Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر رانا تنویر کی نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر رانا تنویر کی نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیقات اور صنعت و پیداوار رانا تنویر نے نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات کی اور پاکستان اسٹیل ملز کی اضافی زمین پر انڈسٹریل پارک کے قیام، اسٹیل ملز کی بحالی اور مجوزہ نیشنل فوڈ سیفٹی، اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سمیت کئی اہم اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات میں صوبائی وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور سینیئر ممبر بورڈ آف ریوینیو بقااللہ انڑ نے شرکت کی۔ رانا تنویر کی معاونت وفاقی سیکریٹری این ایف ایس آر وسیم اجمل چوہدری، ڈی جی وقاص عالم اور سی ای او پی آئی ڈی سی رضوان بھٹی نے کی۔وزیراعلی مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر رانا تنویر نے پاکستان اسٹیل ملز کی 3200 ایکڑ زمین پر انڈسٹریل پارک کے قیام پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعلی سندھ نے نشاندہی کی کہ یہ زمین پہلے ہی پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ کے نام پر رجسٹرڈ ہے جس پر وفاقی وزیر نے عندیہ دیا کہ زمین کی نوعیت کو کمرشل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وفاقی وزارت تجارت اور پیداوار صوبائی حکومت کو خط کے ذریعے زمین کی تبدیلی کی درخواست کرے گی تاکہ حکومت سندھ ضروری کاغذی کارروائی کرے۔ملاقات میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 1974-75 میں اسٹیل ملز پروجیکٹ کیلیے دی گئی 1675 ایکڑ زمین اب تک پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ کو منتقل نہیں کی گئی۔ وزیراعلی نے رانا تنویر کو یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملہ حل کرلیا جائیگا۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ پاکستان اسٹیل ملز پلانٹ کیلیے رکھی گئی تقریبا 700 ایکڑ زمین کو یا تو موجودہ اسٹیل ملز کی بحالی یا نئی کے قیام کیلیے استعمال کیا جائے۔جس پر وفاقی وزیر رانا تنویر نے وزیراعلی کو بتایا کہ روسی وفد اسٹیل ملز پلانٹ کا دورہ کر چکا ہے اور فروری میں نیا پلانٹ لگانے سے متعلق رپورٹ پیش کریگا۔ وزیراعلی سندھ نے خواہش کا اظہار کیا کہ اسٹیل ملز کی بحالی سے متعلق فیصلہ سازی میں صوبائی حکومت کو بھی شامل کیا جائے جس پر وفاقی وزیر نے حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ نیشنل فوڈ سیفٹی ، اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد مویشیوں، پودوں، زرعی مصنوعات ، خوراک اور چارے کی درآمد اور برآمد کیلیے انسپیکشن اور کورنٹائن کنٹرول کا نفاذ ہے۔اس میں سینیٹری اور فائٹو سینیٹری ( ایس پی ایس) اقدامات کی تعمیل کیلیے سامان کی تصدیق شامل ہے۔ زرعی مصنوعات اور خوراک کی پیداوار اور برآمد کے لیے مارکیٹنگ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا بھی مقصود ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت ضروری سمجھتی ہے تو ڈرافٹ ایکٹ کے نفاذ سے پہلے صوبائی محکموں زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی گیری اور صوبائی فوڈ اتھارٹی سمیت تمام محکموں کے ساتھ جامع مشاورت کی جائے۔وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ اتھارٹی میں صوبائی حکومتوں سے مکمل مشاورت کی جائیگی۔ ملاقات کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ انڈسٹریل پارک کے قیام اور اسٹیل ملزم کی جلد بحالی یقینی بنانے کیلیے رابطوں کو مضبوط کیا جائیگا۔ نیز نیشنل فوڈ سیفٹی، اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق وفاقی وزارت صوبائی محکموں زراعت اور لائیو اسٹاک سے رائے لے گی۔

    کراچی پولیس کی ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری

    شرمیلا فاروقی کا حنا بیات کو سخت جواب،خواتین کے لباس پر تنقید بند کریں

    کینیڈین وزیراعظم نےمستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

  • کراچی پولیس کی ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری

    کراچی پولیس کی ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری کردی۔

    ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے احکامات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہفتہ کے دوران ضلعی پولیس کے ڈاکوئوں سے 11مقابلے ہوئے، فائرنگ کے تبادلے میں 15زخمی ڈاکوئوں سمیت 21ملزمان کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے 15مختلف اقسام کا غیر قانونی اسلحہ اور 10موٹر سائیکلیں برآمد کرلیں گئیں۔ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس نے گزشتہ ہفتے منشیات کیخلاف جاری مہم کے دوران ایسٹ، ویسٹ اور سائوتھ زونز میں کارروائیاں کرتے ہوئے 538ملزمان کو گرفتار کرکے لاکھوں روپے مالیت کی 20کلو 551گرام چرس، آئس،کرسٹال ، ہیروئن اور123اقسام کا غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن برآمدکرلیا ہے۔اس کے علاوہ پولیس نے مختلف علاقوں سے چھینی و چوری شدہ 26موٹرسائیکلیں اور7گاڑیاں بھی برآمد کیں ہیں۔

    شرمیلا فاروقی کا حنا بیات کو سخت جواب،خواتین کے لباس پر تنقید بند کریں

    کینیڈین وزیراعظم نےمستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

  • شرمیلا فاروقی کا حنا بیات کو سخت جواب،خواتین کے لباس پر تنقید بند کریں

    شرمیلا فاروقی کا حنا بیات کو سخت جواب،خواتین کے لباس پر تنقید بند کریں

    گزشتہ دنوں پاکستانی اداکارائیں ہانیہ عامر اور یشما گِل اپنی دوست کی شادی کی مہندی میں دھوم مچاتی نظر آئیں۔

    دونوں نے مختصر لباس پہنے اور اپنی دلکش حرکات و سکنات سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔مہندی کی تقریب میں ہانیہ، یشما اور دنانیر کی ڈانس ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جنہیں مداحوں نے خوب پسند کیا۔لیکن جیسے ہی ویڈیوز نے مقبولیت حاصل کی، کچھ لوگوں نے ہانیہ اور یشما کے لباس پر تنقید شروع کر دی۔ اداکارہ حنا خواجہ بیات نے بھی تنقیدی تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "کیا لوگوں کو قمیض نام کی چیز بھول گئی ہی”پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے حنا خواجہ بیات کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انسٹاگرام اسٹوری پر لکھا، "خواتین کے لباس کی بنیاد پر ان کا فیصلہ کرنا بند کریں۔ اگر ایسا ہے تو تمام مردوں کو شیروانی پہننی چاہیے، نہ کہ سوٹ۔”شرمیلا نے مزید کہا کہ یہ 2025 ہے، خواتین کو خود مختار رہنے دیں اور وہی پہننے دیں جو انہیں پر اعتماد اور آرام دہ محسوس ہو۔

    کینیڈین وزیراعظم نےمستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

  • کینیڈین وزیراعظم نےمستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

    کینیڈین وزیراعظم نےمستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پارٹی ان کے متبادل کا انتخاب نہیں کرتی وہ اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوا کہ جسٹن ٹروڈو 20 جنوری تک کینیڈا کے وزیراعظم رہیں گے، جب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ سنبھالیں گے۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے جو کینیڈا کی معیشت کو مفلوج کردے گی۔لبرل پارٹی کے قانون سازوں کی جانب سے جسٹن ٹروڈو پر مستعفیٰ ہونے کا شدید دباؤ تھا، جس کے باعث انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ پارلیمنٹ 24 مارچ تک معطل رہے گی۔53 سالہ جسٹن ٹروڈو نے نومبر 2015 میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا اور انہوں نے 2 بار انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جب کہ وہ طویل عرصے تک وزارت عظمیٰ کا دفتر سنبھالنے والے کینیڈین وزیراعظم بھی ہیں۔تاہم ان کی مقبولیت میں 2 سال پہلے اس وقت کمی آنا شروع ہوئی جب کہ کینیڈا میں مہنگائی اور مکانات کی قلت نے عوام کے غم وغصہ کو جنم دیا۔مختلف سروے اور عوامی رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں لبرل پارٹی کو اپوزیشن کی اہم جماعت کنزرویٹو پارٹی سے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، چاہے اس وقت حکمران جماعت کا سربراہ کوئی بھی ہو۔پارلیمنٹ 27 جنوری کو دوبارہ شروع ہونے والی تھی اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے حکومت کو گرا دیں گے، تاہم، اگر پارلیمنٹ 24 مارچ تک واپس نہیں آتی، تو اپوزیشن مئی میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کر سکتی ہے۔حالیہ مہینوں میں جسٹن ٹروڈو کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور ان کی حکومت عدم اعتماد کے ووٹ سے بمشکل بچنے میں کامیاب رہی تاہم ناقدین کی جانب سے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

    اٹک: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت جدید صفائی سروسز کا افتتاح

  • بابر اور شان نے 27 سالہ قومی ریکارڈ توڑ دیا

    بابر اور شان نے 27 سالہ قومی ریکارڈ توڑ دیا

    بابر اعظم اور شان مسعود نے ٹیسٹ کرکٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اوپننگ پارٹنرشپ بنا کر تاریخ میں اپنا نام لکھوایا۔

    کیپ ٹاؤن میں دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن دونوں کے 180 رنز کے ناقابل شکست اسٹینڈ نے 1998ء میں سعید انور اور عامر سہیل کے قائم کردہ 101 رنز کے پچھلے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔سلیم الہی اور توفیق عمر نے 2002ء میں 77 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تھی جب کہ شان مسعود نے امام الحق کے ساتھ ملکر 2019ء میں پہلی وکٹ کیلئے 67 رنز بنائے تھے۔ اس سے قبل کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں پاکستان کی پوری ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی، 421 رنز خسارے کے ساتھ پاکستان کی دوسری اننگز میں بیٹنگ جاری ہے۔کیپ ٹاؤن میں کھیلے جارہے سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز پاکستان نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 64 رنز سے اننگز کا آغاز کیا۔محمد رضوان اور بابراعظم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 98 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم بابر 58 اور رضوان 46 رنز کے انفرادی اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔ سلمان آغا 19 ، عامر جمال 15، خرم شہزاد 14 اور میر حمزہ 13 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، صائم ایوب زخمی ہونے کی وجہ سے بیٹنگ کیلئے نہ آسکے جبکہ محمد عباس صفر کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ جنوبی افریقا کی جانب سے کیگیسو رباڈا نے 3، مپاکھا اور کیشو مہاراج نے 2، 2، ویان مولڈر، مارکو جینسن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔اس سے قبل جنوبی افریقا نے کھیل کے دوسرے دن کا آغاز 4 وکٹوں کے نقصان پر 316 رنز سے کیا۔ ریان رکلٹن 259 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر میر حمزہ کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ دیگر بلے بازوں میں کائل ویرین 100، مارکو جینس 62، کیشو مہاراج 40، ڈیوڈ بیڈنگھم 5 اور کیوینا مفاکا 0 کے اسکور پر پویلین لوٹے۔ کیگیسو رباڈا 6 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس اور سلمان آغا نے 3، 3 جبکہ میر حمزہ اور خرم شہزاد نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔پاکستان کی جانب سے اننگ کا آغاز مایوس کن رہا اور 20 کے مجموعی اسکور پر تین کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ کپتان شان مسعود 2، کامران غلام 12 اور سعود شکیل 0 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت کریز پر بابر اعظم 31 اور محمد رضوان 9 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں اور 551 رنز کا خسارہ پورا کرنا ابھی باقی ہے۔ پروٹیز کی جانب سے کیگیسو رباڈا نے 2 جبکہ مارکو جینسن نے 1 وکٹ حاصل کی۔

    نیلم منیر کے عروسی جوڑے کی قیمت مداحوں کو حیران کرگئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یو ایم ٹی یونیورسٹی کے طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

  • نیلم منیر کے عروسی جوڑے کی قیمت مداحوں کو حیران کرگئی

    نیلم منیر کے عروسی جوڑے کی قیمت مداحوں کو حیران کرگئی

    پاکستانی اداکارہ نیلم منیر خان گزشتہ روز دبئی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں اور ان کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں.

