Baaghi TV

Author: News Editor

  • بھارت:کالج طلبا کےایک بارپھرپاکستان زندہ باد کےنعرے

    بھارت:کالج طلبا کےایک بارپھرپاکستان زندہ باد کےنعرے

    بنگلور:بھارت کےشہربنگلوروکاانجنئیرنگ کالج پاکستان زندہ بادکےنعروں سےگونج اٹھا۔میڈیاکےمطابق ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے انجنیئرنگ کالج میں ایک ثقافتی پروگرام جاری تھا کہ اس دوران ایک لڑکی اور 2 لڑکوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگادیئے۔

    پاکستان زندہ باد کے نعروں کی ویڈیو کالج میں وائرل ہوگئی جس کے بعد تینوں طلبہ کے خلاف بنگلوروں کے مراٹھا بلی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔

    تینوں طلبہ کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے تاہم انہیں بغیر پیشگی اطلاع شہر سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے ضلع دکشنا پورم میں پولیس نے مبینہ طور پر پاکستان کی حمایت میں لگنے والے بعض نعروں کے لیے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے بعض ارکان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیے گئے تھے ۔

    یہ واقعہ بیلتھنگڈی کے پاس اوجیرے گاؤں کا تھا، جہاں مذکورہ جماعت نےبلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ایس ڈی پی آئی کے کارکنان خوشی کا جشن منا رہے تھے اور اسی ویڈیو میں ":پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد” کے نعرے بھی سنے جا سکتے ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق وہاں بی جے پی اور ایس ڈی پی آئی دونوں پارٹیوں کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے جنہیں بعد میں پولیس نے منتشر کیا۔ کسی بھی جانب سے شکایت کے بغیر پولیس نے بذات خود ایس ڈی پی آئی کے 15 ارکان کے خلاف بغاوت کے ساتھ ساتھ کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ابھی تک اُن افراد کی شناخت نہیں ہوئی ہے جن پر پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کا الزام ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • راوی روڈ سبزی منڈی میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی نقب زنی کا ڈراپ سین

    راوی روڈ سبزی منڈی میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی نقب زنی کا ڈراپ سین

    لاہور:راوی روڈ سبزی منڈی میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی نقب زنی کا ڈراپ سین،اطلاعات کے مطابق لاہور کے مشہور علاقے سبزمنڈی میں ایک بہت بڑی واردات کا ڈراپ سین ہوگیا ہے،پولیس کا کہنا ہےکہ واردات میں ملوث مدعی کا سگا بھائی افتخار سابقہ ملازمان ولایت علی اور ندیم سمیت گرفتار کر لیا،

    ایس پی انویسٹی گیشن سٹی کے مطابق لاہور کے علاقے سبز منڈی میں‌ شہری شہزاد کی آڑھت میں گزشتہ روز ڈیڑھ کروڑ مالیت کی واردات ہوئی،یہ بھی بتایاجارہا ہے کہ شہزاد نے نامعلوم ملزمان کیخلاف درخواست دی تھی،

    ایس پی سٹی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث لاہور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چند گھنٹوں میں ہی ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا،

    ایس پی عثمان ٹیپو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا،ملزمان کے قبضہ سے ڈیڑھ کروڑ روپے برآمد کرلیا گیاہے، ایس پی سٹی انویسٹی گیشن عثمان ٹیپو کا مزید کہنا تھاکہ اس سلسلے میں‌ مزید کارروائی جاری ہے

    یاد رہےکہ پچھلےچند دنوں سےلاہوراوراس کے مضافات میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیاہےاورپولیس فی الحال تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے،عوام الناس پریشان ہیں اور پولیس اورامن وامان نافذ کرنےوالے اداروں کی نااہلی پرسوالات اٹھائے جارہے ہیں‌

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • شیخوپورہ میں کارپرفائرنگ سےدوافراد کے جاں بحق:واقعہ کا نوٹس

    شیخوپورہ میں کارپرفائرنگ سےدوافراد کے جاں بحق:واقعہ کا نوٹس

    شیخوپورہ: (محمد طلال سے)قائم مقام آئی جی پنجاب کنورشاہ رخ نے شیخوپورہ میں کار پر فائرنگ سےدوافراد کےجاں بحق ہونے کے واقعہ کا نوٹس لیا ہےیہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس واقعہ کے بعد قائم مقام آئی جی پنجاب نے آر پی او شیخوپورہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ۔

    شیخوپورہ سے باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق قائم مقام آئی جی پنجاب نےملزمان کی گرفتاری کیلئے سپیشل ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قائم مقام آئی جی پنجاب کنورشاہ رخ نے حکم دیا ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے ۔

    قائم مقام آئی جی پنجاب کا کہناہے کہ اس سلسلے میں تمام سپروائزری افسران مقتولین کی فیملیز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں ۔ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ مانانوالہ خالد شہید چوک مانانوالہ روڑ پر کار میں سوار افراد پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے کار میں سوار 2 افراد جاں بحق جبکہ 2 شدید زخمی ہو گئے۔ریسکیو 1122 مانانوالہ کی امدادی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو فوراً طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کردیا۔

    موقع پر جاں بحق علی بیگ ولد اکرم بیگ 22 سال اور رضوان بیگ ولد لیاقت بیگ 30 سال کی لاشوں کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ زخمی ہونے والوں میں ساجد ولد محمد اقبال 25 سال اور ملک اسامہ ولد صابر حسین 23 سال شامل ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی

    ہندوستان کے نامور شاعر افتخار امام صدیقی 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے اور دادا سیمابؔ اکبر آبادی۔ سیمابؔ اکبر آبادی تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے لیکن افتخار امام صدیقی کے والد اعجاز صدیقی ہندوستان میں ہی رہے۔ اعجاز خود ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی کاموں کےساتھ ساتھ ماہنامہ ’شاعر‘ کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ جاری رکھا۔ شاعری، نثر نگار اورماہنامہ ’شاعر‘ کی ادارت، تینوں چیزیں افتخار امام صدیقی کو بھی ورثے میں ملیں اور انہوں نے ان تینوں خانوں میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

    افتخار امام صدیقی نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ ان کی غزلیں اپنے شدید کلاسیکی رچاو کی وجہ سے بہت مقبول ہوئیں۔ کئی اہم گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائیں ہیں۔ خود افتخار امام صدیقی خوبصورت ترنم کے مالک ہیں اور ہندوستان و پاکستان کے مشاعروں میں بہت دلچسپی سے سنے جاتے ہیں۔ افتخار امام صدیقی نے کئی تنقیدی کتابیں بھی لکھیں ہیں۔ ان کا ایک یادگار کام ’شاعر‘ کے وہ خاص شمارے میں جو انہوں نے مشہور ومعروف ادبی شخصیات پر ترتیب دئے ہیں۔ حامد اقبال صدیقی ان کے بھائی ہیں۔

    افتخار امام صدیقی 04؍اپریل 2021ء کو ممبئی میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں آسودہِ خاک ہیں۔

    افتخار امام صدیقی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں
    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لبِ دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں
    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا

    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا

    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے
    فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے

    بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں
    ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے

    بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو
    ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے

    اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس
    ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے

    کہیں ضرور خدا کو مری ضرورت ہے
    جو آ رہی ہے فلک سے صدا اداسی ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:دیکشا گروور چلانہ

    آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:دیکشا گروور چلانہ

    لاہور:آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:اس حوالے سے مردوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں کہ اس دن کے منانے کا مقصد تو تھا کہ مردوں کی صحت،ان کی ضروریات ، ان کے احساسات اور ان کے جزبات کا خیال رکھا جاتا مگرہمارے ہاں معاملات بالکل الٹ ہیں

    ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں کہ اس وقت 90 فیصد ایسے مرد بھی معاشرے میں موجود ہیں کہ جن کودوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کو کوئی پوچھتا تک نہیں ،ان کی مالی مدد ہونی چاہیے تھی لیکن کوئی نہیں کررہا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ گھروں میں محصور ہیں اور اپنے خیالات اور جزبات کسی تک شیئر نہیں کرسکتے

    ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت صورت حال ہے کہ مردوں کی بڑی تعداد شوگر،کینسر اور دیگر کئی دوسری موذی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے کچھ کرسکیں

    بھارت میں تو ایسی ہزاروں مثالیں ہیں‌کہ مرد خودکشیوں پر مجبور ہیں ، مگرحکمران ہیں کہ جن کو پرواہ تک نہیں اور وہ اپنے مردوں کے خیالات ، ان کے احساسات اور ان کے جزبات کااحترام نہیں کرتے ، ہے تو یہ مردوں کا عالمی دن مگرہمارے مرد اب بےچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں‌،مگرکب تک

    دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں‌کہ مَردوں کا عالمی دن منانے کا مقصد ہے کہ مرد بھی اپنی صحت پر ذرا توجہ دیں۔ حالیہ کچھ برسوں میں مَردوں میں ذہنی مسائل کے باعث خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جن کی زیادہ تر تعداد 45 برس سے کم عمر کے مردوں کی ہے۔

    مرد خواتین کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کے امراض، منہ کا کینسر اور پروسٹیٹ کینسر کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔

     

    ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مرد کو چاہیے کہ اپنی پریشانیوں سے متعلق اہل خانہ سے بات کریں،

    یاد رہے کہ مردوں کا عالمی دن ہر سال19 نومبر کو منایا جاتا ہے۔یہ دن پہلی مرتبہ 19 نومبر 1999 کو منایا گیا تھا۔ صنفِ نازک کے حقوق کیلئے یوں تو ہرسال 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ تاہم، مردوں کے عالمی دن کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں مردوں کے مثبت کردار اور ان کو لاحق مسائل کے تئیں بیداری لانا ہے۔ یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مرد خود اور اپنے زیر تربیت نوجوانوں کو مرد ہونے کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریاں ، مثبت کردار اور اقدار کے بارے میں سکھائیں ۔ اس دن اس بات پر بھی گفتگو کی جاتی ہے کہ مردوں کو بھی ذہنی مسائل لاحق ہوسکتے ہیں جس کی وجہ خودکشی کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

    19نومبر کو مردوں کو اس بات کی بھی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو چھپانے کے بجائے ان کا اظہار کریں تاکہ ان کے ذہنی مسائل میں کمی آسکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ۵؍ بیماریاں ایسی ہیں جو خواتین کی نسبت مردوں کو اپنا زیادہ شکار بناتی ہیں ۔ ان میں ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کے امراض، منہ کا کینسر اور پروسٹیٹ کینسر شامل ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اطراف موجود مردوں کی ضروریات اور ان کے احساسات کا خیال کریں ۔ان سے بات چیت کر کے انہیں قائل کریں کہ بحیثیت مرد ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے جذبات چھپائے رکھیں اور حالات کا جبر تنہا جھیلتے رہیں

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات

    امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات

    واشنگٹن:امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات ،اطلاعات کے مطابق سابق امریکی نمائندہ اور تجربہ کار، تلسی گبارڈ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

    فاکس نیوز پر ایمی ایوارڈ یافتہ براڈکاسٹ جرنلسٹ ٹکر کارلسن کےساتھ ایک پروگرام میں گیبارڈ نے کہا کہ جو بائیڈن کا ایشیا کا حالیہ دورہ "منصوبہ بندی پر نہیں تھا”۔ گبارڈ نے کہا کہ آسیان سربراہی اجلاس کے لیے کمبوڈیا میں ہونے کے باوجود بائیڈن کو یقین تھا کہ وہ کولمبیا میں ہیں۔

    امریکی صدر کی خطرناک بیماری کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کانگریس کی سابق خاتون نے دلیل دی کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے، اس حالت میں‌ صدر نہ صرف امریکہ کے لیے بلکہ باقی دنیا کے لیے بھی "بہت زیادہ نتیجہ خیز فیصلے” کر رہے ہیں۔

    "یہ واقعی افسوسناک ہے کیونکہ وہ ریاستہائے متحدہ کے صدر ہیں۔ وہ بہت زیادہ نتیجہ خیز فیصلے کر رہے ہیں۔”

    طبی ماہر ڈاکٹر مارک سیگل جو شو میں بطور مہمان پیش ہوئے امریکی انتخابات سے متعلق بائیڈن کے مستقبل کے بارے میں گبارڈ کی غیر یقینی صورتحال کی بازگشت کو ڈاکٹر سیگل نے کہا کہ "یہ ایک ڈاکٹر کے طور پر میرے لیے خطرے کی گھنٹی کا اشارہ ہے، یہاں کیا علمی مسائل چل رہے ہیں؟”یہ پریشانی سے کم نہیں‌

    سیگل نے مزید کہا کہ "میں ڈاکٹر کیون او کونر اور دیگر ڈاکٹروں سے پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے ان کا معائنہ کیا ہے کہ سالانہ جسمانی چیک اپ کرتے ہیں‌تو انہوں نے صدر کی صحت کے حوالے سے پہلے آگاہ کیوں نہیں کیا؟ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یاد رکھیں، امریکہ جیسی سپر پاور کے صدر کی اس کیفیت کو ہم دنیا کے سامنے کھول رہے ہیں‌ جوکہ بدنامی کا سبب بنے گا

    ڈاکٹرسیگل کا کہنا تھا کہ ان حالات میں دشمن کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے صدر کی صحت کے حوالے سے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کررہےہیں، اس سے بڑھ کرنااہلی نہیں ہے ، اس پر جلد قابو پانا چاہے اور امریکی صدر کے دنیا بھر کے دوروں سے پہلے صدر کی صحت کو بہتر انداز سے ڈیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • تحريک انصاف کو روات تک ریلی کی اجازت مل گئی

    تحريک انصاف کو روات تک ریلی کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد:تحريک انصاف کو کورال چوک سے روات تک ریلی کی اجازت مل گئی۔اطلاعات کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو ریلی نکالنے کی اجازت دے دی ہے، اور اسلام آباد انتظامیہ نے تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان کی درخواست پر این او سی جاری کردیا ہے۔

    علی نواز اعوان نے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی، اور ریلی کے لئے درخواست پیش کی، تاہم ریلی کی اجازت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے دی۔

    اسلام آباد سے تمام چھوٹی ریلیاں کورال چوک جمع ہوں گی، اسلام آباد ریجن کے شرکاء روات میں مارچ کا حصہ بنیں گے، ار عمران خان آج اپنے خطاب ميں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

    پی ٹی آئی کو ریلی نکالنے کے لیے 35 شرائط کی پابندی کرنا ہو گی، پی ٹی آئی کو ریلی کی اجازت صرف کورال چوک سے روات تک روٹ کے لئے دی گئی ہے۔

    این او سی کے مطابق ریڈ زون اور باقی علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ رہے گا، کوئی بھی سڑک کسی طرح سے بلاک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، سرکاری اور نجی املاک کو ہرگز نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

    این او سی میں کہا گیا ہے کہ ریلی کے لئے اسلام آباد کیپیٹل پولیس باقاعدہ ٹریفک پلان جاری کرے گی، ریاست، مذہب، نظریہ پاکستان کے مخالف نعروں اور تقریروں کی اجازت نہیں ہوگی۔

    ریلی میں ہتھیار، اسلحہ اور ڈنڈے وغیرہ لانے پر کارروائی ہوگی اور شرائط کی خلاف ورزی پر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کا مارچ اسلام آباد کے علاقے روات میں پہنچ گیا ہے، اور مارچ کے راستے میں پٹرول پمپس بند کرا دئیے گئے ہیں، پٹرول پمپ کے اندر پنجاب پولیس کی نفری موجود ہے۔

    پٹرول پمپ کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی بند کرا دیئے گئے ہیں، اور جی ٹی روڈ کو چک بیلی موڑ کے پاس ڈاؤرژن لگا کر بند کردیا گیا ہے، جب کہ جی ٹی روڈ کو ایک جانب سے ٹریفک کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔جی ٹی روڈ پر عمران خان اور دیگر پارٹی رہنماوں کے خطاب کے لئے اسٹیج بھی تیار کر لیا گیا ہے۔گزشتہ روز عمران خان نے کہا تھا کہ وہ آج راولپنڈی جانے کے حوالے تاریخ کا بھی اعلان کریں گے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر

    لاہور:پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخرہے،ویسے تو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کےساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے ، لیکن پچھلے چارپانچ سال سے جس طرح پاک فوج نے ملک کی بیرونی اوراندورنی سلامتی کےلیے بڑی محنت سے کام کیا، ایسے ہی پاک فوج نے ملکی معیشت اور اس کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا بھی مقابلہ کیا ہے

    اس سلسلے میں پاک فوج نے ماضی قریب میں ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ جس کی مثال اس سےقبل نہیں ملتی،منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی تنظیم ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان پر جس قدر دباوتھا اور پاکستان کوگرے لسٹ میں ڈال رکھا تھا اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو بہت بڑا نقصان ہورہا تھا بلکہ پاکستان کے اندرونی نقصانات کےساتھ ساتھ بیرونی دنیا سے بھی معاملات بہت خراب ہورہے تھے ،

     

    ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے کی سخت ترین پابندیوں اور شرائط کو پورا کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں تھی ، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آرمی چیف سے درخواست کی کہ پاک فوج اس معاملے پر حکومت کی مدد کرے،اس درخواست کےبعد پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایف اے ٹی ایف سے معاملات بہتر کرنے اورپاکستان کوگرے لسٹ سے باہرنکالنے کےلیے ایک میکنزم تشکیل دیا اوراپنی نگرانی میں ایک خصوصی مانیٹرنگ اورمعاون سیل تیشکیل دیا تاکہ سارے معاملات کی خود نگرانی کرکے پاکستان کواس مشکل سےنکالا جائے

     

    قوم یہ بھی جانتی ہے کہ چند ماہ قبل جب وطن عزیز پاکستان میں سیلاب آیا ہوا تھا ، ہر طرف تباہی مچی ہوئی تھی ، سیاسی جلسے کر رہے تھےتو پاک فوج کے جوان ہمیشہ کی طرف عوام کی مدد کر رہے تھے ، پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں سیلاب سے لوگ مشکل میں ہوں اور پاک فوج کے جوان انکی مدد کو نہ پہنچے ہوں، سوشل میڈیا کارکنان نے افواج پاکستان کی امدادی سرگرمیوں کی بھرپور تعریف کی اور افواج پاکستان سے محبت کا والہانہ اظہار کیا۔

     

    یہ بھی یاد رہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں افواج پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری اس دن سے لیکر اب تک جاری ہیں اور پاک فوج سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ افواج پاکستان کے 6500 افسران و جوان، سینکڑوں گاڑیاں، کئی ہیلی کاپٹرز، بیسیوں کشتیاں اور کئی نکاسئ آب کی ٹیمیں ملک بھر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

     

    چند دن قبل بلوچستان میں بارشوں سے سیلابی صورت حال میں بھی پاک فون کے جوانوں نے مقامی افراد کی مدد کی

     

    اس کے علاوہ پاک فوج کی میڈیکل کور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو طبی سہولیات بھی فراہم کی گئیں ۔ افواج پاکستان کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں تین دن کا خشک راشن، پکا ہوا کھانا اور خیمے بھی تقسیم کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افواج پاکستان نے کسی بھی مشکل وقت میں اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑا۔

     

     

    پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے، پاکستان جو کہ دنیا کفر کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کے سرپرایک ازلی دشمن بیٹھا ہےجو کسی بھی تاک میں پاکستان کو تہس نہس کردینا چاہتا ہے ، ان حالات میں جب قوم کو جاگنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ پاک فوج کےجوان خود جاگتے ہیں اور قوم کوسکون کی نیند سلانے کے لیے خود ایک آنکھ بھی نہیں جھکپتے ،ان جوانوں کی ایک عظیم داستان ہے

     

     

    اس حوالے سے پاک فوج کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ!

    جوان یہ کون ھیں__آو تمہیں میں یہ بھی بتلا دوں
    ہیں وہ بھی بیٹے ماوں کے ھیں بھائی وہ بھی بہنوں کے

     


    پاک فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا گیا ہے کہ "انہیں بھی نیند پیاری ہے تھکن انہیں بھی ہوتی ہے مگر سوچو تمہاری گالیاں سن کر وہ سونے کو چلے جائیں۔۔۔!!

     

     

    خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ مگر سوچو ایک دن سخت چچکتی سردی میں برستے باد بہاراں میں قیامت خیز گرمی میں وہ سونے کو چلے جائیں۔۔۔!!

     

     

    گھروں کواپنے لوٹ آئیں تمہاری نیند کیا ہو گی تمھارا چین کیا ہو گا وطن کی ہر گلی ہر کوچے میں لٹ جائے گی بہار۔۔۔!!
    اے دشمنان گردو پھر تمہارا حال کیا ہو گا تو اب اس فوج کو دینے سے پہلے کوئی بھی گالی زبانوں کو لگاموں سے ذرہ روکے ہی رکھنا۔۔۔!!

     

    تم __ ہی بتاو وہ ھیں مستحق گالی کہ یا پھر دعاؤں کہ۔ گھروں میں تو سکون سے ھو وہ کھائے سینوں__پہ گولی ہر ایک تہوار تم گھر پہ کرو وہ کھیلے خون کی ہولی __!!

    ان حالات میں جب پاک فوج کے خلاف ایک منظم پراپیگنڈہ مہم جاری ہے کہنے والے نے پیغام دیا ہے کہ ذرا ان کی قربانیوں پر بھی ایک نظردوڑا دیں کہ یہ ہیرے جوہماری خاطراپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں کیا اس لائق ہیں کہ انکی کردار کشی کی جائے ، ہرگز نہیں ، ہرکز نہیں ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے

     

  • پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

    سیارہ مشتری اور مریخ کے درمیان سیارچی پٹی کا ڈیٹا دیکھتے ہوئے پاکستانی طلبا و طالبات نے 14  ممکنہ نئے سیارچے دریافت کئے ہیں۔ فوٹو: فائل

     کراچی: پاکستان بھر سے فلکیات کے شوقین طلبا و طالبات نے بین الاقوامی پروگرام کے تحت 14 نئے ممکنہ سیارچے (ایسٹرائڈز) دریافت کئے ہیں جو سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان موجود مسلسل زیرِ گردش ہیں۔

    واضح رہے کہ سائنس و فلکیات میں عوامی شمولیت کے تحت ایک پروگرام ہے جس میں ہرسال کئی ممالک شامل ہوتے ہیں تاہم پہلی مرتبہ پاکستان اس مہم  میں ’آل پاکستان ایسٹروئڈ سرچ کیمپین‘ (اے پی اے ایس سی) کے نام سے شامل ہوا ہے۔ اس کے تحت یہ دریافتیں ہوئی ہیں جس میں پاکستان کے طول وعرض کے 40 طلبا و طالبات شامل تھے۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل سرچ کولیبریشن (آئی اے ایس سی) ہر سال شہریوں کی سائنس میں شمولیت کے تحت یہ پروگرام منعقد کراتی ہے تاکہ فلکیات سے لگاؤ رکھنے والے نوجوانوں کو بامعنی تحقیقی عمل میں شامل کیا جاسکے۔

     

    اس مرتبہ اسلام آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی) میں ایئرواسپیس انجینیئرنگ کے طالبعلم محمد رحموز صلاح الدین ایوب نے کوشش کی کہ باقاعدہ طور پر پاکستان میں اس میں شامل ہوسکے اور یوں اے پی اے ایس سی کی بنیاد رکھی گئی جس میں کل 40 افراد شریک ہوئے۔ تمام افراد نے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹ اور سافٹ ویئر کی مدد سے 21 اکتوبر تا 15 نومبر تک ممکنہ سیارچوں کی نشاندہی کی۔

    سیارچوں کی دریافت کا عمل

    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر بیٹھے کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی سیارچہ ہے بھی یا نہیں؟ ماہرین باقاعدہ اس کی تربیت فراہم کرتے ہیں، جس کےلیے ایسٹرومیٹریکا نامی سافٹ ویئر فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسٹرومیٹریکا  میں کئی سائنسی پیرامیٹرز ہوتے ہیں جن کی بنا پر طالبعلموں نے اندازہ لگایا کہ آیا کہ یہ سیارچہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اس طرح نظامِ شمسی کے بہت ہی چھوٹے اجسام یعنی دمدارستارے (کومٹ)، سیارچے، یا بونا سیارے (ڈوارف پلانیٹ) ان کے طبعی (فزیکل) خواص کی بنا پر شناخت کی جاتی ہے اور ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی پہلی مرتبہ شمولیت سے 14 سیارچوں کی دریافت خوش آئند ہے اور امید ہے کہ وہ اپنے تجربے کو مزید وسیع کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستانی اسکولوں، جامعات اور کالجوں کے طلبا و طالبات کو نئی معلومات، عملی فلکیات اور نئے فنون سیکھنے کو ملے جو ان کی خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا ڈیٹا امریکی جزیرے ہوائی میں واقع مشہور فلکی دوربین سے حاصل کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل محمد رحموز نے 2021 میں بھارتی ٹیم کے ساتھ اپنے تین پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ شرکت کی تھی اور کل پانچ سیارچے دریافت کئے تھے جو ایک اہم پیشرفت بھی ہے۔ اس مہم میں محمد رحموز ایوب کے ساتھ، دلآویز صغیر، فریال بتول اور نعمان رؤف پاکستان سے شامل تھے جنہیں ناسا اور آئی اے ایس سی کی جانب سے سند بھی دی گئی تھی جو اوپر کی تصویر میں نمایاں ہیں۔ یہ تمام اسکالر آئی ایس ٹی کی اسپیس سوسائٹی کے فعال رکن ہیں اور پاکستان میں فلکیات پر پہلا جریدہ ’کوسمِک ہیرالڈ‘ بھی جاری کیا ہے۔

    ایسٹرومیٹریکا استعمال کرنے کے لیے اردو زبان میں تدریسی ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں نعمان رؤف، فریال بتول اور دلآویز صغیر نےنمایاں کردار ادا کیا ہے۔

     

     

    اس سے قبل آئی اے ایس سی میں بھارت، پولینڈ اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کی ٹیمیں شامل رہی ہیں اور پہلی مرتبہ پاکستان سے شوقیہ فلکیاتی ماہرین کی ایک ٹیم شامل ہوئی ہے جن میں ناصر رضوان کی سربراہی میں اٹک فلکیاتی سوسائٹی اور دیگر انجمنیں شامل ہیں۔ امید ہیں کہ پاکستانی کاوشیں ثمر آور ہوں گی تاہم اس کے لیے مزید ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔

    سیارچی پٹی کا تعارف

    ہمارے نظامِ شمسی میں مریخ اور مشتری سیارے کے درمیان لاکھوں کروڑوں چھوٹے بڑے اجسام ایک ساتھ اس طرح گردش کررہے ہیں جس طرح کسی پارک میں بچے گول جھولے میں چکر کاٹتے ہیں۔ ان میں چھوٹے بڑے سیارے اور سیارچے موجود ہیں۔ ان میں سیریس نامی سیارچہ بونا سیارہ ہے جس کا قطر 950 کلو میٹر ہے۔ تاہم ماہرین ہر ایک ممکنہ سیارچے کی چھان پھٹک چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مختلف سافٹ ویئر سے ان پر تحقیق اور درجہ بندی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پتھریلے چورے کے شکل میں بھی اجسام موجود ہیں جو ذرے کی جسامت رکھتے ہیں۔

  • بھارت: نجی طورپرتیار کردہ راکٹ کا کامیاب تجربہ

    بھارت: نجی طورپرتیار کردہ راکٹ کا کامیاب تجربہ

    نئی دہلی : بھارت نے نجی کمپنی کے ذریعہ پہلے راکٹ کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے،بھارت کی نجی کمپنی نے نجی سطح پر تیار کردہ راکٹ کامیابی کے ساتھ فضا میں لانچ کرلیا، جس کو بھارت کی تجارتی خلائی صنعت بنانے کی کوششوں میں بڑی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت نے ایک نجی کمپنی اسکائی روٹ کے ذریعہ ’وکرم ایس‘ نامی راکٹ کا پہلی بار کامیابی سے تجربہ کرلیا۔رپورٹ کے مطابق 545 کلو وزنی راکٹ کو چنئی کے قریب بھارتی خلائی ایجنسی کی لانچنگ سائٹ سے روانہ کیا گیا جو 89.5 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچا۔

    تاہم اسکائی روٹ ٹیم نے اپنی پہلی لانچنگ کے لیے 80 کلومیٹر کا ہدف مقرر کیا تھا۔

    راکٹ تیار کرنے والی نجی کمپنی کا کہنا تھا کہ راکٹ آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تک اڑان بھرنے اور 83 کلوگرام وزنی مادہ کو 100 کلومیٹر کی بلندی تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ویڈیو فوٹیج میں راکٹ کو خلائی مرکز سے روانہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں حکام نے کہا کہ لانچ کے تقریباً 5 منٹ بعد یہ خلیج بنگال میں جا گرا۔

    بھارتی سرکاری ایجنسی کے سربراہ اور نجی شعبے کی خلائی سرگرمیوں کو مربوط کرنے والے افسر پون گوینکا نے کہا کہ ’مشن پرامبھ کی کامیاب تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے اور یہ آغاز ہے‘۔

    اسکائی روٹ ایرواسپیس نامی خلائی کمپنی بھارتی شہری پون چندنا اور بھرتھ ڈاکا نے شروع کی تھی جس نے چھوٹے سیٹلائٹس لانچ کرنے کے لیے موجودہ پلیٹ فارمز کے مقابلے میں ترقیاتی لاگت میں 90 فیصد تک کمی کا ہدف رکھا ہے۔

    کپنی اگلے سال شروع ہونے والے سیٹلائٹس کی فراہمی کی صلاحیت رکھنے والے راکٹ تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی رہے۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار