Baaghi TV

Author: News Editor

  • میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف

    میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف

    لاہور:میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف بھی شرپسندوں کے رویے سے تنگ اگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف ہفتے کو اپنی کلاس فیلو مزنا مسعود ملک سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ایک طرف ان کوشادی کی مبارکباد کا سلسلہ شروع ہے تو دوسری طرف کچھ شرپسندوں نے ان کی اہلیہ کے حوالے سے پراپیگنڈہ شروع کردیا

    بتایا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا پیجز پرحارث روف کی اہلیہ مزنا مسعود کے نام سے فیک اکاونٹ شیئر کرکے ان کی کردر کشی کی کوشش کی گئی تھی ، حارث روف نے اس قسم کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خدارا اس کو چھوڑ دیں،ان کی اہلیہ اس قسم کی نہی جس قسم کا تصورپیش کیا جارہاہے

     

    بعد ازاں اتوار کو حارث رؤف نے بیگم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے صارفین کو خبردار کیا۔

    سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ ‘ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری بیگم مزنا مسعود ملک سوشل میڈیا پر نہیں ہیں ،ان کا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی آفیشل اکاؤنٹ موجود نہیں ہے،کسی بھی دھوکے سے محتاط رہیں’۔

    یاد رہے کہ حارث رؤف کا نکاح اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا، جس میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی۔

  • اٹل بہاری واجپائی ،شاعربھی وزیراعظم بھی،ادبی شخصیت

    اٹل بہاری واجپائی ،شاعربھی وزیراعظم بھی،ادبی شخصیت

    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہم جنگ نہ ہونے دیں گے

    اٹل بہاری واجپائی

    پیدائش:25 دسمبر 1924ء
    آگرہ
    وفات:16 اگست 2018ء
    آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس، نئی دہلی
    وجۂ وفات:ذیابیطس
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:انڈین، برطانوی ہند
    جماعت:بھارتیہ جنتا پارٹی (1980-2018)
    جن سنگھ
    مادر علمی:چھاتراپتی شاہو جی مہاراج
    پیشہ:سیاست داں، شاعر، صحافی
    اعزازات:
    بھارت رتن (2015)
    نمایاں ماہرِ پارلیمانی امور اعزاز (1994)
    بنگا بیبھوشن (1994)
    پدم وبھوشن
    وزیر خارجہ بھارت
    1977 – 1979
    وزیر اعظم ہند
    16 مئی 1996 – 1 جون 1996
    19 مارچ 1998 – 19 مئی 2004

    ایک تھے اٹل بہاری واجپئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیدہ مہرافشاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    آزاد ہند کی ایک قدآورسیاسی شخصیت، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی ایک مدت صاحبِ فراش رہنے کے بعد آزادی کی 71ویں سالگرہ پر زندگی کی قید سے آزاد ہوگئے۔یہ ان کے جسم کی موت ہوئی۔ ورنہ پارٹی نے تو 2009 کے پارلیمانی چناؤ میں شکست کے بعد ہی ان کوکنارے کردیا تھا اورلوہ پرش کوآگے بڑھادیا تھا۔اس دوران بیشک جسم و جان کی دیکھ بھال تو ہوئی مگران کی سوچ اورطورطریقوں کی پامالی ہی پامالی ہوئی۔ تھے تو وہ بھی سنگھی مگران میں جووضعداری اورسیاسی دوراندیشی تھی، اس کی جھلک بھی موجودہ میں نظر نہیں آتی۔ البتہ ان کی شخصیت کو بھنانے کیلئے ان کے استھی کلش اٹھائے گھوم رہے ہیں۔

    چندسال کے علاوہ اٹل جی کی سیاسی زندگی اپوزیشن میں گزری۔ مگر جواہر لعل نہروسے لے کرڈاکٹرمن موہن سنگھ تک سب نے ان کو مان سمان دیا۔ جب ان کی پارٹی سمٹ کر دوممبران تک رہ گئی تھی تب بھی ان کی بے قدری نہیں ہوئی، جیسا اب اپوزیشن کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس لئے سنگھی ہونے کے باوجود باجپئی جی مختلف تھے۔وہ کسی بڑے گھرانے سے نہیںآئے تھے، مگر کبھی پریوار کے پس منظرکو ووٹوں کیلئے بھنایا نہیں۔ہمیشہ سادہ زندگی گزاری ۔ چاہتے تو برانڈڈ کپڑے وہ بھی پہن سکتے تھے اورروز ودیش جاسکتے تھے۔

    ہم نے ان کی خوش مزاجی کے قصے سنے ہیں۔ وہ جب تقریر کرتے توتنقید کا کوئی پہلو چھوڑتے نہیں تھے، مگرکسی پر ذاتی حملہ ان زبان پر کبھی نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی نظریہ کے مخالف بھی ان کااحترام کرتے ۔ ان کے ہر لفظ، ہر جملے کی داد دیتے تھے۔وہ سیاسی فائدے کیلئے نہ جھوٹ کا سہارالیتے اورنہ سبزباغ دکھاتے۔ ان کی متانت اورسوجھ بوجھ نے ان کو مقبول عام لیڈربنادیا تھا۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کو دنیا خراج عقیدت پیش کررہی ہے۔

    اٹل جی 1924میں گوالیار میں ایک برہمن گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ’’سرسوتی ششومندر، گوالیار‘‘ سے ہوئی۔انگریزی، ہندی اورسنسکرت میں ڈسٹنکشن کے ساتھ بی اے کیا اورسیاسیات میں فرسٹ ڈویزن میں ایم اے کیا۔ برہمن ہونے کے باوجود و ہ آریہ سماج سے جڑے اورعہدیدار بنے۔ 16سال کی عمرمیں آرایس ایس سے وابستہ ہوگئے ۔ اس کے کارکن (سیوم سیوک) اورمبلغ (پرچارک )رہے۔اسی لئے ان کا نام جہاد آزادی میں نہیں آتا کہ آرایس ایس اس میں حصہ دارنہیں تھی۔ہندستان چھوڑوتحریک کے دوران وہ اپنے گاؤں بٹیشورمیں گرفتارہوگئے مگرجلد ہی معذرت پیش کرکے چھوٹ گئے۔ انہوں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے ہندی ماہنامہ ’’راشٹردھرم‘‘ سے صحافت شروع کی۔ کئی دوسرے اخباروں میں بھی کام کیا اورجب آزادی کے بعد آرایس ایس کے سیاسی بازوکے طور پر ڈاکٹرمکھرجی نے بھارتیہ جن سنگھ بنائی تواس کے بانی ممبروں میں شامل ہوگئے ۔ یہی جن سنگھ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی بنی۔ مرتے دم تک ان کا یہ رشتہ قائم رہا۔ وہ کوئی چالیس سال پارلیمنٹ کے ممبررہے۔ لوک سبھا کے دس چناؤ جیتے اوردوبارراجیہ سبھا میں گئے۔مرارجی دیسائی کی جنتادل سرکار میں وزیرخارجہ بنے تو چین کے ساتھ رشتوں کی نئی بنیاد ڈالی۔ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے پاکستان سے تعلقات بہترکرنے اورکشمیر مسئلہ کو حل کرنے کی جو جرأتمندانہ کوششیں کیں ان کی دوسری مثال نہیں ۔ ان کے نظریہ سے اختلاف کے باوجودان کی ان خدمات کا اعتراف ہونا چاہئے اوربھاجپاکی موجودہ قیادت کویاددلانا چاہئے کہ ’راج دھرم ‘ پرکاربندرہنے کی انکی نصیحت پر کان دھرے۔صرف استھی کلش لئے پھرناکوئی معنی نہیں رکھتا۔

    بیشک انہوں نے پوری لگن سے آرایس ایس کیلئے کام کیا۔ان کاکہنا تھا کہ مرتے دم تک سنگھ کا سیوم سیوک رہوں گا۔سنگھ کا مقصد ہے بھارت کو خالص ہندو راشٹربنانا۔مگرموجودہ سرکار ہندستان کی گنگاجمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارہ کو ملیا میٹ کرکے جس طرح کاراشٹربنانا چاہتی ہے،جس میں انسانی جانوں اور قانون کی پامالیوں کی پرواہ نہیں، اٹل جی ہوتے توایسا چاہتے۔اگروہ ایسا چاہتے ہوتے توپاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھاتے۔ جس کیلئے وہ خود لاہورگئے۔ لاہوردہلی بس سروس ان کی ہی دین ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام میں اعتماد کی روح پھونکی۔ گجرات 2002کے فساد پر انہوں نے کہا تھا’ہم ودیشوں میں کیا منھ دکھائیں گے۔‘ان کا یہ کہنا ظاہر کرتا ہے کہ ان کیلئے ایک امن پسند ہندستان کو سب سے زیادہ ترجیح حاصل تھی۔

    بزرگ صحافی جناب حفیظ نعمانی نے لکھا ہے، ’’اٹل جی اگرآرایس ایس کی گرفت میں نہ ہوتے تو پنڈت نہروجیسے قدآورسیکولر ہوتے۔‘اور یہ کہ ’2004میں انہوں نے مسلمانوں کو آواز دی،لیکن موقع پرستوں کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔ کیونکہ بات اصل بھاجپا کی تھی، وہ اگراپنے ان آقاؤں کوچھوڑ کر آتے تومسلمان قوم بڑی سیدھی اورجذباتی قوم ہے، وہ ان کو قائد اعظم بنا دیتی۔‘‘

    سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کیلئے یہ رہی کہ باجپئی جی نے ایڈوانی جی کی رام رتھ یاترااوررام مندرتحریک کی خاموش تائید کی جس نے ملک کی سیکولربنیادوں کو ہلادیا۔ آپسی بھائی چارے پر کاری ضرب لگائی۔ ٹھیک ویسی ہی ضرب جیسی سردارپٹیل کی پہل اورگاندھی جی کی تائید پر ملک کی تقسیم پر آمادہ ہوکرکانگریس نے لگائی تھی۔ہم اجودھیا سانحہ کیلئے باجپئی جی کو کیا دوش دیں کہ تھے تووہ بھی سیوم سیوک ہی، جس پران کو فخر تھا۔ بی جے پی کو توفسادی ہندوواد چاہئے جس نے ملک کے ماحول کوزہر آلود کررکھا ہے۔ کسی بھی مذہب کاپیروکار خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہا ہے۔ اگرایسا ہی چلتا رہا اور2019 میں تبدیلی نہیں آئی تواندیشہ ہے ایک مرتبہ پھرتقسیم وطن کے دور کی سیاہ تاریخ دوہرائی جائیگی۔ یہ سب کچھ بے لگام ستا کیلئے ہورہا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ ہٹلر اور سکندر نہیں رہے،اسٹالن اورمسولینی نہیں رہے تو تم کیا رہوگے؟بقول راحت اندوری:
    جو آج صاحب مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
    کرایہ دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
    انسان کو اقتدار کی ہوس اندھا بنادیتی ہے۔لیکن وہ وقت بھی آتا ہے جب پرچھائی بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ کوئی دل سے رونے والابھی نہیں ملتا۔
    اٹل جی کی زندگی کا ایک رومانی پہلو بڑادلچسپ ہے ۔ انہوں نے سنگھ پرچارک کے اصول پر عمل کیا اورزندگی بھرشادی نہیں کی۔ کربھی لیتے تو مودی جی کی طرح ہوسکتا ہے چھوڑ دیتے ۔ ان کے بارے میں ایک دلچسپ داستان عشق کا ذکرآتا ہے ۔ طالب علمی کی زمانے میں اٹل جی اپنی ایک خوبصورت ہم جماعت راجکماری ہکسرسے قریب ہوگئے۔ یہ قربت دلی تعلق میں بدل گئی۔ جوبات زبان پر نہ آتی وہ انہوں نے خط سے کہی جس کا جواب اگرراجکماری نے لکھا تو، مگراٹل جی کونہیں ملا۔ بات آگے نہیں بڑھی۔ وہ دورتھا ہی ایسا۔ اگرچہ دونوں برہمن تھے مگرراجکماری کا خاندان کشمیری تھا اوراپنے آپ کو زیادہ اعلیٰ برہمن تصورکرتا تھا۔

    1947میں راجکماری کے والدین دہلی آگئے اور راجکماری کی شادی برج نارائن کول سے کردی جو دہلی یونیورسٹی میں فلاسفی پڑھاتے تھے۔ لیکن شادی کے باوجود دوستی کا رشتہ برقرار رہااوربڑھا۔مسزکول اپنے بچوں کے ساتھ اٹل جی کے ساتھ ان کے گھر کی منتظمہ کی طرح رہنے لگیں ۔ ان کی بڑی بیٹی کو اٹل جی نے منھ بولی بیٹی بنا لیا ۔یہ تعلق ایسا تھا جس پرپروفیسرکول نے بھی نہ کبھی اعتراض کیا اورنہ کسی نے چھپایا۔ ابتدائی دورکی محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ البتہ شادی کے بعد اس کو نبھانا مشکل ہوتا ہے۔ اٹل جی اور راجکماری نے یہ کردکھایا۔باجپئی کی اس پریم کہانی میں آج کل کے مجنوؤں کیلئے ایک سبق ہے۔ عشق اور محبت کا رشتہ شادی کے رشتہ سے زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے۔ سماج کے تانے بانے کو توڑے بغیراوررنجشیں پھیلائے بغیردوستی کے رشتہ کو نبھایا جاسکتا ہے۔

    مجھے اکثر قارئین کے دلی جذبات کا احساس ہے۔ مگرمیں کہتی ہوں اچھا اخلاق، اچھا رویہ اوراچھی تعلیم جہاں سے ملے وہ ہماراگم شدہ اثاثہ ہے۔ اس کو لے لیجیے۔ گلاب کا پھول جس ٹہنی پرلگاہوتاہے، اس میں کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی وجہ سے پھول کو ٹھکرانہیں دیتے۔ ہمارے دین کی تلقین اورمصلحت کا تقاضا ہے کہ غیروں میں جہاں کچھ اچھا ہے اس کا اعتراف کیجئے ۔ اس لئے ہم اٹل جی کی خوبیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وہ یقینابھاجپا کی موجودہ قیادت سے لاکھ درجہ بہترتھے۔ ان کیلئے بھی اس میں بڑا سبق ہے۔

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    ۔۔۔۔۔۔
    بھری دوپہری میں اندھیارا
    سورج پرچھائیں سے ہارا
    انترتم کا نیہ نچوڑیں بجھی ہوئی باقی سلگائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    ہم پڑاؤ کو سمجھے منزل
    لکچھ ہوا آنکھوں سے اوجھل
    ورتمان کے موہ جال میں آنے والا کل نہ بھلائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    آہوتی باقی یگیہ ادھورا
    اپنوں کے وگھنوں نے گھیرا
    انتم جے کا وجر بنانے نو ددھیچی ہڈیاں گلائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم جنگ نہ ہونے دیں
    وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
    کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
    کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
    آسمانوں پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
    ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا
    یدھ وہین وشو کا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
    منہ میں شانتی بغل میں بم دھوکے کا پھیرا
    کفن بیچنے والوں سے کہہ دو چلا کر
    دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرہ
    کامیاب ہو ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہمیں چاہیے شانتی زندگی ہم کو پیاری
    ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
    ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
    آگے آ کر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
    ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
    پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
    تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
    روسی بم ہو یا امریکی خون ایک بہنا ہے
    جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی:عشرت آفرین کی شاعرانہ زندگی

    انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی:عشرت آفرین کی شاعرانہ زندگی

    انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ
    بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

    عشرت آفرین

    تاریخ پیدائش :25دسمبر 1956ء
    | کراچی، سندھ
    رشتہ دار:علی سردار جعفری (خسر)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عشرت آفرین کا شمار پاکستان سے تعلق رکھنے والی معروف ترین شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ شاعری میں اپنے تانیثی خیالات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کی پیدائش ۲۵ دسمبر ۱۹۵۶ کو کراچی کی ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں ہوئی۔ کراچی یونیورسٹی سے اردو ادبیاب میں ایم اے کیا۔
    ٍ عشرت آفرین نے اوئل عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا، ان کی تخلیقات چودہ برس کی عمر سے شائع ہونے لگی تھیں۔ اس کے بعد ان کا یہ شعری سفر تیزی سے آگے بڑھتا گیا۔ اب تک ان کے دو شعری مجموعے ’کنج پیلے پھولوں کا‘ اور ’دھوپ اپنے حصے کی‘ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تخلیقات ہند و پاک سے شائع ہونے والے اہم ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔
    عشرت آفرین نے ان پیج میں شامل اردو خط نوری نستعلیق کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ ان دونوں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں اور یونیورسٹی آف ٹیکساس میں اردو شعبہ سے وابستہ ہیں۔ عشرت آفرین کو ان کی ادبی خدمات کے لیے کئی اہم ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی
    عجب جذبے عجب تیور کی لڑکی

    یوں ہی زخمی نہیں ہیں ہاتھ میرے
    تراشی میں نے اک پتھر کی لڑکی

    کھڑی ہے فکر کے آذر کدے میں
    بریدہ دست پھر آذر کی لڑکی

    انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ
    بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

    سزاوار ہنر مجھ کو نہ ٹھہرا
    یہ فن میرا نہ میں آذر کی لڑکی

    بکھر کر شیشہ شیشہ ریزہ ریزہ
    سمٹ کر پھول سے پیکر کی لڑکی

    حویلی کے مکیں تو چاہتے تھے
    کہ گھر ہی میں رہے یہ گھر کی لڑکی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وحشت سی وحشت ہوتی ہے
    زندہ ہوں حیرت ہوتی ہے
    جل بجھنے والوں سے پوچھو
    غم کی کیا حدت ہوتی ہے
    رہن نہ رکھ دینا بینائی
    اس کی بھی مدت ہوتی ہے
    سارے قرض چکا دینے کی
    کبھی کبھی عجلت ہوتی ہے
    دل اور جان کے سودے جو ہیں
    ان میں کب حجت ہوتی ہے
    خود سے جھوٹ کہاں تک بولیں
    تھوڑی سی خفت ہوتی ہے
    اپنے آپ سے ملنے میں بھی
    اب کتنی دقت ہوتی ہے
    خود سے باتیں کرنے کی بھی
    اب کس کو فرصت ہوتی ہے
    کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میں
    اپنے ہاں برکت ہوتی ہے
    سونا سی مٹی کے گھر میں
    کب ہم سے محنت ہوتی ہے
    دھان ہمارے چڑیا کھائیں
    چڑیوں کو عادت ہوت ہوتی ہے
    بچوں سے کیا شکوہ کرنا
    مٹی میں الفت ہوتی ہے
    سبز کواڑوں کی جھریوں میں
    جگنو یا حیرت ہوتی ہے
    ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میں
    کیا اجلی رنگت ہوتی ہے
    پھٹی پرانی سی چنری میں
    کیا بھولی صورت ہوتی ہے
    چاول کی پیلی روٹی میں
    کیا سوندھی لذت ہوتی ہے
    رلی کے ایک اک ٹانکے میں
    پوروں کی چاہت ہوتی ہے
    جاڑے اوڑھ کے سو جانے میں
    کب کوئی زحمت ہوتی ہے
    شام کو تیرا ہنس کر ملنا
    دن بھر کی اجرت ہوتی ہے

  • کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و  رقص کی اسکالر تھیں

    کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں

    تاریخ ولادت: 25 دسمبر 1928ء
    دہلی
    تاریخ وفات:16 ستمبر 2020ء
    دہلی
    والدین:رام لال ملک
    ستیہ وتی ملک
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    مشی گن یونیورسٹی
    بنارس ہندو یونیورسٹی

    25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں۔ انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگردہ بھی تھیں۔

    وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انھوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

    واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔

  • وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کا بلوچستان میں‌ وطن پرقربان ہونے والے پاک فوج کے شہیدوں کو خراج عقیدت

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کا بلوچستان میں‌ وطن پرقربان ہونے والے پاک فوج کے شہیدوں کو خراج عقیدت

    لاہور:وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کا بلوچستان میں‌ وطن پرقربان ہونے والے پاک فوج کے شہیدوں کو خراج عقیدت ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کا کہناہے کہ بلوچستان میں کیپٹن سمیت5 فوجی جوانوں کی شہادت کی خبر دل دہلا دینے والی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ٹویٹر پیغام میں شہبازشریف نے کہا کہ وطن کیلئے جانیں قربان کرنے والے ہیروز کو قوم خراج عقیدت پیش کرتی ہے، دہشت گردی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بھی بلوچستان کے علاقے کاہان میں آپریشن کے دوران بارودی سرنگ کے دھماکے میں جام شہادت نوش کرنے والے کیپٹن فہد اور 4فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا،
    وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی نےشہید کیپٹن فہد، لانس نائیک امتیاز، سپاہی اصغر، سپاہی مہران اور سپاہی شمعون کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت بھی کیا

    اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ شہداء ہمارا مان اور قوم کے ہیرو ہیں۔شہداء نے وطن عزیز کے امن کے اپنا آج قوم کے پرامن کل پر قربان کیا۔شہداء کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہے.ہماری تمام تر ہمدردیاں شہداء کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پوری قوم یکسو ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے مزید کہا کہ بزدلانہ کارروائیاں امن اور خوشحالی کو سبوتاژ نہیں کرسکتیں۔

    دوسری جانب وزیرداخلہ راناثنااللہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء قوم کے ماتھے کا جھومر اور فخر ہیں،قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے، دہشتگردی کا پہلے بھی مقابلہ کیا،اب بھی طاقت سے قلع قمع کریں گے۔

    خیال رہے کہ آج بلوچستان کےعلاقے کاہان میں بارودی سرنگ دھماکے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت 5 سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق باردوی سرنگ دھماکا صدقہ خفیہ اطلاعات پر علاقے میں کلیئرنس آپریشن کے دوران ہوا۔ شہدا میں کیپٹن فہد، لانس نائیک امتیاز، سپاہی اصغر، سپاہی مہران اور سپاہی شمعون شامل ہیں۔

  • جاپان میں شدیدبرفباری:مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد14ہوگئی

    جاپان میں شدیدبرفباری:مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد14ہوگئی

    ٹوکیو: جاپان کے شمالی اور مغربی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی۔سردی کے اس طوفان کے متعلق جاپانی میڈیا کا کہنا ہےکہ جاپان میں برفباری سے ہونے والے حادثات میں 87 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    نیگاتا ریجن کے دیہی علاقوں میں 20 سینٹی میٹر سے ایک میٹر تک برف پڑ چکی ہے، خراب موسم کی وجہ سے علاقے میں بلیک آؤٹ ہے اور دو ہزار صارفین گذشتہ روز سے بجلی سے محروم ہیں۔حکام نے لوگوں کو پیر تک احتیاط برتنے اور گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    خیال رہےکہ جاپان کے شمالی اور مغربی ساحلی علاقوں میں 17 دسمبر سے شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

    امریکا کو کئی دہائیوں بعد موسم سرما کے بدترین طوفان کا سامنا ہے جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بڑے حصے میں نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں برف باری کے باعث مختلف حادثات میں اموات کی تعداد 22 ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں تقریباً ساڑھے 5 لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

    نارتھ کیرولائنا اور دیگر ریاستوں کےکچھ شہروں میں بجلی کی طلب بڑھنے پر بلیک آؤٹ ہو چکا ہے، اس کے علاوہ امریکا کی مختلف ریاستوں میں 2800 پروازیں منسوخ اور 6600 سے زائد تاخیر کا شکار ہیں۔

  • لاہور: نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون فائنل

    لاہور: نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون فائنل

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور عبوری سلیکشن کمیٹی نے نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون فائنل کرلی۔ذرائع کے مطابق بابراعظم، عبداللہ شفیق، امام الحق، شان مسعود اور سعود شکیل ٹیم کا حصہ ہوں گے جبکہ سلمان علی آغا، ابراراحمد، میرحمزہ، وسیم جونیئر کی شمولیت کا امکان ہے۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ اسکواڈ تبدیل:شاہنواز دہانی، ساجد خان اور میر حمزہ شامل

    محمد رضوان کی جگہ سرفراز احمدکی ٹیم میں شمولیت کا امکان ہے۔ وکٹ کیپرمحمد رضوان کو آرام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ساجدخان یا نعمان علی کی شمولیت کا فیصلہ صبح کیا جائے گا۔خیال رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ کل نیشنل اسٹڈیم کراچی میں شروع ہوگا۔

    پاکستان اور نیوزی لینڈ ٹیسٹ سیریز کیلئے ٹرافی کی رونمائی کردی گئی۔

    مجھےکپتانی جانے کا کوئی خوف اورپریشر نہیں، مجھے اپنی ٹیم پر یقین ہے:بابراعظم

    قومی کپتان بابر اعظم اور نیوزی لینڈ کے کپتان ٹم ساؤتھی نے نیشنل بینک ایرینا اسٹیڈیم میں ٹرافی کی رونمائی کی۔ دونوں ٹیموں کے مابین 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی جائے گی، پہلا ٹیسٹ کل سے شروع ہوگا جبکہ 2 دونوں ٹیسٹ میچ کراچی میں ہی کھیلے جائیں گے۔

    واضح رہے اس سے قبل ایک ٹیسٹ میچ ملتان میں ہونا تھا لیکن پھر دونوں ملکوں کی ٹیموں کے بورڈ کے باہمی مشاورت کے بعد اب دونوں ٹیسٹ میچز کراچی میں ہی کھیلے جائیں گے۔

  • قیام پاکستان سے ابتک توشہ خانہ میں کون سےتحائف آئےبتایا جائے:درخواست سماعت کےمقرر

    قیام پاکستان سے ابتک توشہ خانہ میں کون سےتحائف آئےبتایا جائے:درخواست سماعت کےمقرر

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں قیام پاکستان سے اب تک سربراہان مملکت کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کو فوری سماعت کیلیے مقرر کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق توشہ خانہ تھائف کی تفصیلات کی فراہمی سے متعلق درخواست پر پیر 26 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کریں گے۔

    مستحق فنکاروں کیلیے امداد 25 ہزار:چوہدری پرویز الٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰہی نے اعلان…

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزرائے اعظم اور صدور کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انفارمیشن کمیشن نے 29جون 2022 کو حکومت کو توشہ خانہ تفصیلات فراہمی کا حکم دیا لہذا اُس حکم پر عمل کرایا جائے۔

    بلوچستان:دہشت گردوں کے خلاف آپریشن: بارودی سرنگ کا دھماکا، کیپٹن سمیت 5 جوان شہید

    درخواست گزار نے کہا کہ تحائف کی مارکیٹ ویلیو اور لگائی گئی قیمت کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ ابوزر سلمان نیازی ایڈووکیٹ کی درخواست میں کابینہ ڈویژن ، انفارمیشن کمیشن فریق بنایا گیا ہے۔

    توشہ خانہ 1974ء میں تشکیل دیا گیا پاکستان کی کابینہ ڈویژن کے زیر کنٹرول ایک سرکاری ملکیت کا محکمہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ان تحائف کو رکھنا ہے جو اراکین پارلیمنٹ، وزراء، خارجہ سیکرٹریوں، صدر اور وزیر اعظم وصول کرتے ہیں

    بجلی کےساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ بھی جاری:شارٹ فال 1200ایم ایم سی ایف ڈی سےبڑھ گیا

    کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

  • کراچی:دہشت گردی کا خدشہ، سیکیورٹی ہائی الرٹ

    کراچی:دہشت گردی کا خدشہ، سیکیورٹی ہائی الرٹ

    کراچی: سکیورٹی اداروں نے ملک کے دیگر حصّوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے کے بعد کراچی میں بھی دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔کراچی سے سیکورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے جن میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں سی ٹی ڈی کے مرکز پر دہشت گردوں نے قبضہ کیا جسے چھڑانے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو آپریشن کرنا پڑا ، اسی طرح ملک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی ویلیو ٹارگٹ پر خودکش حملہ ناکام بنایا گیا لیکن اس ناکام حملے میں بھی حملہ آور کی جانب سے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑانے کے نتیجے میں ایک پولیس افسر شہید اور دیگر زخمی ہوئے۔

    ذرائع نے بتایا کہ اسی تناظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں بھی دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کردیا ہے، اس سلسلے میں گزشتہ چند روز سے منگھوپیر، سہراب گوٹھ اور ڈاکس کے علاقے میں قائم مچھر کالونیز اور حب ریور روڈ پر مواچھ گوٹھ میں کچھ مشتبہ افراد کی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں لیکن ابھی فی الحال فوری طور پر کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ہے، ان تمام مشتبہ سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جارہا ہے، ان علاقوں میں ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آئی تھیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ چونکہ شہر کے اندر آنے والے راستوں پر کوئی ٹھوس سیکیورٹی اقدامات نہیں ہیں جس کے باعث شہر میں اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل بھی جاری رہتی ہے تاہم حالیہ دنوں میں شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی مانیٹرنگ میں اضافہ کردیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ماضی کی طرح ٹی ٹی پی سمیت دیگر کالعدم تنظیمیں اب ملک کے معاشی حب کو نشانہ بناتے ہوئے دوبارہ اپنی مذموم کارروائیاں کرسکتی ہیں جن میں بم دھماکے ، خودکش حملے اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ مواچھ گوٹھ اور ڈاکس مچھر کالونی سے قانون نافذ کرنے والے ادارے حالیہ کچھ عرصے میں بڑی تعداد میں مارٹر گولے بھی برآمد کرچکے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر میں بڑی تعداد و مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود موجود ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے ان واقعات کی مزید تحقیقات کررہے ہیں اور کچھ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔

  • اسلام آباد:امریکہ کے بعد برطانیہ نےبھی اپنے شہریوں کووارننگ جاری کردی

    اسلام آباد:امریکہ کے بعد برطانیہ نےبھی اپنے شہریوں کووارننگ جاری کردی

    اسلام آباد:کچھ دیر پہلے امریکہ نے اسلام آباد میں اپنےشہریوں‌کو خبردارکیا تھا کہ باہر نکلتے وقت احتیاط سے کام لیں ، اب برطانیہ کی حکومت نے ایک سیکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا ہے جس میں اپنے عملے کو اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل جانے سے منع کیا گیا ہے، ایک اضافی ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے جس میں اس کے عملے کو روکا گیا ہے اور شہریوں کوخبیرپختونخواہ اور بلوچستان کے کچھ حصوں کا دورہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلےامریکی سفارتخانے نےاپنے عملے کوخطرے سےآگاہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں‌ امریکی سفارتخانے کی طرف سے اپنے ملازمین کو وارننگ جاری کردی ہے،اطلاعات ہیں کہ ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی کے عملے کو اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں جانے سے منع کر دیا گیا۔

     

    سفارتخانے کی طرف سے یہ وارننگ دی گئی ہے کہ امریکی حکومت کو اس قسم کی اطلاعات ہیں‌ کہ نامعلوم افراد ممکنہ طور پر تعطیلات کے دوران اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں امریکیوں پر حملہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کی ہدایت بھی کی ہے

    انہیں حالات کے پیش نظر امریکی حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں سفارت خانہ تمام امریکی عملے کو اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں جانے سے منع کر رہا ہے۔ مزید برآں، جیسا کہ اسلام آباد کو تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ریڈ الرٹ پر رکھا گیا ہے،

    یہ بھی معلوم ہواہے کہ ان حالات کے پیش نظر سفارت خانہ تمام مشن کے اہلکاروں پر زور دے رہا ہے کہ وہ تعطیلات کے پورے موسم میں اسلام آباد میں غیر ضروری، غیر سرکاری سفر سے گریز کریں۔