    باغی ٹی وی کے مطابق اداکارہ کے عروسی لباس کی قیمت اور دیگر تفصیلات نے مداحوں کی توجہ حاصل کرلی ہے، اپنی زندگی کے اہم ترین دن کے لیے نیلم منیر نے سفید اور سلور کے امتزاج سے تیار کردہ غرارے پر خوبصورت شرٹ اور ہمرنگ دوپٹے کا انتخاب کیا، ان کے شوہر محمد راشد کو سفید عربی لباس "ثوب” میں دیکھا گیا۔نیلم کی پوسٹ کے مطابق ان کا عروسی لباس مشہور فیشن برانڈ Baroque نے ڈیزائن کیا جب کہ اس فیشن برانڈ کی ویب سائٹ سے معلوم ہوا کہ یہ دلکش عروسی لباس سفید شیفون پر ہینڈ ایمبرائیڈری کے ساتھ تیار کیا گیا، جس میں وائٹ پرلز، بیڈز اور سیکوئنسز کا شاندار استعمال کیا گیا ہے۔ برانڈ کا کہنا ہے کہ اس سلے ہوئے لباس کی قیمت 49 ہزار 900 روپے اور ان سلے لباس کی قیمت 29 ہزار 900 روپے ہے، نیلم منیر کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں ناصرف ان کے لباس بلکہ جیولری، میک اپ اور فوٹوگرافی کی تفصیلات بھی مینشن کی گئی ہیں جو ان کے مداحوں کے درمیان گفتگو کا موضوع بن گئی ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یو ایم ٹی یونیورسٹی کے طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

  • ڈی جی آئی ایس پی آر  کی یو ایم ٹی یونیورسٹی کے طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یو ایم ٹی یونیورسٹی کے طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدی نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی UMT لاہور کے اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست کی.

    یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی(UMT) لاہور کے طلباء اور اساتذہ نےڈی جی آئی ایس پی آرے ملاقات اور بات چیت کے اہتمام پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا اس موقعہ پر طلباء کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے خلاف جو بھی منفی پراپیگینڈہ بنا تحقیق کے پھیلایا جاتا رہا آج اس حوالے سے تمام ابہام اور شکوک و شبہات دور ہوگئے۔ آج ڈی جی آئی ایس پی آر سے براہِ راست بات چیت کرکے ہمیں حقیقی معنوں میں پاک فوج کیخلاف پھیلائی جانیوالی منظم ڈس انفرمیشن اور فیک نیوزے بارے میں آگاہی ملی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس باوقار انداز میں ہمارے سوالات کے مدلل جواب دیے وہ انتہائی خوش آئیند اور حوصلہ افزاء تھے۔ طلباء نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ اسطرح کے سیشن تواتر کیساتھ ہونے چاہیئے تاکہ نوجوانوں اور پاک فوج کے مابین خلاء کو کم کیا جائے اور غلط فہمیوں کا تدارک ہو۔اس بات میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئیے کہ پاکستان کے نوجوان خصوصاً طلباء پاک فوج کے شانہ بشانہ ملک کی حفاظت کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہیں.

    خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

  • خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    پاکستان کے خیبر پختونخوا کے علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ 85 دنوں سے فسادات اور بدامنی کی صورتحال جاری تھی، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فوج کی مدد کی درخواست کی ہے۔

    فوج آج کرم ایجنسی کے علاقے ٹل پہنچ گئی، جہاں حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ ان فسادات میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، جن میں ڈیڑھ سو کے قریب بچے بھی شامل تھے جو جان بحق ہو گئے۔ اس دوران پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی ردعمل یا ٹویٹ سامنے نہیں آیا، جو اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی نے حالات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔کرم ایجنسی کی صورتحال 85 دنوں تک بگڑتی رہی، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے اس پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جرگے کی بات کی گئی تھی لیکن جرگہ بھی بھیجنے میں ناکامی ہوئی۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو گئی جب پی ٹی آئی نے فوج سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کو شروع میں ہی اس مشکل کا پتا تھا تو اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوج کو کیوں نہیں بلایا؟

    فوج کی مدد کی درخواست کرنے سے پہلے، پی ٹی آئی نے اس موقف کا اظہار کیا تھا کہ ان کے پاس دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قراردادیں پاس کیں، جن میں کہا گیا کہ صوبہ خود ہی اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہے اور اس میں کسی بھی فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم اب انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا ہی واحد حل ہے، تو پی ٹی آئی نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی اور فوج کی مدد طلب کی۔ اس فیصلے کے پیچھے کیا عوامل ہیں، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی کا فوجی آپریشن کے خلاف موقف محض سیاسی مفادات کے لیے تھا؟

    ڈیرہ اسمعیل خان بھی اسی طرح کی بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں رات کے اوقات میں دہشت گردوں کا راج ہوتا ہے اور امن کی صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کو وہاں بھی فوج کی مدد کی درخواست کرنا پڑے۔ اگر یہ دو اہم علاقے یعنی کرم ایجنسی اور ڈیرہ اسمعیل خان میں امن قائم نہیں کر سکے، تو سوال اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی پورے صوبے میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟

    یہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں جس طرح سے امن قائم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، وہ اب مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف تھا کہ وہ صوبے کے اندر خود حالات کو بہتر کر لیں گے، لیکن اب فوج کی مدد طلب کرنا ان دعووں کے ساتھ تضاد کا باعث بن رہا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا اصل مقصد صوبے میں امن قائم کرنا تھا یا اس کی حکمت عملی میں کہیں نہ کہیں ٹی ٹی پی کی حمایت کا پہلو چھپا ہوا تھا۔اگر پی ٹی آئی ان دو علاقوں میں بھی امن قائم نہیں کر سکتی، تو یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پارٹی کی حکومتی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے۔ عوام کا اعتماد پی ٹی آئی پر اس بات کے بعد کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ اس کی کارکردگی اور حکومتی فیصلے عوامی سطح پر سنگین سوالات پیدا کر رہے ہیں، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پی ٹی آئی اس بحران کا کس طرح حل نکال پاتی ہے۔

    کرم ایجنسی میں فوج کی آمد اور پی ٹی آئی کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست ایک ایسی صورتحال کا عکاس ہے جس میں سیاسی قیادت نے اپنی ابتدائی پالیسیوں کو تبدیل کر دیا۔ اس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں، بلکہ پورے صوبے میں امن قائم کرنے کے دعووں کی حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے۔ اب وقت یہ بتائے گا کہ پی ٹی آئی ان مسائل کا حل کس طرح نکالتی ہے، اور آیا وہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کر پائے گی یا نہیں۔

  • سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں مقبولیت اور شہرت کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس پر ایسے افراد بھی ہیں جو صرف منفعت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں۔

    معید پیر زادہ، جو خود کو ایک مقبول سوشل میڈیا شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں، کا شمار انہی افراد میں کیا جا سکتا ہے جو سوشل میڈیا کی دنیا میں صرف اپنی شہرت اور مالی فوائد کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔معید پیر زادہ نہ صرف پاکستان سے بھاگ چکے ہیں بلکہ بیرون ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں جس کا مقصد انتشار پھیلانا اور مال بنانا ہے

    سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں پر لوگ اپنی زندگی کی مختلف پہلووں کو شیئر کرتے ہیں، اور بعض افراد اسے اپنے کاروبار اور شہرت کو بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ معید پیر زادہ بھی اس جال کا حصہ بن چکے ہیں، معید پیر زادہ کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں ملک دشمنی پر مبنی ہوتی ہیں وہ ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بات کرتا نظر آئے گا اور انتشاری جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے انکی داد وصول کرے گا.معید پیر زادہ کی سوشل میڈیا پر موجودگی کا مقصد اکثر اپنی ذاتی شہرت بڑھانا اور اس کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنا نظر آتا ہے۔ انہوں نے مختلف ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے ملک دشمنی ہر مبنی اپنی سرگرمیوں کو پیش کیا، اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہمدردی دکھائی تا کہ وہ زیادہ مال بنا سکے ان کا مقصد صرف اور صرف شہرت اور مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایسی شخصیتوں کا وجود جو صرف شہرت اور مالی فوائد کی لالچ میں مبتلا ہوں،اور اسکے لئے ملک دشمنی سے بھی باز نہ آئیں ایسے افراد کو قانونی دائرے کے شکنجے میں لاکر سخت کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ جہاں ایک طرف یہ لوگوں کو نئے مواقع فراہم کرتا ہے، وہیں دوسری طرف اس کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ معید پیر زادہ جیسے افراد اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا کو ذاتی منفعت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ہمیں اس بات کا بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ اس کے اثرات کا سامنا کبھی نہ ہو۔

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

  • پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    پاراچنار میں امن کا دشمن ، حاجی کریم، عمران خان مذمت کرے گا؟

    آج کل کی سیاست میں جب بھی کسی اہم مسئلے پر بات کی جاتی ہے، تو بعض اوقات ایسے سوالات اُٹھتے ہیں جو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی مذمت پر امریکہ کے ناراض ہونے کے حوالے سے عمران خان کے کردار پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، چند سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں جو سیاسی رہنماؤں اور عوام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

    اس وقت حاجی کریم، جو کہ ایک چھوٹے سے گاؤں بگن کا مقامی لیڈر ہے، اور کاظم، جو ٹی ٹی پی کا مقامی کمانڈر ہے، ان دونوں نے مل کر پارا چنار امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے خوراک اور امدادی سامان لے کر جانے والے قافلے پر حملہ کیا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کے باقی رہنماؤں میں سے کوئی ایک حاجی کریم اور کاظم کی مذمت کرے گا؟ اور کیا ان دونوں کو دہشت گرد قرار دے گا؟ یا پھر اس پر بھی امریکہ ناراض ہوگا؟

    یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جب ندیم افضل چن نے کہا تھا کہ عمران خان نے پاک ایران گیس پائپ لائن اور سی پیک جیسے منصوبوں پر امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے کام روک دیا تھا، تو پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس بات پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ عمران خان نے ہمیشہ امریکی مداخلت کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اور وہ پاکستانی قوم کے مفادات کا دفاع کرتا ہے۔مگر اب حالیہ دنوں میں یہ صورتحال بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ عمران خان کے موقف میں تبدیلی آئی ہے اور وہ اسرائیل کی مذمت کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ اس کے پیچھے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان اسرائیل کی مذمت کرے گا تو امریکہ ناراض ہوگا، لہذا وہ خاموش ہیں۔ اس پر یوتھیوں میں بھی ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی ہے اور اب وہ بے شرمی سے اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ عمران خان کو امریکہ کے ناراض ہونے کا خوف ہے۔

    یہ صورتحال پاکستانی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں ایک طرف قومی مفادات کی بات کی جاتی ہے، تو دوسری طرف عالمی دباؤ اور تعلقات کی پیچیدگیاں بھی نظر آتی ہیں۔ یہ وقت پاکستانی سیاست دانوں کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ کس طرح اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنے عوام کے مفادات کو کیسے تحفظ دیتے ہیں۔

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف مذاہب کے نمائندگان سے خصوصی نشست