Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • 26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر جانے والی 26ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے جہاں درخواست میں ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد انس نامی شہری نے وکیل عدنان خان کے ذریعے درخواست دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے 26ویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں وفاق کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو عدالتی امورپر تجاویز دینے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے درخواست میں 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ادھر 26ویں آئینی ترمیم کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے۔عدالت عالیہ میں درخواست الٰہی بخش ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم پاس کرکے عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔انہوں نے درخواست میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175۔اے میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں انتظامیہ کی مداخلت بڑھا دی گئی ہے اور اس قسم کی ترمیم عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ آئینی ترمیم کی سیکشن 8، 11 اور 14 کالعدم قرار دی جائیںدرخواست میں سکریٹری کیبنٹ ڈویژن، سیکریٹری لا اینڈ جسٹس اینڈ پارلیمانی افیئرز و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔گزشتہ ماہ سے حکمران اتحاد آئینی ترامیم کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے پارلیمان میں سیاسی جماعتوں سے بھرپور لابنگ کرنے میں مصروف تھا جہاں ان ترامیم میں بنیادی توجہ عدلیہ پر مرکوز تھی۔اس دوران کئی دن تک جاری مشاورت میں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت کوشش کے باوجود بھی اس ترامیم کو ایوان میں سے منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔تنازع کی ایک بڑی وجہ ایک مجوزہ وفاقی آئینی عدالت تھی، جس کی پی ٹی آئی نے مخالفت کی اور مولانا فضل الرحمٰن نے اس کے بجائے آئینی بینچ کے قیام کا مطالبہ کیا جسے بعدازاں مسودے کا حصہ بنا لیا گیا۔اس سلسلے میں فیصلہ کن پیشرفت گزشتہ ہفتے ہوئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمٰن کو منانے میں کامیاب رہے جنہوں نے ترامیم کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو قائل کیا۔اتوار کو بالآخر کابینہ سے 26ویں آئینی ترمیم کا پیکج منظور ہونے کے بعد اسے سینیٹ اور پھر قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔وزیر اعظم نے ترامیم کو منظوری کے لیے صدر مملکت کے پاس ارسال کیا جنہوں نے گزشتہ روز 26ویں آئینی ترمیم کے گزیٹ پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی۔ان ترامیم میں سب سے اہم بات چیف جسٹس کے تقرر کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے جہاں پہلے سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے تھے تاہم اب اسے تبدیل کردیا گیا ہے۔نئے طریقہ کار کے تحت چیف جسٹس کی تقرری سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کی جائے گی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل 12 رکنی کمیٹی اس کا حتمی فیصلہ کر کے نام وزیر اعظم کو بھیجے گی۔اس کے حوالے سے ترامیم میں آئینی بینچز کے قیام کے ساتھ ساتھ ججوں کی کارکردگی اور فٹنس کو جانچنے کے حوالے سے شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

    آئینی ترمیم کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ، بُلند ترین سطح پر

    توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

  • آئینی ترمیم کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ،  بُلند ترین سطح پر

    آئینی ترمیم کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ، بُلند ترین سطح پر

    26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد مسلسل دوسرے کاروباری روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست اضافے کا رجحان برقرار ہے اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 643 پوائنٹس اضافے سے تاریخ کی بُلند سطح 86 ہزار 701 پر پہنچ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق صبح تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 643 پوائنٹس یا 0.75 فیصد اضافے کے بعد 86 ہزار 701 پر پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کے ایس ای-100 انڈیکس 807 پوائنٹس یا 0.95 فیصد بڑھ کر 86 ہزار 57 پر پہنچ گیا تھا۔ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو افسر محمد سہیل نے بتایا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد سیاسی بے یقینی میں کمی ہوگئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق کا کہنا تھا کہ شرکا کو امید ہے کہ سیاسی بے یقینی کم ہو گی اور معاشی استحکام جاری رہے گا۔یاد رہے کہ سینیٹ کے بعد گزشتہ روز 26 ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے بھی 2 تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہو گیا تھا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم پیش کرنے کی تحریک پیش کی، تحریک کی منظوری کے لیے 225 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیے تھے جبکہ 12 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔16 اکتوبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 365 پوائنٹس اضافے کے بعد 86 ہزار 205 کی بُلند سطح پر پہنچ گیا تھا۔اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ اویس اشرف نے بتایا تھا کہ پاکستان میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس اور چینی وزیر اعظم کے دورے سے اضافی فنانسنگ کے وعدوں پر سرمایہ کار بہتری کے حوالے سے پر امید ہیں۔9 اکتوبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 627 پوائنٹس تیزی کے بعد 86 ہزار کی نئی بُلند ترین سطح عبور کر گیا تھا، تاہم کاروبار کے اختتام تک یہ رجحان برقرار نہیں رہا تھا اور انڈیکس 5 پوائنٹس بڑھ کر 85 ہزار 669 پر بند ہوا تھا۔8 اکتوبر کو بھی زبردست تیزی کا رجحان رہا تھا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 753 پوائنٹس اضافے کے بعد 85 ہزار 663 پوائنٹس کی بُلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔7 اکتوبر کو کے ایس ای-100 انڈیکس 1378 پوائنٹس یا 1.65 فیصد اضافے کے ساتھ 84 ہزار 910 پر بند ہوا تھا۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

  • توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    توشہ خانہ ٹو کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست ضمانت کی مخالفت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بشری بی بی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت ایف آئی اے پراسیکوٹر ذوالفقار عباس نقوی، ایف آئی اے کے وکیل عمیر مجید ملک اور ذوالفقار عباس نقوی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ بشری بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر بھی پیش ہوئے۔سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئے 12 دن گزر چکے ہیں جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ میں 9 اکتوبر کو عدالت آیا تو شدید بخار تھا اور مجھے ریکور کرنے میں لمبا وقت لگا۔بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کیس ہے کہ قیمت کا تعین کرنے والے پرائیویٹ شخص سے قیمت کم لگوائی گئی، قیمت کا تعین کرنے والا صہیب عباسی اب وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے۔ پھر اس کے بعد کسٹمز کے افسران نے قیمت کا تعین کیا، یہ سب لوگ گواہ ہیں کسی کو ملزم نہیں بنایا گیا، کابینہ ڈویژن سے کسی شخص کو ملزم نہیں بنایا گیا، کابینہ ڈویژن سے کسی کو شاملِ تفتیش تک نہیں کیا گیا۔ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا، پراسیکیوشن کے اپنے مطابق یہ تمام کام انعام اللہ شاہ کرتا ہے لیکن وہ ملزم نہیں، صہیب عباسی جو درحقیقت قومی خزانے کا نقصان پہنچا رہا ہے وہ وعدہ معاف گواہ ہے۔بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، کوئی عدالتی نظیر موجود نہیں، عمران خان کا بازو مروڑنے کیلئے بشریٰ بی بی کو قید رکھا گیا ہے، بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ گھریلو خاتون ہیں، وہ 264 دن سے جیل میں قید ہیں، اس کیس میں 13 جولائی 2024 سے گرفتار ہیں۔ہ بشری بی بی پبلک آفس ہولڈر بھی نہیں ہیں، 3 سال 3 ماہ کی تاخیر سے یہ مقدمہ بنایا گیا، 31 جنوری 2024 کو نیب کے دوسرے ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دی گئی، 3 سال میں گرفتار کیا نہ ہی بشری بی بی کیخلاف کوئی کریمنل کیس بنایا گیا۔

    جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ ایگزیکٹو کا فیصلہ تھا کہ 50 فیصد رقم دے کر تحفہ لے جائیں، جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ پروسیجر پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کس پروسیجر پر عملدرآمد نہیں ہوا، بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت کے حوالے سے آپ کو کیا ہدایات دی گئی ہیں؟ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم درخواست ضمانت کی مخالفت کریں گے، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ 4 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد نہیں ہو سکی تھی۔

    پس منظر

    یاد رہے کہ 12 ستمبر کو توشہ خانہ ٹو کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اےکی تین رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کردیا تھا۔قبل ازیں، عدالت نے توشہ خانہ 2 ریفرنس کا ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔جبکہ 13جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا تھا۔نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار
    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ آج چیمبر ورک پر چلے گئے جہاں وہ چیمبرک ورک کے دوران فیصلے لکھیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے جمعہ کو ریٹائر ہونے والے آج سے چیمبر ورک پر چلے گئے ہیں اور اب وہ فیصلے تحریر کریں گے۔ذرائع کے مطابق اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس کے بعد سب سے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا بینچ کمرہ عدالت نمبر ایک میں منتقل کردیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے 25 اکتوبر جمعہ کے روز ریٹائر ہو جانا ہے اور نئے چیف جسٹس پاکستان کے تقرر کے لیے تین سینئر ججز کے ناموں پر پارلیمانی کمیٹی آج غور کرے گی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کے ساتھ بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں۔

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

  • زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    لاہور میں نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر وائرل ہونے کے معاملے پر متاثرہ طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ملزمہ سارہ خان کو کراچی سے حراست میں لے کر لاہور منتقل کیا جبکہ تھانہ گلبرگ میں ملزمہ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے سامنے ملزمہ نےاعتراف کیا کہ صرف سوشل میڈیا پر ویوز لینے کے لیے ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جبکہ ملزمہ کو آج بیان قلمبند کروانے کے لیے جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے کیوں اور کس کے کہنے پر وڈیو اپ لوڈ کی اس حوالے سے تفتیش ہوگی جبکہ غیرمصدقہ خبر پھیلانے پر اب تک مجموعی طور پر چار مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو لاہور کے نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی جس کے طلبہ و طالبات مشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل آئے تھے اور مذکورہ کالج میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا، اس دوران پولیس سے جھڑپوں میں 27 طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے سراپا احتجاج طلبہ کی نشاندہی پر نجی کالج کے ایک سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے لیا تھا، تاہم بعدازاں اس خبر کے جھوٹا ہونے کی اطلاعات زیر گردش کرنے لگی تھیں۔اس کے بعد اے ایس پی بانو نقوی نے متاثرہ طالبہ کے مبینہ والد اور چچا کے ساتھ ایک وڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں اے ایس پی کے ساتھ کھڑے ایک شخص نے کہا تھا کہ لاہور کے نجی کالج میں پیش آئے واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں، جن میں ان کی بچی کا نام لیا جارہا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہماری بچی گھر کی سیڑھیوں سے گری، جس سے اس کی کمر پر چوٹ آئی ہے اور اسے آئی سی یو لے جایا گیا۔اس کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے طالبہ سے زیادتی کی غیر مصدقہ خبر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جعلی خبر پھیلانے میں ملوث عناصر کےخلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ سازش کامیاب ہوجاتی تو کئی جانیں جاسکتی تھیں، سازش کے تمام تانے بانے کھل کر میرے سامنے آگئے ہیں، سوشل میڈیا پر جھوٹ کی فیکٹریوں کو اب بند ہونا چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ 10 اکتوبر کو ایک بچی کا نام لیا گیا کہ وہ ریپ کا شکار ہوئی ہے لیکن وہ بچی 2 اکتوبر سے اسپتال میں داخل ہے، وہ بچی کہیں گری اور بری طرح زخمی ہونے کے بعد آئی سی یو میں داخل ہے۔

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

  • امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    امریکا نے پاکستان اور ایران میں ہتھیاروں اور ڈرونز پروگراموں کی مبینہ حمایت اور یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں میں مدد سمیت دیگر معاملات کے پیش نظر 26 اداروں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا۔

    غیر ملکی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان، چین اور متحدہ عرب امارات میں واقع ان 26 کمپنیوں پر برآمدی کنٹرول کی خلاف ورزی کی، ’تشویشناک ہتھیاروں کے پروگراموں‘ میں ملوث ہونے یا روس اور ایران پر امریکی پابندیوں اور برآمدی کنٹرول سے بچنے کا الزام عائد ہے۔ان کمپنیوں پر واشنگٹن کی اجازت کے بغیر امریکی اشیا اور ٹیکنالوجی کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔سیکریٹری آف کامرس برائے صنعت و سلامتی کے تحت ایلن ایسٹیویز نے ایک بیان میں کہا کہ ہم امریکی قومی سلامتی کو برے عناصر سے بچانے کے لیے چوکنا ہیں، مزید کہا کہ آج ہمارے اقدامات سے ان عناصر کو یہ پیغام جاتا ہے کہ اگر انہوں نے ہمارے کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔پاکستان سے تعلق رکھنے والی 9 کمپنیوں کو پاکستانی کمپنی کے لیے فرنٹ کمپنیوں اور پروکیورمنٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے شامل کیا گیا ، امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ باقی 7 پاکستانی کمپنیوں کو پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شراکت کی وجہ سے شامل کیا گیا۔2010 کے بعد سے اس گروپ نے اپنے صارفین کو گمراہ کرکے امریکی اشیا خریدی ہیں۔اس فہرست میں چین کی 6 کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر چین کی فوج کو جدید بنانے یا ایران کے ہتھیاروں اور ڈرون پروگراموں کی مدد کے لیے امریکی اشیا خریدی تھیں، متحدہ عرب امارات کی تین اور مصر کی ایک کمپنی نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکی اشیا حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔امریکی محکمہ تجارت نے کینیڈین کمپنی سینڈ وائن کو ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کی بنا پر کمپنی کو بلیک لسٹ کی فہرست سے نکال دیا۔کامرس ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کینیڈین کمپنی کو فروری 2024 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا جب اس کی مصنوعات کو بڑے پیمانے پر ویب مانیٹرنگ اور سنسرشپ اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

  • بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

    بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو نے سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر قاسم رونجھو نے پارٹی کو استعفیٰ جمع کرا دیا۔قاسم رونجھو سینیٹ میں بی این پی مینگل کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں۔اس حوالے سے ساجد ترین کا کہنا ہے کہ پارٹی اجلاس جاری ہے جس میں حتمی فیصلے ہوں گے، استعفیٰ موصول ہوا ہے جسے جاکر سینیٹ میں جمع کرائیں گے۔واضح رہے کہ سردار اختر مینگل نے دونوں سینیٹرز سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔بی این پی مینگل کی سینیٹر نسیمہ احسان اور قاسم رونجھو نے کل آئینی ترمیم کے حق میں وٹ دیا تھا۔دوسری طرف گزشتہ روز اس قانون کی روشنی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کا اجلاس آج (منگل) شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، شائستہ ملک، سینیٹر اعظم تارڑ اور پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک اور نوید قمر شامل ہیں۔ان کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر علی ظفر، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا بھی کمیٹی کا حصہ ہیں جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن رعنا انصار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔جاری نوٹی فکیشن کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کی شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کنسٹی ٹیوشن روم میں ہوگا۔

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

  • پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے مکمل طور پر الگ رہنے کا اعلان کر دیا، یہ کمیٹی چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے تشکیل دی گئی ہے جس کا اجلاس آج شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے جاری سیاسی کمیٹی جلاس کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم پرپارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانےکی منظوری دی گئی ہے۔پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ‏آئینی ترمیم کو ووٹ دینے والے اراکینِ کی بنیادی جماعتی رکنیت کی منسوخی سمیت ان کے خلاف حتمی تادیبی کارروائی پراتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق ‏پارٹی سے روابط منقطع کرنے والے دیگر اراکین کو شوکاز نوٹسز کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ ‏ان اراکین کے شوکازنوٹس کے جوابات کی روشنی میں ان کے آئندہ کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سینیٹ کے بعد 21 اکتوبر کو قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد وزیراعظم کی ارسال کردہ سمری پر صدر مملکت کے دستخط کے نتیجے میں 26ویں آئینی ترمیمی بل قانون بن گیا ہے۔اس نئے قانون کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل ہو گیا ہے جہاں اس سے قبل چیف جسٹس کے بعد عدالت عظمیٰ سب سے سینئر ترین جج کو اس عہدے پر تعینات کیا جاتا تھا البتہ اب 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں بننے والے قانون سے صورتحال بدل گئی ہے۔نئے قانون کی روشنی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں کے ناموں پر مشاورت کے بعد ایک حتمی نام چیف جسٹس کے عہدے کے لیے وزیراعظم کو بھیجے گی اور وزیراعظم اس نام کو منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجیں گے۔گزشتہ روز اس قانون کی روشنی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کا اجلاس آج (منگل) شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، شائستہ ملک، سینیٹر اعظم تارڑ اور پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک اور نوید قمر شامل ہیں۔ان کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر علی ظفر، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا بھی کمیٹی کا حصہ ہیں جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن رعنا انصار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔جاری نوٹی فکیشن کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کی شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کنسٹی ٹیوشن روم میں ہوگا۔

    حماس کا اسرائیل پر حملہ، اسرائیلی فوج کی 4گاڑیاں تباہ،متعدد فوجی زخمی

  • کراچی میں گرمی کی حالیہ لہر مزید 5روز تک برقرار رہنے کا امکان

    کراچی میں گرمی کی حالیہ لہر مزید 5روز تک برقرار رہنے کا امکان

    شہر قائد میں گرمی کی حالیہ لہر مزید 4 سے 5 روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔م

    حکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر پیش گوئی کے مطابق دن کے وقت پارہ اوسط سے 3 تا 4 اضافے سے 38 ڈگری تک تجاوز کر سکتا ہے، سمندری ہوائیں غیر فعال جبکہ زیادہ تر شمال مشرق و شمال مغرب سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔اگلے چند روز تک کراچی سمیت دیہی سندھ کے کچھ اضلاع کا موسم شدید گرم رہنے کا امکان ہے۔ سجاول، ٹھٹھہ، حیدرآباد، میرپور خاص، عمر کوٹ اور تھرپارکر بھی گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتے ہفتے سے کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور گرمی کی شدت بڑھتے ہی کے الیکٹرک کی بدترین غیر اعلانیہ لڈ شیڈنگ سے شہری پرشان ہیں.

    گورنربلوچستان سے کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل کی ملاقات

  • گورنربلوچستان سے کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل کی ملاقات

    گورنربلوچستان سے کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل کی ملاقات

    گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل سے کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل (Dr Ruediger Lotz) نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال، بلوچستان میں پائے جانے والے قیمتی وسائل و معدنیات اور سرمایہ کاری کے دستیاب مواقعوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان پچھلے کئی دہائیوں سے بہت خوشگوار دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور اب ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جدید تقاضوں کے مطابق باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائی. انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان قریبی دوستی اور خوشگوار تعلقات سے پورے خطے کے امن اور ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہونگی. انہوں نے کہا کہ جرمنی کا بالخصوص صوبہ بلوچستان میں تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، استعدادکار بڑھانے اور خاص طور پر نوجوانوں کیلئے اسکالرشپ میں تعاون نہایت مددگار ثابت ہوگا اور توقع ظاہر کی کہ جرمنی آئندہ بھی پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کیلئے تعاون فراہم کرتا رہیگا. گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والی معاشی اور تجارتی تبدیلیوں کے پیش نظر ہم نے اپنی نئی نسل کو جدید فنی اور تیکنیکی مہارتیں سکھانے پر توجہ مرکوز رکھی ہیں جس کے بہت مثبت نتائج برآمد ہونگے۔

    پاکستانی جہازوں کے ساتھ پرندے ٹکرانے کے 83 واقعات

    کراچی،سہراب گوٹھ سے کالعدم ٹی ٹی پی کے 3 دہشتگرد گرفتار

    وزیراعلیٰ سندھ کی میسی سمیت ارجنٹائنی کھلاڑیوں کو لیاری آنے کی دعوت