Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • کمشنر لاہور کی زیر صدارت لاہور ڈویلپمنٹ پلان و ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے اجلاس

    کمشنر لاہور کی زیر صدارت لاہور ڈویلپمنٹ پلان و ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے اجلاس

    کمشنر لاہور زید بن مقصود کی زیر صدارت لاہور ڈویلپمنٹ پلان و ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ڈویژنل اجلاس میں لاہور ڈویلپمنٹ پلان اور اضلاع کی ترقیاتی سکیمیں پیش کی گئیں۔

    ڈویلپمنٹ پلان کے تحت کمیٹی میں ایم سی ایل کی کل 94 سکیمیں اور واسا کی 114سکیمیں منظوری کیلئے پیش کی گئیں۔
    کمشنر کی زیر صدارت ورکنگ کمیٹی نے ہر سکیم کی مکمل تفاصیل کا جائز لیا۔لاہور ڈویلپمنٹ پلان کی تمام سکیموں پر تمام متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز سے بریفنگ لی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی لاہور ڈویلپمنٹ پلان شہر کے تمام نظرانداز و پسماندہ ایریاز پر فوکس کررہا ہے۔اس کے تحت سکمیوں پر کام کی شفافیت و پائیداری کو لگاتار مانیٹر کیا جائیگا۔کمشنر لاہور کی زیر صدارت کمیٹی نے لاہور ڈویلپمنٹ پلان کی تمام سکیموں کی منظوری دی۔لاہور ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سکیموں کی ڈپلیکیشن نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی سی ایل،سوئی گیس و دیگر ایجنسیوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس پر عملدرآمد کے بعد ڈگنگ نہیں ہوگی۔ڈویژنل اجلاس میں قصور کی روڈ سیکٹر کی 4سکیمیں بھی منظوری کیلئے پیش کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ہر ترقیاتی سکیم کی معیار اور ڈیڈلائن و ٹائم لائنز کے مطابق تکمیل ہونی چاہئے۔اجلاس میں ڈی سی لاہور،ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ لاہور،ایم ڈی واسا ،اے ڈی سی فنانس لاہور،سی او ایم سی ایل ،لاہور کے تمام اے سی ز اور ڈویژن بھر کے ڈویلپمنٹ افسران نے شرکت کی۔

    چیمپئنز ٹرافی 2025ء : قذافی سٹیڈیم کی گنجائش میں 160 فیصد اضافہ

    جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،وزیر اطلاعات

    نادرا بائیکر سروس متعارف‘ شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

  • جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،وزیر اطلاعات

    جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے کہا ہے کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،اگر کوئی جلاؤگھیراؤ کرے گا، دھمکی دے گا یا کسی کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو ریاست اس کو نشان عبرت بنائے گی۔

    اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے کامیاب انعقاد سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص میں اضافہ ہوا ہے، معزز مہمانوں نے پاکستان کے خطے میں کامیاب کردار اور شاندار میزبانی کوسراہا ہے، یہ پاکستان کی جیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، وہ اجلاس کو کامیاب بنانے میں شامل تمام وزراتوں اور عوام کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عوام کو مزید خوشخبری ملے گی، مختلف ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کی بات چیت سے پاکستانی معیشت اور عوام کو بہت فائدہ حاصل ہوگا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ویژن کے تحت ایس سی او سمٹ کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا۔انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہذب معاشروں میں سزا یافتہ شخص کو اہم عہدے نہیں دیے جاتے، اس لیے عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے انتخاب کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، اگر کوئی جلاؤگھیراؤ کرے گا، دھمکی دے گا یا کسی کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو ریاست اس کو نشان عبرت بنائے گی۔عطاتارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آپسی جھگڑے ختم نہیں ہورہے، ہمارے معیشت ترقی کر رہی ہے اور ہم خارجہ پالیسی میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں، دھمکیاں دینے والوں کے خلاف قانون پوری طرح سے حرکت میں آئے گا، جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    چیمپئنز ٹرافی 2025ء : قذافی سٹیڈیم کی گنجائش میں 160 فیصد اضافہ

    وزیراعلیٰ کےپی کے، کوکی خیل قبیلے کے مشران سے مذاکرات کامیاب، پاک افغان شاہراہ کھل گئی

    نادرا بائیکر سروس متعارف‘ شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

    بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

  • چیمپئنز ٹرافی 2025ء : قذافی سٹیڈیم کی گنجائش میں 160 فیصد اضافہ

    چیمپئنز ٹرافی 2025ء : قذافی سٹیڈیم کی گنجائش میں 160 فیصد اضافہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں شائقین کی گنجائش میں خاطر خواہ اضافے کا اعلان کیا ہے۔ مشہور اسٹیڈیم جس میں فی الحال 21,000 شائقین کی گنجائش ہے، 2025ء کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل اس کی گنجائش دگنی ہو کر 34,000 ہو جائے گی۔

    پی سی بی کے انفراسٹرکچر کے ڈائریکٹر جاوید قاضی احمد نے انکشاف کیا کہ اس توسیع کو حاصل کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے تعمیراتی کام جاری ہے۔اس منصوبے پر 7.5 بلین روپے لاگت کا تخمینہ ہے اور اس کے 31 دسمبر 2024ء تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ دیکھنے کے زاویے کو بہتر بنانے کے لیے درختوں کو ہٹایا جا رہا ہے اور سٹینڈز کو پچ کے قریب لایا جا رہا ہے۔ اکتوبر کے آخر یا نومبر کے اوائل میں آئی سی سی کے وفد کے پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے پی سی بی پوری تندہی سے کام کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ قذافی سٹیڈیم بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔19 فروری سے 9 مارچ 2025ء تک ہونے والی آئندہ چیمپئنز ٹرافی توسیع شدہ اسٹیڈیم کے لیے ایک بڑے امتحان کے طور پر کام کرے گی۔ چیمپئنز ٹرافی کے گروپ اے میں پاکستان کو بھارت، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) فی الحال پاکستان میں کھیلے جانے والے میچوں میں اپنی شرکت کی تصدیق کے لیے حکومتی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔

    ٹورنامنٹ کے دوران لاہور، کراچی اور راولپنڈی میچز کی میزبانی کریں گے۔ لاہور ایکشن کا مرکز ہو گا، فائنل سمیت سات میچوں کی میزبانی کرے گا۔ کراچی افتتاحی میچ اور ایک سیمی فائنل کھیلے گا جبکہ راولپنڈی دوسرے سیمی فائنل سمیت پانچ میچوں کی میزبانی کرے گا۔ سیمی فائنلز 5 اور 6 مارچ کو شیڈول ہیں جس کے بعد فائنل 9 مارچ کو ہوگا۔

    نادرا بائیکر سروس متعارف‘ شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

    بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

  • نادرا بائیکر سروس متعارف‘ شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

    نادرا بائیکر سروس متعارف‘ شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

    نادرا بائیکر سروس متعارف کردی گئی جس کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت مل گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایک نئی سروس شروع کی ہے جو شہریوں کو نادرا آفس جانے کی ضرورت کے بغیر اپنے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سی) کے لیے درخواست دینے یا اپ ڈیٹ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔بتایا گیا ہے کہ نادرا بائیکر سروس کے نام سے شروع کی جانے والی یہ سہولت ابتدائی طور پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں دستیاب ہے، سروس کو لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی پریشانی کو ختم کرنے اور قیمتی وقت بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، نادرا کا اس سروس کو جلد ہی دوسرے شہروں میں شروع کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سروس استعمال کرنے کے لیے شہری نادرا کو 1777 پر کال کرکے نمائندے سے بات کریں گے، مطلوبہ سروس کے بارے میں تفصیلات شیئر کرنے کے بعد (جیسے کہ نئے سی این آئی سی کے لیے درخواست دینا یا ذاتی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنا) آپ ملاقات کا وقت مقرر کر سکتے ہیں، جس کے بعد نادرا کا ایک بائیکر درخواست پر کارروائی کرنے کے لیے آپ کے گھر یا دفتر پہنچ جائے گا۔

