جماعتِ اسلامی نے ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ اعلان جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے ضمنی الیکشن میں حمایت کے لیے رابطہ کیا تھا اور ن لیگ کے امیدوار حافظ نعمان نے منصورہ آ کر پارٹی قیادت کا پیغام بھی پہنچایا تھا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ضمنی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی کیونکہ ایک طرف ضمنی الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں اور دوسری جانب 27ویں ترمیم کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول، حکمراں اتحاد ایسے انتخابات چاہتا ہے جن سے ان کا اقتدار برقرار رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی تضادات اور بے وقت فیصلے اس کی سیاسی ناکامی کا باعث بن رہے ہیں۔
کمالیہ میں دریائے راوی کے ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفوراں بند کو بارودی مواد سے توڑ دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کمالیہ چوہدری نعیم سندھو کے مطابق ہیڈ سدھنائی کے مقام پر اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 62 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ دباؤ کم کرنے کے لیے حفاظتی بند میں شگاف ڈالا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ مائی صفوراں بند میں شگاف ڈالنے سے ہیڈ ورکس پر دباؤ میں کمی آئے گی تاہم اس اقدام کے نتیجے میں تحصیل پیر محل کے 12 دیہات زیر آب آ جائیں گے۔
محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں 7 سے 11 ستمبر کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہر قائد میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ موجود ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں ہوا کا ایک دباؤ موجود ہے جو بتدریج سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ سسٹم 7 سے 11 ستمبر کے دوران صوبے پر اثرانداز ہوگا۔ اس دوران کراچی سمیت اندرونِ سندھ کے کئی شہروں میں معتدل سے تیز بارش ہوسکتی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ اگر کراچی میں بارش زیادہ ہوئی تو نشیبی علاقے پانی میں ڈوب سکتے ہیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں اربن فلڈنگ کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ ادارے بھی الرٹ رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
شارجہ میں کھیلے گئے تین ملکی ٹی 20 سیریز کے چوتھے میچ میں افغانستان نے پاکستان کو دلچسپ مقابلے کے بعد 18 رنز سے شکست دے دی۔ تاہم پوائنٹس ٹیبل پر قومی ٹیم اب بھی سرفہرست ہے۔
افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز بنائے۔صدیق اللہ اتل نے 45 گیندوں پر 64 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ابراہیم زدران نے بھی 45 گیندوں پر 65 رنز بنائے۔دیگر بلے بازوں میں عظمت اللہ عمرزئی 4، محمد نبی 6 اور کپتان راشد خان 8 رنز ناٹ آؤٹ بنا سکے جبکہ کریم جنت بھی 8 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے 4 اوورز میں 27 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ صائم ایوب کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔
170 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم 20 اوورز میں 9 وکٹوں پر 151 رنز ہی بنا سکی۔حارث رؤف نے آخر میں 16 گیندوں پر 34 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہے۔فخر زمان 25، کپتان سلمان علی آغا 20، صاحبزادہ فرحان 18، فہیم اشرف 14 اور محمد نواز 12 رنز بنا سکے۔اوپنر صائم ایوب اور شاہین شاہ آفریدی کھاتہ بھی نہ کھول سکے، جبکہ محمد حارث صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔افغانستان کی جانب سے فضل حق فاروقی، راشد خان، محمد نبی اور نور احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔
اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف بغاوت کی ایک نئی لہر سامنے آ گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق 300 سے زائد ریزرو فوجیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کو غیر قانونی سمجھتے ہیں اور اس میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہیں۔تل ابیب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوجیوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی جنگ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اسرائیل کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس جنگ کا حصہ نہ بن کر اپنا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ فوجیوں نے اسرائیلی قیادت سے جواب دہی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ رہنماؤں کو اس تباہ کن پالیسی کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے حال ہی میں غزہ شہر پر مکمل قبضے کے لیے 10 ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کیا ہے، تاہم درجنوں فوجیوں کی جانب سے انکار نے فوجی حکام کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ نے نہ صرف فلسطینی عوام کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ اسرائیلی معاشرے کے اندر بھی گہرے اختلافات کو جنم دیا ہے۔
سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے ولاگ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی بحریہ کراچی سے صرف 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہائی الرٹ پر موجود ہے جبکہ بھارتی فضائیہ بھی ریڈ الرٹ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں دراصل پاکستان کے خلاف ممکنہ جارحیت کی تیاری کا اشارہ ہیں۔
مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ افغان سرحد سے تعلق رکھنے والا گروہ، جسے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی پشت پناہی حاصل ہے، نے حالیہ دنوں بنوں میں ایف سی لائنز پر حملے کی کوشش کی۔ پاک فوج اور پولیس کے جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کے مطابق یہ گروہ ہافِز گل بہادر سے تعلق رکھتا ہے جو پہلے بھی پاکستان میں حملے کر چکا ہے اور اس وقت افغانستان میں مقیم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور باجوڑ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور سیکڑوں شدت پسند گھیرے میں آ چکے ہیں۔ مبشر لقمان کے مطابق پاک فوج کسی دباؤ میں نہیں آئے گی اور نہ ہی آپریشن روکنے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔
ولاگ میں مبشر لقمان نے سب سے اہم انکشاف یہ کیا کہ حالیہ سیلاب کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ’’مین میڈ فلڈ‘‘ یعنی انسانی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے جان بوجھ کر ڈیموں میں پانی روکے رکھا اور آخری لمحات میں اسے چھوڑ کر پاکستان اور بھارتی پنجاب دونوں کو تباہی سے دوچار کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی ہرجیت سنگھ نے اس سازش کو بے نقاب کیا تھا، جس کے بعد مودی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ لیکن گرفتاری کے باوجود اب بھارتی میڈیا اور عوام کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں۔ نہ صرف سکھ برادری بلکہ ہندو برادری بھی حکومت کے رویے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔
مبشر لقمان کے مطابق بھارتی حکومت سیلاب اور قدرتی آفات کو پردہ بنا کر دراصل پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے بقول بھارتی بحریہ کے 13 جنگی بیڑے بحیرہ عرب میں پہنچ چکے ہیں جہاں مگ 29 اسکائی فائٹر طیاروں کی مشقیں کی جا رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ بھی ان مشقوں میں شامل ہے اور یہ سب کچھ کراچی کے قریب ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب مکمل طور پر سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے لیکن دہلی حکومت کی طرف سے کوئی مرکزی وزیر متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچا۔ صرف وزیر داخلہ امیت شاہ جموں میں فوجی تنصیبات کا معائنہ کرنے گئے جبکہ عوامی ریلیف کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس رویے نے بھارتی عوام میں مزید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ بھارت کی یہ پالیسیاں خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق آر ایس ایس اور بی جے پی کی سیاست پاکستان دشمنی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، اسی لیے بھارت ہر حال میں کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے ایک لاکھ 20 ہزار ٹیکس دہندگان کے فائدہ اٹھانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جنہیں اس پروگرام کے تحت 4 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔
آڈٹ حکام نے غیر مستحق افراد کو بی آئی ایس پی سے فائدہ پہنچانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
30 ہزار 307 افراد براہ راست ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل تھے، جبکہ 88 ہزار 892 کیسز میں بیوی یا شوہر میں سے ایک ایکٹو ٹیکس دہندگان لسٹ کا حصہ تھا۔یاد رہے کہ چند روز قبل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف ہوا تھا کہ سرکاری افسران کو بھی اربوں روپے کے کیش ٹرانسفر بی آئی ایس پی کے تحت کیے گئے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سیکڑوں سرکاری افسران اور بیوروکریٹس کے علاوہ ان کی شریک حیات اور بعض پنشنرز بھی بی آئی ایس پی کے بینیفشری نکلے، حالانکہ سرکاری ملازمین اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے اہل نہیں ہیں۔
پنجاب کے بعد سندھ میں بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
حیدرآباد میں دریائے سندھ کے حفاظتی بند کے قریب رہائش پذیر خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر متاثرہ آبادیوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی نے بتایا کہ دریاؤں کے کنارے بسنے والے افراد کو خالی کرایا جا رہا ہے تاہم کچھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، مانیٹرنگ سیل الرٹ ہے اور انتظامات پہلے سے زیادہ بہتر ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی کنٹرول روم میں حکام 24 گھنٹے موجود ہیں اور ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
سیدہ تحسین عابدی کے مطابق 102 کمزور مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، محکمہ آبپاشی نے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا ہے اور ان مقامات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے 92 کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں کتے کے کاٹے اور سانپ کے ڈسنے کی ویکسین وافر مقدار میں موجود ہے۔مزید برآں مویشیوں کی حفاظت کے لیے محکمہ لائیوسٹاک نے 300 کیمپس قائم کر دیے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی ایک آڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ اپنے پرسنل اسسٹنٹ کو جرمنی کے سفیر کی ملاقات کے شیڈول پر سخت الفاظ میں ڈانٹتے ہیں۔
آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ پی اے نے وزیراعلیٰ کو میٹنگ کے وقت کی یاددہانی کرائی تو علی امین گنڈا پور نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "تمہارا کیا کام ہے؟ جرمن سفیر آیا ہے تو کیا ہوا، تم غلاموں کی طرح کیوں سوچتے ہو۔”وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ "سفیر آیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں فوراً بھاگ کر پہنچوں، ذہنی غلام ادھر بیٹھے ہیں، سفیر تھوڑا انتظار بھی کر سکتا ہے۔”
مکالمے کے دوران وزیراعلیٰ کے سخت لہجے پر ان کا پرسنل اسسٹنٹ شرمندہ ہو گیا جبکہ علی امین گنڈا پور بعد میں پارٹی اور تحریک سے متعلق گفتگو کرتے رہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا۔
پشاور میں پی ڈی ایم اے ہیڈکوارٹر میں خصوصی تقریب کے دوران 35 ٹرکوں پر مشتمل سامان افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کے حوالے کیا گیا۔امدادی سامان میں 500 ونٹرائز ٹینٹس، 500 فیملی سائز ٹینٹس، 1000 ترپال، 1500 گدے، 3000 تکیے، 1500 رضائیاں، 500 کمبل اور 2 ٹرکوں میں ضروری ادویات شامل ہیں۔تقریب میں صوبائی وزیر ریلیف، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد خان، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، سیکریٹری ریلیف یوسف رحیم، ڈی جی پی ڈی ایم اے اسفندیار خٹک اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت مشکل کی اس گھڑی میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی تک تعاون جاری رہے گا.افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے امداد کو خیرسگالی اور بھائی چارے کی علامت قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام و حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں حالیہ زلزلے سے تقریباً 1400 افراد جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہوچکے ہیں، جہاں متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی یہ امداد ان کے لیے قیمتی سہارا ثابت ہوگی۔