Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • اے این ایف کی کارروائیاں ، 86 کلو سے زائد منشیات برآمد، 7 ملزمان گرفتار

    اے این ایف کی کارروائیاں ، 86 کلو سے زائد منشیات برآمد، 7 ملزمان گرفتار

    اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف)نے 13 کارروائیوں میں86.92 کلو سے زائدمنشیات برآمد کرلی ہے جبکہ 7 ملزمان کوبھی گرفتار کرلیاگیاہے۔

    ترجمان اے این ایف کے مطابق یہ کارروائیاں کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، حب، راولپنڈی، سیالکوٹ، ملتان اور گوجرانوالہ میں کی گئیں ، کارروائیوں کے دوران 66 کلو چرس،18 کلو540گرام آئس برآمدکرلی گئی ۔ترجمان نے بتایاکہ کارروائیوں میں ایک کلو182گرام ویڈ،1 کلو ہیروئن،44 ہیروئن بھرے کیپسولز برآمد کیے گئے ہیں ، گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلباء کوبھی منشیات فروخت کرنے کااعتراف کیا ہے ۔ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کیخلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

    کراچی کی جیل سے قیدی فرار،غفلت برتنے پرسات پولیس اہلکارگرفتار

  • کراچی کی جیل سے قیدی فرار،غفلت برتنے پرسات پولیس اہلکارگرفتار

    کراچی کی جیل سے قیدی فرار،غفلت برتنے پرسات پولیس اہلکارگرفتار

    کراچی کی ملیرجیل سے قیدی فرار ہونے پر سات پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیاہے۔پولیس کے مطابق غفلت برتنے پر پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرک ملیرجیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کی ملیرجیل میں قید ملزم محمد جاوید فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔قیدی کواغوا اور زیادتی کے کیس میں2سال قبل سپرہائی وے پولیس نے گرفتارکیاتھا۔پولیس کے مطابق قیدی نے واش روم کی کھڑکی کاٹی اور رسی کی مدد سے جیل کی دیوار پھلانگ کر فرارہوگیا۔جیل حکام نے ملزم اور ڈیوٹی پر موجود 8 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی تھی۔پولیس حکام کے مطابق ملزم کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

    بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے : نواز شریف

  • کراچی پولیس کی اسٹریٹ کرائم کے خلاف کاروائیاں، 5 ملزم گرفتار

    کراچی پولیس کی اسٹریٹ کرائم کے خلاف کاروائیاں، 5 ملزم گرفتار

    کراچی پولیس نے اسٹریٹ کرائم کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے انتہائی مطلوب 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل ، نارتھ ناظم آباد پولیس کی ٹیکنیکل بنیادوں پر کاروائی اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان گرفتار اسلحہ برآمد کیا گیا جائے وقوعہ بمقام اندرون گلی نزد طیبہ مسجد نارتھ ناظم آباد تھا جبکہ ملزمان کی شناخت 01 سید سلمان ولدسید قادر 02 عدنان ولد رحیم کے نام سے ہوئی ہے جن کے قبضے سے 2 عدد غیر قانونی پسٹل ایک 30 بور لوڈ میگزین بمعہ 03 زندہ راؤنڈ اور ایک 32 بور ریوالورلوڈ میگزین بمعہ 02 زندہ راؤنڈ برآمد ہوئے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 317/318/2024 جرم دفعہ 23-1 (A) کا مقدمہ قائم کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
    دوسری کاروائی ضلع کورنگی ،تھانہ سعودآباد پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے ملزم خالد ولد رفیق کو گرفتار کر لیا۔ملزم سے ایک عدد ریوالور 32 بورمع ایمونیشن برآمد ہوا جبکہ ملزم نے ابتدائی طورمتعدد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا انکشاف کیا۔ ملزم گرفتار شدہ کےخلاف سندھ آرمز ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا.ملزم عادی جرائم پیشہ اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ھے۔ملزم قبل ازیں تھانہ ماڈل کالونی،الفلاح اور کھوکھرا پار میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہےملزم کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹیگیشن و نگ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ تیسری کاروائی ڈسٹرکٹ ویسٹ، سرجانی (محبوب شہید چوکی) پولیس نے اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران سیکٹر 7 سے موٹرسائیکل سوار 02 ملزمان کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان سے 02 غیر قانونی پسٹلز بمعہ ایمونیشن اور نقدی رقم برآمد ہوئی۔ ملزمان کے زیراستعمال موٹرسائیکل کو بھی قبضہ پولیس میں لے لیا گیا ہے جس کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔گرفتار ملزمان میں عبدالرافع ولد محمد رفیق اور شاہزیب ولد فرقان شامل ہیں۔گرفتار ملزمان کے خلاف سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    کراچی پولیس کی گٹکا ماوا اور منشیات مافیا کے خلاف کامیاب کاروائیاں، 4 ملزم گرفتار

    حکومتی غفلت کی وجہ سے سندھ میں غربت و افلاس اور ڈاکوئوں کا راج ہے،اسداللہ بھٹو

    اکتوبر میں بھی شہر قائد میں شدید گرمی کی لہر، پارہ ہائی

  • کراچی پولیس کی گٹکا ماوا اور منشیات مافیا کے خلاف کامیاب کاروائیاں، 4 ملزم گرفتار

    کراچی پولیس کی گٹکا ماوا اور منشیات مافیا کے خلاف کامیاب کاروائیاں، 4 ملزم گرفتار

    کراچی پولیس نے گٹکا ماوا اور منشیات مافیا کے خلاف کامیاب کاروائیوں میں سامان سمیت 4 ملزمان گرفتار کر لیے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورنگی نمبر½2 کے قریب گودام پر چھاپے کے دوران دو ملزمان گرفتار کیے گئے جن سے گٹکا ماوا بنانے کا سامان اور سپلائی میں استعمال ہونے والی لوڈنگ سوزوکی بھی برآمد ہوئی.ملزمان سے140 کلوچھالیہ،پتی کے پیکٹ، پاؤڈر،چونا،مضر صحت کیمیکل اور کافی مقدار میں تیار گٹکا ماوا بر آمد کیا گیا.گرفتار ملزمان کی شناخت گل حسن اور عبداللہ کے ناموں سے ہوئی۔گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ شہر کے مختلف حصوں میں گٹکا ماوا سپلائی کرتے ہیں۔ملزمان کے خلاف گٹکا ماوا ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج۔ملزمان سے برآمد ہونےوالی گاڑی اور سامان کو ضابطے کےتحت قبضہ پولیس میں لیاگیا۔ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے شعبہ تفتیش کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ دوسری کاروائی میں ضلع کورنگی , تھانہ لانڈھی پولیس نے کاروائی کرتےھوئے لال مزار ایریا لانڈھی نمبر½5 گٹکا ماوا ڈیلر گرفتار کر لیا۔گرفتار شدہ ملزم کا نام حماد عرف مون ولد محمد سلیم ہے۔ملزم پہلے بھی متعدد بار گٹکا ماوا فروشی کے مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے۔ملزم انتہائی مطلوب گٹکا ماوا فروشوں کی لسٹ میں نامزدتھا۔ملزم کے خلاف گٹکا ماوا ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج۔ملزم کو مزید تفتیش کے لئے شعبہ تفتیش کے حوالے کیاگیا۔ تیسری کاروائی کے دوران ڈسٹرکٹ ویسٹ، تھانہ پیرآباد پولیس نے منشیات فروش ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے میانوالی کالونی میں کاروائی کرکے ملزم نواب خان ولد بختی عمر کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزم سے آدھا کلو سے زائد چرس (510 گرام) اور نقدی رقم برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹیکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔گرفتار ملزم عادی جرائم پیشہ ور ہے اور قبل از بھی ذیل مقدمات میں جیل جا چکا ہے۔

    حکومتی غفلت کی وجہ سے سندھ میں غربت و افلاس اور ڈاکوئوں کا راج ہے،اسداللہ بھٹو

    منعم ظفرنےلیاقت آباد میں محمدی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کردیا

    26ویں آئینی ترمیم منظوری کے بعد پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات

  • حکومتی غفلت کی وجہ سے سندھ میں غربت و افلاس اور ڈاکوئوں کا راج ہے،اسداللہ بھٹو

    حکومتی غفلت کی وجہ سے سندھ میں غربت و افلاس اور ڈاکوئوں کا راج ہے،اسداللہ بھٹو

    ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر سابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے کہاہے کہ حکومتی غفلت کی وجہ سے آج پرامن و خوشحال سزمین سندھ میں غربت و افلاس اور ڈاکوئوں کا راج قائم ہے کسی کی جان و مال محفوظ نہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے درگاھ منگھو پیر کے دورے کے موقع پر کیا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ کراچی تا کشمور سندھ کے عوام اس ظلم کے راج کے خلاف سراپا احتجاج ہیں مگر انتظامیہ سمیت پوری حکومتی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔سندھ دھرتی اور اولیائے اللہ کی سرزمین ہے جن کا باب الاسلام سندھ میں دعوت دین اور اصلاح معاشرہ کے لیے بڑا کردار ہے۔ انہوں نے سجادہ نشین عبدالمجید خاصخیلی سے ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کی ان کے بیٹے دانیال خاصخیلی اور مجاہد چنا بھی ساتھ موجود تھے۔اسداللہ بھٹو نے کہاکہ اللہ کے ولیوںنے ہمیشہ امن ومحبت ،بھائی چارے اورانسانیت کی خدمت کا درس دیا،اولیاء اللہ کی تعلیمات سے متاثر ہوکر بے شمار لوگوں نے اسلام قبول کیااور ہدایت کی روشنی سے سرفراز ہوئے۔

    منعم ظفرنےلیاقت آباد میں محمدی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کردیا

    پی سی بی ریجنل انٹر کلب کرکٹ ٹورنامنٹ(کراچی ریجن )آج سے شروع ہوگا

  • منعم ظفرنےلیاقت آباد میں محمدی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کردیا

    منعم ظفرنےلیاقت آباد میں محمدی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کردیا

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور ٹاؤن چیئرمین لیاقت آباد فراز حسیب کے ہمراہ ٹاؤن کے تحت اہلیان لیاقت آباد کے لیے محمدی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کیا اور محمدی گراؤنڈ میں پودا لگا کر شجر کاری مہم کا بھی آغاز کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمدی اسپورٹس کمپلیکس میں افتتاحی تقریب کے شرکاء سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ،جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،ٹاؤن چیئرمین لیاقت آباد فراز حسیب ،وائس چیئرمین اسحاق تیموری،ناظم علاقہ لیاقت آباد مسعود علی،چیئرمین یوسی 2 عبید احمد خان ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔منعم ظفر خان نے کہاکہ کراچی میں جس دن سے ٹاؤن چیئرمینز کو محدود اختیارات ملے اس کے بعد سے جماعت اسلامی کے تمام ٹاؤن کے چییرمینز نے اپنے اپنے ٹاؤنز میں عوامی ریلیف کے لیے کام شروع کردیے، مختصر وقت میں لیاقت آباد ٹاؤن کے چیئرمین نے 11 ماہ میں 11 پارکس اور 2 اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا تھا کہ ہم اختیارات کا رونا نہیں روئیں گے بلکہ اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے، آج حافظ نعیم الرحمن کی پوری ٹیم شہر کو روشنیوں کا شہر بنانے کا کام کررہی ہے، جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز اہلیان کراچی کو پارکوں، اسپورٹس کمپلیکس اور اربن فاریسٹ کے تحائف دے رہے ہیں۔آج سے 20سال قبل نعمت اللہ خان نے محمدی گراؤنڈ آباد کیا تھا ،ہم عزم کرتے ہیں کہ 2025میں محمدی گراؤنڈ کو ازسر نو آباد کریں گے۔ لیاقت آباد ٹاؤن کراچی کا دل ہے، پورے پاکستان میں تحریکوں کا مرکز لیاقت آباد ہوتا تھا۔ ہمیشہ سے لیاقت آباد کے لوگوں نے تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ 20 سال میں اہلیان لیاقت آباد کی شناخت تبدیل کردی گئی، نوجوانوں کو منشیات میں لگایا گیا اور ان کے ہاتھوں سے کتاب اور قلم چھین لیے گئے۔
    جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی جماعت ہے،ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ پیپلز پارٹی کراچی کو سندھ کا حصہ ہی نہیں سمجھتی اور نہ ہی کراچی کو اس کا حق دیتی ہے، بلدیاتی انتخابات میں بھی کراچی میں جماعت اسلامی کی نشستوں پر قبضہ کرکے میئرشپ کو چھینا گیا اور آج تک ترقیاتی فنڈز نہیں دیے، ہم انہی وسائل اور اختیارات میں شہریوں کی خدمت کررہے ہیں اور شہریوں کے حقوق بھی حاصل کریں گے۔
    پیپلز پارٹی نے شہر کے اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بناکر ادارے پرقبضہ تو کرلیا لیکن کام نہیں کرتے، ہم اختیارات کا رونا نہیں روئیں گے بلکہ مزید اختیارات بھی چھین کر لیں گے۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سڑکیں بنانے کے اختیارات بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہیں، سڑکوں کی مرمت اور استرکاری کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی جارہی ہے ،کراچی کے حق پر ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے۔کے الیکٹرک کو کراچی کے شہریوں پرمسلّط کرنے والے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ہیں،انہوں نے مل کر دو دفعہ کے الیکٹرک کی نج کاری کی اور آج بھی کے الیکٹرک کو انہی پارٹیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ جماعت اسلامی اہلیان لیاقت آبادکو تنہا نہیں چھوڑے گی، ہم تعلیم کے میدان بھی لیاقت آباد کو آگے بڑھائیں گے، لیاقت آباد میں موجود سرکاری سکولوں کو بھی پھر سے آباد کریں گے۔
    اہلیان لیاقت آباد اپنے حق کے لیے نکلیں اور جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، جماعت اسلامی نے نہ ماضی میں مایوس کیا، نہ ہی آئندہ مایوس کریں گے۔محمد فاروق نے کہاکہ ٹاؤن ویوسی چیئرمینز مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے کچرے کے ڈھیر کو پارکوں اور اسپورٹس کمپلیکس میں تبدیل کیا۔جنوری 2023 میں بلدیاتی انتخابات میں شہر نے جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر اعتماد کیا اور شہر میں جماعت اسلامی سب سے بڑی جماعت کی صورت میں سامنے آئی، اس کے بعد پھر سے سازشیں کی گئیں 194 نشستوں والوں کو ہروادیا گیا اور 172 نشستیں والوں کو جتوادیا گیا۔
    شہر میں جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینز ہیں شروع سے ہی سازشیں کی گئیں اور فنڈز نہیں دیے گئے ہیں۔سازشین کرنے والے سمجھ رہے تھے کہ جماعت اسلامی بھی ماضی کے لوگوں کی طرح آ خر میں فائلیں پھینک کر چلی جائے گی لیکن جماعت اسلامی کے ٹاؤن چییرمینز نے ان کی تمام تر سازشوں جو ناکام بنادیا ہے۔ سندھ حکومت نے کراچی کے تمام اداروں پر قبضہ کرلیا ہے، پیپلز پارٹی کی خمیر میں کراچی دشمنی ہے وہ کراچی کو کچھ دینا نہیں چاہتی، پیپلز پارٹی کو لاڑکانہ اور سکھر سے ووٹ ملتا ہے، پیپلز پارٹی بتائے کہ انہوں نے گزشتہ 50سال میں لاڑکانہ اور سکھر کے عوام کے لیے کتنے پارکس اور اسپورٹس کمپلیکس بنائے ہیں۔
    جماعت اسلامی کراچی کے شہریوں کی نمائندہ جماعت ہے، ہم محدود اختیارات میں بھی اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے۔ ہم شہر کراچی کو ایک بار پھر سے روشنیوں کا شہر بنائیں گے۔فراز حسیب نے کہاکہ ہم نے 11ماہ میں لیاقت آباد میں 11 ماڈل پارکس بنائے ہیں اور نوجوانوں کے لیے 2 اسپورٹس کمپلیکس بنائے ہیں۔ ہم اہلیان لیاقت آباد کے لیے مزید بھی ریلیف کے کام کریں گے۔
    ہمیں محدود وسائل اور اختیارات دیے گئے ہیں جس میں اپنی ٹیم کے ساتھ عوامی ریلیف کے کام کررہے ہیں۔ اختیارات اور وسائل وہی ہیں جو ماضی میں ٹاؤن چئیرمینز کو دیے گئے تھے۔ماضی میں ایسی پارٹیاں جو وفاقی و صوبائی حکومتوں کا حصہ تھیں اور کراچی میں بھی ان کی حکومت تھی لیکن انہوں نے لیاقت آباد اور کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آج سے 20 سال قبل جماعت اسلامی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے محمدی گراؤنڈ کی تعمیر کی تھی جسے سازش کے تحت تباہ و برباد کیا گیا۔
    لیاقت آباد کے نوجوان مایوسی کا شکار تھے، ہم نے نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے 2 اسپورٹس کمپلیکس بنائے ہیں اور مزید بھی کام کریں گے۔ ہم تمام شعبہ جات میں کام کریں گے اور لیاقت آباد کو آگے بڑھائیں گے۔ اہلیان لیاقت آباد جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

    پی سی بی ریجنل انٹر کلب کرکٹ ٹورنامنٹ(کراچی ریجن )آج سے شروع ہوگا

    پی سی بی ریجنل انٹر کلب کرکٹ ٹورنامنٹ(کراچی ریجن )آج سے شروع ہوگا

  • پی سی بی ریجنل انٹر کلب کرکٹ ٹورنامنٹ(کراچی ریجن )آج سے شروع ہوگا

    پی سی بی ریجنل انٹر کلب کرکٹ ٹورنامنٹ(کراچی ریجن )آج سے شروع ہوگا

    پی سی بی ریجنل انٹر کلب کر کٹ ٹورنامنٹ(کراچی ریجن )بروز پیر 21 اکتوبر سے شروع ہو ہورہا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جس میں سات زونز کی سات وہ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں جو کہ زونز میں منعقد کردہ پی سی بی انٹر کلب کرکٹ ٹورنامنٹ کی فاتح رہی ہیں جس میں زون ایک کی ایئر پورٹ جیمخانہ ،زون دوداد اسپورٹس، زون تین محمد حسین کرکٹ کلب، زون چار فیصل جیمخانہ، زون پانچ بلال فرینڈز کرکٹ کلب، زون چھ پاکستان کرکٹ کلب شامل ہیں۔پروگرام کے مطابق بروز پیر 21 اکتوبر کو داد اسپورٹس کا مقابلہ بلال فرینڈز سے کے سی سی اے اسٹڈیم پر ، 22 اکتوبر کو پہلا میچ ایئرپورٹ جیمخانہ بمقابلہ ناظم آباد جیمخانہ کا میچ کے سی سی اے اسٹڈیم پر جبکہ دوسرا میچ محمد حسین کرکٹ کلب بمقابلہ فیصل جیمخانہ نیا ناظم آباد پر ٹورنامنٹ کا پہلا سیمی فائنل 23 اکتوبر کو کے سی سی اے اسٹڈیم پر اور دوسرا سیمی فائنل 24 اکتوبر کو نیا ناظم آباد اسٹیڈیم پر کھیلا جائے گا۔ٹورنامنٹ کا فائنل 29 اکتوبر کو کے سی سی اے اسٹڈیم پر کھیلا جائے گا۔

    اکتوبر میں بھی شہر قائد میں شدید گرمی کی لہر، پارہ ہائیوزیر تعلیم سندھ کامیٹرک میں پوزیشن ہولڈرز کیلئے لاکھوں روپے کے انعامات کا اعلان

  • اکتوبر میں بھی شہر قائد میں شدید گرمی کی لہر، پارہ ہائی

    اکتوبر میں بھی شہر قائد میں شدید گرمی کی لہر، پارہ ہائی

    اکتوبر کے مہینے میں بھی شہر قائد میں شدید گرمی کی لہر جاری، پارہ ہائی ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں شدید گرمی میں بجلی کی بندش کا دورانیہ کے الیکٹرک نے بڑھا دیا جس کے بعد شہر بھر کے مختلف علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔سرجانی، اورنگی ٹائون، قصبہ کالونی، محمود آباد، عظم بستی، لانڈھی کورنگی اور شاہ فیصل کالونی میں 14 سے 18 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، اس کے علاوہ ملیر، ماڈل کالونی قائد آباد، کھوگھرا پار، لٹ بستی، منظور کالونی، صفورہ کے علاقوں میں بھی 14 سے 16 گھنٹوں کی بجلی بند رکھنا روز کا معمول بن گیا ہے۔نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، ایف بی ایریا میں بھی 10 سے 12 گھنٹے بجلی کی بندش کی جارہی ہے۔اہلیان کراچی نے کہا کہ شدید گرمی میں کے الیکٹرک شہریوں کے صبر کا امتحان لینے لگا، جبکہ بجلی کی بندش کے باعث پانی کے بھران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہریوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے الیکٹرک کو لگام دیں، شدید گرمی میں بجلی بند کرنا عوامی دشمنی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

    وزیر تعلیم سندھ کامیٹرک میں پوزیشن ہولڈرز کیلئے لاکھوں روپے کے انعامات کا اعلان

  • وزیر تعلیم سندھ کامیٹرک میں پوزیشن ہولڈرز کیلئے لاکھوں روپے کے انعامات کا اعلان

    وزیر تعلیم سندھ کامیٹرک میں پوزیشن ہولڈرز کیلئے لاکھوں روپے کے انعامات کا اعلان

    سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے میٹرک بورڈ کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے انعامات کا اعلان کیا ہے۔ت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے دہلی اسکول اولڈ بوائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کے دوران پہلی پوزیشن کو 2 لاکھ روپے، سیکنڈ پوزیشن کو ڈیڑھ لاکھ اور تیسری پوزیشن والی طالبہ کو ایک لاکھ دینے کا اعلان کیا۔کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نارتھ ناظم آباد کے آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی تقریب میں طلبہ و طالبات، اساتذہ، تعلیمی افسران و دیگر نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا سرکاری اسکول کے بچے نے پوزیشن حاصل کر کے ایک مثال قائم کر دی ہے۔انھوں نے کہا چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ذمہ داری دیتے ہوئے مجھ سے پوچھا تھا کہ پہلا کام کیا کرو گے، میں نے چیئرمین سے کہا تھا کہ اپنی بیٹی کو سرکاری اسکول میں داخل کرائوں گا، اپنے اسکولوں کو اون کرنا اپنی ذمہ داری کے طور پر میرا پہلا اصول تھا۔

    وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ بورڈ امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم حافظ عبدالرافع کی حوصلہ افزائی کی۔وزیر تعلیم نے کہاکہ 28 سال کے بعد سرکاری اسکول کی پوزیشن سے ایک نئی شروعات ہوئی ہے، میں پرائیویٹ اسکول کے خلاف نہیں ہوں مگر والدین کے حق میں ضرور ہوں، محکمہ تعلیم روزگار دینے کا ذریعہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں اسکول اس دھرتی کے صاحب حیثیت لوگوں نے بنائے، سند مدرسہ، ڈائو یونیورسٹی جیسے ادارے یہاں کے لوگوں نے بنائے، انگریزوں نے قانون بنایا کہ ادارے ان کے نام سے ہونے چاہئیں، اسی وجہ سے ان ناموں سے ادارے چلے۔ مفت تعلیم کے آئینی وعدے کے باوجود بچے پیسے دے کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان اسکولوں کو اون کرنا ہوگا جن میں غریبوں کے بچے پڑھ رہے ہیں۔

    ڈیڑھ کروڑپاکستانی نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہیں،سروے

    کرکٹ کلب کی آڑ میں جعلی دستاویزات پر امریکا جانے کی کوشش کرنے والا شہری گرفتار

    سینیٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری: حکومت کو تاحال ایک ووٹ کی کمی کا سامنا

    چین کی جانب سے پاکستان میں 30 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا امکان

  • ڈیڑھ کروڑپاکستانی نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہیں،سروے

    ڈیڑھ کروڑپاکستانی نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہیں،سروے

    ماہرین صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ دار عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیڑھ کروڑپاکستانی نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مختلف سرکاری و غیرسرکاری حکام کے مطابق اس وقت 25مختلف اقسام کا غیرقانونی اور صحت کے لیے خطرناک نشہ، 80 سے زائد نشہ آور گولیاں، کیپسولز اورمائع حالت میں نشہ آور مشروب تقریبا ڈیڑھ کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے زیراستعمال ہیں۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ تیس لاکھ طلباوطالبات نشے کی اس لت کا شکار ہیں، لگ بھگ تین ہزار سے زائد تعلیمی اداروں اور دوہزار سے زائد دفاترکا معائنہ کیا گیا ہے جس سے انکشاف ہواہے کہ نشہ کی لت کا شکار زیادہ ترنوجوان ہیں۔ اگرچہ منشیات کا باقاعدہ استعمال کرنے والوں کی اس کثیر تعداد کا مستند دستاویزی ثبوت موجود نہیں لیکن ایسے ماہرین بھی نہیں ملتے،جو منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے کم ہونے کا دعوی کرتے ہوں۔
    تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ چار سو سے زائد پولیس اور نارکوٹکس کنڑول کے اہلکاروں کو پچھلے پانچ سال میں نشہ کے کاروبار میں ملوث ہونے کی وجہ سے نوکریوں سے فارغ کردیاگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق انسانی صحت کے لیے خطرناک ترین نشے کی زیادہ تر اقسام بڑے شہروں کے پوش علاقوں سے لے کر چھوٹے قصبوں، دیہات حتی کہ تعلیمی، سرکاری دفاتر، شمالی علاقہ جات اور کئی دوسرے تفریحی مقامات پر بھی آسانی سے دستیاب ہیں۔
    قانون نافذ کرنے والے سرکاری اداروں نے کئی ایسے 370سے زائد منشیات فروش گینگ گرفتار کیے ہیں جو بین الاقوامی کوریئر کمپنیوں کے ذریعے ملک بھر میں آسانی کے ساتھ منشیات سپلائی کررہے تھے۔بہت سے منشیات فروش گینگزسوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کررہے ہیں، بڑے شہروں میں مخصوص پارٹیاں اور فنکشنز ہر قسم کے نشہ کی فراوانی اور دستیابی کے ساتھ منعقد ساتھ منعقد کیے جاتے ہیں۔قانون نافذ کرنے واے اداروں کی رپورٹ اور بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں اور خاص طور پر طالب علموں کی بہت بڑی تعداد اس مہلک نشے کی وبا اور علت کی لپیٹ میں آچکی ہے اور ایک تازہ ترین خفیہ رپورٹ کے مطابق ہر دسواں طالب علم نشے کا عادی ہے۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں کئی منشیات فروش گینگز اِن اداروں میں سرگرم عمل ہیں۔ماہرین کے مطابق ڈرگز کاا ستعمال اب ایک فیشن بن چکا ہے اور اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔
    ملک کے سب سے بڑے صوبے کی پولیس کے ایک سابق سربراہ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب پولیس کے ملازمین خود نشہ کریں گے، نشے کا کاروبار کریں گے تو وہ صوبے میں تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی نشے کی لعنت کو کیوں روکیں گی ۔پنجاب پولیس کی طرف سے مرتب کی گی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ صوبے بھر میں 250 سے زائد پولیس ملازمین منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے براہ راست منسلک ہیں۔
    پنجاب پولیس کی سرویلنس برانچ کی اس رپورٹ کے مطابق چھوٹے رینک کے ملازمین سے لے کر اعلی عہدوں پر موجود پولیس افسران جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے، صوبے میں چرس ہیروئن اور آئس کی تجارت اور نقل وحمل میں براہ راست ملوث ہیں۔منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث کرداروں اور نیٹ ورکس کی صورت حال یہ ہے کہ اب کاروبارصرف مقامی لوگوں کے ہی پاس نہیں بلکہ اس میں بین الاقوامی گروہ بھی شامل ہو چکے ہیں۔
    پنجاب پولیس نے گزشتہ ماہ چاکلیٹس اور ٹافیوں میں خطرنا ک ترین نشہ سپلائی کرنے والے ایک انٹرنیشنل گروہ جارڈن گینگ کو گرفتار کیا۔ منشیات سپلائی کرنے والا یہ گینگ ڈرگز سے بھری امپورٹڈ چاکلیٹس کوریئرسروس کے ذریعے فروخت کر رہا تھا۔دوسری طرف منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے ریاستی سطح پر ایک مکمل سردمہری پائی جاتی ہے۔مختلف غیر سرکاری اداروں، انسداد منشیات کے سرکاری اداروں اور کئی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے پیش کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں نشے کے عادی افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے اور اس میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔
    ملک میں منشیات کے استعمال کی اس غیر معمولی لہر اور منشیات اسمگلروں کی یلغار کے پیش نظر ایسے بحالی مراکز یعنی ری ہیب سنٹرز کی جتنی ضرورت ہے، اس کا عشر عشیر بھی ملک میں موجود نہیں۔اے این ایف اور وزارت صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں سات ماڈل ٹریٹمنٹ، ری ہیب سینٹرز اور اینٹی کریشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ سینٹرز کراچی، سکھر، حیدرآباد، اسلام آباد اور کوئٹہ میں قائم کیے گئے ہیں جب کہ دوسری جانب منشیات کی عادت کی روک تھام کے لیے پنجاب کے 10ہسپتالوں میں ماڈل ڈرگ ابیوز سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت کی نگرانی میں ایک ری ہیب سینٹر کام کررہا ہے۔ اس قسم کے ری ہیب سینٹرز کا عملہ معلومات کی فراہمی میں میڈیا کے ساتھ تعاون نہیں کرتا اور ایسے سینٹرز جو کاروباری ادارے یا افرادچلاتے ہیں وہاں پر ہونے والے علاج کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