    بتایا جارہا ہے کہ بائیکر سروس کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئے قومی شناکتی کارڈ کی کل لاگت 1500 روپے ہے، جس میں 1000 روپے سروس فیس شامل ہے، جس کی ادائیگی کارڈ کے ذریعے یا نقد بھی کی جا سکتی ہے، ایک بار جب آپ کا سی این آئی سی پروسیس ہو جائے گا، نادرا اسے براہ راست آپ کی دہلیز پر پہنچا دے گا، لہذا آپ کو ان کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نادرا کا کہنا ہے کہ اپنا قومی اور قانونی فرض نبھاتے ہوئے 18 سال عمر ہونے پر شناختی کارڈ بروقت بنوائیں، معیاد ختم ہونے پر بروقت تجدید کرائیں، بچے کی پیدائش پر بروقت ب فارم بنائیں اور خاندان کے کسی فرد کی وفات پر ان کا شناختی کارڈ منسوخ کرائیں، ان مقاصد کے لیے شہریوں کی آسانی کیلئے نادرا پاک آئی ڈی موبائل ایپ بھی متعارف کراچکا ہے، جس کے ذریعے شہری نئی سہولیات اور بہتر خدمات کے ساتھ آن لائن شناختی دستاویزات بنواسکتے ہیں۔

    برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

  • بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

    بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

    وزیر اعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی زیر صدارت پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے مالی و انتظامی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا.

    اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، صوبائی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میر ظہور بلیدی، رکن بلوچستان اسمبلی خیر جان چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسیپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری خزانہ بابر خان، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن حافظ محمد طاہر اور پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز نے شرکت کی. اجلاس میں بلوچستان کی جامعات کے مالی و انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کی جامعات میں کوئی نئی بھرتی نہیں ہوگی اشد ضروری تدریسی اسٹاف کی ایڈہاک پر تعیناتی نئے ایکٹ کے تحت ہوگی اس ضمن میں کنٹریکٹ پالیسی سے متعلق بلوچستان اسمبلی میں جلد قانون سازی کی جائے گی مالی بحران کے باعث یونیورسٹیز میں نئے تعمیراتی پروجیکٹس تشکیل نہیں دئیے جائیں گے اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں جامعات کی کمرشل سرگرمیوں کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اقدامات کے لئے کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان نے تمام یونیورسٹیز کے اساتذہ و اسٹاف کی تنخواہوں اور پینشن کی فوری ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہیں کام کرنے والے اساتذہ اور ملازمین کا حق ہے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ جو استاد ڈیوٹی کرے گا ، تنخواہ کا حق دار ہوگا تاہم گھر بیٹھے کسی کو تنخواہ نہیں دے سکتے غیر حاضر اور ڈیوٹی سے غفلت برتنے والے اہکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی وزیر اعلٰی بلوچستان نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں غیر ضروری بھرتیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ غیر ضروری اور اضافی اسٹاف کم کرکے رائٹ سائزنگ کی جائے نئی بھرتیوں اور تعمیراتی پروجیکٹس سے گریز کیا جائے پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں اپنے فنانشل مینجمنٹ نظام کو بہتر بنائیں وزیر اعلی نے کہا کہ جامع کنٹریکٹ پالیسی کی تشکیل کے لئے ضروری قانون سازی کی جارہی ہے عارضی بنیادوں پر بھرتی کے لئے بلوچستان کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ ایکٹ لایا جاررہا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیم کی ترقی ہمارا نصب العین ہے ڈویلپمنٹ پروجیکٹس اوع دیگر مدات سے فنڈز کاٹ کر جامعات کو وسائل فراہم کریں گے تاہم پھر جوابدہی کے موثر عمل کے ذریعے بہتر نتائج کا حصول بھی چاہیں گے وزیر اعلی نے جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی کہ غیر مقبول اور غیر سود مند فیکلٹیز کو بتدریج ختم کیا جائے اور جامعات کے غیر ضروری اخراجات کو کم کرتے ہوئے بتدریج ختم کیا جائے وسائل کی فراہمی کارکردگی سے مشروط ہوگی جامعات میں جدید تحقیقی عمل و علم کو فروغ دیا جائے اور طلبہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کار آمد اسکلز اور تعلیم دی جائے۔

    بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

  • برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزرا اِتمیر بین گور اور بیزالل اسموترچ کے خلاف پابندیوں پر غور کررہی ہے۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت اسرائیلی وزرا پر پابندیاں لگائے گی؟ کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’ہم اس پر غور کررہے ہیں کیونکہ مغربی کنارے میں انتہائی تشویشناک سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صریحاً مکروہ بیانات دیے گئے ہیں۔‘اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اِتامیر بین گور اور وزیر خزانہ بیزالل اسموترچ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کے پر زور حامی ہیں جو کہ عالمی قانون کے تحت غیرقانونی اقدام ہے۔اسرائیلی وزیر خزانہ یہ تجویز دیکر بھی عالمی تنقید کی زد میں آچکے ہیں کہ فلسطین میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو آزاد کرانے کیلیے غزہ کے 20 لاکھ باشندوں کو بھوک سے مارنا بھی جائز ہوگا۔

    اس سے قبل رواں ہفتے سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے انکشاف کیا تھاکہ سابق قدامت پسند حکومت انتہاپسند سیاستدانوں پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہی تھی۔لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے کیئر اسٹارمر کی حکومت منگل کو پہلے ہی اسرائیلی آباد کاروں کی 7چوکیوں اور تنظیموں پر پابندی عائد کرچکی ہے۔گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے مغبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاروں اور صہیونی فوج کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ْبرطانوی وزیراعظم نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ’ انسانی جانوں کا ضیاع روکنے اور غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانا ہوں۔’

    دریں اثنا برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اعلان کیا ہے کہ شمالی غزہ میں 2 ہفتے سے کسی قسم کی خوراک داخل نہ ہونے کی اطلاعات پر برطانیہ، فرانس اور الجیریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    فرانس نے اسرائیلی کمپنیوں کو دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا

    ادھر 2 باخبر ذرائع کا کا کہنا ہے کہ فرانس نے عنقریب منعقد ہونے والے ملٹری نیول ٹریڈ شو میں اسرائیلی کمپنیوں کی شرکت پر پابندی عائد کردی ہے، تازہ ترین پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے کشیدہ تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے۔پیرس نے پہلے ہی رواں برس اسرائیلی کمپنیوں کی ملٹری ٹریڈ شو میں شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔ فرانسیسی وزارت دفاع نے اس وقت کہا تھا کہ صدر ایمانیول میکرون کی جانب سے اسرائیل سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیے جانے کے بعد کمپنیوں کیلیے حالات مناسب نہیں رہے ہیں۔وزارت دفاع، وزیر خارجہ ، اسرائیلی سفارتخانے اور 4 سے 7نومبر تک جاری رہنے والی سالانہ بحری نمائش کو منعقد کرنے والی تنظیم یورو نیول نے تبصروں کی درخواستوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔برطانوی اور اسرائیلی وزرائے اعظم کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب حالیہ ہفتوں میں پیرس نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 21 روزہ جنگ بندی کو بچانے کیلیے کوششوں کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد طویل مدتی سفارتی حل کیلیے بات چیت کے دروازے کھولنا تھا۔

    جس وقت فرانس اور امریکا یہ سمجھ رہے تھے کہ اسرائیل شرائط پر رضامند ہے، اس نے اگلے روز حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ پر میزائل حملے کرکے انہیں حیرت میں مبتلا کردیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے، پیرس نے لڑائی بند ہونے کے بعد سفارتی حل کے لیے پیرامیٹرز طے کرنے کی کوشش پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔دریں اثنا صدر میکرون نے حالیہ ہفتوں میں کئی مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور ان کی حکومت کو ناراض کیا ہے، خاص طور پر جب جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج اسرائیل کراس فائرنگ کی زد آئی تو انہوں نے اسرائیل کو غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔فرانسیسی حکام کے مطابق منگل کو فرانسیسی صدر نے کابینہ سے خطاب میں کہا کہ نتن یاہو کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے ملک کا قیام اقوام متحدہ کے فیصلے کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے، فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے بیان کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ یہ عام تبصرہ تھا جس کا مقصد اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کی اہمیت کو یاد دلانا تھا۔

    فرانسیسی صدر کے بیان کے جواب میں نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں فرانسیسی حکوت کے نازی جرمنی سے اشتراک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’اسرائیل کا قیام ہمارے ہیروز کے خون سے لڑی گئی جنگ آزادی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا، جن میں سے بہت سے ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے تھے جس میں فرانس کی ویچی حکومت بھی ملوث تھی۔‘دو سفارت کاروں کہنا ہے کہ حالیہ بیانات لبنان میں ثالثی کی فرانسیسی کوششوں کیلیے مددگار ثابت نہیں ہوگے، جوکہ آئندہ ہفتے پیرس میں ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے جارہا ہے۔نیتن یاہو نے پیرس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس پر جنوبی افریقہ اور الجزائر کو کیا ہے مدعو کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جو ان کے مطابق ’اسرائیل کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنے کیلیے کوشاں ہیں اور حقیقت میں اس کے وجود کے حق کو ہی مسترد کرتے ہیں۔‘

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

  • دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

    میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز میں ایکٹیویٹی اسٹیٹس کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے۔

    مہیڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیچر آپ کو یہ دیکھنے میں مدد فراہم کرے گا کہ تھریڈز پر کون آن لائن ہے۔انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے اس فیچر کا اعلان ایک تھریڈز پوسٹ میں کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس فیچر سے آپ کو دیگر افراد سے رئیل ٹائم میں انگیج ہونے کا موقع ملے گا۔آسان الفاظ میں اب تھریڈز پر آپ کب آن لائن ہوتے ہیں یہ دیگر افراد کے لیے دیکھنا ممکن ہو جائے گا اور یہ فیچر بائی ڈیفالٹ آن ہوگا۔مگر آپ اسے سیٹنگز میں جاکر ٹرن آف کر سکتے ہیں یا آپ کا آن لائن اسٹیٹس صرف وہی افراد دیکھ سکیں گے جو اس فیچر کو ٹرن آن کریں گے۔اس فیچر کا بنیادی مقصد تھریڈز میں رئیل ٹائم سرگرمیوں کو بڑھانا ہے کیونکہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس حوالے سے ابھی ایکس (ٹوئٹر) سے پیچھے ہے۔اس فیچر کے تحت جب کوئی فرد تھریڈز پر آن لائن ہوگا تو اس کے یوزر نیم کے آگے نیلے رنگ کا ڈاٹ نظر آئے گا۔کمپنی کے مطابق اس فیچر کو متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ بتدریج تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

  • معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    اسمگلنگ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے بڑا خطرہ ہے،عوام کی سلامتی اور مستحکم معیشت کی خاطر اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈائون جاری ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران ملک بھر سے 26680 سگریٹ کے اسٹاکس،0.138 ملین لیٹر ایرانی تیل اور 456کپڑے کے تھان برآمد ہوئے،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سے 10980،پشاور سے 15500اور کوئٹہ سے 200 سگریٹ کے سٹاکس ضبط کیے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سی372اور کوئٹہ سے 84کپڑے کے تھان ضبط کیے ، ملتان سے 0.001، کراچی سی0.009 اورکوئٹہ سے 0.128ملین لیٹر ایرانی تیل برآمد کیا۔یکم ستمبر 2023 سے اب تک ملک بھر سے 13,088.75میٹرک ٹن کھاد،8 3613.1میٹرک ٹن آٹا،35128.9 میٹرک ٹن چینی، 4,372,675 سگریٹ کے سٹاکس، 154,560کپڑے کے تھان اور 17.257ملین لیٹر ایرانی تیل برآمدکیا جاچکا ہے۔قانون نافذکرنیوالے ادارے ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے اسمگلنگ کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

  • مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ سے اٹلی کی سفیر ماریلیا ارمیلن نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران این ای ڈی یونیورسٹی کے اٹلی کی یونیورسٹی کے ساتھ باہمی تعاون پر گفتگو کی گئی اور سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق کیا گیا۔اٹلی کی سفیر ماریلیا ارمیلن نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان جلد ایم او یو ہوگا۔اس کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ اٹلی کی فرمز سے قونصل جنرل کے ذریعے بات چیت کرے گا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اور اٹلی ثقافتی اعتبار سے لاجواب ہیں۔انہوں نے کراچی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے لیے اٹلی کی کمپنیوں کو دعوت دی۔وزیرِ اعلی سندھ نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے پاکستان میں بڑے پروجیکٹ کیے ہیں، تربیلا ڈیم کی تعمیر میں بھی اٹلی نے کام کیا تھا۔ملاقات میں وزیراعلی کے سیکریٹری رحیم شیخ اور اٹلی کے کراچی میں قونصل جنرل مسٹر ڈنیلو جیورڈینیلا بھی شریک ہوئے۔

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

  • جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیم کی جانب سے اسٹوڈنٹس کو درپیش مسائل پر چھٹے روز بھی شیخ الجامعہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ جامعہ میں بھاری فیسیں، پوائنٹس کی کمی، اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث کیا گیا۔

    طلباوطلبات نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے ساتھ وی سی آفس کے باہر دھرنا دے دیا اور شدید نعرے بازی کی، طلبہ تنظیم کے رہنماؤں نے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی سے مذاکرات کیے جو کہ جزوی طور پر قبول کیے گئے جبکہ طلبہ تنظیم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کل جامعہ میں سرکاری دفاتر کے کام بند کرنے کی دھمکی دے دی۔اسلامی جمعیت طلبہ اور طلبہ الائنس جامعہ کراچی کی جانب سے طلباوطلبات نے چھٹے روز بھی وی سی آفس کے باہر بھرپور احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی، اس سے قبل طلبہ نے احتجاج کے دوران پوائنٹس روک دیے جس سے طلباوطلبات کو پریشانی کا سامنا ہوا۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے واپسی کے پوائنٹس کا آپریشن روک دیا جس کی وجہ سے طلبہ اپنے طور پر گھر پہنچے، مظاہرین کا کہنا تھا اب مزید خاموش نہیں رہا جائے گا اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے، ہاتھوں میں کلاسز کی ابتر صورتحال اور بھاری فیسوں کے خلاف بینرز اٹھا کر مظاہرین نے نعرے لگائے۔

    طلبہ رہنماؤں نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ وائس چانسلر کو پیش کیا مذاکرات کے بعد طلبہ تنظیم نے اپنا موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جزوی طور پر مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیٹ فیس میں پچاس فیصد اضافے والا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے ، مسئلے کا حل دینے کے بجائے حکومتی نمائندوں سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔آج جامعہ کراچی کی کینٹینز بند کی ہیں کل جامعہ کراچی کی ورکنگ نہیں ہونے دیں گے، انتظامیہ ہمیں مجبور نہ کرے جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے ہم سراپا احتجاج رہیں گے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لیٹ فیس میں پچاس فیصد کا اضافہ سمیت امتحانات کی فیس کو فی الفور ختم کیا جائے، ری ایڈمیشن کے نام پر طلبہ سے پانچ ہزار روپے لیے جا رہے ہیں اس عمل کو ختم کیا جائے اور خستہ حال پوائنٹس کی فل فور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے۔

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست