Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بینہسن کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد کے درمیان سندھ مین چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کی تکمیل کے اہداف مقرر کیے گئے۔ ملاقات وزیراعلی ہاس میں ہوئی جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی ٹیم میں مختلف شعبوں کے سربراہوں نے شرکت کی جنہوں نے کنٹری ڈائریکٹر کی معاونت کی۔ عالمی بینک کے تحت سندھ میں 3 ارب ، 12 کروڑ اور چالیس لاکھ ڈالر کے 13 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن کیلیے ایک ارب 36 کروڑ ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔ منصوبوں میں کراچی میں پانی و نکاسی کی بہتری کا منصوبہ، کچرے کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ، سندھ سولر انرجی پروجیکٹ، کراچی موبیلٹی پروجیکٹ، سندھ میں ابتدائی تعلیم کی بہتری کا منصوبہ، کراچی کو قابل رہائش بنانے کا منصوبہ ، سندھ صحت و آبادی منصوبہ، سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ، سندھ میں سماجی تحفظ کی بہتری کا منصوبہ، سیلاب متاثرین کی بحالی کا منصوبہ، بیراجوں کی مرمت کا منصوبہ، سندھ پانی و زرعی ترقیاتی منصوبہ ، سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایگریکلچر سیکٹر ٹرانفارمیشن پروجیکٹ شامل ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے ہنگامی پروگرام کے تحت 2022 کے سیلاب متاثرین کیلیے رہائش کے انتظامات اور حکومت سندھ کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر کرنا شامل ہے۔ پروگرام کے چار شعبے ہیں جن میں گھروں کی تعمیر، گذر بسر کیلیے امداد، تکنیکی امداد کیلیے اداروں کو مضبوط کرنا اور پروجیکٹ مینجمنٹ و لاگت کا تخمینہ شامل ہیں۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ گذربسر کیلیے دی جانے والی امداد کے واجبات اس ماہ کے آخر تک ادا کردیے جائیں گے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے تین مراحل ہیں جن میں گھروں کی تعمیر کیلیے امداد دینا، اداروں کی مضبوطی و تکنیکی امداد اور منصوبے کے عملدرآمد میں مدد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بیزمین متاثرین کو زمین الاٹ کرکے انہیں بسایا گیا ہے۔
    مالکانہ حقوق انہیں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے تحت مختلف شاہراہوں پر نقل و حمل کی بہتری، رسائی میں آسانی اور تحفظ کی بہتری شامل ہے۔ اس کے تحت ییلو لائن کیلیے سڑک کی تعمیر، بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر و روانگی اور استعداد میں اضافے و ٹکنیکی امداد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ اور نئی جام صادق پل کا ابتدائی خاکہ منظور ہو چکا ہے ، ستمبر 2024 میں حتمی ڈیزائن بھی جمع کرایا جا چکا ہے۔
    چونکہ پلرز کا ڈیزائن منظور ہو چکا ہے اس لیے پلرز کا کام شروع ہو چکا ہے جبکہ بھرائی اور دیگر کام عملدرآمد کے مراحل میں ہے۔ ییلو لائن بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر کیلیے 13 اور 19 اگست 2024 کو معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور کام پر پیش رفت جاری ہے۔ ڈپو ون پر ستر اکتوبر 2024 کو کام کا آغاز ہوگا۔ کنسلٹنٹس نے تعمیراتی ماڈلز پیش کردیے ہیں جس پر بحث اور تجاویز کا تبادلہ ہوچکا اور بارہ اکتوبر 2024 کو اپ ڈیٹ رپورٹ پیش کی جائیگی۔
    کلک پروگرام کے تحت شہری انتظام ، خدمات اور کاروباری ماحول کی بہتری اور ہنگامی حالات میں امداد کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ کارکردگی کی بنیاد پر مقامی اداروں کو 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد ، پراپرٹی ٹیکس کے نظام کی بہتری، کاروباری ماحول کی بہتری، کچرا ٹھکانے لگانے کیلیے تکنیکی امداد اور ہنگامی امداد کے آلات کی خریداری شامل ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام نو منصوبوں کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ تمام 18 منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔25 ٹان میونسپل کمیٹیوں میں دو کروڑ ، 25 لاکھ اور 80 ہزار ڈالر کی 73 اسکیمیں فائنل کردی گئی ہیں۔ 64 اسکیموں کے اشتہارات شایع کردیے گئے ہیں جبکہ 9 منصوبے ٹان میونسپل کمیٹیوں میں منظوری کے مراحل میں ہیں۔ کے ایم سی نے 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی7 منصوبے تجویز کیے ہیں جن میں سے 2 منصوبے ٹھیکیداری کے مرحلے میں ہیں جبکہ پانچ باقی اسکیموں کے ابتدائی ڈیزائن پیش کیے گئے ہیں جن کو فائنل کیا جا رہا ہے۔
    کے ایم سی کی سال 26-2025 کے چھ اسکیموں کی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے جن میں فلائی اوورز، سڑکیں، نکاسی، ایک اسپورٹس کمپلیکس اور ایک فٹ بال اسٹیڈیم شامل ہے جبکہ ٹان کمیٹیوں کی اسکیموں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کراچی میں پراپرٹی سروے کیلیے 15 سے 22 اگست کے درمیان گلبرگ اور نارتھ ناظم آباد میں سروے کیا گیا، سو سے زیادہ جائدادوں کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
