Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • بچی کو ہراساں کرنے والے شخص کو بہو کی گواہی پر 14 سال قید

    بچی کو ہراساں کرنے والے شخص کو بہو کی گواہی پر 14 سال قید

    کراچی کی سیشن عدالت نے بچی کو ہراساں کرنے اور اسکی نازیبا تصاویر بنانے کے جرم میں ملوث شخص کو اس کی بہو کی گواہی پر 14 سال قید اور 10 لکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

    رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی عبدالظہور چانڈیو نے کم سن بچی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بعد اس کی نازیبا تصاویر کھینچنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملزم اشوک کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377-بی (ہراسانی کی سزا) کے تحت 14 سال قید کی سزا سنائی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ’درخواست گزار اور ملزم کے درمیان کسی سابقہ دشمنی یا بدنیتی کے شواہد نہیں ملے نا ہی وکیل صفائی نے درخواست گزار یا استغاثہ کے گواہوں سے جرح کے دوران ایسی کسی دشمنی کے حوالے سے رائے یا شواہد پیش کیے‘۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ’ملزم اس بات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ مدعی یا کلیدی گواہان بشمول ملزم کی اپنی بہو ، نے اسے جھوٹے الزام میں پھنسایا ہے اور یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ اتنی کم سن بچی یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ ملزم کے خلاف اس قدر سنگین الزامات گڑھ سکے، لہٰذا ظاہری ثبوت قدرتی، مربوط اور قابل بھروسہ ہیں، ملزم کے قصور وار ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے’۔عدالت نے ملزم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہےاور عدم ادائیگی جرمانہ پر اسے مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔سرکاری وکیل عرفانہ قادری کے مطابق والدہ کام پر جاتی تو متاثرہ بچی اپنے پڑوسیوں کےگھر جاتی تھی، ایک دن مجرم اشوک کی بہو نے کسی کو کا ل کرنے کے لیے اس کا موبائل دیکھا تو اس میں اسےمتاثرہ بچی کی نازیبا تصاویر ملیں، ملزم کی بہو نے بعد ازاں بچی کے والدین کو واقعے سے آگاہ کیا، بچی نے بتایا کہ ملزم اسے ٹافیوں کا لالچ دیکر اسکی تصاویر کھینچتا تھا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ جنسی ہراسانی کے مقدمات میں متاثرہ فرد کا بیان ہی سزا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے بشرطیکہ وہ قابل اعتماد ہو اور دوسرے شواہد سے اس کی تصدیق کرتے ہوں، عدالت نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ’ یہ طے شدہ قانون ہے کہ متاثرہ فرد کی گواہی، خاص طور پر جنسی ہراسانی کے جرائم میں اہمیت کی حامل ہوتی ہے’۔ٹرائل کے دوران وکیل استغاثہ بیرسٹر بہزاد اکبر اورسرکاری وکیل نے دلائل میں کہا تھا کہ پراسیکیوشن نے 11 گواہوں پر جرح کے ذریعے کامیابی سےاپنا مقدمہ ثابت کیا ہے، طبی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ یہ ریپ نہیں جنسی ہراسانی کا مقدمہ ہے، انہوں مزید دلیل دی کہ ٹرائل کے دوران پیش کیے گئے متاثرہ بچی اور آزاد گواہوں کے بیانات ملزم کو سزا سنانے کے لیے کافی ہیں’۔دوسری جانب ، وکیل صفائی نے اپنے موکل کے بےگناہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دلیل دی کہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ( ایف آئی آر) تاخیر سے درج کرائی گئی، انہوں نے مزید دلیل دی کہ ان کے موکل کو ذاتی دشمنی کی بنیاد پربدنیتی کے ذریعے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔دریں اثنا، عدالت نے وکیل صفائی کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ’متاثرہ بچی اور گواہوں کے بیانات اعتماد پر مبنی، مستقل مزاج اور بغض سے پاک ہونے کے طے شدہ اصولوں پر پورا اترتے ہیں’۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ’شکایت کنندہ کی جانب سے ملزم کو دشمنی یا مذموم مقصد کے لیے نہیں پھنسایا گیا اور دفاع کی جانب سے یہ ثابت کرنے میں ناکامی استغاثہ کے مقدمے کی ساکھ کو مزید مضبوط کرتی ہے’۔ملزم کے خلاف کلفٹن پولیس اسٹیشن میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376( ریپ) اور 511(ایسے جرائم کے ارتکاب کی کوشش کرنے پر عمر قید یا مختصر مدت کے لیے سزا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی مراحل میں داخل

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت  وارنٹ گرفتاری برقرار

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے ان کے ضامن کو شوکاز نوٹس جاری کردیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق ملزمان کے سینئر وکیل نے آئندہ سماعت پر بشریٰ بی بی کو بہر صورت پیش کرنے کی یقین دہانی کرادی۔اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا تاہم بشریٰ بی بی عدالت پیش نہ ہوئیں۔ملزمان کے سنئیر وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے فیصلہ کن یقین دہانی جمع کرادی، سلمان صفدر نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو اگلی سماعت پر ہر صورت پیش کریں گے، عدالت صرف 3 تاریخوں کا موقع دے، 3 تاریخوں میں ملزمان کے 342 کے بیان بھی جمع کرائیں گے، نیب وکلا نےیقین دہانی کی مخالفت نہیں کی۔عدالت نے وکلائے صفائی کی یقین دہانی کو منظور کرتے سماعت ملتوی کردی، عدالت میں بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنی کی درخواست بھی دائر کردی گئی، جس پر نیب کے وکلا نے اعتراضات اٹھادیے۔نیب نے بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کی رپوٹ بھی عدالت میں پیش کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ نیب نے کوشش کی لیکن بشریٰ بی بی اپنے پتہ پر موجود نہیں تھیں۔عدالت نے بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے ان کے ضامن کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا جبکہ کیس کی مزید سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔واضح رہے کہ 28 نومبر کو عدالت نے بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی تھی۔اس سے قبل، 22 نومبر کو سماعت کے موقع پر عدالت نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، بشریٰ بی بی گزشتہ سماعت پر بھی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں پیش نہیں ہوئی تھیں۔

    پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی مراحل میں داخل

    بھارت ،بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں، محبوبہ مفتی کے بیان پر بی جے پی بھڑ ک اٹھی

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

  • پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی  مراحل میں داخل

    پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی مراحل میں داخل

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 56 کروڑ ڈالر کے 7 معاہدوں کو حتمی شکل دے دی گئی، مختصر مدت میں دونوں ممالک کے درمیان 34 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔

    سرکاری میڈیا ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کی پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔قلیل عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے 34 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جس میں سے 7 کو معاہدوں کی شکل دی جاچکی ہے جن کی مالیت 56 کروڑ ڈالر ہے۔وزیراعظم کو نومبر میں منعقدہ پاکستان سعودی عرب جوائنٹ ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قومی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد اور اعلیٰ سرکاری افسران شریک تھے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری تعاون میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ متعدد شعبوں میں اشتراک جاری ہے۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کل سے سعودی عرب کا 2 روزہ دورہ کریں گے، وزیراعظم واٹر سمٹ میں حصہ لینے کے لیے سعودی عرب جائیں گے اور کاپ 16 کے سائیڈ لائن ایونٹ میں حصہ لیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی ہوں گے۔

    ٹھٹھہ:سندھی ثقافت ہماری قدیم وراثت ہے اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں،ایس ایس پی

    سیالکوٹ میں ریونیو عوامی خدمت سروسز کورٹ کا انعقاد

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

  • بھارت ،بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں، محبوبہ مفتی کے بیان پر بی جے پی بھڑ ک اٹھی

    بھارت ،بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں، محبوبہ مفتی کے بیان پر بی جے پی بھڑ ک اٹھی

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کے اقلیتی برداری کی صورتحال پر بیان نے تنازع کھڑا کر دیا جس میں انہوں نے بھارت کا موازنہ بنگلہ دیش سے کیا ہے.

    بھارتی جریدے کے مطابق سابق وزیراعلی نے 24 نومبر کو اترپردیش کے شہر سنبھل میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا.انہوں نے پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے ڈر ہے کہ ہمیں اسی طرف لے جایا جا رہا ہے جو حالات 1947 میں تھے نوجوان جب نوکریوں کی بات کرتے ہیں تو نہیں ملتیں ہمارے پاس اچھے ہسپتال نہیں، تعلیم نہیں ہے وہ سڑکوں کی حالت کو بہتر نہیں کر رہے لیکن ایک مندر کی تلاش میں مسجد کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں. سنبھل واقعہ بہت افسوسناک ہے کچھ لوگ دکانوں میں کام کر رہے تھے اور گولی مار دی گئی واضح رہے کہ 24نومبر کو انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر سنبھل میں ایک مسجد کے سروے کے موقع پر تشدد پھوٹ پڑا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے.مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان یہ جھڑپیں اترپردیش کے شہرسنبھل میں ایک سروے کے موقعے پر ہوئیں جس میں یہ جائزہ جا رہا تھا کہ 17ویں صدی کی مسجد ہندوں کے مندر پر تعمیر کی گئی تھی یا نہیں؟ایک ہندو پنڈت کی جانب سے عدالت میں دائر ایک درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ مسجد ایک ہندو مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے جس پر مقامی عدالت نے سروے کا حکم دیا تھا.محبوبہ مفتی کے بیان کی بی جے پی کے کئی راہنماﺅں نے مذمت کرتے ہوئے بیان کو ملک دشمنی پر مبنی قرار دیا ہے بی جے پی کے راہنماﺅں نے جموں و کشمیر کی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے جموں و کشمیر کے بی جے پی کے سابق سربراہ رویندر رینا نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بنگلہ دیش کی صورتحال کا انڈیا سے موازنہ کرنے والا متنازع بیان سراسر غلط اور قابلِ مذمت ہے.
    انہوں نے کہا کہ دنیا بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں سے آگاہ ہے جہاں اقلیتی برادری کو ٹارگٹ حملوں کا سامنا ہے، خواتین کی توہین کی جاتی ہے اور ایک منتخب وزیراعظم کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے. بی کے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر حکومت کو محبوبہ کے ملک مخالف بیان اور اس کی سازشوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے جموں کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بیان اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ان کی پارٹی کو زندہ کرنے کی کوشش ہے پی ڈی پی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور محبوبہ مفتی مسلمانوں کو مشتعل کر کے اپنی پارٹی کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اس طرح کے بیانات دے رہی ہیں.

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

    یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

  • نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح  پر آگئی

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

    ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں پاکستان میں سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) افراط زر کی شرح 4.9 فیصد رہی، جو گزشتہ 78 ماہ کے دوران کی نچلی ترین سطح ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 16 دسمبر 2024 کو ہونے والے اجلاس سے قبل افراط زر کی شرح میں کمی کو تقویت ملی جو گزشتہ سال 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، آئندہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی شرح سود پر غور کرے گی، اس وقت شرح سود 15 فیصد کی سطح پر ہے۔ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق نومبر 2024 میں سی پی آئی افراط زر کی شرح سال بہ سال کی بنیاد پر کم ہو کر 4.9 فیصد رہ گئی جو اس سے پچھلے مہینے 7.2 فیصد اور نومبر 2023 میں 29.2 فیصد تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں مہنگائی بلند ترین سطح 38 فیصد پر جا پہنچی تھی، جس کی وجہ سے شرح سود بھی 22 فیصد کی تاریخی سطح پر ریکارڈ کی گئی، اس دوران بزنس کمیونٹی کاروبار کے لیے قرضے لینے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھی، تاہم روا ں سال افراط زر میں نمایاں کمی آنے پر اسٹیٹ بینک نے مسلسل تین بار شرح سود میں کمی کی۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ماہانہ بنیاد پر یہ نوٹ کیا گیا کہ نومبر میں افراط زر میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس سے پچھلے مہینے میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے ستمبر 2025 تک افراط زر کو 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف تک لانے اور میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جارحانہ مانیٹری نرمی پر پابندی لگا رکھی تھی۔کراچی میں بروکریج فرم ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اسے ’78 ماہ میں سب سے کم ریڈنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 25 کے 5 ماہ کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 7.88 فیصد رہی جو مالی سال 24 کے 5 ماہ میں 28.62 فیصد تھی۔

    شہروں میں مہنگائی‘
    شہری علاقوں میں جن اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان میں دال چنا (71.94 فیصد)، بیسن (59.13 فیصد)، دال مونگ (36.94 فیصد)، مچھلی (27.14 فیصد)، چنا (25.08 فیصد)، دودھ پاؤڈر (20.93 فیصد) اور گوشت کی قیمت میں (20.65 فیصد) اضافہ شامل ہے۔جن غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان میں موٹر وہیکل ٹیکس (168.79 فیصد)، جوتے (31.88 فیصد)، دندان سازوں کی خدمات کی فیسوں میں (24.51 فیصد)، پرسنل ایفیکٹس (22.58 فیصد) اور اونی ریڈی میڈ گارمنٹس کی قیمتوں میں 19.10 فیصد اضافہ شامل ہے۔

    ’دیہی علاقوں میں مہنگائی‘
    جن اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں دال چنا 69.40 فیصد، بیسن 53.63 فیصد، دال مونگ 37.02 فیصد، دودھ پاؤڈر 26.62 فیصد، پیاز 25.04 فیصد، مکھن 24.38 فیصد اور گوشت کی قیمت میں 22.39 فیصد اضافہ شامل ہے۔جن غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان میں موٹر وہیکل ٹیکس (126.61 فیصد)، پرسنل ایفیکٹس (26.75 فیصد)، تعلیمی اخراجات (22.96 فیصد)، رابطہ کاری کی خدمات (18.70 فیصد) اور اون کے ریڈی میڈ گارمنٹس کی قیمت میں 18.52 فیصد اضافہ شامل ہے۔

    ’ماہانہ بنیاد پر شہروں میں مہنگائی‘
    جن غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھیں، ان میں ٹماٹر(26.56 فیصد)، انڈے(11.8 فیصد)، دال مونگ(11.15 فیصد)، شہد(10.34 فیصد)، آلو(8.6 فیصد)، سرسوں کا تیل(7.48 فیصد)، ویجیٹبل گھی قیمتوں میں 4.69 فیصد کا اضافہ شامل ہے۔ایسی غیر غذائی اشیا جن کی قیمتیں بڑھیں، ان میں جوتے(12.36 فیصد)، مائع ہائیڈرو کاربن(8.95 فیصد)، اون کے تیار شدہ ملبوسات(6.91 فیصد) اور ذاتی استعمال کی الیکٹرک مصنوعات کی قیمتیں 5.21 فیصد بڑھ گئیں۔

    ’ماہانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی‘
    دیہی علاقوں میں جن غذائی اشیا کی قیمت ماہانہ بنیاد پر بڑھی، ان میں ٹماٹر(26.15 فیصد)، انڈے(10.26) فیصد، آلو (9.56 فیصد)، دال مونگ (7.75 فیصد)، کوکنگ آئل 6.75 فیصد اور ویجیٹیبل گھی 6.30 فیصد مہنگا ہوا۔جن غیر غذائی اشیاء کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں بڑھیں، ان میں اون کے تیار شدہ ملبوسات(5.94 فیصد)، مائع ہائیڈرو کاربن (5.27 فیصد)، گھریلو ٹیکسٹائل (4.23 فیصد) اور ڈرگز اینڈ میڈیسن کی قیمتوں میں 3.92 فیصد اضافہ شامل ہے۔

    یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

  • یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ سید اویس قادر شاہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر خدمات پوری امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں۔

    اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ سید اویس قادر شاہ نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کا قومی دن ترقی، امن اور بھائی چارے کی ایک روشن مثال ہے۔پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اسلامی اخوت، باہمی اعتماد اور گہرے دوستانہ رشتوں پر مبنی ہیں، متحدہ عرب امارات نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا معاشی چیلنجز۔سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ اماراتی قیادت اور عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی اخوت اور حمایت کا عملی ثبوت دیا ہے، پاکستان کے عوام اور سندھ اسمبلی اماراتی قیادت عوام کے اس جذبہ اخوت پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں، متحدہ عرب امارات کی ترقی، خوشحالی اور عالمی سطح پر خدمات پوری امت مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ ہم دعا گو ہیں کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مزید مضبوط ہوں اور دونوں ممالک ترقی و خوشحالی کی نئی بلندیوں کو چھوئیں۔

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

    پاکستان پوسٹ میں وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتے رہے، انکوائری میں انکشاف

    مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے پر غور

  • کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

    پاکستان ریلوے نے کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری کا عمل مکمل کردیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق ہارون برادرز اینڈ کمپنی نامی فرم کو تقریباً ساڑھے تین ارب روپے سالانہ کے عوض ٹھیکہ دینے کی منظوری دی گئی جورواں ماہ دسمبر کے آخر میں عوام ایکسپریس کا کنٹرول سنبھال لے گی۔اس ضمن میں گزشتہ دنوں چیف کمرشل منیجر پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹرلاہورنے کراچی‘ سکھر‘ ملتان‘ لاہور ‘راولپنڈی اور پشاور میں پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کے نام ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس (13 اپ/14 داؤن) کونجی شعبہ کی تحویل میں دینے کی منصوبہ بندی کے تحت سب سے زیادہ بولی دینے پر میسرز ہارون برادرز اینڈ کمپنی کے سپردکردیا ہے۔مراسلہ کے مطابق ہارون برادرز اینڈ کمپنی نے عوام ایکسپریس کے لئے سب سے زیادہ 3 ارب45 کروڑ10 لاکھ روپے سالانہ ( علاوہ ٹیکس) کے عوض بولی دے کر مذکورہ ٹرین چلانے کا ٹھیکہ حاصل کرلیا ہے جس کی پاکستان ریلوے نے باضابطہ منظوری دے کر عوام ایکسپریس کا نظام متعلقہ کمپنی کے حوالے کرنے کی ہدایت کر دی ہے جو رواں ماہ دسمبر کے آخر میں ممکنہ طورپر عوام ایکسپریس کا نظام سنبھالے گی۔واضح رہے کہ پاکستان ریلوے نے نجکاری کے دوسرے مرحلہ میں کراچی ایکسپریس‘ عوام ایکسپریس‘ ہزارہ ایکسپریس‘ بہاؤالدین ذکریا ایکسپریس‘ مہر ایکسپریس ‘ سکھر ایکسپریس‘ چناب ایکسپریس‘ مہران ایکسپریس‘ موہنجوداڑو پسنجر اور راولپنڈی پسنجر کو نجی شعبہ کے ذریعہ چلانے کی منصوبہ بندی کی تھی جس کے مطابق عوام ایکسپریس کی نج کاری کا عمل مکمل ہوگیا۔

    پاکستان پوسٹ میں وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتے رہے، انکوائری میں انکشاف

    مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے پر غور

    کراچی:چینی شہریوں پر خودکش حملے کا ایک اور مقدمہ درج

  • پاکستان پوسٹ میں وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتے رہے، انکوائری میں انکشاف

    پاکستان پوسٹ میں وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتے رہے، انکوائری میں انکشاف

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری مواصلات گل اصغر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پوسٹ میں 5 ہزار اسامیاں خالی تھیں، جو بھی وزیر آتا تھا، ان خالی اسامیوں پر اپنوں کو نوازتا تھا.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام سے پاکستان پوسٹ پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔چیئرمین اعجاز جاکھرانی کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان پوسٹ کا ڈیجیٹائزیشن اور بزنس پلان اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھجوا دیا ہے۔ منظوری کے بعد پوسٹ آفس میں جدت لانے پر کام شروع ہو جائے گا، پوسٹ آفس کی کمرشل پراپرٹیز کو لیز پر دیا جائے گا، اس سال وفاقی حکومت کو پانچ ارب کما کر دینے کی یقین دہانی کروائی ہے، اس وقت پاکستان پوسٹ کا سالانہ خرچہ 28 ارب روپے ہے، خرچہ پورا کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو 5 ارب روپے کا منافع دیں گے، پوسٹ آفس کی تمام تر ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل کرنے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ وفاقی وزارت کے مواصلات کے ذیلی ادارے پاکستان پوسٹ کو بھی خسارے میں چلنے والے قومی اداروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے، گزشتہ سال وفاقی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان پوسٹ سمیت 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کی منظوری بھی دی تھی، اس سلسلے میں خصوصی ٹربیونل بھی بنایا گیا تھا۔سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خراب معاشی حالات میں پاکستان پوسٹ سفید ہاتھی بن چکا ہے، ترقی پذیر ممالک میں پوسٹ آفس کی کیا صورتحال ہے؟ کمیٹی ممبر حمید حسین نے استفسار کیا کہ ڈاک وقت پر نہیں پہنچ رہی، اس حوالے سے کوئی چیکنگ کا میکانزم ہے؟ جمال شاہ کاکڑ نے تجویز دی کہ ڈیجیٹل دور میں پوسٹ آفس جیسے ادارے کی ضرورت ہی نہیں اسے ختم کردینا چاہیے۔چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ پاکستان پوسٹ کو حکومتی ملکیت میں چلانا ہے یا اسے پرائیویٹ کرنا ہے؟، چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام سے پاکستان پوسٹ پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔کمیٹی میں انسپکٹر جنرل موٹروے پولیس نے قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایکسل لوڈ پر گزشتہ ایک سال میں 4 ارب روپے سے زائد کے جرمانے کیے گئے، شاہراہوں کی مرمت کے لیے ہر سال ایک ارب ڈالرز کی ضرورت ہے، موٹر وے پولیس ٹریفک لائسنس جاری کرتی ہے، ہائی ویز پر جرمانوں کا نظام ڈیجٹلائز کر رہے ہیں۔اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ باہر کے ملکوں میں گاڑیوں کا ہر سال اسموگ ٹیسٹ کیا جاتا ہے، کیا موٹر وے پولیس بھی اسموگ ٹیسٹ کرتی ہے؟ آئی جی موٹر وے نے جواب دیا کہ یہ صوبائی نوعیت کا معاملہ ہے، شاہراؤں پر سیکورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے افراد قوت بڑھانی چاہیے۔

    مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے پر غور

    کراچی:چینی شہریوں پر خودکش حملے کا ایک اور مقدمہ درج

  • مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے پر غور

    مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے پر غور

    وفاقی حکومت نے اخراجات میں کمی کے لیے ملک بھر میں 446 یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند کردیا جب کہ مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بندکرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سبسڈی ختم ہونے سے ملک بھر میں 446 یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند کردیا گیا ہے جب کہ مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز کو بھی بند کرنے کا پلان ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں قائم زیادہ تر یوٹیلیٹی اسٹورزبندش کی زد میں آئے ہیں۔ذرائع یوٹیلیٹی اسٹورز کا کہنا ہے کہ اسٹورز کی بندش کے باوجود کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا، جن اسٹورز کی آمدنی کم اور نقصان زیادہ تھا ان کو بند کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے اس سال اگست میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے سبسڈی بند کردی تھی، وفاقی حکومت چینی، آٹا اور گھی سمیت 5 بنیادی اشیا پر سبسڈی دے رہی تھی۔یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن ایک سرکاری ادارہ ہے جس کی بنیاد 1971 میں رکھی گئی تھی اور اس کے تحت ملک بھر میں 4 ہزار اسٹورز چلائے جاتے ہیں جس کا مقصد عوام کو رعایتی نرخوں پر ضروری اشیا فراہم کرنا ہے۔واضح رہے کہ 16 اگست کو وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کی سفارشات پر انتظامی اخراجات کو کم کرنے اور ریاستی مشینری کو ہموار کرنے کی غرض سے وفاقی حکومت نے 5 وزارتوں کے 28 محکموں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن ختم کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔رواں سال اگست میں وزیر اعظم شہباز شریف نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن ختم کرنے کے حوالے سے تجاویز طلب کی تھیں اور حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب کی سبسڈی بھی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    کراچی:چینی شہریوں پر خودکش حملے کا ایک اور مقدمہ درج

    یونیورسٹی میں خاتون کو ہراساں کرنے پر پروفیسر برطرف،10 لاکھ جرمانہ

  • کراچی:چینی شہریوں پر خودکش حملے کا ایک اور مقدمہ درج

    کراچی:چینی شہریوں پر خودکش حملے کا ایک اور مقدمہ درج

    کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چائینیز پر خودکش حملے کا دوسرا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق مقدمہ ایس ایچ او ایئرپورٹ انسپکٹر موسیٰ کلیم کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں دہشت گردی، ٹیرر فنڈنگ، دھماکہ خیز مواد، قتل اور دیگر دفعات درج کی گئی ہیں۔مقدمے میں کالعدم بی ایل اے مجید بریگیڈ کے اہم کمانڈروں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ خودکش دھماکے میں معاونت کرنے والے افراد بھی نامزد ہیں۔پولیس نے بتایا ہے کہ مقدمے میں کالعدم بی ایل اے کے کمانڈر اور دھماکے کے ماسٹر مائنڈ بشیر احمد بلوچ عرف بشیر زیب اور عبدالرحمان عرف رحمان گل بھی نامزد کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے نجی بینک کی حب چوکی کے افسر بلال، اکاؤنٹ ہولڈر سعید علی اور دیگر نامعلوم افراد بھی مقدمے میں شامل کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ رواں برس اکتوبر میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایگزٹ پر چائینیز پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 2 چائینیز باشندوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔حملے میں ملوث خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار ہیں، خودکش دھماکے کی تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوشش بھی جارہی ہے۔

    یونیورسٹی میں خاتون کو ہراساں کرنے پر پروفیسر برطرف،10 لاکھ جرمانہ

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان و دیگر پر فردجرم کی کاروائی چھٹی بار مؤخر