Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • جرمن سائنسدانوں کے وفد کا آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا دورہ

    جرمن سائنسدانوں کے وفد کا آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا دورہ

    جرمنی کے سائنسدانوں پر مشتمل تین رکنی وفد نے یونیورسٹی ہاسپٹل آف ٹیوبنجن جرمنی کے معروف سائینسدان پروفیسرڈاکٹر تھامس اِفنر کی سربراہی میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس)جامعہ کراچی کا دورہ کیا اور ادارے کے انفرااسٹرکچر اور یہاں کی سائینسی اور تحقیقی سرگرمیوں کی تعریف کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر فرزانہ شاہین نے بین الاقوامی مرکز کے دیگر آفیشل کے ہمراہ جرمنی کے سائینسدانوں کی ادارے میں آمد کا خیر مقدم کیا۔ جرمنی کے سائینسدانوں کے وفد میں پروفیسر تھامس اِفنرکے علاوہ پروفیسرڈاکٹر ڈینیل ساوٹر اور ڈاکٹر سنبلا شیخ بھی شامل تھے۔انٹر نیشنل پروگرام کی کوارڈینیٹرپروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم اور ڈاکٹر اقبال قریشی نے اس دورے کو منظم کیا۔جرمنی کے سائینسدانوں کے دورے کا مقصد آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق آگاہی کا حصول اور تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ بعد ازاں پروفیسر تھامس اِفنر نے وفد کے ہمراہ پروفیسر فرزانہ شاہین کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پروفیسر فرزانہ شاہین نے ایک پریزینٹیشن کے دوران آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں ہونے والے سائینسی اور تحقیقی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
    اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کے اسٹاف اورڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ,جامعہ کراچی کے فیکلٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں گفتگو کے دوران پروفیسر فرزانہ شاہین نے وائرولوجی کے میدان میں تعاون کے ممکنہ عنوانات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا وائرس اور پھیلے ہوئے وائرل انفکیشن سے متعلق تازہ ترین معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ رہنامقامی اور وبائی امراض کے دوران وائرل کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اہم ہے۔انھوں نے جرمن سائینسدانوں کو بتایا کہ وبائی امراض سے متعلق مختلف باہمی تعاون کے منصوبے جاری ہیں اور جلد ہی نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ پروفیسر فرزانہ شاہین نے آئی سی سی بی ایس اور بالخصوص نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کی ترقی میں پروفیسر تھامس افنر کے تعاون کو سراہا۔ جرمن ماہرین نے تحقیقی مرکز میں تحقیق کے معیار کو بلند کرنے کے لے قیمتی تجاویز بھی پیش کیں۔فیکلٹی ممبران اور طالبِ علموں سے ملاقاتوں کے علاوہ جرمن ماہرین نے بین الاقوامی مرکز کے دیگر سائینسی و تحقیقی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ پروفیسرڈاکٹر ڈینیل ساوٹر نے پریون امراض، ابھرتے ہوئے وائرسوں کی ابتدااور ارتقا پرکلیدی لیکچر دیے جس میں پاکستانی محققین نے بے حد دلچسپی کا اظہار کیا۔

    میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی

    رینجرز اور کسٹمز کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

  • میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی

    میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ نے براہ راست میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی کردی ہے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں براہ راست میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزاورں کے وکیل راجہ قاسط نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یونین کمیٹی کی سطح پر الیکشن پہلے ہوتے ہیں۔چیئرمین ٹی ایم سی، میئر یا ڈپٹی میئر کے لئے بطور یوسی چیئرمین کامیاب ہونا ضروری ہے۔ لوگل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم سے پہلے منتخب ہونا ضروری تھا۔ الیکشن کے اعلان کے وقت جو قوانین موجود تھے، انتخابات کے وقت بھی وہی قوانین ہوتے ہیں۔ میئر بننے کے بعد الیکشن لڑنے سے انتخابی عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا اعتراض ہے کہ براہ راست انتخاب سے اسکروٹنی کا عمل بائی پاس کیا گیا براہ راست میئر کے انتخاب کے بعد جب یوسی چیئرمین کے الیکشن لڑیں گے تو اسکروٹنی کا عمل بھی مکمل ہوجائے گا۔
    راجہ قاسم ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ میں انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کا گواہ ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو پھر کٹہرے میں آنا ہوگا۔ وکیل گواہ نہیں ہوسکتا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ پورا کراچی اس بات کا گواہ ہے۔ اگر ترمیم کی ضرورت تھی تو اگلے انتخابات کے لئے کردی جاتی۔ ایک شخص کو فائدہ دینے کے لئے ترمیم کی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میئر نے یوسی چیئرمین کا الیکشن کب لڑا تھا سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ 5 نومبر 2023 میئر نے یوسی الیکشن لڑا۔
    سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ 15 جون 2023 کو لوکل گورنمنٹ کے الیکشن ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی کا اعتراض بنتا تھا تو وہ پارٹی کے اراکین کا بنتا تھا۔ ان کی موجودگی میں کسی اور کو لاکر میئر بنانے پر انکا اعتراض بنتا تھا۔ وہ تمام لوگ نا صرف خاموش رہے اور ووٹ بھی دیئے۔ کسی پارٹی رکن نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ وکیل درخواستگزار نے موقف دیا کہ جماعتی بنیاد پر الیکشن ہوئے۔
    پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا، کوئی رکن کیا اعتراض کرے گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ منتخب رکن عوام کی آواز ہوتا ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر دیگر امیدواروں کو پتہ ہوتا تو وہ بھی الیکشن نہیں لڑتے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ قانونی دلیل تو نہیں ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر کوئی منتخب فرد میئر بنتا تو ہم عدالت ہی نا آتے۔ہمارا اعتراض ہی یہ ہے کہ ایک چہیتے شخص کو لاکر میئر بنا دیا گیا ہے۔ مرتضی وہاب کے کاغذات نامزدگی پر جو رہائشی پتہ درج ہے وہ موجود ہی نہیں۔ بیرسٹر حیدر وحید وکیل مرتضی وہاب نے موقف دیا کہ چلیں ابھی سماعت کے بعد انکے گھر چلتے ہیں۔ عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    رینجرز اور کسٹمز کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

  • رینجرز اور کسٹمز  کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

    رینجرز اور کسٹمز کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

    پاکستان رینجرز (سندھ) اور کسٹمز انٹیلی جنس نے مشترکہ سنیپ چیکنگ کے دوران کراچی کے علاقے گلشن ضیا اورنگی ٹاؤن میں ایک ٹیوٹا پک اَپ سے بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور بیرون ملک سے سمگل شدہ سفینہ گٹکا برآمدکر لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری اعلامیہ کے مطابق ایک ٹیو ٹاپک اَپ میں بھاری تعداد میں گٹکا اور ماوااسمگل کیا جا رہا تھا، ڈرائیوراپنی راہ میں لگی ہوئی سنیپ چیکنگ کے خطرے کوبھاپنتے ہوئے کچھ فاصلے پرگاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا، تلاشی کے دوران گاڑی سے1848کلوگرام کے 88عدد تھیلے گٹکا ماوا اور 110کلو گرام کے 6عدد تھیلے غیر ملکی سفینہ گٹکا برآمدکر لیاگیا۔سمگلنگ میں استعمال ہونی والی گاڑی، برآمد شدہ گٹکا اور غیر ملکی سفینہ گٹکا مزید قانونی کاروائی کے لیے کسٹم حکام کے حوالے کر دیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ نے ولیکا روڈ سائٹ کراچی میں قائم گودام پر چھاپہ مار کراسمگلڈ شدہ ایرانی 43.75 ٹن اسکمڈ ملک پاوڈر(خشک دودھ) تحویل میں لیکر ضبط کیا۔ترجمان کے مطابق ضبط شدہ اسکمڈ ملک کی مالیت پانچ کروڑ بیس لاکھ روپے ہے۔ ضبط شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاؤڈر (دودھ) 07 مزدا ٹرکوں پر لوڈ کر کے اے ایس اوکے گودام منتقل کیا گیا ہے اور کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش اور تحقیقات جاری ہے۔واضح رہے کہ ایران سے اسمگل شدہ ڈیری کریم ، کوکنگ آئل اور بیکری آئٹمز کی ملک کے کئی شہروں میں غیرقانونی فروخت جاری ہے جس سے مقامی مینو فیکچررز شدید متاثر ہورہے ہیں۔ کراچی، سکھر، اسلام آباد، لاہور، سرگودھا، پشاور اور جہلم میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ان ایرانی اشیاء کی سپلائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران سے بڑھتی ہوئی اسمگلنگ قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے.

    عرفان صدیقی کا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد پر زور

  • کسٹمز  کی بڑی کارروائی ، کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط

    کسٹمز کی بڑی کارروائی ، کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط

    کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط کرلیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ نے ولیکا روڈ سائٹ کراچی میں قائم گودام پر چھاپہ مار کراسمگلڈ شدہ ایرانی 43.75 ٹن اسکمڈ ملک پاوڈر(خشک دودھ) تحویل میں لیکر ضبط کیا۔ترجمان کے مطابق ضبط شدہ اسکمڈ ملک کی مالیت پانچ کروڑ بیس لاکھ روپے ہے۔ ضبط شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاؤڈر (دودھ) 07 مزدا ٹرکوں پر لوڈ کر کے اے ایس اوکے گودام منتقل کیا گیا ہے اور کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش اور تحقیقات جاری ہے۔واضح رہے کہ ایران سے اسمگل شدہ ڈیری کریم ، کوکنگ آئل اور بیکری آئٹمز کی ملک کے کئی شہروں میں غیرقانونی فروخت جاری ہے جس سے مقامی مینو فیکچررز شدید متاثر ہورہے ہیں۔ کراچی، سکھر، اسلام آباد، لاہور، سرگودھا، پشاور اور جہلم میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ان ایرانی اشیاء کی سپلائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران سے بڑھتی ہوئی اسمگلنگ قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے.

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

    چیلنجزسے نمٹنے کے لئے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی ضرورت ہے، شکیل قاسمی

  • امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    ایک امریکی جج نے امریکی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں سزا پانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم کو نئے اور خفیہ شواہد تک رسائی کی اجازت دے دی ہے جو ممکنہ طور پر معافی کی درخواست کیلئے اچھی علامت ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ ایم برمن کی طرف سے جاری کردہ حکم میں عافیہ صدیقی کے وکلا کو 2009 سے تعلق رکھنے والے اہم مواد تک رسائی کی اجازت دی گئی۔عدالتی حکم کے مطابق وکلا کو انتہائی سخت شرائط کے تحت دستاویزات تک رسائی ہوگی کیونکہ ان میں ایسی معلومات بھی موجود ہیں جو عوامی سلامتی اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سرگرم وکلا میں سے ایک اسٹافورڈ اسمتھ نے نئے مواد کے بارے میں کہا کہ انہوں نے بلیک سائٹ کے بارے میں زبردست نئے شواہد حاصل کیے ہیں جہاں عافیہ صدیقی کو بگرام آئسولیشن سیلز میں وقت کے بعد رکھا گیا تھا۔علاوہ ازیں عافیہ صدیقی کے وکیل اسمتھ نے 56,600 الفاظ پر مشتمل معافی کی درخواست دائر کی تھی جس کا مقصد عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق پیچیدگیوں اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا تھا۔ڈاکٹرعافیہ صدیقی کون ہیں ڈاکٹرعافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جو امریکا کی جیل میں 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں، ان پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔
    مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے 3 بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوئیں۔جس کے بعد 2008 میں امریکی حکومت نے دعوی کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغان شہر غزنی سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔عافیہ صدیقی پر ستمبر 2010 میں مقدمہ چلایا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک امریکی فوجی سے رائفل چھین کر اس پر گولی چلائی لیکن وہ بچ گیا۔امریکی عدالت میں 14 دن کے ٹرائل کے دوران عافیہ صدیقی نے بتایا کہ اس پر امریکیوں نے تشدد کیا لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔ اقدام قتل کے الزام میں ڈاکٹر عافیہ کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ قید 30 اگست 2083 کو ختم ہوگی۔

    آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری”سینئر رہنما شیری رحمان

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

  • کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، شہری مختلف امراض میں مبتلا ہور ہے ہیں بلدیہ عظمی کراچی اور پچیس ٹائون ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں بارشوں کے بعد جراثیم کش اسپرے کی مہم شروع نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے مچھروں، مکھیوں کی بہتات ہو گئی ہے اور گندگی اور غلاظت کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔بلد یہ عظمی کراچی اور پچیس ٹائونز کی انتظا میہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، شہر میں کہیں بھی جراثیم کش اسپرے نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے شہری ڈینگی، ملیریا، چکن گونیا سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔کراچی کے تمام سرکا ری و نجی اسپتال اس وقت مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن شہرمیں جراثیم کش اسپرے کا مرحلہ اب تک شروع نہیں ہوسکا، بلدیہ عظمی کراچی مختلف ٹیکسوں کی ریکوری پراپنی پوری طاقت صرف کررہی ہے لیکن عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔دوسری جانب پچیس ٹائونز کی انتظا میہ بھی عوام کو ریلیف فراہم کر نے کے لیے کو ئی اقدامات کرنے کو تیارنہیں ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلا ت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔شہریوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں فوری طور پر جراثیم کش اسپرے کرایا جا ئے تاکہ ان بیماریوں سے بچا جا سکے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

  • چیلنجزسے نمٹنے کے لئے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی ضرورت ہے، شکیل قاسمی

    چیلنجزسے نمٹنے کے لئے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی ضرورت ہے، شکیل قاسمی

    جمعیت علمائے پاکستان کراچی کے جنرل سیکریٹری فقیرملک محمد شکیل قاسمی نے کہاہے کہ ملک وقوم کو درپیش مسائل اور چیلنجزسے نمٹٹنے کے لئے نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے جو ایک مکمل اسلامی فلاحی نظام ہے جو عدل، مساوات، اور دیانتداری کے اصولوں پر قائم ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد شکیل قاسمی نے کہا کہ نظامِ مصطفیﷺ کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، بدعنوانی کا خاتمہ ہو، اور حکومتی عہدیداروں کی جوابدہی یقینی بنائی جائے.انہوں نے یہ واضح کیا کہ اس نظام کے تحت قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہوگا، چاہے وہ حکمران ہوں یا عوام۔ اس سے ملک میں معاشی خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔اگر حکومت عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کام کرے تو ملک اپنی اندرونی طاقت اور وسائل کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔شکیل قاسمی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پیغام کو سمجھیں اور نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ کے لیے متحد ہوں۔ یہ صرف ایک نظریاتی تبدیلی نہیں، بلکہ ملک کی حقیقی خوشحالی اور استحکام کے لیے ایک عملی اقدام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب قوم ایک سمت میں اکٹھی ہو جائے گی تو ملک میں حقیقی تبدیلی آ سکتی ہے اور یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    نفاذنظام مصطفی ﷺ کا پیغام نہ صرف ایک سیاسی منشور کی صورت میں سامنے آتا ہے بلکہ ایک معاشرتی اصلاح کی تحریک بھی ہے، جو عوام کو ان کے حقوق اور فلاح کے لیے متحرک کرتی ہے اور ایک مضبوط اور مستحکم ملک کی تشکیل کے لیے ایک واضح راہ فراہم کرتی ہیں۔فقیر ملک محمد شکیل قاسمی نے ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران طبقے کی جانب سے اپنے کالے دھن اور جائیدادیں بیرون ملک منتقل کرنے کا عمل دراصل عوام کے ساتھ خیانت ہے۔یہ طبقات نہ صرف اپنے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔انہوں نے ملک کے حکمران طبقے کی جانب سے اپنی جائیدادیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایسے لوگ جو اپنا سرمایہ اور خاندان بیرون ملک رکھتے ہیں اور خود غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں وہ قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔
    ملک محمد شکیل قاسمی نے اس موقع پر نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ پر زور دیا، جو ملک کی معاشی اور سیاسی بحالی کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظامِ مصطفیﷺ ایک مکمل اسلامی فلاحی نظام ہے، جو عدل، مساوات اور دیانتداری پر مبنی ہے۔ اس نظام کے نفاذ سے ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ اور خود انحصاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نظامِ مصطفیﷺ کے تحت عدل و انصاف کا نظام قائم کیا جائے گا، جہاں حکمران اور عوام ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے۔بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو گا اور حکومتی عہدیداروں کی دیانتداری اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔معاشی خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور ملک بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے وسائل کے بہتر استعمال کی جانب گامزن ہو گا۔ملک شکیل قاسمی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پیغام کو سمجھیں اور نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ کے لیے متحد ہوں تاکہ ملک کو حقیقی خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

  • بلوں کی ادائیگی کے باوجود SSGCگیس فراہم کرنے میں ناکام ہے ،امین الحق

    بلوں کی ادائیگی کے باوجود SSGCگیس فراہم کرنے میں ناکام ہے ،امین الحق

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ء و رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی حق پرست اراکینِ صوبائی اسمبلی مظاہر امیر اور اعجاز الحق کے ہمراہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر امین راجپوت اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سعید رضوی سے ملاقات کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیّد امین الحق نے شہر کراچی بلخصوص اورنگی ٹاؤن میں گیس کی عدم دستیابی اور فراہمی میں تعطل پر سوئی سدرن گیس کمپنی سے وضاحت طلب کی، مٴْلاقات میں سینئر رہنماء سیّد امین الحق کا کہنا تھا کہ ہزاروں روپے بلوں کی مد میں ادا کرنے کے باوجود شہریوں کو مسلسل گیس فراہم کرنے میں ادارہ مٴْکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے مزید یہ کہ پریشر میں کمی بھی بلخصوص خواتین کو شدید کوفت میں مبتلا کر دیتی ہے، سیّد امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں گیس لائنوں کے انفراسٹرکچر کو بہتری بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں، گیس کی فراہمی میں تعطل پر سوئی سدرن گیس کمپنی کا ایم کیو ایم رہنماؤں کو مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی، اِس موقع پر سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    شہر قائد کے بیشتر علاقوں میں آندھی کے ساتھ بارش اور ژالہ بارش ہوئی جس سے موسم خوش گوار ہوگیا، گرمی کے ستائے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپر ہائی وے، اسٹیل ٹان، گلشن حدید، گڈاپ ٹان، ملیر، نارتھ کراچی، گلشن معمار اور گلستان جوہر میں بارش ہوئی۔ گلشن اقبال، شارع فیصل، ایکسپریس وے اور قیوم آباد پر گرد آلود ہوائیں چلیں۔بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں 150 سے زائد فیڈرز متاثر ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ، اسکیم 33، نارتھ کراچی، نیوکراچی، ملیر، ماڈل کالونی، گلشن حدید اور احسن آباد سمیت دیگر علاقے متاثر ہوئے۔محکمہ موسمیات نے جمعرات کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ جمعے اور ہفتے کو 40 ڈگری ریکارڈ ہونے کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔کراچی کا موسم اگلے 4 تا 5 روز کے دوران گرم، شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی شدید گرمی کے بعد شہر کے مضافاتی علاقوں ملیر، موٹروے ایم 9 اور اطراف میں بارش ہوئی جس سے گرمی کی شدت میں کمی آئی۔

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ

  • کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    ایئر پورٹ سگنل دھماکے کے مقام سے ملنے والی باقیات خودکش حملہ آور شاہ فہد کی نکلیں، بائیں ہاتھ کی 2 انگلیوں سے شناخت ممکن ہوئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی ایئر پورٹ سگنل دھماکے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی، انسانی جسم کی باقیات خودکش حملہ آور شاہ فہد کی نکلیں۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کے بائیں ہاتھ کی 2 انگلیوں سے شناخت ممکن ہوئی، بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے فنگر پرنٹس کو نادرا ریکارڈ سے میچ کیا گیا تو شاہ فہد کانام سامنے آیا۔دھماکے کے مقام سے ملنے والی باقیات میں خودکش حملہ آورکادھڑ،2 انگلیاں اورسر شامل تھا۔دوسری جانب دہشتگردی حملے کے بعد دھماکے کے مقام کے قریب سیکیورٹی انتظام مزید سخت کردیئے گئے ہیں اور کرائم سین کے اطراف جدید ترین کیمرے نصف کردیئے ہیں۔ایئرپورٹ سگنل کے قریب جدید سرویلنس کیمرہ نصب کیا گیا ہے جبکہ سرویلنس کیمرے کے ساتھ مزید 2 کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جبکہ دھماکے مقام پر موجود عمارت پر بھی کیمرے لگا دیئے گئے ہیں۔سی ٹی ڈی حکام نے دہشت گرد حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر دورہ کیا، راجہ عمر خطاب ،چوہدری صفدر اور دیگر حکام نے کرائم سین کا دورہ کیا، اس موقع پر سی ٹی ڈی حکام کے ہمراہ پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس
    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی
    گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