    اابتدائی سروے کی تفصیلات عالمی بینک کو فراہم کردی گئیں۔ منصوبے کیلیے بولی 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں انتظامی، مالیاتی اور آپریشنل اصلاحات کے منصوبے کی 20 ستمبر 2024 کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام بڑی خریداری کے ٹینڈر جاری کیے جاچکے ہیں اور کام تیزی سے جاری ہے۔ 20 اکتوبر 2024 تک تمام معاہدوں پر دستخط کا امکان ہے۔
    اس سلسلے میں اب تک 76 فیصد کام ہو چکا ہے جبکہ 20 اکتوبر تک یہ 95 فیصد تک ہو جائیگا۔ منصوبے کیلیے چیف انفارمیشن ٹیکنالوجی آفسر اور چیف انٹرنل آڈیٹر مقرر کیے جا چکے ہیں جبکہ چیف فنانشل آفسر کا تقرر 15 نومبر 2024 تک ہو جا چاہیے۔ سندھ میں چار سولر پارکس کے قیام، سرکاری عمارتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی اور سولر ہوم سسٹم کے بارے میں بتایا گیا کہ سولر پارکس کے قیام کیلیے کامیاب بولی دہندہ اور لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان زمین کی لیز کا معاہدہ کیا جائیگا۔
    مانجھند میں نیشنل گرڈ کے ساتھ جوڑنے کے منصوبے کی منظوری ابھی باقی ہے۔ 10 ستمبر 2024 کو ایک اجلاس میں این ٹی ڈی سی کی جانب سے جون 2028 تک بجلی کی ترسیل کا زبانی وعدہ کیا گیا تھا تاہم یہ تصدیق تحریری طور پر کرنے کیلیے رابطہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ سولر ہوم سسٹم کی کٹس فراہم کرنے کے پہلے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور نومبر کے اوائل میں پہلی کھیپ پہنچ جائیگی۔
    15 اکتوبر تک دوسرے معاہدے پر بھی دستخط کے امکانات ہیں۔ اس کیلیے انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ پرائمری سطح پر تعلیم کی بہتری کے پروگرام سلیکٹ کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے پی سی ون کی منظوری دی جا چکی ہے۔ پلاننگ کمیشن سے درخواست کی جائے گی کی اس عمل کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ انہوں نے منصوبے کیلیے 23 لاکھ ڈالرز مختص کیے ہیں۔
    میرپور خاص ضلع کیلیے سول ورک شروع کرنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔ ٹھٹہ کیلیے اشتہارات جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ٹنڈو محمد خان اور مٹیاری کیلیے منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہیں۔ پہلی سے دوسری جماعت کیلیے اشاعتی مواد کی رپورٹ عالمی بینک کو یکم کتوبر 2024 کو فراہم کردی گئی تھی۔ کتب جنوری 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔ تیسری سے پانچویں جماعت کی کتابیں بھی اپریل 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں آبپاشی نظام کی بہتری کے منصوبے کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی ٹیمیں متحرک کردی گئی ہیں۔ سندھ واٹر پالیسی عملدرآمد کمیٹی کا پہلا اجالس تین نومبر 2023 کو ہوا۔ پانی کی فراہمی میں بہتری کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ اکرام واہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کینال کی ڈیزائن میں تبدیلی پر تفصیلی تبادلہ خیال گیا۔
    کینال کی آر ڈی زیرو سے 193 تک لائننگ پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے۔ بنیادی صحت کی بہتری کے پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ مالی سل میں 121 مزید گورنمنٹ ڈسپنسریز قائم کردی جائیں گی۔ 171 ڈسپنسریز کے قیام کیلیے ایک ارب 60 کروڑ روپے کا بجٹ جمع کرایا گیا ہے جس کیلیے ادائیگیوں کے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے۔
    متعلقہ فورمز سے مںظوری کے بعد اضافی ایمبولینسز کے حصول کا کام شروع کردیا جائیگا۔ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے بارے میں بنیادی صحت میں بہتری کے حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے تاہم اس کی نیشنل ٹی بی پروگرام اور گلوبل فنڈ سے توثیق باقی ہے۔ یہ توثیق آ جانے کے بعد رپورٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ کراچی میں کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر کیلیے یکم فروری 2024 کو ٹینڈر جاری کیا گیا اور 12 اگست 2024 کو منظوری کا لیٹر جایر کیا گیا ۔
    گڈو اور سکھر بیراج سمیت سندھ میں کینالوں کی حفاظت اور محکمہ آبپاشی کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ ہنگامی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 44 اور 47 اگلے سیزن میں دوبارہ تبدیل کیے جائیں گے۔ منصوبے کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر کلیمنٹ کو سکھر بیراج کے دورے کی دعوت دی جا چکی ہے تاکہ گیٹ ٹوٹنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے تاہم ویزہ مسائل کے باعث ان کا دورہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔
    اب وہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں آئیں گے۔ سندھ کے منتخب اضلاع میں زچہ و بچہ سروسز کو بہتر بنانے کے پروگرام کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سوشل پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے درمیان 27 اگست 2027 کو معلومات کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اگلے نوے روز میں پی ایس پی کی پہلی قسط جاری ہو جائے گی۔

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

  • گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ

    گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ

    سینٹرل نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس کی خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر ایکشن لیتے ہوے کارخانے پر چھاپہ مارا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے چھاپہ بمقام اندرون مکان06/38 سیکٹر11/G نیو کراچی میں مارا۔پولیس کے مطابق ملزمان نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کی حدود میں ایک مکان میں خفیہ طور گٹکا ماوا تیار کر کے فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔ملزمان سے پولیس نی24 عدد کٹے چھالیہ چورا شدہ وزنی 07 من 08 کلو گرام،05 عدد کٹے چھالیہ دانے دار وزنی 01 من 20 کلو گرام،،05 کلو گرام چھالیہ دانے دار گیلی چھالہ وزنی ٹپ میں موجود،18عدد پیکٹ عاداب انڈین گٹکا،*12 عدد پیکٹ ?A 2 Zانڈین گٹکا،20 عدد پیکٹ مضر صحت تمباکو نجمہ زافرانی،02 کلو گرام چونا،01 کلو گرام کتھا،مکس پتی 02 کلو گرام*50 عدد تیار شدہ ماوا،پلاسٹک کے شاپر میں خالی ریپرز،01 عدد چھوٹا کمپیوٹرائز کانٹابرآمد کیا۔گرفتار ملزم کاشف ولد عبدالستار اور گرفتار ملزم کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔فرار ملزم کی شناخت عرفان عرف نارنگی ولد محمد حسین عرف نارنگی نام سے ہوئی۔ملزمان کے خلاف گٹکا ماوا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔جبکہ ملزمان کاسابقہ کریمینل ریکارڈ بھی حاصل کیا جارہا ہے۔

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

  • پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    جنرل سیکریٹڑی پی پی پی کراچی و صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کی زیر صدارت 18 اکتوبر شہدائے سانح? کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمعہ 18 اکتوبر کو حیدرآباد میں منعقد کئے جانے والے جلسے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سینیٹر سید وقار مہدی نے خصوصی شرکت کی –

    اجلاس میں سینئر نائب صدر پی پی پی ضلع جنوبی حاجی عبدالمجید ، جنرل سیکریٹری پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز انجنیئرنگ فورم سندھ تیمور سیال ، سیکریٹری اطلاعات پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کرچی ڈویڑن فرید میمن ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول صدر پیپلز لیبر بیورو کراچی اسلم سموں ، صدر پیپلز یوتھ ضلع جنوبی فضل بلوچ ، جنرل سیکریٹری پی پی پی خواتین ونگ ضلع جنوبی عالیہ بیگم ، ٹاؤن چیئرمین لیاری ناصر کریم ، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے سٹی ایریا اور یونین کمیٹیوں کے صدور جنرل سیکریٹریز سیکریٹری اطلاعات لیاری و صدر ٹاؤن میں پی پی پی کے منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین نے شرکت کی – اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری پی پی پی سندھ سینیٹر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز کی شہید چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹع کی 2007 میں وطن واپسی پر جیالوں نے تاریخی استقبال کیا جو کہ ملک دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہ بھایا ایک آمر کے دور حکومت میں شہید بی بی پر حملہ کیا گیا اور ہم سمیت ساری دٴْنیا اس بات کی شاہد ہے کہ جیالوں نے اپنی جانیں قٴْربان کرکے شہید بے نظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کو ناکام بنایا قٴْربانی کی یہ مثال رہتی دنیا تک یاد رکھی جا? گی ہر سال ہم 18 اکتوبر کو شہدائے کارساز کے حذبے ہمت اور بے لوث قٴْربانی پر اٴْن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں اس سال چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی ہدایت کے مطابق شدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پی پی پی کارکنان اور عوام 18 اکتوبر جمعہ کے روز حیدرآباد میں ہٹری بائی پاس کے مقام پر جلسے میں شرکت کریں گے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی پی پی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے جمہوری نظام لازم ہے پاکستان میں جمہوریت 18 اکتوبر 2007 کو سانحہ کارساز میں شہید ہونے والوں کی مرہون منت ہے 2007 میں کارساز کے مقام پر دٴْنیا نے یہ منظر دیکھا پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان دھماکے کی جگہ سے دور ہٹنے کے بجائے اٴْس ہی جانب بھاگتے ہوئے گئے اور اپنی رہبر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قٴْربان کی اور آمر اور اٴْس کے آلہ کاروں کو یہ باور کروایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان بے خوف و خطر ملک کی خاطر جان قٴْربان کرسکتے ہیں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی تیمور سیال نے اجلاس کے شرکاء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی اور ذیلی تنظیموں کے تمام عہدیداران و کارکنان حیدرآباد جلسے میں بھرپور شرکت کرکے شہدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کریں گے ۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترکمانستان کا دو روزہ دورہ، اشک آباد پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے

  • ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل پروفیسر عشرت ناز کا اچانک تبادلہ،اس فیصلے کے خلاف طالبات سراپا احتجاج بن گئیں.

