چمن میں پاک افغان سرحد بابِ دوستی 11ویں روز بھی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند رہی، جبکہ افغانستان میں پھنسے 5 ہزار سے زائد پاکستانی شہری وطن واپسی کے منتظر ہیں۔
کسٹم حکام کے مطابق بابِ دوستی کے دونوں اطراف ویزا اور پاسپورٹ پر سفر کرنے والے شہریوں کی بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔ تاہم افغان باشندوں کو منتقل کرنے والی اور واپس آنے والی گاڑیوں کو آمدورفت کی اجازت دے دی گئی ہے۔سرحدی بندش کے باعث طورخم پر بھی دوطرفہ تجارت معطل ہے، جہاں کارگو گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والی ہزاروں گاڑیاں سیمنٹ، ادویات، کپڑا، تازہ پھل اور سبزیوں سمیت لاکھوں روپے کا سامان لے کر کھڑی ہیں۔
اسی طرح جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ، شمالی وزیرستان میں غلام خان اور ضلع کرم میں خرلاچی کی سرحدیں بھی بدستور بند ہیں۔بارڈر سیل ہونے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ روزانہ افغانستان جا کر مزدوری کرنے والے سینکڑوں مزدور بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں
تیونس کے ساحل کے قریب ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم 40 تارکین وطن ہلاک ہوگئے جبکہ 30 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق مہدیہ کے پراسیکیوٹر آفس کے ترجمان ولید شتابری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشتی پر تقریباً 70 افراد سوار تھے۔ترجمان نے بتایا کہ 40 لاشیں برآمد کی گئی ہیں جن میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں، جب کہ تمام متاثرہ افراد کا تعلق صحارا کے جنوبی افریقی ممالک سے ہے۔تیونس یورپ جانے والے افریقی تارکین وطن کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جس کا ساحل اطالوی جزیرے لیمپیڈوسا سے تقریباً 145 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک 55 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں، جن میں اکثریت نے سفر کا آغاز لیبیا سے کیا، جبکہ تقریباً 4 ہزار افراد تیونس سے روانہ ہوئے۔بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق وسطی بحیرۂ روم کا راستہ سب سے خطرناک سمجھا جاتا ہے، جہاں 2014 سے اب تک 32 ہزار 803 افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا۔
این سی سی آئی اے نے شاندانہ گلزار کے خلاف مقدمہ نمبر 296/2025 درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر متعدد جعلی اور گمراہ کن ٹوئٹس و ویڈیوز شیئر کیں، جن میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات شامل تھے۔ایف آئی آر کے مطابق، شاندانہ گلزار نے وزیراعظم پاکستان سے متعلق جعلی تصویر اور غلط معلومات پھیلائیں، اور ایک جھوٹی خبر کے ذریعے ان پر اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کا الزام لگایا، جس سے عوام میں خوف اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا ہوئی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ نے دانستہ طور پر فیک نیوز کے ذریعے ریاست مخالف بیانیہ آگے بڑھایا۔ مقدمہ سیکشن 11، 20 اور 26-اے آف پی ای سی اے 2016 کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ ریاست مخالف مہم کے پیچھے دیگر عناصر اور معاونین کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں.
شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل تجربات کے بعد خطے میں کشیدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، جرمن نشریاتی ادارے نے رپورٹ میں بتایا کہ جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا میزائل تجربہ ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی کوریا کے دورے اور ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں عالمی رہنما شرکت کریں گے۔جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق، میزائل تجربے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تاکہ خطے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
دوسری جانب جاپان کی وزیر اعظم سنائے تکائچی نے کہا کہ کوئی میزائل جاپانی حدود میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تازہ صورتحال کے حوالے سے جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان قریبی رابطہ برقرار ہے۔واضح رہے کہ شمالی کوریا نے دارالحکومت پیونگ یانگ کے جنوبی علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے، جو تقریباً 350 کلومیٹر شمال مشرقی سمت میں گئے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے تجربے کی تصدیق کر دی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت لاہور میں امن و امان سے متعلق اجلاس میں صوبے بھر میں لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے سخت نفاذ اور اس پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں ہر ضلع میں ’وِسل بلور سیل‘ قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ انتہا پسند جماعتوں اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کے لیے پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 پر خصوصی سیل قائم کر دیا گیا۔اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ انتہا پسند گروہوں اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی اطلاع فوری طور پر 15 پر دیں۔ صوبے کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کومبنگ آپریشنز اور کارروائیاں صرف مخصوص انتہا پسند ذہنیت کے خلاف ہوں گی، کسی فرقے یا عقیدے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
مزید فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں ڈالا کلچر، بدمعاشی اور مافیا کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، امن کمیٹیوں کو مؤثر اور فعال بنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔اجلاس میں ہر شہری تک موبائل پولیس اسٹیشن کی خدمات پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کو روزانہ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشنز کی رپورٹس اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں عوام کو خبردار کیا گیا کہ غیر قانونی رہائشیوں کو مکان یا دکان کرائے پر دینے والوں کے خلاف کرایہ داری اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔
مزید یہ کہ صوبے میں سوشل میڈیا پر شرانگیزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، اور غیر قانونی اجتماعات یا بازار بند کرانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی.
معروف صحافی اور اینکر مبشر لقمان نے اپنے تازہ وِلاگ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع، یعنی ڈیورنڈ لائن پر تفصیلی تاریخی تجزیہ پیش کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے اس سرحد کو ’’جعلی لکیر‘‘ قرار دینا حقائق کے منافی اور تاریخی طور پر غلط مؤقف ہے۔
مبشر لقمان کے مطابق، گزشتہ کچھ ماہ سے افغان عبوری حکومت ڈیورنڈ لائن کو متنازع قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔دو ہفتے قبل افغان وزیرِ خارجہ ملا امیر خان متقی نے نئی دہلی میں بیٹھ کر اسے ’’فیک لکیر‘‘ کہا، جس کے بعد وزیرِ سرحدی امور نوراللہ نوری اور وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے بھی اسی مؤقف کو اپنایا۔انہوں نے بتایا کہ افغان حکومت نے ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے، جس میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا کے بعض علاقوں کو افغانستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے برطانوی دور میں افغانستان نے 100 سال کی لیز پر دیے تھے، جو اب ختم ہو چکی ہے۔
مبشر لقمان کے مطابق، ڈیورنڈ معاہدہ 1893ء میں افغان بادشاہ امیر عبدالرحمان خان کی خواہش پر طے پایا تھا تاکہ اُس وقت کے برطانوی ہندوستان کے ساتھ سرحدی حدود طے کی جا سکیں۔یہ معاہدہ تحریری شکل میں آج بھی موجود ہے اور اس میں نہ کسی مدت، نہ لیز کا ذکر ہے۔معاہدے کے بعد چار کمیشنز نے 2200 کلومیٹر طویل سرحد کی نشاندہی کی، جس میں افغان حکام اور قبائلی عمائدین شامل تھے۔مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے بعد افغان حکومت نے خوشی کا اظہار کیا اور کابل میں اس موقع پر تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔
اپنے وِلاگ میں مبشر لقمان نے بتایا کہ امیر عبدالرحمان کے بعد آنے والے افغان بادشاہوں نے بھی اس سرحد کو تسلیم کیا،1905ء: امیر حبیب اللہ خان نے ’’حبیب اللہ ایگریمنٹ‘‘ کے تحت ڈیورنڈ لائن کی تصدیق کی۔1919ء اور 1921ء: امان اللہ خان کے دور میں ’’کابل ایگریمنٹ‘‘ کے ذریعے دوبارہ توثیق ہوئی۔1930ء: بادشاہ نادر خان نے بھی برطانوی حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سابقہ معاہدوں کی پاسداری کرے گا۔
