Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • آر ایس ایس سے منسلک کانوریوں کا بھارتی فوجی پر بہیمانہ تشدد، مودی حکومت خاموش

    آر ایس ایس سے منسلک کانوریوں کا بھارتی فوجی پر بہیمانہ تشدد، مودی حکومت خاموش

    مرزاپور، اتر پردیش میں ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا، جہاں کانور یاتریوں کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس سپاہی پر بہیمانہ تشدد کیا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق، یہ کانوریے آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے نظریات کے حامی سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے معمولی تکرار پر اُس فوجی کو سرعام مارا پیٹا جو سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرتا ہے.مذکورہ واقعہ مرزاپور شہر کے مصروف علاقے میں پیش آیا، جہاں کانوریوں کے ایک گروہ کی ایک فوجی اہلکار سے مبینہ تلخ کلامی ہوئی۔ تنازع بڑھتے ہی کانوریوں نے اُس فوجی پر دھاوا بول دیا، اُسے گھیر کر لاتوں، گھونسوں اور ٹھوکروں سے مارنا شروع کر دیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سپاہی گِر کر مدد کے لیے پکار رہا ہے، لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آیا۔

    اس دوران کئی لوگ ویڈیو بناتے رہے لیکن کسی نے تشدد روکنے کی کوشش نہیں کی۔ متاثرہ فوجی کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، لیکن سوشل میڈیا پر عوام شدید غصے میں ہیں اور حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہزاروں صارفین نے مودی حکومت اور بی جے پی قیادت پر تنقید کی ہے کہ ایک فوجی، جو ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے، اُسے اگر اپنے ہی ملک میں سڑک پر بے عزت کیا جائے تو یہ ایک سنگین المیہ ہے۔ سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ "کیا یہی ہے نیا بھارت؟ جہاں سپاہی کو سرعام مارا جائے اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہے؟”

    مودی حکومت کی خاموشی پر سوالات:
    حکومت کی جانب سے تاحال واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ نہ ہی اتر پردیش پولیس یا وزارت داخلہ کی طرف سے اب تک کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہی واقعہ کسی اور طبقے یا ریاست میں ہوتا تو شاید فوری ردعمل آتا۔اس واقعے نے نہ صرف فوجی اہلکاروں کی عزت نفس کو مجروح کیا بلکہ ریاستی اداروں کی بے حسی کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ عوامی دباؤ کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت جلد کوئی مؤقف اختیار کرے گی، لیکن تاحال خاموشی حکومت پر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ کانوری یاترا کے دوران اکثر ہندو یاتری سڑکوں پر پرتشدد رویہ اختیار کرتے ہیں، لیکن حکومتی ادارے اور پولیس عموماً خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔اس واقعے نے ایک بار پھر مذہبی انتہا پسندی، ریاستی اداروں کی جانبداری اور سپاہیوں کی حفاظت سے متعلق سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

    ماسکو میں پیوٹن اور علی لاریجانی کی ملاقات، ایرانی جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال

  • بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا سفاکانہ قتل، ویڈیو وائرل

    بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا سفاکانہ قتل، ویڈیو وائرل

    بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، لرزہ خیز واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی.

    صوبہ بلوچستان میں سفاکی کی ایک انتہائی دلخراش ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں مسلح افراد ایک خاتون اور مرد کو بہیمانہ انداز میں قتل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون ہتھیاروں سے لیس افراد کے ہجوم میں حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، نہ اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں اور نہ ہی وہ رحم کی اپیل کرتی ہے۔ خاتون کے بعد ایک مرد کو بھی اسی انداز میں قتل کر دیا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مقتول جوڑے نے ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کی تھی، جنہیں مبینہ طور پر ان کے قبیلے والوں نے دعوت کے بہانے بلایا اور ویرانے میں لے جا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر غیرت کے نام پر پیش آیا۔ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کیا اور بلوچستان پولیس کو فوری ایکشن کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی بربریت ناقابل برداشت ہے، اور ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ویڈیو اور جائے وقوعہ کے مقام کا تعین کیا جا رہا ہے، اور واقعے میں ملوث تمام ملزمان کی نشاندہی و گرفتاری کے لیے ادارے متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی صورت اس ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گی، اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔شاہد رند نے عوام سے اپیل کی کہ ویڈیو میں موجود افراد کی شناخت میں مدد کریں تاکہ مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔

    حکومت بلوچستان کی جانب سے اس دلخراش واقعے کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ ایسے مظالم کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    آر ایس ایس سے منسلک کانوریوں کا بھارتی فوجی پر بہیمانہ تشدد، مودی حکومت خاموش

  • بھارت کا ایک اور سیاسی رنگ، شاہد آفریدی کی موجودگی پر  میچ کھیلنے سے انکار کی دھمکی

    بھارت کا ایک اور سیاسی رنگ، شاہد آفریدی کی موجودگی پر میچ کھیلنے سے انکار کی دھمکی

    ورلڈ چیمپئنز آف لیجنڈز لیگ میں بھارت نے ایک بار پھر کھیل میں سیاست گھسیٹ لی۔ بھارتی ٹیم کے سابق کھلاڑیوں عرفان پٹھان اور ہربھجن سنگھ نے شاہد آفریدی کی پاکستانی ٹیم میں شمولیت پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔

    برطانیہ میں جاری لیجنڈز لیگ کے دوران پاکستان اور بھارت کے سابق اسٹار کھلاڑیوں کے درمیان سنسنی خیز ٹاکرا شیڈول ہے، تاہم بھارتی حکومت کے مبینہ دباؤ پر بھارتی کھلاڑیوں نے ٹیم مینجمنٹ کو پیغام دیا ہے کہ اگر شاہد آفریدی پاکستانی ٹیم کا حصہ ہوئے تو وہ میچ کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کپتان شاہد آفریدی اس وقت انجری کا شکار ہیں اور ان کی بھارت کے خلاف میچ میں شرکت مشکوک ہے۔ وہ انگلینڈ کے خلاف گزشتہ میچ میں بھی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

    واضح رہے کہ یہ میچ اس لیے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ یہ پہلگام حملے اور پاک بھارت کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ میدان میں پہلا آمنا سامنا ہوگا۔شائقین کرکٹ کی جانب سے اس بھارتی رویے پر تنقید کی جا رہی ہے، جن کا کہنا ہے کہ لیجنڈز لیگ جیسے دوستانہ ٹورنامنٹس میں سیاست کو داخل کرنا کھیل کی روح کے منافی ہے۔

    سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    کراچی: 43 رہائشی عمارتیں خطرناک قرار، ہزاروں مکین متاثر

  • کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی شہر کی کچی آبادیوں میں بغیر منظوری کے بلند و بالا عمارتوں کی بھرمار پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری کارروائی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، کے ایم سی کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھیجے گئے خط میں کچی آبادیوں میں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی ہائی رائز بلڈنگز پر فوری ایکشن لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان عمارتوں کا کوئی باقاعدہ نقشہ موجود نہیں، جس سے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔سینیئر ڈائریکٹر ے ایم سی کے مطابق صرف زمین کا قبضہ ریگولرائز کیا جا سکتا ہے، لیکن بغیر نقشے کے بلند عمارتیں تعمیر کرنا خطرناک اور غیرقانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمارتیں انسانی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بن چکی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گنجائش سے زیادہ تعمیرات کی جا چکی ہیں۔

    خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلند عمارتوں کے نقشے کی منظوری دینا صرف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اختیار ہے، اس لیے ایسے تمام غیرقانونی منصوبوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔ذرائع کے مطابق کے ایم سی نے اپنے افسران کو بھی ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ان تعمیرات کی نشاندہی کریں تاکہ سندھ حکومت کی ہدایت پر شہر بھر میں خطرناک اور غیرقانونی عمارتوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جا سکے۔

    سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

  • سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    خیبر پختونخوا میں 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ انتخابات سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرانے کا معاہدہ تو طے پا گیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کے ناراض امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی واپس نہ لینے پر ایک مرتبہ پھر ہارس ٹریڈنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پانے والے فارمولے کے تحت 6 نشستیں حکومتی اتحاد اور 5 نشستیں اپوزیشن کو دی جائیں گی۔ تاہم ناراض امیدوار عرفان سلیم سمیت بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے قیادت کی ہدایت کے باوجود الیکشن سے دستبرداری نہ کرنے پر خفیہ رائے شماری کا امکان بڑھ گیا ہے، جس سے سینیٹ انتخاب کے شفاف انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کوئی نئی بات نہیں۔ 2018 میں بھی پی ٹی آئی کے 19 اراکین اسمبلی نے پارٹی پالیسی کے برخلاف دیگر جماعتوں کو ووٹ دیا تھا، جس پر انہیں بانی چیئرمین عمران خان کے حکم پر پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اس انتخاب میں پیپلز پارٹی محض 7 ووٹوں کے ساتھ دو نشستیں لینے میں کامیاب رہی تھی۔پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ اگر ناراض امیدوار کاغذات واپس نہیں لیتے تو پارٹی ڈسپلن کے تحت ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    وفاقی وزیر طلحہ محمود نے تصدیق کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خرید و فروخت کا راستہ بند ہو سکے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ "سیاست میں دولت کا استعمال روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے”۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تاہم ناراض عناصر کی ضد سے اب بھی امکان موجود ہے کہ بعض اراکین اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے برخلاف ووٹ کاسٹ کریں، جس سے شفاف انتخابات پر پھر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    قلات: بلوچستان کانسٹیبلری قافلے پر حملے کا مقدمہ درج

    کراچی: 43 رہائشی عمارتیں خطرناک قرار، ہزاروں مکین متاثر

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

  • پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی تازہ رپورٹ نے ای کامرس پر 10 ارب 42 کروڑ ڈالر خرچ کی 2023 میں ہونے والی آن لائن شاہ خرچیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں نے ایک سال میں ای کامرس پر 10 ارب 42 کروڑ ڈالر خرچ کیے، جن میں الیکٹرانکس، ہوائی سفر، فیشن اور سبسکرپشن سروسز شامل ہیں۔ پاکستانی صارفین نے ای کامرس پر خرچ کیے گئے مجموعی رقم میں سے 5 ارب 45 کروڑ ڈالر مصنوعات پر جبکہ 4 ارب 38 کروڑ ڈالر خدمات پر صرف کیے۔ میڈیا سبسکرپشنز پر 59 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے، جو ڈیجیٹل مواد کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔پاکستانیوں کی شاہ خرچیاں عروج پر رہیں۔ آن لان شاپنگ پر تھوڑے بہت نہیں، پورے 10 ارب 42 کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے۔

    ای کامرس پر خرچ کئے تقریباً ساڑھے 10 ارب ڈالر میں 5 ارب 45 کروڑ ڈالر کی منصوعات جبکہ 4 ارب 38 کروڑ ڈالر خدمات پر خرچ کیے گئے۔ سبسکرپشن میڈیا پر پاکستانیوں نے سال 2023 میں 59 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔مصنوعات خریداری میں سرفہرست الیکٹرانکس مصنوعات رہیں، سال 2023 میں جن کی خریداری سوا 3 ارب ڈالر رہیں۔ فیشن پر ایک ارب 6 کروڑ ڈالر، بیوٹی مصنوعات پر 32 کروڑ ڈالر، تقریباً 17 کروڑ ڈالر کھانے پر، 11 کروڑ دواؤں پر خرچ کیے گئے۔

    خدمات خریداری میں میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوائی جہاز کے ٹکٹ، ساڑھے 24 کروڑ ڈالر کے ٹرین ٹکٹ، پونے 29 کروڑ ڈالر کرائے کی گاڑیوں پر اور 69 کروڑ ڈالر ہوٹلز پر اور 62 کروڑ ڈالر پیکج ہالیڈے پر خرچ کیے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں 90 فیصد سے زائد ای کامرس لین دین "کیش آن ڈیلیوری” (COD) پر ہوتا ہے، جس کی وجہ خریداروں کا مرچنٹس پر اعتماد نہ ہونا بتایا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیجیٹل ادائیگیوں کا اعتماد بحال کیا جائے تو پاکستان کا ای کامرس سیکٹر مزید تیزی سے ترقی کر سکتا ہے، جس سے معیشت میں ڈیجیٹل انضمام کو فروغ ملے گا۔

    یہی وہ روشنی ہے

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو 32 ٹیموں تک وسعت دینے کی تجویز

  • قلات: بلوچستان کانسٹیبلری قافلے پر حملے کا مقدمہ درج

    قلات: بلوچستان کانسٹیبلری قافلے پر حملے کا مقدمہ درج

    مستونگ کے علاقے چوتو میں بلوچستان کانسٹیبلری کے قافلے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    مقدمہ سی ٹی ڈی قلات ریجن کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق، واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ جمعہ کے روز قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی عبدالرزاق اور سپاہی راز محمد شہید ہو گئے تھے، جبکہ دو دیگر اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

    سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو 32 ٹیموں تک وسعت دینے کی تجویز

  • کراچی: 43 رہائشی عمارتیں خطرناک قرار، ہزاروں مکین متاثر

    کراچی: 43 رہائشی عمارتیں خطرناک قرار، ہزاروں مکین متاثر

    شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں 43 رہائشی عمارتوں کو خطرناک قرار دے دیا گیا ہے، ان عمارتوں میں سیکڑوں فلیٹس اور ہزاروں افراد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔

    خطرناک قرار دی گئی عمارتیں گلستان جوہر کے مختلف بلاکس میں واقع ہیں۔ مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے کسی فوری انخلاء یا متبادل رہائش کے اقدامات کے حوالے سے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔اس حوالے سے چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) حسن بخشی کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارتوں کی تکنیکی سروے رپورٹ آباد کو فراہم کی جائے تاکہ درست اور سائنسی بنیادوں پر جانچ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹس صرف اندازوں پر نہیں بلکہ ٹیکنیکل ٹولز کی مدد سے تیار کی جانی چاہئیں۔

    مکینوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگر عمارتیں واقعی خطرناک ہیں تو فوری انخلاء کے ساتھ متبادل رہائش کا بندوبست کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔یاد رہے کہ کراچی میں ناقص تعمیرات اور غیر معیاری بلڈنگ میٹریل کے باعث رہائشی عمارتوں کے گرنے کے متعدد واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جن میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

  • سینیٹ الیکشن: ارب پتی امیدواروں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ، نظریاتی کارکن ناراض

    سینیٹ الیکشن: ارب پتی امیدواروں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ، نظریاتی کارکن ناراض

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے لیے سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر مالی طور پر مضبوط اور بااثر امیدواروں کو میدان میں اتار دیا ہے، جبکہ دیرینہ پارٹی کارکنوں کو نظر انداز کیے جانے پر شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔

    سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے 21 جولائی کو خیبر پختونخوا میں انتخابات ہوں گے جن میں 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں شامل ہیں۔ ان انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے روایت برقرار رکھتے ہوئے دولت مند اور بااثر شخصیات کو ترجیح دی ہے۔حکمران جماعت تحریک انصاف نے ارب پتی امیدوار اعظم سواتی اور مرزا آفریدی کو نامزد کیا ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) نے وفاقی وزیر امیر مقام کے صاحبزادے نیاز احمد کو جنرل نشست کے لیے میدان میں اتارا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اربوں کے اثاثوں کے مالک طلحہ محمود کو ٹکٹ دیا ہے، جبکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے دلاور خان بھی ارب پتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

    ماضی کی طرح اس بار بھی نظریاتی اور دیرینہ کارکنان کو نظر انداز کیا گیا، جس پر بالخصوص تحریک انصاف کے کارکنان شدید ناراض ہیں۔ پارٹی رہنما عرفان سلیم نے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، ہم اس کے خلاف کھڑے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق، سینیٹ الیکشن میں سرمایہ دار امیدواروں کی ترجیح نے جمہوری اقدار اور کارکنان کی محنت کو پس پشت ڈال دیا ہے، جو جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو 32 ٹیموں تک وسعت دینے کی تجویز

    مالاکنڈ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، 8 گرفتار

    ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب کو نقصان کی خبروں پر ٹرمپ کا ردعمل

    خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ الیکشن کا فیصلہ

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو 32 ٹیموں تک وسعت دینے کی تجویز

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو 32 ٹیموں تک وسعت دینے کی تجویز

    کرکٹ کے مختصر فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو مزید وسعت دینے کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت آئندہ ٹورنامنٹس میں 32 ٹیموں کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے فارمیٹس اور بڑے ٹورنامنٹس کے جائزے کے لیے 6 رکنی ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو راجر ٹوز کر رہے ہیں۔ورکنگ گروپ میں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز کے سربراہان بھی شامل ہیں۔ گروپ کا مقصد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو عالمی سطح پر مزید مقبول بنانا اور نئے ممالک کو مواقع فراہم کرنا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 2026ء میں ہونے والے اگلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بدستور 20 ٹیمیں ہی شرکت کریں گی، تاہم مستقبل میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 32 کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔اس کے علاوہ یو ایس اے کرکٹ کی معطلی سے متعلق بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یو ایس اے کرکٹ کو انتظامی مسائل کے حل کے لیے مزید 3 ماہ کا وقت دیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد ان کی رکنیت سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء کے لیے پہلے ہی براہِ راست کوالیفائی کر چکا ہے۔

    ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب کو نقصان کی خبروں پر ٹرمپ کا ردعمل

    خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ الیکشن کا فیصلہ

    لاس اینجلس میں کلب کے باہر گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، 30 افراد زخمی