئے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کر رہی ہیں، تاکہ صارفین کی مانگ میں اضافہ کیا جا سکے۔ حکومتی ڈیٹا کے مطابق، اس سال کے آخر تک کی قانونی سیلز کی حدود کو پورا کرنے کے لیے، کمپنیاں اپنی قیمتوں میں کمی کر رہی ہیں تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تیزی لائی جا سکے۔

    ڈیلی میل کے مطابق زیرو ایمیشن گاڑیوں (ZEV) کا قانونی حکم جو حکومت نے اس سال متعارف کرایا ہے، اس کے تحت کمپنیوں کو 2030 تک اپنی گاڑیوں کی سیلز میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ بڑھانا ہوگا، ورنہ انہیں ہر گاڑی کے لیے 15,000 پاؤنڈ کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔مختلف کار ساز کمپنیوں نے اس سال کے سیلز ہدف کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے قیمتوں میں ایسی کمی کی ہے جو تقریباً جرمانے کے برابر ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں فروخت کی جا سکیں۔

    سب سے بڑی قیمت کی کمی
    آٹوٹریڈر کی رپورٹ کے مطابق، سب سے بڑی قیمت کی کمی DS3 کراس بیک ای-ٹینس میں دیکھنے کو ملی، جس کی قیمت میں 36 فیصد تک کمی کی گئی۔ یہ گاڑی عام طور پر 37,862 پاؤنڈ کی قیمت پر دستیاب تھی، مگر اکتوبر میں یہ 23,345 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی، جس سے خریداروں کو 14,517 پاؤنڈ کی بچت ہوئی۔اس کے مقابلے میں، گزشتہ سال کی سب سے بڑی ڈسکاؤنٹ والی الیکٹرک گاڑی (Vauxhall Corsa-e) پر 22 فیصد کی کمی آئی تھی۔

    زیادہ سے زیادہ ڈسکاؤنٹس
    اکتوبر 2024 میں جاگوار آئی-پیس پر سب سے زیادہ نقدی کی بچت دیکھی گئی۔ یہ لگژری الیکٹرک ایس یو وی 78,331 پاؤنڈ میں بیچی جاتی ہے، مگر اکتوبر میں اس کی قیمت 62,038 پاؤنڈ تک کم ہو گئی، جو کہ 21 فیصد کی کمی ہے اور 16,300 پاؤنڈ کی بچت ہے۔آٹوٹریڈر کے مطابق، اکتوبر میں 70 فیصد الیکٹرک گاڑیاں ڈسکاؤنٹ پر فروخت ہو رہی تھیں، جو کہ پٹرول، ڈیزل اور ہائبریڈ گاڑیوں کے مقابلے میں کم ہے، جن پر 76 فیصد گاڑیاں کم قیمتوں پر دستیاب تھیں۔

    مستقبل میں مزید قیمتوں میں کمی
    یہ قیمتوں میں کمی کمپنیاں اپنی سیلز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کر رہی ہیں، کیونکہ الیکٹرک گاڑیوں کی سیلز کے اہداف ہر سال بڑھتے جائیں گے۔ 2024 میں کار ساز کمپنیوں کو اپنی سیلز کا 22 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کی شکل میں فروخت کرنا ہوگا، اور 2025 تک یہ شرح بڑھ کر 28 فیصد ہو جائے گی۔ 2030 تک، 80 فیصد نئی گاڑیاں زیرو ایمیشن گاڑیاں ہونی چاہئیں۔کار ساز کمپنیاں یہ حکمت عملی اپنا رہی ہیں تاکہ ZEV کے قانون کی پابندی کر سکیں اور جرمانے سے بچ سکیں۔ اس کے علاوہ، کمپنیاں ان ڈسکاؤنٹس کو آئندہ برسوں تک برقرار رکھنے کی توقع رکھتی ہیں تاکہ وہ اپنی سیلز کی مطلوبہ مقدار تک پہنچ سکیں۔

    کار ساز کمپنیاں اپنی قیمتوں میں کمی کر کے الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ حکومت کی سیلز ہدف کی تکمیل کی جا سکے اور جرمانوں سے بچا جا سکے۔

  • دہشت گرد ملک کی سالمیت کے لئے اعلانیہ خطرہ بن چکے ،حافظ مسعود اظہر

    دہشت گرد ملک کی سالمیت کے لئے اعلانیہ خطرہ بن چکے ،حافظ مسعود اظہر

    کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر خود کش حملہ میں شہید ہونے والوں کے ورثا کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ دعا گو ہیں کہ اللہ شہدا کی مغفرت فرمائے ، ورثا کو صبر کی توفیق عطا فرمائے اور زخمی ہونے والوں کو صحت عطا فرمائے ۔دہشت گرد انسانیت اور پاکستان کے دشمن ہیں ضروری ہے کہ ان سے آہنی ہاتھ سے نمٹاجائے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین ، امن کمیٹی کے ممبر اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر خود کش حملہ درحقیقت پاکستان پر حملہ ہے ۔یہ حملہ سی پیک اور پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی سازش ہے ۔ اس لئے کہ پاک چین دوستی اور سی پیک پاکستان کے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں ۔ قوم دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے اور ملک کے دفاع کےلئے سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ ہے ۔ انھو ں نے کہا کہ دہشت گرد انسانیت اور پاکستان کے دشمن ہیں ضروری ہے کہ انھیں نشان عبرت بنایا جائے ، بزدل دہشت گردپاک قوم کا مورال ڈاﺅن کرسکتے ہیں ۔ بم دھماکہ میں شہید اور زخمیوں کے متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں پوری قوم برابر کی شریک ہے ۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ دہشت گردوں کو عبرتناک انجا م سے دوچار کرنے کےلئے ریاست کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں جبکہ شہید اور زخمی ہونے والے خاندانوں کی مالی مدد کی جائے ۔یہ وقت کرسی اور اقتدار کی خاطر لڑنے کا نہیں باہمی اتحاد کا ہے ۔دہشت گردی کے المناک واقعہ نے پوری قوم کو غم زدہ کردیا ہے ۔ ایک طرف ملک میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے جبکہ سیاستدان کرسی اور اقتدار کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ اگر اس موقع پر ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ہوشمندی سے کام نہ لیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ یہ اختلافات کا نہیں بلکہ باہمی اتحاد اور ملک کو بچانے کا وقت ہے ۔ دہشت گردوں نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ پاکستان کی سالمیت کے دشمن ہیں۔ملک میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں اور دہشت گرد ملک کی سالمیت کے لئے اعلانیہ خطرہ بن چکے ہیں ۔ ان کا مقابلہ باہمی اتحاد اور سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کرہی کیا جاسکتا ہے

  • اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    کالم نگاری ایک فن ہے جس میں ایک مخصوص موضوع پر گہری تحقیق اور تحریر کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے کالم نگار وہ ہوتے ہیں جو اپنے خیالات کو واضح، دلچسپ اور قاری کے دل و دماغ پر اثرانداز کرنے والی زبان میں پیش کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن "اپووا” نے سالانہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جو لاہور کےمقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی

    تربیت ورکشاپ نے سینئر صحافی واینکر پرسن ،ٹی وی چینل کے مقبول ترین پروگرام کھرا سچ کے میزبان ،مبشر لقمان کے ہمراہ شرکت کرنی تھی، مگر کسی وجہ سے مبشر لقمان صاحب ورکشاپ میں شریک نہ ہو سکے،یوں ورکشاپ میں اکیلے پہنچے تو اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی اور موجودہ صدر حافظ زاہد استقبال کے لئے گیٹ پر موجود تھے، جہان پاکستان کے میگزین ایڈیٹر انجم عقیل اعوان بھی میرے ساتھ ہی ورکشاپ میں پہنچے، کالم نگار فیصل رمضان اعوان مجھ سے قبل ہی پہنچ چکے تھے اور میری آمد کا انتطار کر رہے تھے، ورکشاپ جاری و ساری تھی، ایک طرف خواتین رائیٹرز اور ایک طرف مرد حضرات، یوں اپووا نے رائیٹرز کا ایک گلدستہ سجا رکھا تھا،مہمانان خاص آ اور جا رہے تھے، اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو جدید تحریری تکنیکوں، تحقیقی مہارتوں، اور تاثراتی تحریر کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے تھی۔ اس کا مقصد کالم نگاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں اس بات کی تربیت دینا تھا کہ وہ کس طرح اپنے کالمز کو مزید مؤثر اور قاری کے لیے دلچسپ بنا سکتے ہیں۔
    aini

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ،معروف صحافی و کالم نگار ریحام خان بھی بطور مہمان خاص ورکشاپ میں آئیں، انہوں نے خطاب کیا اور ساتھ گلہ بھی کیا کہ میں تو ورکشاپ میں کالم نگاروں سے کچھ سننے اور سیکھنے آئی تھی لیکن یہاں مجھے خود سننے کی بجائے سنانے کا موقع مل رہا ہے،ریحام خان سمیت دیگر مہمانان خاص نے ورکشاپ کے شرکا میں اعزازی شیلڈز ،انعامات تقسیم کئے،ریاض احمد احسان جو کبھی ورلڈ کالمسٹ کلب میں متحرک تھے اور ادبی برادری کے لئے ہمیشہ صف اول میں نظر آتے ہیں وہ بھی مہمانان خاص میں شامل تھے،سینئر صحافی ارشاد عارف، روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر ندیم نذر، نوائے وقت کی سینئر صحافی امبرین فاطمہ،لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری بھی مہمانوں میں شامل تھے،ورکشاپ کے شرکا سے خطاب میں مہمانان خاص نے بتایا کہ کالم نگاری میں تحقیق کا اہم کردار ہے۔ ورکشاپ میں کالم نگاروں کو تحقیق کے جدید طریقوں اور ذرائع سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اپنے کالمز میں معلوماتی اور حقائق پر مبنی مواد فراہم کرسکیں۔کالم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ قاری کو محظوظ کرنا اور سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے۔

    ورکشاپ کے اختتام پر کھانے کی میز پر شرکا کے درمیان آراء کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ہر کسی کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ اس سے ان میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔تربیتی ورکشاپ میں پاکستان بھر سے کالم نگار، شعرا شریک تھے، اپووا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہر سال تربیتی ورکشاپ باقاعدگی سے ہوتی ہے، جس کے لئے رجسٹریشن کی جاتی ہے، اہل کتاب افراد کی پذیرائی کی جاتی ہے، شعرا کی ادبی کاوشوں کی تحسین کی جاتی ہے.

    zahid

    پاکستان میں خواتین کا کردار دن بدن مختلف شعبوں میں نمایاں ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر میڈیا اور صحافت میں بھی اب خواتین کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپووا کے زیرِ اہتمام کالم نگاروں کی ورکشاپ میں خواتین صحافیوں اور کالم نگاروں نے بھی بھرپور شرکت کی جس کا مقصد خواتین کو صحافت کے شعبے میں مزید متحرک اور فعال بنانے کے لیے ان کی مہارتوں کو نکھارنا تھا،اپووا کی تربیتی ورکشاپ میں خواتین کی بھرپور شرکت نے اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین اب صحافت کے میدان میں ایک طاقتور اثر ڈالنے والی قوت بن چکی ہیں۔ مختلف پس منظر اور تجربات رکھنے والی خواتین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع حاصل کیا۔ ورکشاپ میں مہمانان خاص نے شرکا کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ معروف کالم نگار اور صحافی، جنہوں نے اس ورکشاپ میں اظہارِ خیال کیا، کہنا تھا کہ خواتین کا صحافت میں حصہ بڑھنے سے معاشرتی مسائل اور خواتین کے حقوق کی آگاہی میں اضافہ ہوگا۔ خواتین کے کالموں میں ایک حساسیت اور گہرائی ہوتی ہے جو مردوں کے لکھے ہوئے کالموں میں اکثر نہیں ہوتی اور یہ خصوصیت ایک منفرد آواز کی شکل اختیار کرتی ہے۔
    apwwa

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی اس ورکشاپ کا انعقاد نہ صرف کالم نگاروں کے لئے مفید بلکہ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ صحافتی دنیا میں ترقی اور تبدیلی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو نہ صرف نئے طریقے سکھاتی ہے بلکہ انہیں اپنے خیالات اور نظریات کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس طرح کی ورکشاپس صحافت کی دنیا میں معیار کی بلندی اور تحریری مہارت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ یہ کالم نگاروں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے کام کو نہ صرف معلوماتی بلکہ تخلیقی اور اثرانداز بھی بنا سکیں۔

    mmali

    اپووا کی شاندار اور ہمیشہ کی طرح کامیاب تربیتی ورکشاپ پر اپووا کی پوری ٹیم کو مبارکباد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں
    03030204604

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ کی رجسٹرار اور انتظامی افسران سے میٹنگ ہوئی

    جسٹس امین الدین کے چیمبر میں ہوئی میٹنگ کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ کے مطابق میٹنگ میں جسٹس امین الدین کو زیرالتوا آئینی مقدمات پر بریفنگ دی گئی،سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کردی،مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ سربراہ آئینی بنچ 2سینئر ججز سے مل کر کریں گے،3رکنی ججز کمیٹی کم از کم 5ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے گی،کمیٹی کے ایک رکن جج بیرون ملک ہیں،وطن واپسی پر کمیٹی کا اجلاس ہوگا،

    سپریم کورٹ میں سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اجلاس میں آئینی بینچ کی ورکنگ اور طریقہ کار پر غور کیا گیا۔اجلاس میں 184(1) ،184(3) ، 186 اور انسانی حقوق کے مقدمات پر بحث ہوئی،اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اور مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ 6 نومبر کا اجلاس کمیٹی ممبر جسٹس جمال خان مندوخیل کی عدم دستیابی پر ملتوی کیا گیا تھا، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر کی کمیٹی آئینی بینچ بنائے گی، آئندہ اجلاس بعد میں شیڈول کیا جائے گا، اجلاس میں رجسٹرار سلیم خان، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس شریک ہوئے

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا