Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • کراچی پولیس کےشہید اہلکار  کے قاتل افغانی شہری نکلے، مقابلے مٰیں ہلاک

    کراچی پولیس کےشہید اہلکار کے قاتل افغانی شہری نکلے، مقابلے مٰیں ہلاک

    ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کی ٹارگیٹڈ کارروائی، پولیس اہلکار عبدالغفار کو مقابلے کے دوران شہید کرنے والے باقی دو ملزمان بھی اپنے انجام کو پہنچے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز صبح خلیل مارکیٹ کے قریب تین مسلح ملزمان سبزی منڈی جانے والے افراد کی سوزوکی روک کر واردات کا نشانہ بنا رہے تھے۔ اسی دوران پولیس کانسٹیبل عبدالغفار جو ڈیوٹی پر آ رہے تھے، انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واردات کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر کے پولیس اہلکار عبدالغفار کو شہید اور سوزوکی ڈرائیور اعجاز کو زخمی کیا۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران ایک ملزم تاج الدین ولد دن یار جہنم واصل ہوگیا، جبکہ دو ساتھی ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔رات گئے پولیس نے ہیومن انٹیلیجنس کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹارگیٹڈ کارروائی کی تو ملزمان نے پھر سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی حفاظت خود اختیاری کے لئے جوابی کارروائی کے دوران دو ملزمان شدید زخمی حالت میں گرفتار ہوئے جو بعد ازاں ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے دو ساتھی ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
    ہلاک ملزمان کی شناخت نجیب اللہ ولد فیض اللہ اور فہیم ولد جان محمد کے ناموں سے ہوئی، جبکہ ایک ملزم شہید اہلکار کے ہاتھوں گولی لگنے سے موقع پر ہلاک ہوا تھا۔ ہلاک ہونے والے تین ملزمان میں سے دو ملزمان غیر ملکی افغان شہری نکلے۔
    ہلاک ملزمان کے قبضے سے دو غیر قانونی پسٹلز بمعہ ایمونیشن، چلیدہ خولز، دو موبائل فونز اور نقدی رقم برآمد ہوئی، جبکہ واقعہ/واردات میں استعمال ہونے والی 125 موٹرسائیکل بھی ملزمان کے زیر استعمال تھی جو کہ برآمد ہوگئی ہے۔
    ہلاک ملزمان کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمات کا اندراج کرلیا گیا ہے۔ مضروب سوزوکی ڈرائیور کی مدد سے ہلاک ملزمان کی شناخت کروائی جائے گی۔
    ہلاک ملزم نجیب اللہ ولد فیض اللہ غیر ملکی افغانی باشندہ تھا جس کا سابقہ کرمنل ریکارڈ کی تفصیلات ذیل ہیں:
    1. مقدمہ الزام نمبر 222/2022 بجرم دفعہ 6/9 بی نارکوٹکس ایکٹ تھانہ سرسید۔
    2. مقدمہ الزام نمبر 223/2022 بجرم دفعہ 23(ا)اے اسلحہ ایکٹ تھانہ سرسید۔
    3. مقدمہ الزام نمبر 288/2022 بجرم دفعہ 23(ا)اے اسلحہ ایکٹ تھانہ اتحاد ٹاؤن۔
    4. مقدمہ الزام نمبر 280/2023 بجرم دفعہ 353/324/34 ت پ تھانہ سعید آباد۔
    5. مقدمہ الزام نمبر 282/2023 بجرم دفعہ 23(ا)اے اسلحہ ایکٹ تھانہ سعید آباد۔
    دیگر دو ہلاک ساتھی ملزمان کے خلاف پہلے سے درج مقدمات کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

    کراچی میں دفعہ 144 میں 2 دن کی توسیع

    پولیس اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی، لیاری گینگ وار کا اہم کارندہ گرفتار

    پی ایم ڈی سی نے چاروں صوبوں میں میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے روک دیئے

  • کراچی میں دفعہ 144 میں 2 دن کی توسیع

    کراچی میں دفعہ 144 میں 2 دن کی توسیع

    کراچی میں دفعہ 144 میں 2 دن کی توسیع کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق دفعہ 144 کے تحت جلسے اور ریلیوں پر پابندی عائد ہے۔کراچی میں 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے جبکہ جلسے اور ریلیاں منعقد نہیں کی جا سکیں گی۔جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی 18 اور 19 اکتوبر تک عائد رہے گی۔کراچی میں اس سے قبل 13 سے 17 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔واضح رہے کہ شہر میں مان و امان اور بغیر اجازت ریلی اور جلوسوں کو روکنے کے لیے حکومت نے دفعہ 144 ناٍفذ کی تھی.

    پولیس اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی، لیاری گینگ وار کا اہم کارندہ گرفتار

    کراچی میں سفاک شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل ساس شدید زخمی

    اوچ شریف: پرائس کنٹرول خلاف ورزی اور تجاوزات کے خلاف کارروائی، متعدد دکانیں سیل

    بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

  • پولیس اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی، لیاری گینگ وار کا اہم کارندہ گرفتار

    پولیس اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی، لیاری گینگ وار کا اہم کارندہ گرفتار

    ڈسٹرکٹ سٹی پولیس اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی، لیاری گینگ وار ملاں نثار کا اہم کارندہ گرفتار کر لیا گیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملزم کی شناخت اویس کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم سے ایک ہینڈ گرینیڈ اور ایک چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد ہوا۔ملزم کو علاقہ تھانہ چاکیواڑہ کی حدود سے گرفتار کیا گیا۔ملزم لیاری گینگ وار ملا نثار گروپ کے لیے بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، مختلف ڈکیت گروپوں کو لیڈ، اسمگلنگ، منشیات فروشی اور موٹر سائیکل اسنیچنگ کرتا تھا۔ملزم ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہے۔ملزم نے اصغر نامی ملزم سے جو بیرون ملک موجود ہے کے کہنے پر پنجاب میں بھی ٹارگٹ کلنگ کی تھی۔ملزم شہر بھر میں سرگرم مختلف ڈکیت گروپوں کو لیڈ کر رہا تھا، ملزم ڈکیتوں کو اسلحہ بھی فراہم کرتا تھا۔ملزم لانڈھی، کورنگی اور کراچی کے مختلف علاقوں سے اسلحہ کے زور پر موٹر سائیکلز چھین کر بلوچستان سپلائی کرتا تھا۔ملزم منشیات، اسمگلنگ اور ایرانی ڈیزل/پیٹرول کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہے۔ملزم سے برآمدہ موٹر سائیکل تھانہ فیروزآباد کی سرقہ ہے۔ملزم اس سے قبل بھی مختلف مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ملزم کے خلاف تھانہ چاکیواڑہ میں مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    کراچی میں سفاک شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل ساس شدید زخمی

    ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • کراچی میں سفاک شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل ساس شدید زخمی

    کراچی میں سفاک شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل ساس شدید زخمی

    کراچی کے علاقے کورنگی ضیا کالونی میں سفاک شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل جبکہ ساس کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورنگی پولیس نے 24 گھنٹے کے اندر سفاک قاتل کو گرفتار کرلیا۔گزشتہ روز کورنگی ضیا کالونی میں سفاک شوہر نے ناراض بیوی کو چھریوں کے وار کرکے شدید زخمی کردیا تھا۔ملزم فاروق کی بیوی جویریہ ناراض ہوکر میکے آگئی تھی۔ملزم نے اپنے سسرال جاکر بیوی جویریہ کو چھریوں کے وار سے شدید زخمی کردیا تھا۔چھریوں کے وار سے قاتل فاروق کی ساس لیلی بھی شدید زخمی ہوئی تھی۔ملزم فاروق واقعہ کے بعد موقع سے فرار ہوگیا تھا۔ملزم کی بیوی جویریہ نے اسپتال میں دوران علاج دم توڑ دیا تھا۔مقتول جویریہ کی والدہ اسپتال میں زندگی و موت کے کشمکش میں ہے۔ایس ایچ او کورنگی ملک عامر نے ٹیکنیکلی بنیاد پر ملزم فاروق کو گرفتار کرلیا ہے۔واقعہ کا مقدمہ مقتولہ کے ماموں عبداللہ کی مدعیت میں کورنگی تھانے میں درج کیا گیا ہےملزم نے اپنی بیوی کو قتل اور ساس کو زخمی کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کرلیا ہے۔ملزم سے مزید تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    سینیٹ اجلاس،شہدا کارساز، حماس رہنما یحییٰ سنوار کی شہادت پر کروائی گئی دعا

    بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

  • ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے واقعے پرافسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،پیپلزپارٹی نے جو موقف لیا شاید دنیا میں پہلی بار ہوا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے کبھی پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہیں روکا۔ڈاکٹرشاہنواز کے واقعہ پرافسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ رواداری مارچ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو غلط نعرے لگا رہے تھے اس کے باوجود میں نے خود ان سے رابطہ کیا،معذرت کی اور انکوائری بٹھائی،رواداری مارچ والوں کو بھی قانون کی پابندی کرنا چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ آج 17 سال ہوگئے ہیں اور ہم ہر سال شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے شہدائے کارساز آتے ہیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کا 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان کے عوام نے شاندار استقبال کیا۔کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک کا سفر 10 تا 11 گھنٹوں میں ہوا تھا۔ جب پہلا دھماکا ہوا تو ہم نے سمجھا کہ ٹرانسفارمر پھٹا ہے بعد میں دوسرا شدید دھماکا ہوا۔ جہاں سے آواز آئی وہاں دیکھا تو کافی ہمارے جیالے جانثار شہید ہوگئے تھے۔محترمہ بینظیر بھٹو تھوڑی دیر پہلے ہی مزار قائد پر تقریر کو حتمی شکل دینے نیچے گئی تھیں۔ بہادر ہیں ہمارے جیالے جنہوں نے دھماکوں کے باوجود محترمہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو جان کو خطرہ ہونے کے باوجود پاکستان آئیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مخالفین بھی مانتے ہیں اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے کر دیے گئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او نواز گوندل کو ایس ایچ او تھانہ نیو کراچی تعینات کردیا گیا،ایس ایچ او شوکت اعوان کو ایس ایچ او تھانہ پاپوش نگر تعینات کردیا گیا،لایس ایس پی عبدالغفور لاکھو کو ایس ایس پی سکھر آر آر ایف تعینات کردیا گیا،ایس ایس پی توحید رحمان میمن کو ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈسٹرکٹ سٹی تعینات کردیا گیا.ایس ایس پی فتح محمد شیخ کو ایس ایس پی آپریشن ایس پی یو ڈسٹرکٹ حیدرآباد تعینات کردیا گیا.ڈی ایس پی صفدر مشوانی کو ڈی ایس پی سی ٹی ڈی تعینات کردیا گیا.ڈی ایس پی عبدالخالق وگن کو ڈی ایس پی بلدیہ ٹاؤن تعینات کردیا گیا.ڈی ایس پی جاوید سکندر کو ڈی ایس پی عزیز آباد تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او اخلاق احمد کو ایس ایچ او تھانہ بن قاسم تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او محمد خان بوہڑ کو ایس ایچ او تھانہ اسٹیل ٹاؤن تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او چوہدری عامر رفیق کو ایس ایچ او تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او محمد وکیل کو ایس ایچ او تھانہ عوامی کالونی تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او اکسیر عباسی کو ایس ایچ او تھانہ سول لائن تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او غلام رسول سیال کو ایس ایچ او تھانہ لیاقت آباد تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او بشارت خان کو ایس ایچ او تھانہ بلوچ کالونی تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او نعیم راجپوت کو ایس ایچ او تھانہ گلشن اقبال تعینات کردیا گیا،ایس ایچ او عقیل گجر کو ایس ایچ او تھانہ نیو ٹاؤن تعینات کردیا گیا.ایس ایچ او محمد انیس کو ایس ایچ او تھانہ پی آئی بی تعینات کردیا گیا.

  • عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا  خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    گلوبل عافیہ موومنٹ کی رہنما اور ملک کی معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کو خط لکھنے پروزیراعظم پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں آئینی پٹیشن نمبر 3139/2015 کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منصور اقبال ڈوگل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی معافی کے لیے امریکی صدر کو خط لکھا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے اس معاملے میں تیزی سے عملدرآمد پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم پاکستان کا خط عافیہ کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔بعد ازاں اس مثبت پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمدشہباز شریف کے خط کے بعد اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جلد رہائی کے لیے حکومت کو مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر نے پر پوری قوم حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی اور پاکستانی عوام کا اپنی حکومت اور سسٹم پر اعتماد بحال ہوگا۔ وزیراعظم کا خط پہلا قدم ہے،اب حکومت اگلے قدم اٹھانے کے لیے رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی رہائی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی وفود بھی امریکا بھیجے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہری بھی رحم اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو خطوط لکھیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے خط لکھنے کے اقدام سے پاکستان کی حیثیت اقوام عالم میں مزید بہتر ہوگی۔ اگر حکومت ایسے ہی جراتمندانہ اقدامات کرتی رہی تو یہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے جال کو توڑ کر ملکی معیشت کی حالت بہتر بنا سکتی ہے۔عافیہ موومنٹ پاکستان کے بانی رہنما اورپاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق امریکی انتظامیہ کو حکومت پاکستان کے خط کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت پاکستان نے غیر قانونی طور پر بیرون ملک میں قید اپنے کسی شہری کے لیے واقعی کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بہادرانہ اقدام پر وزیر اعظم شہباز شریف کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔

  • بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر 2007 سانحہ کارساز دنیا بھر میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ تھا۔ شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ آئینی ترامیم سب کی مشاورت سے ہوں گی، کوئی ایک جماعت کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ اگر بانی پی ٹی آئی سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےسانحہ کارساز کے اعظم بستی قبرستان میں مدفون 7 شہدا کی قبروں پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبال ساندھ، ٹائون چیئرمین چنیسر ٹائون فرحان غنی، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آصف خان و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج ہم نے سانحہ کارساز میں شہید کارکنان کی قبروں پر حاضری دی ہے، اس قبرستان میں سات شہیدوں کے قبریں ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں جہاں جہاں سانحہ کارساز کے شہید دفن ہیں انکی قبروں پر حاضری دیں۔ سعید غنی نے کہا کہ 18 اکتوبر کو دہشت گردی کا واقعہ دنیا کا بڑا واقعہ تھا۔ اس سانحہ میں ہمارے 170 سے زائد کارکن شہید ہوئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے شہیدوں کی قربانی پاکستان میں جب جب جمہوریت کی بحالی کی تاریخ لکھی جائے گی، ان شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی کہانی اور تاریخ اس سانحہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ جب 18 اکتوبر کو بم دھماکہ ہوا ہمارے جو کارکن تھے، جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ محترمہ کی گاڑی کے ساتھ جن کی ڈیوٹی تھی، وہ پہلے دھماکہ کے بعد بھاگتے وہ وہاں موجود رہے اور بی بی کے ٹرک کو مزید پروٹیکٹ کیا تو اس میں دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے نتیجہ میں اتنی بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئی۔
    سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی ایک انوکھی اور عجیب مثال ہے، کہ بم کا دھماکہ ہوتا ہے اور کارکنان بھاگتے نہیں ہیں، یہ واقعہ ہمارے کارکنان کی اپنی قیادت کے ساتھ عزم ہے، محبت ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کو کتنی محبت تھی کہ بم دھماکے کے بعد بھی لوگ بھاگے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پیپلز پارٹی اس ملک کی جمہوریت کے لئے قربانیں دے رہی ہیں، ہم نے اپنے کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوئی ایسی جماعت نہیں کہ جس کے قائدین اور کارکنان نے جمہوریت کی بحالی کے لئے اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، پرامن سیاسی طریقے سے کام کرتے ہیں اور ہم نے اپنے قائدین اور کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لئے آئین میں طریقے کار موجود ہے، کوئی جماعت اپنی مرضی کی تجاویز مسلط نہیں کر سکتی۔
    اس ہے لئے دو تہائی اکثریت لازمی ہے اور جب دو دھائی اکثریت تو سب کی مشاورت سے آئینی ترمیم ہوگی۔ یہ اچھی بات ہے کہ سب مل جل کر بیٹھیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جب سے بنی ہے وہ تضادات کا شکار رہی ہے، ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں اور آج بھی وہ تضادات کا شکار ہیں۔ ایک طرف وہ آج بھی کہتے ہیں کہ ہم احتجاج کریں گے دوسری طرف وہ مولانا فضل الرحمن سے بات کرکے ان کے ذریعے حکومت سے بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    پی ٹی آئی والے ترمیم چاہتے ہیں لیکن کھل کر نہیں بول رہے۔ احتجاج کی بات شاید ان کے دوسرے گروپ نے کی ہوگی اور ڈائیلاگ کی بات دوسرے گروپ سے کی ہوگی۔ اس سے پی ٹی آئی میں واضح گروپ بندی ثابت ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنایا۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ملک میں مسائل کی جڑ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔
    پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ سعید غنی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا رویہ غیر سیاسی ہے۔ وہ آج بھی کسی سیاسی جماعتوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ آج تک اس ملک میں ان کے آنے کے بعد جتنے بھی کرائسیس ہوئے ہیں، یہ سب عمران نیازی کی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ہے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی، جو ایک آئینی عمل ہے اور اس آئینی عمل کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تھی تو دنیا تو ختم نہیں ہوگئی تھی۔
    عمران خان اسمبلی میں راہ کر بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرسکتا تھا، عمران خان کے پاس اس وقت پنجاب اور خیبر پختون خواہ دونوں کی حکومت تھی، وہ دو صوبے میں حکومت کرکے جو نئی پی ڈی ایم کی حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتا تھا، لیکن اس نے جمہوری طر عمل اختیار نہیں کیا بلکہ جمہوریت اور ملک کے خلاف سازشیں شروع کردی کہ کسی طرح سے یہ حکومت نہ چل سکے،کسی طرح یہ ملک نہ چل سلے، کسی طرح سے یہ ملک کی تباہ و برباد ہوجائے، کسی طرح سے عوام مشکلات کا شکار ہوجاییں۔اس میں زیادہ مسائل جو پیدا کئے اس میں عدالتوں کے کچھ فیصلے بھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کرائسس مزید بڑھ گئے۔ اگر وہ سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام کرائسز چند ہفتوں میں حل ہو سکتے ہیں۔

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے کراچی کے علاقے آئی آئی چندریگر روڈ اور خیابانِ سحر،ڈی ایچ اے میں کارروائی کرتے ہوئے 2ملزمان گرفتار کرلیے ۔

    حکام کے مطابق ملزم آفتاب خواجہ ٹریول ایجنسی کی آڑ میں یو اے ای درہم کی غیرقانونی فروخت میں ملوث ہے ، ملزم آفتاب خواجہ کی نشاندہی پر مرکزی ملزم تنویر احمد بھی خیابانِ سحر سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے موبائل فون سے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی کی فروخت کے ثبوت برآمد کرلیے گئے ، ملزمان سے ملکی اور غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئی۔حکام کے مطابق ملزمان سے ایک کروڑ چھ لاکھ پاکستانی روپے، 13ہزار600امریکی ڈالر برآمد کیے گئے ، ملزمان سی23ہزار980 یوایای درہم، 420برطانوی پاونڈز، 480 یورو بھی برآمد کرلیے گئے ہیں ۔حکام نے کہا کہ ملزمان سی300 ترکیہ لیرا، 300 تھائی بھات بھی برآمد ہوئے ، ملزمان برآمد شدہ حوالہ ہنڈی کیثبوت و شواہد اور بھاری تعداد میں ملکی و غیر ملکی کرنسی کی موجودگی کیبارے میں ایف آئی اے حکام کو مطمئن نہ کرسکے۔ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں فارن ایکسچینج ریگولیٹری ایکٹ 2020 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ۔

    سینیٹ اجلاس،شہدا کارساز، حماس رہنما یحییٰ سنوار کی شہادت پر کروائی گئی دعا

  • ایم کیو ایم کے ہر رکن نے اپنے حلقے کے 3 اسکولوں کی ذمہ داری لے لی، علی خورشیدی

    ایم کیو ایم کے ہر رکن نے اپنے حلقے کے 3 اسکولوں کی ذمہ داری لے لی، علی خورشیدی

    ایم کیوایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نےسندھ کے تباہ حال اسکولوں کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھالی ہے، ہر رکن اسمبلی نے اپنے حلقے کے تین اسکولوں کو گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے محکمہ تعلیم سندھ نے اراکین اسمبلی سندھ کے اسکول گود لینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔علی خورشیدی کا کہنا ہے سندھ میں تعلیم کے نظام کو ٹھیک کرنے کی اشدضرورت ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے شروع دن سے تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین اسمبلی کا اپوزیشن میں رہتے ہوے اسکولوں کو گود لینا انقلابی اقدام ہے۔واضح رہے کہ صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے ارکان اسمبلی کو خط لکھ کر اپنے حلقے کے اسکولز ایڈاپٹ کرنے کی دعوت دی تھی، ارکان اسمبلی کی طرف سے اسکولز ایڈاپٹ کرنے کے لئے تجاویز جمع کروانے کا سلسلہ شروع ہونے اور ضروری کارروائی کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس عمل کو Minister Initiative for Adoption of School پروگرام کا نام دیا گیا ہے، پروگرام کا مقصد سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری اسکولوں کی نگرانی اور ان کو مزید فعال کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہے، اس ضمن میں ارکان سندھ اسمبلی کی طرف سے آنے والی تجاویز کے مطابق حلقے کے اسکولوں کی نگرانی ان کے حوالے کردی گئی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں کراچی 74 اسکولز کو 32 ارکان سندھ اسمبلی کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے، کراچی کے اسکول ایڈاپٹ کرنے والے قائد حزب اختلاف و ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے علی خورشیدی کے علاوہ ایم پی ایز سید محمد عثمان، معید انور، محمد عامر صدیقی، فیصل رفیق، محمد دانیال، محمد دلاور کے علاوہ ایم پی اے ریحان، فہیم احمد، شیخ عبداللہ، نصیر احمد، سید اعجازالحق، ریحان اکرم، عبدالوسیم، عبدالباسط، عادل عسکری، محمد افتخار عالم بھی اسکول کی ذمہ داری لینے والوں میں شامل ہیں، کراچی سے منتخب اسمبلی ارکان نے محمد معاذ محبوب، محمد مظاہر عامر، جمال احمد، شریف جمال، نجم مرزا، شوکت علی، ارسلان پرویز، فرحان انصاری نے اسکولز کو ایڈاپٹ کرلیا ہے، جبکہ مہیش کمار ہسیجا، انیل کمار، سمیتا افضال، سکندر خاتوں، فرح سہیل، قرت العین، بلقیس مختار بھی اسکول سنبھالنے والوں میں شامل ہیں۔

    آئینی ترمیم پر مشاورت جاری، حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے، خالد مقبول صدیقی

    بچوں کی اسمگلنگ کا کیس، صارم برنی کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