    باغی ٹی وہ کی رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج شرافی گوٹھ کراچی جو 2018 سے ہے لیکن حکام بالا اور پچھلی پرنسپل کی عدم توجہ کی وجہ سے ویران تھا 2023 میں پروفیسر عشرت ناز نے بحیثیت پرنسپل کا چارج سنبھالا اور اپنے اس ایک سال کی انتھک محنت کی وجہ سے اس ویران کالج کی انرولمنٹ کو 500 سے زیادہ کرانے کے ساتھ ساتھ کالج میں کامرس کی فیکلٹی کو متعلقہ ممبر قومی اسمبلی عبد الحکیم بلوچ کی معاونت سے آغاز کرایا اور طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے کوششیں کیں اور مختصر اساتذہ ہوتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا یہی وجہ ہے کہ اس سال پری میڈیکل گروپ کی طالبعم نے A گریڈ سے اپنا امتحان پاس کیا۔کالج کی بہتری کے لئے متعلقہ اداروں کو خطوط بھی لکھے مگر بے حس افسران کی بھینٹ چڑھ گئیں اور اچانک تبادلہ ہوگیا جس کی وجہ سے طالبات میں شدید بیچینی پائی جاتی ہے یہی نہیں علاقے کے مکین بھی ان کے تبادلے سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں اس سلسلے میں آج 10.10.2024 کو کالج کی طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور پروفیسر عشرت ناز کے حق میں نعرہ بازی کی اور ان کو کالج میں دوبارہ تعینات کرنے تک اپنا احتجاج جاری رکھنا کا عندیہ دے دیااور یہاں تک کہ متعلقہ افسران کے آفس تک جانے اور گھیرا کرنے کا بھی عندیہ دے دیا۔

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

  • کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی میں رواں ماہ ڈینگی کے 90 کیس سامنے آئے ہیں۔

    ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی میں 8 اکتوبر کو ڈینگی کے 10 کیس رپورٹ ہوئے، ضلع وسطی 4، ضلع شرقی 3 اور ضلع جنوبی سے ڈینگی کے 3 کیس رپورٹ ہوئے۔رواں سال کراچی میں اب تک ڈینگی کے 1 ہزار 473 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ رواں سال سندھ میں ڈینگی کے 1 ہزار 709 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ رواں سال سندھ میں ڈینگی سے ایک شخص کا انتقال بھی ہو چکا ہے۔دوسری جانب شہر میں چکن گونیا کے کیسز کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی کے تمام سرکا ری و نجی اسپتال اس وقت مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن شہرمیں جراثیم کش اسپرے کا مرحلہ اب تک شروع نہیں ہوسکا، بلدیہ عظمی کراچی مختلف ٹیکسوں کی ریکوری پراپنی پوری طاقت صرف کررہی ہے لیکن عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔دوسری جانب پچیس ٹائونز کی انتظا میہ بھی عوام کو ریلیف فراہم کر نے کے لیے کو ئی اقدامات کرنے کو تیارنہیں ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلا ت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔شہریوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں فوری طور پر جراثیم کش اسپرے کرایا جا ئے تاکہ ان بیماریوں سے بچا جا سکے۔

    ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

  • کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    سندھ کے شہر شکارپور میں انڈس ہائی وے پر ڈاکوئوں نے مسافر کوچ اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک مسافر جاں بحق اور 5 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شکارپور کے ناپر کوٹ تھانہ کی حدود میں کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ سے ڈاکوئوں نے لوٹ مار کی کوشش کی۔مسافر کوچ کے نہ رکنے پر ڈاکوئوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک مسافر غلام حیدر موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 5 مسافر شدید زخمی ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے بعد ڈاکو کچے کی طرف فرار ہوگئے، لاش اور زخمیوں کو خانپور اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔مسافر کوچ کراچی سے کشمور جارہی تھی، واقعے کے بعد مسافروں نے انڈس ہائی وے پر احتجاج بھی کیا جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔مسافروں نے کہا کہ ڈاکو لوٹ مار کر رہے تھے مگر پولیس کی جانب سے کوئی مذمت نہیں کی گئی۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ایس ایس پی شکارپور کی قیادت میں ڈاکوں کے خلاف کچے میں آپریشن جاری ہے۔

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

  • ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے

    ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے

    ایف آئی اے کراچی زون میں تبادلے و تقرریاں کردی گئیں۔

    باغہی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمرشل بینک سرکل سے انسپکٹرمحمد ثنااللہ تبادلے کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ سرکل تعینات کردیا گیا جبکہ سب انسپکٹرآصف رضا اینٹی کرپشن سرکل سے کمرشل بینک سرکل تعینات کردیاگیا ہے۔سب انسپکٹرسید علی مظفر کمرشل بینک سرکل سے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل جبکہ سب انسپکٹر نعمان اکبر اسٹیٹ بینک سرکل سے کمرشل بینک سرکل تعینات کردیاگیا۔احکامات ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نعمان صدیقی کے دستخط سے جاری کیے گئے.واضح رہے کہ یہ تقرر و تبادلہ معمول کا حصہ ہیں.

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

  • کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

    کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سگنل کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کی تفتیش میںپیش رفت، پولیس نے خودکش بمبار شاہ فہد کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا.
    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی حکام نے ملیر میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران خودکش بمبار شاہ فہد کے قریبی عزیز کو حراست میں لیا ہے جو کہ خودکش بمبار کا مبینہ سہولت کار بتایا جا رہا ہے جس کی نشاندہی پر ایک خاتون کو بھی گرفتار کر لیاگیا۔حملہ آور شاہ فہد نے حملے سے قبل گرفتار شخص کے گھر میں قیام کیا تھا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق خودکش دھماکے کی منصوبہ بندی میں خاتون بھی ملوث ہے۔ خاتون سمیت دو افراد کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا.
    تفتیش کے دوران دہشت گرد کے بیک اپ پر موجود ایک اور گاڑی کا بھی انکشاف ہوا جبکہ بیک اپ پر موجود گاڑی سے بنائی گئی ویڈیو بھی تفتیشی اداروں کو مل گئی جس میں حملہ آور کی گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے۔دھماکے میں استعمال کی گئی گاڑی کی ویڈیو حملے سے قبل بنائی گئی تھی جبکہ مبینہ ساتھی نے صدر میں قائم ہوٹل میں خودکش حملہ آور سے ہوٹل میں ملاقات بھی کی تھی۔دریں اثناءکراچی میں چینی انجینئرز پر خودکش حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا۔حملے سمیت متعدد پہلوو¿ں پر تفتیش جاری ہے۔حملہ آوروں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے افراد کی جانچ پڑتال بھی کی جاری ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق دھماکے میں چینی باشندوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ دھماکے کا مقصد پاکستان اور چین کے تعلقات کو خراب کرنا ہے۔حملہ آوروں کی گاڑی شہر میں کہاں کہاں گئی تفتیشی اداروں نے روٹ میپنگ شروع کردی۔ شہر کے مختلف علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیجز جمع کی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ سات اکتوبر کوکراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے میں 3 غیر ملکی جاں بحق جبکہ 17 شہری زخمی ہوگئے تھےجبکہ واقعہ میں تین گاڑیاں اور چار موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔ایئرپورٹ سگنل کے قریب آئل ٹینکر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کی آواز دور تک سنی گئی تھی۔ اطراف میں رہنے والے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ رینجرز اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیاتھا۔ ائیرپورٹ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں خاتون، پولیس اور رینجرز اہلکار بھی شامل تھے۔تحقیقاتی اداروں نے ابتدائی تفتیش مکمل کرلی تھی۔ قافلہ قریب پہنچتے ہی دہشت گرد نے کار غیرملکیوں کی گاڑی سے ٹکرا دی گئی تھی۔ خودکش حملہ آور قافلے کے نکلنے کا انتظار کررہاتھا۔ کار میں ممکنہ طور پر بارود تھا جس سے گاڑی مکمل تباہ ہوگئی تھی۔ کار کی نمبر پلیٹ، چیسس نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جائے وقوعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک دھڑ ملا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا دھڑ ممکنہ طور پر خودکش بمبار کا ہوسکتا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کرکے تحقیقات شروع کر دیں تھیں۔

    کراچی خودکش دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیش رفت، سہولتکار گرفتار

  • سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روکتے ہوئے بنائی گئی کمیٹی کو تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کرنے اور ایف آئی اے کو اس معاملے میں تحقیقات کے لیے ٹیم نامزد کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔چیف سیکریٹری سندھ، جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ کتنے بچے ایسے ہیں جن کے مارکس 195 سے زیادہ ہیں، یہاں ہم سندھ کے بچوں کے رزلٹ کو پنجاب اور کے پی کے بچوں سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس امجد سہتو نے ریمارکس دیے کہ پی ایم ڈی سی کا اس حوالے سے معاملہ ختم ہوگیا کہ پیپر لیک ہوا یا نہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر امتحان میں کوئی خامی ہے تو یہ بھی بتایا جائے، 187 مارکس حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد 1100 سے زیادہ تھی۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ کے پی اور پنجاب کے طلبہ کے نمبرز کی تفصیل آجائیں تو سندھ سے میچ کیا جائے گا۔جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیے کہ اگر پیپر کسی ایک سینٹر کا لیک ہوا تو اس ڈویڑن کا پیپرز روکا جائے، پورے سندھ کے نہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے جو 190 پلس والے طلبہ کہاں جائیں گے۔ پنجاب میں 58 ہزار، کے پی میں 42 ہزار اور سندھ میں 38 ہزار طلبہ نے امتحان دیا ہے۔وائس چانسلر نے بتایا کہ محکمہ صحت نے ایک کمیٹی بنائی جس میں لگائے گئے الزامات کا ثبوت نہیں ملا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کہیں نہ کہیں پر یہ چیز ضرور ہوئی اس لیے الزامات لگتے ہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا یہ چیزیں غلط چلا رہا ہے اور وہ بلیک میلنگ کر رہے ہیں، باقی انتظامیہ دودھ کی دھلی ہوئی ہے۔ پیپر لیک ہونے والی بات ٹھیک ہے یا نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ میرا گھر مجھے بنانے دیں میں اچھا بناؤں گا۔سیکریٹری صحت ریحان بلوچ نے کہا کہ محکمہ صحت کا رول یہ تھا کہ کریکیولم میں تبدیلی کریں، مجھے بھی 12 بجے میسیجز آئے۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ جب شکایتیں آئیں تو آپ پیپر منگواتے، کسی ادارے نے زحمت نہ کی پیپر لیک ہوا کہ کینسل کریں۔ اس معاملے پر جو کام کیا ہے وہ سیکریٹری صحت نے بھی نہیں کیا۔ محکمہ صحت اور پی ایم ڈی سی مکمل ملے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس کیس آیا ہے تو انصاف تو کرنا ہے۔سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روک دیا۔
    عدالت نے حکم دیا کہ جب تک اس پروسیس پر عمل نہیں ہو جاتا ایم ڈی کیٹ ایڈمیشن کے رزلٹ کو ہولڈ کریں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا ہے کہ 38 بچوں نے سندھ میں 190 سے زیادہ مارکس لیے ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام فریقین کو اس حوالے سے نوٹیفائی بھی کر دیا ہے۔ عدالت نے سیکریٹری اوقاف پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی کو اس حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔
    چیف سیکریٹری نے بتایا کہ سیکریٹری اوقاف اس سے قبل بورڈز کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کریں اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کو بھی حکم دیا جاتا ہے اس معاملے میں تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم نامزد کرے۔ عدالت کی جانب سے درخواستوں کی سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کراچی میں سیکڑوں بچوں نے ہم سے رابطہ کیا، سیکڑوں بچوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے، 8 ہزار پر بچہ لے کر 10 کروڑ روپے ڈاؤ یونیورسٹی کو ملے ہیں اور 7 کروڑ روپے سے زیادہ میڈیکل ٹیسٹ کیلیے لیے گئے۔ بچوں کی جانب سے میں ایوان سے شدید مذمت کرتا ہوں، عدالت کے بڑے شکر گزار ہیں جنہوں نے بچوں کی فریاد پر دو کمیٹیاں بنا دی ہیں۔
    خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ عدالت نے تحقیقات کرکے 15 دن میں جواب طلب کیا ہے۔ کمیٹیوں میں ایف آئی اے اور ایم آئی ٹی پر مشتمل کمیٹی بنائی ہے۔ پورے سندھ میں 199 مارکس مختلف طلباء نے حاصل کیے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پیپر لیک ہوا تھا۔ آدھے سے زیادہ طلباء بیرون بورڈ سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آخر کار پیپر لیک کرنے والا مافیا ہے کون پچھلے 4 سے 5 سالوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پیپر لیک ہو رہے ہیں۔
    پیپر فوٹو اسٹیٹ دکانوں پر سو روپے میں بیچے جا رہے ہوتے ہیں۔ اب ظلم یہ ہے کہ میڈیکل بورڈز کے بھی پرچے لیک ہو رہے ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایک انسٹیٹیوٹ کے 132 بچوں نے 199 نمبرز حاصل کیے ہیں، ان بچوں کے مستقبل کے لیے ہم کوشش کریں گے۔ ہم ڈاؤ اور پی ایم ڈی سی کو ان کے اس جرم کی سزا دلوائیں گے۔ جب ٹیسٹ کے لیے آئی بی اے موجود ہے تو ڈاؤ کیوں لے رہا ہے۔ عدالت میں سارا معاملہ رکھا ہے بچوں کے مستقبل سے متعلق سے نہیں کھیلا جائے گا۔

    عوام پر بوجھ کم کرنے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،پاسبان

    جمعیت علماء اسلام کے وفد کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات اور تعزیت

    کراچی خودکش دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیش رفت، سہولتکار گرفتار

  • عوام پر بوجھ کم کرنے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،پاسبان

    عوام پر بوجھ کم کرنے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،پاسبان

    پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کو بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے کے بوجھ سے بچایا جائے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طارق چاندی والا ن نے کہا کہ ایک طرف تو روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، اور دوسری طرف بجلی کے بلوں میں یہ اضافہ لوگوں کی مشکلات کو بڑھا رہا ہے۔بجلی کے بلوں میں ہونے والے مسلسل اضافے کا مسئلہ کراچی کے شہریوں کے لئے بہت بڑی تشویش کا باعث ہے۔حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری حل تلاش کریں۔ پی ڈی پی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور ادارے عوام کو جھوٹے وعدوں سے بہلانے کے بجائے ٹھوس اقدامات کریں۔ بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم ہو سکے۔کم آمدنی والے صارفین کے لیے سبسڈیز متعارف کروائی جائیں تاکہ ان کے بلوں میں کمی ہو۔ایڈجسٹمنٹ کی پالیسیوں میں شفافیت لائی جائے تاکہ صارفین کو سمجھ میں آئے کہ ان کے بل میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ بجلی کی چوری روکنے کے لئے سخت اقدامات کیے جائیں، تاکہ ان کا اثر باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین پر نہ پڑے۔ متبادل توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے تاکہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو اور قیمتیں کم ہوں۔ ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے اس بوجھ کا اثر بالخصوص کم آمدنی والے صارفین پر زیادہ پڑتا ہے۔

    حکومت نمبرز پورے کرنے کے لیے ایم این ایز کو ہراساں کر رہی ہے، شیخ وقاص اکرم

    کراچی خودکش دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیش رفت، سہولتکار گرفتار

    سلامتی کونسل کی کراچی میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت