بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اڈیالہ جیل میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق تفتیش کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئیں۔
ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی خصوصی ٹیم نے جیل میں بانی پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کی.تفتیشی ٹیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق سوالات پر بانی پی ٹی آئی برہم ہوگئے۔ذرائع کے مطابق ٹیم نے استفسار کیا کہ جیل سے آپ کا پیغام کون لے کر جاتا ہے؟ جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کوئی خاص پیغام رساں نہیں، جو بھی ملاقات کے لیے آتا ہے وہی پیغام سوشل میڈیا ٹیم تک پہنچا دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ بتایا جائے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کون چلاتا ہے تو وہ اغوا ہو جائے گا۔
اسرائیلی جارحیت میں شدت آ گئی، آج صبح سے اب تک ہونے والے فضائی حملوں میں 51 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں خواتین، بچے اور امداد کے منتظر افراد بھی شامل ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق غزہ کے اسپتالوں کے ذرائع نے بتایا کہ صرف غزہ سٹی میں 36 افراد کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا، جبکہ مرکزی اور جنوبی غزہ پٹی میں امداد کی تلاش میں کھڑے 10 شہری بھی جاں بحق ہوئے۔دوسری جانب صحافی بھی اسرائیلی فوج کے حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ غزہ سٹی کے نصر محلے پر فضائی حملے میں صحافی محمد الکویفی شہید ہوگئے۔غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اس حملے میں مزید دو میڈیا ورکرز بھی شہید ہوئے جن میں فوٹوگرافر و براڈکاسٹ انجینئر ایمن ہنیہ اور صحافی ایمان الزمیلی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ قطر پر فضائی حملے سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلع کر دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے منگل کی صبح حملے سے قبل صدر ٹرمپ سے بات کی تھی اور واشنگٹن کو اس بارے میں اطلاع دے دی گئی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جب اسرائیلی میزائل فضا میں تھے، تب امریکا کو بتایا گیا، اس لیے صدر ٹرمپ کے پاس حملے کی مخالفت کا موقع نہیں تھا۔یاد رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملے کیے، جس کا ہدف حماس کی مرکزی قیادت تھی۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ دھماکوں کے ذریعے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق حملے کے وقت دوحہ میں حماس کے متعدد رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا، جس میں غزہ جنگ بندی پر امریکی صدر ٹرمپ کی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خلیل الحیہ کر رہے تھے، جبکہ خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق بھی موجود تھے۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حملے سے پہلے امریکا کو اطلاع دی گئی اور واشنگٹن نے اس کارروائی میں اسرائیل کو مدد بھی فراہم کی۔اسرائیلی وزیر خزانہ نے قطر میں حماس رہنماؤں پر حملے کو ’’انتہائی درست اور بہترین فیصلہ‘‘ قرار دیا۔
اسپین کی حکومت نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں اسرائیل سے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریداری کے معاہدے منسوخ کر دیے۔
فیصلے کے تحت 825 ملین ڈالر (700 ملین یورو) مالیت کے راکٹ لانچر سسٹمز اور 287 ملین یورو کے اینٹی ٹینک میزائل لانچر کے معاہدے منسوخ کیے گئے۔ یہ ڈیلز اسرائیلی کمپنی ایل بٹ سسٹمز کے تیار کردہ پلس پلیٹ فارم پر مبنی 12 ایس آئی ایل اے ایم راکٹ لانچر سسٹمز اور 168 اینٹی ٹینک لانچرز کی خریداری سے متعلق تھیں۔یہ پیشرفت اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ فوجی سازوسامان کی فروخت اور خریداری پر قانونی پابندی عائد کرے گی۔
سانچیز نے اسرائیل کی غزہ کارروائیوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسپین کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا جو اسرائیلی جارحیت کو سہارا دے۔رپورٹس کے مطابق اسپین کی وزارت دفاع اب اسرائیلی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کو اپنی مسلح افواج سے مرحلہ وار ختم کرنے کا جامع جائزہ لے رہی ہے۔
یاد رہے کہ 2024 میں اسپین نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدہ ہوگئے اور اسرائیل نے اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے تازہ پروگرام میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر کھل کر گفتگو کی۔ پروگرام میں امریکا کے صدر جو بائیڈن کے سابق مشیر اور ممتاز سیاسی رہنما شاہد احمد خان شریک تھے۔ گفتگو کا محور قطر پر ہونے والے حالیہ حملے، امریکا کے کردار اور خطے میں طاقت کے توازن کے گرد گھومتا رہا۔
مبشر لقمان نے کہا کہ قطر امریکا کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ نہ صرف امریکا کا سب سے بڑا فوجی بیس قطر میں موجود ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی گہرے ہیں۔ اس کے باوجود امریکا نے حملے کو روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق یہ رویہ قطر کے ساتھ ایک کھلا دھوکہ ہے جو خطے میں امریکا کے اتحادیوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔
شاہد احمد خان نے اس موقف سے جزوی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بلاشبہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق صرف امریکا پر الزام ڈال دینا حقیقت کو سادہ بنانے کے مترادف ہوگا۔ حملے میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اس لیے ذمہ داری مشترکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی پالیسی میں کئی بار تضادات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن خطے کے ممالک کو بھی اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لینی ہوگی۔
قطر کو طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کا سفارتی مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں عالمی طاقتوں کے نمائندے آ کر بات چیت کرتے ہیں، امن معاہدے طے پاتے ہیں اور مذاکرات ہوتے ہیں۔ مبشر لقمان نے کہا کہ حملے کے بعد قطر کے وقار اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ شاہد احمد خان نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو اپنی سلامتی کے حوالے سے نئے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
گفتگو کے دوران شاہد احمد خان نے پاکستان کو "بہادر ملک” قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ مشکل حالات میں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دی ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر بھی اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرے۔
پروگرام کے آخر میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک نے مشترکہ حکمتِ عملی نہ اپنائی تو آنے والے دنوں میں مزید بحران جنم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کو نظرانداز کرنا اس کی پرانی عادت ہے، مگر اب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو خود بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف قطر کا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوگئے۔
قطر کے وزیر ثقافت شیخ عبد الرحمن بن حمد بن جاسم نے دوحہ ایئرپورٹ پر وزیراعظم کو رخصت کیا۔وزیراعظم نے دوحہ میں منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ اجلاس قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا۔خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم ممالک کے لیے عرب اسلامک ٹاسک فورس بنانے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ مشترکہ طور پر اسرائیلی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دوحہ میں عرب اسلامی ہنگامی اجلاس کے موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی ۔وزیراعظم نے فلسطین کے مسئلے پر شاہ عبداللہ دوم کی مدبرانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
قطر پر اسرائیلی حملے کے خلاف عرب و اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے، مسلم دنیا نے قطر کو مکمل تعاون اور اسرائیل کے خلاف جوابی اقدامات کی یقین دہانی کرادی۔
ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر اسرائیل کا بزدلانہ اور غیرقانونی حملہ قابلِ مذمت ہے، مسلم ممالک قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے ردعمل کی حمایت کرتے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر اسرائیلی جارحیت خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے، غیرجانبدار ثالث پر حملہ امن کی کوششوں کے لیے خطرہ ہے، جبکہ مزید حملوں کی دھمکیوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔
قطر کے مہذب اور دانشمندانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے اعلامیے میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی کوششوں کی حمایت کی گئی۔
مشترکہ اعلامیہ کے اہم نکات:
قطر پر اسرائیلی حملے کو "بزدلانہ اور غیرقانونی” قرار دیا گیا۔
امن مذاکرات سبوتاژ کرنے والے فریق کو عالمی قوانین کا پابند بنانے کا مطالبہ۔
واضح کیا گیا کہ ثالثی ناکام ہوئی تو خطے میں انتشار بڑھے گا۔
مسلم دنیا نے متفقہ طور پر کہا: "قطر کی سالمیت مقدم ہے”۔
اسرائیل سے عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ۔
عالمی برادری سے اپیل کہ اسرائیل کے خلاف موثر سفارتی، قانونی اور معاشی اقدامات کیے جائیں۔ (more…)
حکومت نے مسلسل تیسری بار پیٹرول کی قیمت برقرار رکھتے ہوئے ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 78 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔
فنانس ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت 264 روپے 61 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ بڑھ کر 272 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کیے گئے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے 30 ستمبر تک ہوگا۔یاد رہے کہ یکم ستمبر کو وزارت خزانہ نے ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے فی لیٹر سستا کیا تھا، جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 46 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل میں 2 روپے 40 پیسے کمی کی گئی تھی۔
اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 269 روپے 99 پیسے، مٹی کے تیل کی 176 روپے 81 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی 159 روپے 76 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سے 100 ارب روپے نقصان کی آڈٹ رپورٹ درست نہیں۔
میڈیا بریفنگ میں چیئرمین ایف بی آر نے ممبرز کسٹم کے ہمراہ بتایا کہ گاڑیوں کے اسکینڈل میں ایک ایڈیشنل کلکٹر اور 2 اسسٹنٹ کلکٹرز کو معطل جبکہ فیک آئی ڈیز سے گاڑیاں کلیئر کرنے والے 7 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ افراد اور اسٹیک ہولڈرز نے فیس لیس اسسمنٹ کے خلاف منفی مہم چلائی، جن افسران نے یہ رپورٹ بنائی ان کی اگلے گریڈ میں ترقی نہیں ہوئی۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق فیس لیس اسسمنٹ کے بعد ریونیو وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے، لینڈ کروزر کی کلیئرنس پر 4 کروڑ 72 لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ غلط رپورٹ تیار کرنے اور میڈیا کو لیک کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ ادارے میں اصلاحات جاری ہیں، پاکستان کسٹمز نے فیس لیس اسسمنٹ کا آڈٹ خود کروایا تھا تاکہ نظام میں خامیوں کو دور کیا جا سکے، رپورٹ جولائی میں مکمل ہوئی مگر ایف بی آر کو پہنچنے سے پہلے لیک ہو گئی۔
ایف بی آر حکام نے کہا کہ یہ سنگین معاملہ ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں، پہلے صرف بات چیت پر اسسمنٹ ہوتی تھی، اب اصل اسسمنٹ کے بعد مزید اسسمنٹ کی جاتی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے کمرشل گاڑیوں کے روٹ پرمٹس کے اجرا اور رجسٹریشن کے لیے آن لائن پورٹل باقاعدہ فعال کر دیا۔
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق سینیئر وزیر و وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ روٹ پرمٹس اور سرٹیفکیٹس کی فراہمی کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے، مینول سسٹم ختم ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ منتقلی کو شفاف اور ہموار بنانے کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔شرجیل میمن کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ نے 2024 میں صوبائی ٹرانسپورٹ نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے "آٹومیشن آف پی ٹی اے، آر ٹی ایز اور ایم وی آئیز” منصوبہ شروع کیا تھا۔
پہلے مرحلے میں مارچ 2025 میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، فزیکل انسپیکشن اور فٹنس سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے آن لائن پورٹل لانچ کیا گیا تھا۔