Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • سابقہ سسر کو پھنسانے کی کوشش ، ملزم ساتھیوں سمیت گرفتار

    سابقہ سسر کو پھنسانے کی کوشش ، ملزم ساتھیوں سمیت گرفتار

    سابقہ سسر کو پھنسانے کی کوشش کرنے والے ملزم کو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا گیا، ملزم لاکھوں کی رقم لوٹنے کا الزام سابقہ سسر پر لگانا چاہتا تھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں ون فائیومددگار پر ڈکیتی کی جھوٹی اطلاع دینا شہری کو مہنگا پڑگیا، سائٹ سپرہائی وے پولیس نے اپنے سابقہ سسر کو پھنسانے کے لیے ون فائیو مددگار پر ڈکیتی کی جھوٹی اطلاع دینے والے شخص احمد کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
    پولیس نے بتایا کہ ون فائیومددگار پر احمد نے ایمرجنسی کال کہ اور بتایا کہ احسن آباد چڑھائی کے قریب ہائی روف میں سوار ملزمان نے ہم سے 14 لاکھ 95 ہزار روپے چھینے ہیں جس پر پولیس فوری پہنچی ، جہاں یاروگوٹھ کے رہائشی تین افراد موجود تھے۔پولیس نے بتایا کہ کالر احمد نے کہا اس کا دوست حیدرآباد سے پلاٹ فروخت کرکے رقم کے ہمراہ آرہا تھا ، جس نے اسے پک کرنے کے لیے بلایا تھا، جب وہ اسے لے کر جارہے تھے تو ان سے واردات ہوگئی۔پولیس نے شبہ ہونے پر سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو ملزمان نے سچ اگل دیا، احمد نے بتایا کہ اس نے سابقہ سسر کو پھنسانے کے لیے ڈرامہ کیا تھا اور جس ہائی روف کا نمبر پولیس کو دیا وہ اس کے سابقہ سسر کی تھی۔پولیس نے تصدیق کے لیے ملزم کے سسر کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ بیٹی نے 2 ماہ پہلے احمد سے خلع لے لی تھی۔پولیس کا کہنا ہے ملزم جھوٹی اطلاع کے ذریعے دوستوں کے ساتھ مل کر سسر کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، جن کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر نوکری سے برطرف

    سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط پر، جانیے

  • پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر نوکری سے برطرف

    پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر نوکری سے برطرف

    ضلع کورنگی تصویر محل پولیس چوکی کے سابق انچارج سب انسپکٹر راؤ فیاض کو جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ضلع کورنگی سے بی کمپنی بھیجا جانے والا پولیس افسر جرائم پیشہ افراد کا سرپرست نکلا، بلیک کمپنی میں بند کیے گئے رائوفیاض احمد کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا اس سلسلے میں حتمی حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا۔حکم نامے میں بتایا گیا کہ سب انسپکٹر رائوفیاض احمد کو دو ستمبر کو معطل کرکے بی کمپنی میں بند کیا گیا تھا، سب انسپکٹر رائو فیاض پر منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد سے ملی بھگت کا الزام تھا، رائو فیاض احمد پر گٹکا فروشوں اور دیگرغیر قانونی اشیا کی سپلائی کی سرپرستی کا بھی الزام تھا، الزامات کے حوالے سے 23 ستمبر کو رائوفیاض کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا اور 18 اکتوبر کو رائو فیاض کو دوسرا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔مختلف ذرائع سے رائو فیاض سے متعلق انفارمیشن رپورٹ بھی موصول ہوئی، ایف آئی آر کے مطابق دوران پوسٹنگ راو فیاض گٹکا ماوا بنانے والوں اور چھالیہ کے ڈیلرز کی سرپرستی میں ملوث رہا، رائو فیاض نے دوران پوسٹنگ زمینوں پر قبضے اور دیگر جرائم کی سرپرستی پرائیویٹ بیٹر بشیر کے ذریعے کی، ملزم بشیر اب بھی جرائم کی سرپرستی کے عوض ہفتہ وار بھتہ وصول کر رہا ہے، ملزم بشیر جرائم پیشہ افراد کو پولیس چوکی تک پہنچانے کا کام بھی کرتا تھا۔رائو فیاض نے ایک جرائم پیشہ نعیم عرف بوس کو حراست میں لینے کے بعد رشوت لے کر رہا کیا، پولیس چوکی تصویر محمل میں رائو فیاض کے ساتھ ایک لڑکی رمشا دیکھی گئی رمشا کی سرپرستی میں ضلع کورنگی اورملیر میں اسٹریٹ کرمنلز کا ایک گروہ کام کر رہا ہے۔رائو فیاض کی ایک ایمبولینس سروس رائو ایمبولینس کے نام سے بھی چل رہی ہے، ایمبولینس سروس شہر کے دو بڑے نجی اسپتالوں میں چلائی جا رہی ہے، پولیس رول کے مطابق رائوفیاض کو تادیبی کارروائی کے لیے مجاز ٹہرایا گیا۔چیف جاوید عالم اوڈھو کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی نے راؤ فیاض کے خلاف محکمانہ انکوائری کی، چھ نومبر کو انکوائری رپورٹ فائل کی گئی جس میں رائو فیاض کو لگائے گئے الزامات میں قصور وار ٹہرایا گیا، انکوائری رپورٹ میں راؤ فیاض کے خلاف مزید سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی۔رپورٹ کی روشنی میں 11 نومبر کو رائو فیاض کو اظہار وجوہ کا حتمی نوٹس جاری کیا گیا، انکوائری کمیٹی نے 21 نومبر کو راؤ فیاض کو ذاتی طور پر سنا اور ریکارڈ کا جائزہ لیا، رائوفیاض احمد نے جرائم پیشہ افراد سے تعلق سے انکار نہ کیا اور بتایا کہ وہ اسکے مخبر ہیں، رائو فیاض نے راؤ ایمبولینس کی ملکیت سے انکار پر زور دیا۔رائو فیاض احمد کا کہنا تھا کہ وہ فلاحی کاموں میں گہری دلچسپی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسے ایمبولینس سروس کے طور پر غلط سمجھا جاتا ہے، رائو فیاض کی سروس شیٹ کا بھی جائزہ بھی لیا گیا، سروس شیٹ کے مطابق رائو فیاض پر متعدد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاع ہیں راو? فیاض احمد اچھی شہرت کا حامل نہیں ہے، اسے ملازمت سے برطرف کیا جاتا ہے۔

    سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط پر، جانیے

    مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے والے2 ملزمان گرفتار

  • سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی و ترقی سید ناصر شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کے بجلی کے بنیادی اسٹرکچر میں انقلاب لانے کیلئے اہم اقدامات کر رہی ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر توانائی ناصر شاہ نے ایک مقامی ہوٹل میں دی نالج فورم اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انرجی اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام انرجی ڈائیلاگ کے دوران حکومت کے اس اقدام کا اعلان کیا۔ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ کے متبادل توانائی پروگرام میں صوبے کے توانائی کے مسلسل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد اختراعی طریقے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا سنگ بنیاد کم استعمال کرنے والے گھرانوں میں دو لاکھ سولر پیکجز کی تقسیم ہے، جس سے کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو صارفین کے علاقوں میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ایک جامع قابل تجدید توانائی پروگرام کا اعلان کرنا جس کا مقصد لاکھوں رہائشیوں کو سستی بجلی کے حل فراہم کرنا ہے۔ان پیکجز میں شمسی پینل، بیٹریاں، پنکھے اور بلب شامل ہیں جو صفر سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے ہیں۔ ناصر شاہ نے کہا کہ حکومت بیک وقت متعدد متبادل توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں سولر، ونڈ اور ہائبرڈ پاور کے اقدامات پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں بہت ترقی ہوئی ہے اور کوئلے سے سستی بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
    ڈائرکٹر آف الٹرنییٹ انرجی گورنمنٹ آف ونڈ محفوظ قاضی نے 400 میگاواٹ کے سولر پارکس کی ترقی پر روشنی ڈالی جس میں دو سالوں میں گرڈ انٹیگریشن متوقع ہے۔ ان کے مطابق سندھ توانائی کا مرکز ہے جو شمسی، ہوا، ایٹمی اور کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت پبلک سیکٹر میں توانائی کی تبدیلی میں پیش رفت کر رہی ہے کیونکہ سرکاری عمارتوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے اور اگلے مرحلے میں سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے۔اس اقدام کے مالی پہلو بھی اتنے ہی امید افزا ہیں جس میں حکومت سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کاربن کریڈٹس میں 49 ملین امریکی ڈالر کمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک نے قابل تجدید توانائی کی منتقلی میں مدد کے لیے 30 سالہ قرض بھی فراہم کیا ہے۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی رکن ماروی راشدی نے سمندری کٹاؤ کے تباہ کن ساحلی علاقوں کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجائی اور بالخصوص توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں میں بنیادی ڈھانچے کے اہم خلاء کو اجاگر کیا۔انہوں نے سمارٹ اور مائیکرو گرڈ ٹیکنالوجیز کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فعال طور پر حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ پرائیڈ کے بدر عالم نے تھر کے کوئلے کی کان کنی سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی دباؤ بالخصوص آبی وسائل پر کافی دباؤ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سفارش کی کہ کان کنی اور پاور پلانٹس کے لیے زمین لیز کی بنیاد پر مختص کی جانی چاہیے تاکہ طویل مدتی ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ماہرین نے مسلسل نشاندہی کی کہ قومی گرڈ ناقابل برداشت اور ناقابل بھروسہ ہے جس کیلئے جامع گرڈ فیز آؤٹ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ کوئلے کی کان کنی کے ماحولیاتی نتائج ایک بڑی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں، محققین مقامی اور درآمد شدہ کوئلہ نکالنے کے طریقوں کے اثرات کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ مکالمے میں محققین اور ماہرین نے صوبے کے توانائی کے چیلنجز کی اہم نوعیت پر زور دیا۔محقق سیدہ سدرہ مہدی نے 11 سے 17 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کے شدید اثرات کی نشاندہی کی جو لوگوں کی زندگیوں کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہے۔ چیلنجز کافی ہیں بشمول گردشی قرضہ، اعلیٰ صنعتی ٹیرف، اور وقفے وقفے سے بجلی کی فراہمی۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈاکٹر مبشر علی صدیقی جیسے ماہرین نے متبادل توانائی کے ذرائع سے متعلق ایک جامع پالیسی دستاویز کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر نعمان احمد، ڈین، این ای ڈی یونیورسٹی نے شہری مراکز میں توانائی کے بحران پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق کچی آبادیوں میں رہنے والے لوگ یوٹیلیٹی سروسز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ اس موقع پر رینیو ایبل فرسٹ کے ریسرچر حماد احمد، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تنویر باری، ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر خالد ولید، رینیو ایبل فرسٹ کے محمد باسط غوری نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں ٹی کے ایف کی ڈائریکٹر زینیہ شوکت نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور تقریب کی نظامت کی۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

  • گورنرسندھ مٹھائی لے کر پاکستان اسٹاک ایکس چینج پہنچ گئے

    گورنرسندھ مٹھائی لے کر پاکستان اسٹاک ایکس چینج پہنچ گئے

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے تاریخ ساز ریکارڈ قائم کرنے پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، آرمی چیف جنرل سید حافظ عاصم منیر، وزیر خزانہ اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی تاریخ سا ز بلندی نے ثابت کردیا ہے کہ قومی معیشت انتہائی مستحکم ہوچکی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل گورنر سندھ جب پاکستان اسٹاک ایکس چینج پہنچے تو چیف ایگزیکٹیو آفیسر فرخ ایچ سبزواری نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ گورنرسندھ نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر فرخ ایچ سبزواری کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے انہیں اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔گورنر سندھ نے ریکارڈ ساز کامیابی پر مٹھائی بھی تقسیم کی۔ گورنر سندھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے متعلقہ حکام نے بریفنگ بھی دی۔ گورنرسندھ نے مزید کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا پیمانہ ہوتی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے موجودہ مثبت اشارے قومی معیشت کے استحکام کا واضح اظہار ہے۔ثابت ہوگیا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی سے قومی معیشت مستحکم ہوچکی ہے۔بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ جن پاکستانیوں کا پیسہ باہر ہے انہیں چاہئے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی شعبہ میں سرمایہ کاری کریں وہ یہاں بزنس کریں کیونکہ جب تک ہم اپنا پیسہ یہاں نہیں لائیں گے تو ملک ترقی کیسے کرسکتاہے ۔ آج پاکستان اسٹا ک ایکس چینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اس کی مزید کامیابی کے لئے یہاں پر ملین اکائونٹس کھلنے چاہئے۔انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کے استحکام کے لئے وزیراعظم ، عسکری قیادت ، وزارت خزانہ شب و روز محنت کررہے ہیں ، آرمی چیف سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ معیشت کی حفاظت بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دوست ممالک سے کہوں گا کہ وہ بھی اسٹاک ایکس چینج کا دورہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہائوس میں آ ج 50ہزار بچے آئی ٹی کے جدید کورسز کی تعلیم حاصل کررہے ہیں ان بچوں کو بتائیں کہ وہ کس طرح اسٹاک ایکس چینج سے کماسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معیشت کی ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

    موہن جودڑو ایکسپریس کو پرانے روٹ پر بحال کردیا گیا

  • مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط  پر، جانیے

    مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط پر، جانیے

    مغربی ممالک عام طور پر آزادیٔ اظہار اور تقریر کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ بھی کچھ حدود عائد کرتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت کیا گیا ہے۔ یہاں کچھ مغربی ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں جہاں آزادیٔ اظہار کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن مخصوص پابندیاں بھی موجود ہیں:

    1. ریاستہائے متحدہ امریکہ :
    * پہلا ترمیمی حق آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن بدنامی، فحاشی، تشدد پر اکسانا، اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے بیانات (مثلاً جنگ کے دوران) پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    2. برطانیہ:
    * اگرچہ کوئی واحد تحریری آئین موجود نہیں ہے، لیکن انسانی حقوق کا ایکٹ 1998 یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق (ECHR) کو قانون میں شامل کرتا ہے۔ ECHR کا آرٹیکل 10 آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتا ہے، لیکن قومی سلامتی، عوامی تحفظ، یا جرائم کی روک تھام کے لیے پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔

    3. جرمنی:
    * جرمن بنیادی قانون کا آرٹیکل 5 آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن نفرت انگیز تقاریر، ہولوکاسٹ کے انکار، نفرت پر اکسانے، اور انسانی وقار کی خلاف ورزی پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔

    4. فرانس:
    * فرانسیسی آئین اور یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتے ہیں۔ تاہم، نفرت انگیز تقاریر، بدنامی، اور عوامی نظام یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے مواد پر پابندیاں ہیں۔

    5. کینیڈا:
    * چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈمز آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتا ہے، لیکن سیکشن 1 کے تحت معقول حدود کی اجازت دیتا ہے، اگر وہ آزاد اور جمہوری معاشرے میں جائز ہوں (مثلاً نفرت انگیز تقریر، بدنامی، اور فحاشی کے قوانین)۔

    6. آسٹریلیا:
    * آسٹریلیا میں آزادیٔ اظہار کے لیے کوئی واضح آئینی تحفظ نہیں ہے، لیکن عدالتوں نے سیاسی اظہار کی ضمنی آزادی کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم، بدنامی، نفرت انگیز تقاریر، اور تشدد پر اکسانے پر پابندیاں ہیں۔

    7. یورپی یونین کے ممالک:
    * زیادہ تر یورپی یونین کے ممالک یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق (ECHR) کی پیروی کرتے ہیں، جو آرٹیکل 10 کے تحت آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم، قومی سلامتی، عوامی تحفظ، اور دیگر افراد کے حقوق و عزت کے تحفظ کے لیے پابندیاں بھی لاگو کی جا سکتی ہیں۔ان تمام مثالوں میں، آزادیٔ اظہار مطلق نہیں ہے بلکہ اکثر قومی سلامتی، عوامی نظم، اخلاقیات، یا دیگر افراد کے حقوق کے تحفظ جیسے عوامل کے ساتھ متوازن ہوتی ہے۔ یہ فریم ورک کسی حد تک پاکستان کے آرٹیکل 19 سے مشابہ ہے، حالانکہ پابندیوں کا دائرہ کار اور ان کا نفاذ کافی مختلف ہو سکتا ہے۔

    مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے والے2 ملزمان گرفتار

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    کراچٰی میں پولیس مقابلے، مفرور ڈاکو مارا گیا، 3 گرفتار

  • مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے والے2 ملزمان گرفتار

    مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے والے2 ملزمان گرفتار

    مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے میں ملوث2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا، جعلی اسٹیکر بناکر آئل فروخت کیے جارہے تھے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں سچل پولیس نے اسکیم 33میمن نگرمیں مکان پر چھاپہ مار کر مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے میں ملوث2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے بتایا کہ گھر سے برانڈڈ آئل کی بوتلیں،مشینیں اوردیگر سامان بھی برآمد ہوا، چھاپہ پرائیویٹ کمپنی کے فیلڈ منیجرمرتضی کی نشاندہی پرماراگیا۔حکام کا کہنا تھا کہ سچل تھانے میں کمپنی کیعہدیدارکی مدعیت میں مقدمہ بھی درج کرلیا ہے ، جس میں کہا ہے کہ میمن نگرمیں جعلی آئل بناکرجعلی اسٹیکر بناکر فروخت کیے جارہے تھے۔مقدمے کے متن میں کہنا تھا کہ ہماری رجسٹرڈ کمپنیوں کو نقصان اورعوام کو دھوکا دیا جارہا تھا، پولیس کیہمراہ مکان پرپہنچینشاندہی پر2ملزمان کوگرفتارکیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتارملزمان میں تسلیم اورارشادشامل ہیں، مکان سیمشین خالی بوتلیں ڈھکن سیل اسٹکرزاوردیگرسامان بھی ملا ، ملزمان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

    موہن جودڑو ایکسپریس کو پرانے روٹ پر بحال کردیا گیا

  • کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جدید کیمروں سے لیس 2 گاڑیاں( ایمرجنسی ریسپانس وہیکل ) آزمائشی طور پرسڑکوں پرآگئیں، گاڑیوں میں لگے 6 جدید کیمروں سے مشکوک گاڑیوں کی نمبرپلیٹس اورمشکوک افراد کے چہروں کو شناخت کیا جا سکے گا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جدید کیمروں سے لیس 2 گاڑیاں( ایمرجنسی ریسپانس وہیکل ) سڑکوں پرآگئیں ، گاڑیوں میں 12 میگا پکسل کی7 جدید کیمرے نصب ہیں گاڑیوں میں لگے 6 جدید کیمروں سے مشکوک گاڑیوں کی نمبرپلیٹس اورمشکوک افراد کے چہروں کو شناخت کیا جا سگے گا، گاڑی کی چھت پرلگا کیمرا 360 ڈگری تک روٹیٹ کرسکتا ہے۔جدید کیمروں سے لیس گاڑیوں کو ابتدائی طورپرشہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں کھڑا کیا گیا ہے،ایک گاڑی میں ایک کمانڈراور تین سپاہی موجود ہوں گے ، گاڑی میں موجود کمانڈرکے پاس ایک ٹیبلیٹ ہو گا جو کہ کیمروں اور مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے منسک ہوگا۔انچارج آپریشن سیف سٹی شہباز مغل نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر جدید کیمروں سے لیس 23 گاڑیاں موجود ہوں گی جو کہ شہر کے مختلف علاقوں اورشاہراہوں میں کھڑی کی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں میں لگے کیمرے نائٹ ویڑن ہیں اور اندھیرے میں کام کرنے کی صلاحت رکھتے ہیں، کیمرے کے لیے چہرہ اورگاڑیوں کی نمبر پلیٹس ریڈ ایبل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ نادرا اورایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہے جسے ہی کوئی مشکوک شخص یا جعلی نمبرپلیٹ لگی گاڑی کیمروں سے لیس گاڑی کے سامنے گزرے گی اس کی نشاندہی ہو جائے گی اوراس گاڑی یا مشکوک شخص سے متعلقہ تھانے کو اطلاع کردی جائے گی۔گاڑی میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ وائرلیس سیٹ بھی موجود اگرکبھی نیٹ کے مسائل سامنے آتے ہیں اورنیٹ نہیں چل رہا ہوا تو متعلقہ تھانے کو وائرسیل سیٹ کے ذریعے اطلاع کر دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ جدید آلات سے نصب گاڑیوں کی کوئی جگہ مختص نہیں ہوگی جس جگہ پران گاڑیوں کی ضرورت ہو گی انہیں وہاں کھڑا کردیا جائے گا۔انچارج سیف سٹی نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر میں مجموعی طور پر 13 سو جدید کیمرے لگائے جائیں گے جن میں سے 100 جدید کیمرے آپریشن ہو چکے ہیں جبکہ 300 نئے پولز لگنے ہیں جن میں 15 سے زائد پولز شہر کے مختلف علاقوں میں لگاجا چکے ہیں۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

    موہن جودڑو ایکسپریس کو پرانے روٹ پر بحال کردیا گیا

  • کراچٰی میں پولیس مقابلے، مفرور ڈاکو مارا گیا،  3 گرفتار

    کراچٰی میں پولیس مقابلے، مفرور ڈاکو مارا گیا، 3 گرفتار

    سکھن ، شاہ لطیف اور خواجہ اجمیر نگری پولیس نے مبینہ مقابلوں میں ایک مفرور ڈاکو کو ہلاک کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مقابلوں میں 2 زخمیوں سمیت 3 ڈاکووں کو گرفتار کر کے اسلحہ ، لوٹی گئی رقم ، موبائل فونز اور دیگر مسروقہ سامان برآمد کر لیا ۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق سکھن پولیس نے بدھ کی شب بھینس کالونی 12 نمبر روڈ سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی شناخت 27 سالہ معشوق عرف بادشاہ ولد جہانگیر کے نام سے کی گئی۔گرفتار ملزم سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، موبائل فون ، نقد رقم اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی ۔ سکھن پولیس فرار ملزم کی تلاش میں مصروف تھی کہ 12 نمبر روڈ مکی شاہ مزار کے قریب ملزم نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی، جس پر جوابی فائرنگ سے ملزم معشوق عرف بادشاہ زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، جو مفرور ملزم نواز کا ساتھی تھا۔بعدازاں گرفتار ملزم معشوق دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ادھر شاہ لطیف پولیس نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لانڈھی منزل پمپ کوہی گوٹھ کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد زخمی سمیت 2 ڈاکووں کو گرفتار کر لیا، جسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہازن ملزم کی شناخت 19 سالہ ذاکر علی ولد اختر علی کے نام سے کی گئی جبکہ دوسرے گرفتار ملزم نے اپنا نام عامر بتایا ۔گرفتار ملزمان سے ایک پستول بمعہ گولیاں، چھینے گئے 2 موبائل فونز اور 20 ہزار روپے نقد برآمد کر لیے گئے۔خواجہ اجمیر نگری پولیس نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نارتھ کراچی سیکٹر 1A-4 جمعرات بازار کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ، بعد ازاں ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی شناخت 35 سالہ فرحان ولد نظیرخان کے نام سے کی گئی ۔ ملزم کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ ملزم سے پستول بمعہ گولیاں ، 2موبائل فونز اور نقد رقم برآمد کی گئی ۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

    موہن جودڑو ایکسپریس کو پرانے روٹ پر بحال کردیا گیا

  • کراچی میں صاف پانی کی فراہمی ،سیوریج کے نظام کو بہتر کرنا ہے، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

    کراچی میں صاف پانی کی فراہمی ،سیوریج کے نظام کو بہتر کرنا ہے، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کے انفراسٹرکچر، اسٹریٹ لائٹس، پلوں اور فلائی اوورز کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں.

    صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پولیس سروس کے 51ویں اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 27ویں کمانڈر کورس کے شرکاء پر مشتمل ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کہنا تھا کہ اس ملک کو نوجوان اور پر عزم لیڈر شپ کی ضرورت ہے، بروقت اور جرات مندانہ اقدامات سے ہی بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں،نوجوان اور پٴْرعزم آفیسرز ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں،کے ایم سی کے ٹیکس کلیکشن میں اضافے سے صورتحال میں بہتری آئی ہے،کے ای کے ذریعے ٹیکس کلیکشن سے تین ارب روپے سے زائد سالانہ کی آمدنی متوقع ہے، کراچی کے لیے اوّلین ترجیح صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام کو بہتر کرنا بھی ہے جس کے لئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔اس موقع پر میونسپل کمشنر کے ایم سی ایس ایم افضل زیدی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وفد کو کے ایم سی آمد پر خوش آمد ید کہا، انہوں نے کہاکہ کے ایم سی کراچی میں بلدیاتی خدمات کی فراہمی پر مامور مرکزی ادارہ ہے، اس وقت واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا کنٹرول بھی میئر کراچی کے پاس ہے جس سے شہر میں ہونے والے ترقیاتی کاموں میں اجتماعیت اور تیز رفتاری کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملی ہے، اس کے علاوہ شہر کے دیگربلدیاتی اداروں کے ساتھ بھی مکمل رابطہ رکھا جاتا ہے اور شہریوں کی مشاورت سے تمام امور انجام دیے جارہے ہیں، اس حکمت عملی کے موثر اور مفید نتائج برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی ادارے کو چلانے کے لئے مالی استحکام لازمی ہے، کے ایم سی کی مارکیٹوں میں دکانوں کا کرایہ دو سو روپے سے ایک ہزار روپے تھا،کے ایم سی کی دکانوں کا کرایہ بڑھایا تو دکاندار احتجاج کے لیے میرے پاس آگئے،کرایہ بڑھانے سے کلیکشن 80ملین سے بڑھ کر 255ملین ہوگئی ہے جبکہ 82ملین روپے ہر ماہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں خرچ ہوتے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کے تعاون سے کراچی میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید ترقیاتی منصوبے عوام کے سامنے لائے جائیں گے جس سے عام آدمی کو فوائد حاصل ہوں گے۔ اس سے قبل شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے میونسپل کمشنر افضل زیدی نے کے ایم سی کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کے ایم سی کے مختلف محکموں اور ان کے ذمہ فرائض کے حوالے سے بتایا اور کہاکہ کے ایم سی شہریوں کو ہر ممکن بہتر بلدیاتی خدمات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے اور اس کے لئے شہریوں کے مسائل کے فوری اور جلد حل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔وفد کے شرکاء نے بعدازاں کے ایم سی کی تاریخی عمارت کا دورہ کیا اور اس کی تاریخی اہمیت کے بارے میں معلومات حاصل کیں جس کے دوران انہیں کے ایم سی کونسل ہال اور چھت پر تاریخی کلاک ٹاور کا دورہ بھی کرایا گیا۔ وفد کے اراکین نے اپنے دورے کو انتہائی مفید اور کارآمد قراردیا او رکہا کہ انہیں اس کے ذریعے کے ایم سی او راس کی کارکردگی کے متعلق بہت کچھ سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا ہے۔

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

    موہن جودڑو ایکسپریس کو پرانے روٹ پر بحال کردیا گیا

  • ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    کراچی کی احتساب عدالت نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس کی سماعت نیب پراسکیوٹر کی غیر حاضری کے باعث بغیر کسی کارروائی کے 2دسمبر تک ملتوی کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کی احتساب عدالت میں سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔نیب پراسکیوٹر کی غیر حاضری کے باعث سماعت بغیر کسی کارروائی کے 2 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں آغا سراج درانی نے کہا کہ کیس میرا وہیں پر ہے جہاں پچھلی دفعہ چھوڑ گئے تھے۔ نیب پراسیکیوٹر کی کسی رشتہ دار کا انتقال ہوگیا ہے اس لیے سماعت ملتوی ہوئی۔فاروق ایچ نائیک دلائل دینا چارہے تھے۔ آغا سراج درانی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر کہا کہ قانون کے مطابق ایسے حالات کا نوٹس لینا چاہئے۔ملکی حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ٹی وی سیریل چل رہی ہے۔ ایک صوبے کا وزیر اعلی وفاقی دارلحکومت پر حملہ کرے اس پر قانونی ایکشن ہونا چاہئے۔ 1973 میں بھی ایک صوبے کے وزیر اعلی نے وفاق پر حملہ کیا تھا لیکن اس کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ آج بھی ایک وزیراعلی نے وفاق پر حملہ کیاہے لیکن کارروائی نہیں ہورہی۔ 1973 کے آئین کے مطابق ایسے وزیر اعلی کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی گورنر راج کے حق میں نہیں ہے۔ اگر ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا۔آئین اجازت دیتا ہے۔

    میہڑ: غیر قانونی پٹرول پمپوں کے خلاف کارروائی، دو پٹرول پمپ سیل

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