مبشر لقمان کے مطابق، اگر یہ معاہدہ زبردستی کیا گیا ہوتا تو افغانستان کے بعد آنے والے حکمران اسے تسلیم نہ کرتے۔مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتی ہے۔افغانستان نے خود بھی ویانا کنونشن پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا پابند ہے۔
وِلاگ میں مبشر لقمان نے افغان مؤقف کو ’’تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ان کے مطابق اگر افغانستان ماضی کے اقتدار کی بنیاد پر علاقے مانگنے لگے، تو پھر ایران اور ہندوستان بھی افغانستان پر اپنے پرانے دعوے کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کا یہ کہنا کہ ’’تمام پشتون افغان ہیں‘‘، تاریخی و آئینی لحاظ سے غلط ہے، کیونکہ "افغان” دراصل قومیت کا نام ہے، کوئی نسلی شناخت نہیں۔
مبشر لقمان کے مطابق، پاکستان نے ہمیشہ اس مؤقف پر زور دیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک بین الاقوامی سرحد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ماضی میں پاکستان مخالف گروہوں کو پناہ دی اور شورش کو ہوا دی، جس سے تعلقات میں کشیدگی بڑھی۔وِلاگ کے اختتام پر مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور اگر حالات یہی رہے تو "ممکن ہے اسلام آباد سخت اقدامات پر مجبور ہو جائے”۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی مدرسے یا مسجد کو بند نہیں کیا جائے گا، اس حوالے سے کیا جانے والا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔
وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق ملاقات کراچی میں ہوئی، جس میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے۔ملاقات کے دوران علمائے کرام کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور مذہبی ہم آہنگی و اتحادِ امت کے فروغ پر زور دیا گیا۔محسن نقوی نے کہا کہ دینِ اسلام امن و محبت کا درس دیتا ہے، تشدد اور شرانگیزی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن ہے، اس موقع پر سب کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج سب کا حق ہے، مگر انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چیئرمین سنی تحریک ثروت اعجاز قادری نے وزیر داخلہ کو مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سنی تحریک کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے.
پاکستان کے فضائی حملوں میں دہشت گرد کمانڈر حافظ گل بہادر ہلاک جبکہ متعدد اہم رہنما بھی مارے گئے.
مصدقہ ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم کے سرکردہ دہشت گرد حافظ گل بہادر 17 اور 18 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب پاکستانی فضائیہ کے فضائی حملوں کے نتیجے میں افغان صوبہ خوست کے علاقے ارگون میں ہلاک ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق حافظ گل بہادر کو اسی رات اندھیرے میں خفیہ طور پر دفن کیا گیا۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں گل بہادر کی شوریٰ کے متعدد اہم ارکان بھی مارے گئے، جسے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے امن معاہدے کی آڑ میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل تیز کر دی ہے، مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق بل کے پہلے مرحلے کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ نے دے دی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یروشلم میں بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں کنیسٹ نے چار مراحل پر مشتمل بل کے ابتدائی مرحلے کو 24 کے مقابلے میں 25 ووٹوں سے منظور کر لیا۔رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت نے اس بل کی حمایت نہیں کی، تاہم منظوری کے بعد اسرائیلی قانون کو مقبوضہ مغربی کنارے پر نافذ کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جو دراصل اس علاقے کو باضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کرنے کے مترادف ہے۔
فلسطینی عوام اس علاقے کو اپنی آئندہ آزاد ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔یہ منظوری اس بل کے چار مراحل میں سے پہلا مرحلہ ہے، جس کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسرائیل کے دورے پر موجود تھے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دیں گے
محکمہ پاسپورٹس نے نئے پاسپورٹس میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کر دیے ہیں، جن میں اب شہریوں کے والد کے ساتھ والدہ کا نام بھی درج کیا جائے گا۔
اسلام آباد سے محکمہ پاسپورٹس کے مطابق، نئے پاسپورٹس کے ویزا صفحات پر ملک کے مختلف صوبوں کی تاریخی عمارات کی تصاویر پرنٹ کی جائیں گی۔محکمہ کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد نئی پاسپورٹ بک لیٹس کی چھپائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ پاسپورٹ کے فیچرز میں تبدیلیاں بین الاقوامی معیار اور جدت کے تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
محکمہ پاسپورٹس نے وضاحت کی کہ سیکیورٹی فیچرز کے علاوہ پاسپورٹ کے دیگر مندرجات یا ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی.