لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف عوام کی خدمت کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس بات کا اعادہ کیا کہ پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کر لیے جائیں گے، اور اس ضمن میں حکومت کی عزم کا اظہار کیا۔عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ مخالفین کا کام صرف جھوٹ کی سیاست کرنا ہے، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مریم نواز عوامی فلاح و بہبود کے لیے بے پناہ محنت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم سیاسی رواداری پر یقین رکھتے ہیں”، اور روڈا (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ اس منصوبے میں ہونے والی سیاست کا جائزہ لیا جا سکے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ روڈا کے پلاٹس جلد ہی وزیراعلیٰ پنجاب خود صحافیوں کو دیں گی، جس سے ان کے لیے عملی اقدامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان اقدامات سے نہ صرف صحافیوں کے مسائل حل ہوں گے بلکہ یہ ترقیاتی منصوبے پنجاب کے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہماری حکومت ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے تیار ہے، اور ہم اپنی کارکردگی کے ذریعے اپنے مخالفین کو جواب دیں گے۔
Author: صدف ابرار
-

مریم نواز عوامی فلاح و بہبود کے لیے بے پناہ محنت کر رہی ہیں، عظمی بخاری
-

ملکی زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ
اسلام آباد: پاکستان کے ملکی زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ ہفتے میں 3 کروڑ 19 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ ذخائر بڑھ کر 16.04 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس سے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 11 ارب 15 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق، یہ ذخائر دو ماہ کے درآمدی بل کے برابر ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔ اس اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں استحکام پیدا ہوا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی مالی حالت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی آئی ہے، جو کہ 8.38 کروڑ ڈالر کی کمی کے ساتھ 4.89 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ یہ کمی کمرشل بینکوں کے لیے چیلنج کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر جب کہ ملک میں درآمدات کا دباؤ برقرار ہے۔رپورٹ کے مطابق، 25 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملکی مجموعی زرمبادلہ میں 3.19 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جو کہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔ اس کے نتیجے میں، ملکی معیشت میں بہتری کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر اگر زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ جاری رہے تو پاکستان کی معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ حکومت کی موثر معاشی پالیسیوں اور عالمی مارکیٹ میں بہتر درآمدات کی کامیابی کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس سے ملک کی مالی صورتحال میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ -

اسرائیلی وزیراعظم کی بیٹے کی شادی سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر کرنے پر غور
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیٹے ایوینز نیتن یاہو کی شادی کی تقریب کو سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ تقریب 26 نومبر کو تل ابیب کے ایک فارم ہاؤس میں منعقد ہونے والی تھی، لیکن حالیہ حالات نے وزیراعظم کو اس معاملے پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ مقررہ دن پر شادی کی تقریب کے انعقاد سے شرکاء کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ 19 اکتوبر کو لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے نیتن یاہو کی نجی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا تھا، جس کا نشانہ براہ راست اسرائیلی وزیراعظم کے بیڈروم کی کھڑکی بنی۔ خوش قسمتی سے، نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے، لیکن اس واقعے نے ان کی سیکیورٹی کو ایک بڑا سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں، اسرائیل کی کابینہ کے اجلاس بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث ایک متبادل مقام پر منتقل کیے گئے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ آئندہ حکومت کے اجلاس اب وزیراعظم کے دفتر، یروشلم یا تل ابیب میں کیریا ملٹری ہیڈ کوارٹرز میں منعقد نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے، نئے پروٹوکول کے تحت وزراء کو اب ایک محفوظ زیر زمین مقام پر جمع ہونے کی اجازت ہوگی، جہاں صرف وزراء کی شرکت ممکن ہوگی۔حیرت انگیز طور پر، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر، نیتن یاہو کی بیٹے کی شادی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ تقریب اپنے طے شدہ وقت پر منعقد ہو گی یا اسے مؤخر کیا جائے گا۔اس واقعے نے اسرائیل کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال اور وزیراعظم کے خاندان کی ذاتی زندگی کے درمیان کشیدگی کو عیاں کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنے خاندان کے اہم لمحات کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ قومی سیکیورٹی کے مسائل کا بھی خیال رکھیں۔
-

وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات انتہائی نتیجہ خیز قرار
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حال ہی میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی، جسے دونوں رہنماؤں نے انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ اس ملاقات میں نئے مواقع اور راہوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کی ترقی کے لیے مثبت نتائج متوقع ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی علاقائی صورتحال پر بھی امیر قطر کے ساتھ بات چیت ہوئی، جو کہ اس وقت عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موضوع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کے دوران قطر میوزیم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ثقافتی تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک قطر تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور مشترکہ اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات میں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات کیے گئے، جن میں مختلف شعبوں میں ممکنہ شراکت داری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متفقہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، "میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی جانب سے دی گئی گرم استقبال سے گہرا متاثر ہوا ہوں۔ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کی بڑی قدر کرتا ہے! اس دورے کے ذریعے ہم پاک قطر تعلقات کو مزید قوت دے رہے ہیں۔ میں جلد ہی امیر قطر کی پاکستان آمد کا منتظر ہوں!اس ملاقات کا پس منظر دیکھیں تو یہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ مستقبل میں مزید ترقی کی امید دلاتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی یہ دورہ یقینی طور پر دونوں ممالک کے لیے نئے اقتصادی اور ثقافتی مواقع کا دروازہ کھولے گا۔ -

ایل پی جی 2.88 روپے فی کلو مہنگی کر دی گئی
اسلام آباد: سردی کے آغاز سے پہلے ہی حکومت نے عوام پر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ ڈال دیا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمت میں 2 روپے 88 پیسے فی کلو کا اضافہ کر دیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت پہلے 251 روپے 30 پیسے تھی جو اب بڑھ کر 254 روپے 18 پیسے ہو گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 34 روپے 9 پیسے کا اضافہ ہوا ہے، جس سے گھریلو صارفین کو مزید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی نئی قیمت 2 ہزار 999 روپے 47 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل اکتوبر کے مہینے میں یہی سلنڈر 2 ہزار 965 روپے 38 پیسے کا دستیاب تھا۔ اوگرا کے مطابق یہ قیمتیں نومبر کے مہینے کے لیے مقرر کی گئی ہیں اور جلد ہی عوام پر لاگو ہوں گی۔ سردیوں کا موسم قریب ہے اور پاکستان میں عمومی طور پر اس سیزن میں گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ قیمتوں کا اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا، جو پہلے ہی مہنگائی کے طوفان کا سامنا کر رہے ہیں۔
-

پہلی سہ ماہی میں افراط زر حکومتی تخمینے سے کم ہو کر 9.2 فیصد پر آ گیا، وزارت خزانہ
اسلام آباد: وزارت خزانہ نے ملک کی معاشی صورتحال اور موجودہ مالیاتی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر مالیاتی پالیسیوں کے باعث معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اب تک سامنے آنے والے معاشی اشاریے، بشمول افراط زر، لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی نمو، اور درآمدات کے حجم میں ظاہر ہونے والے رحجانات حکومت کے اندازوں اور توقعات کے عین مطابق ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق، اس وقت بجٹ میں کسی قسم کی ایڈجسٹمنٹ کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔وزارت خزانہ نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی معاشی اشاریوں کے حوالے سے اپنے اندازوں پر نظر ثانی کی ہے، جس کے بعد آئی ایم ایف کے تخمینے وزارت خزانہ کے تخمینوں کے قریب تر ہو گئے ہیں۔ جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) پر مبنی افراط زر حکومتی تخمینے 10.2 فیصد کے مقابلے میں بہتر مالیاتی پالیسیوں کے سبب 9.2 فیصد رہا۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ افراط زر کے تخمینے اور حاصل شدہ ہدف میں 1 فیصد فرق عالمی عوامل اور غیر یقینی عالمی معاشی حالات کی روشنی میں معمولی ہے۔
آئی ایم ایف نے مالی سال 2024-25 کے لیے سی پی آئی افراط زر کا ابتدائی تخمینہ 12.7 فیصد لگایا تھا، تاہم نظر ثانی کے بعد اسے 3.2 فیصد کمی کے ساتھ 9.5 فیصد کر دیا گیا ہے، جو وزارت خزانہ کے تخمینے کے قریب ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق، معاشی اندازوں میں فرق بجٹ کی منصوبہ بندی کے لیے ضروری تخمینہ سازی کا حصہ ہوتا ہے۔وزارت خزانہ نے لارج سکیل مینوفیکچرنگ (LSM) میں 0.9 فیصد کی سہ ماہی نمو کے ہدف کے پورا ہونے کی توقع ظاہر کی۔ اعلامیے کے مطابق، جولائی میں LSM سیکٹر کی شرح نمو 2.52 فیصد رہی جو کہ توقعات سے زیادہ تھی، اگرچہ اگست میں اس میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی۔ وزارت خزانہ نے بتایا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر، جس کا مینوفیکچرنگ سیکٹر میں شیئر 18.2 فیصد ہے، بھی گزشتہ 24 ماہ کے سکڑاؤ کے بعد اب مثبت رجحان کی طرف گامزن ہو چکا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ LSM سیکٹر کی کارکردگی معیشت کے اہداف سے ہم آہنگ ہے اور محصولات کے ہدف کے پائیدار حصول میں اس کا کردار نمایاں ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق، پہلی سہ ماہی میں درآمدات کا حجم 14.219 ارب ڈالر رہا، جو کہ تخمینے سے زیادہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات کے شعبے میں محصولات کی مد میں وصولیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے بھی اپنے 60.5 ارب ڈالر سالانہ درآمدات کے تخمینے کو نظر ثانی کے بعد کم کر کے 57.2 ارب ڈالر کر دیا ہے، جو حکومت کے 57.3 ارب ڈالر کے تخمینے کے قریب ہے۔ اعلامیے کے مطابق، جولائی تا ستمبر 2025 کی سہ ماہی میں ملکی درآمدات میں 15.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو مینوفیکچرنگ اور معیشت کے پیداواری شعبے کی بحالی کے لیے مثبت ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق، افراط زر میں کمی، گرتی ہوئی شرح سود، اور قرض کے حصول کی لاگت میں کمی جیسے عوامل معیشت کے لیے نیک شگون ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ماہانہ بنیادوں پر معاشی اشاریوں میں تبدیلی ایک عمومی اور متوقع امر ہے۔ وزارت خزانہ نے ملک کی معاشی نشوونما اور ترقی کے تخمینوں میں پنہاں عوامل کے درست ادراک کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پیکج پر سوالات اٹھانے اور غلط معاشی اندازے پیش کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ اعلامیے کے مطابق، ایسے دعوے اور ان پر مبنی غیر درست اعداد و شمار عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں اور حکومت کے معاشی اہداف سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وزارت خزانہ نے مزید کہا کہ اہم معاشی رحجانات پر انحصار کرنے کے بجائے غلط اور غیر ذمہ دارانہ تبصرے معیشت کی حقیقی صورتحال کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔وزارت خزانہ کے اس بیان نے ملکی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اور پالیسیوں کے درست اطلاق کی طرف عوامی اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ -

اسرائیلی حملے کا جواب دینے کے لیے ایران کی ممکنہ تیاری
امریکی میڈیا کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران 5 نومبر کو امریکی انتخابات سے قبل اسرائیل کے حملے کا ممکنہ جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے، جو خطے میں مزید تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ رپورٹ میں امریکی میڈیا نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا جواب حتمی اور تکلیف دہ ہوگا، جو اسرائیلی جارحیت کا بھرپور ردعمل ہوگا۔ تاہم، امریکی میڈیا نے اپنے ذرائع کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ذرائع ایرانی ہیں اور ان کے مطابق ایران کے فوجی ڈھانچے پر کیے جانے والے حالیہ اسرائیلی حملے ایران کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق، ایران نے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو محفوظ رکھنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن داخلی ذرائع سے ملنے والی معلومات اس کے برعکس ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو فوجی اہلکاروں کی شہادت کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل نے اس کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں ایران کو اسرائیلی حملے کا جواب نہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایران کو اسرائیل کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔” وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ اگر ایران اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اسرائیل پر جوابی حملہ کرتا ہے تو امریکا اسرائیل کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ترجمان نے مزید کہا کہ "ایران کو اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ جوابی کارروائی کا انتخاب کرتا ہے تو امریکا اسرائیل کے دفاع میں مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔” ترجمان کے اس بیان کو خطے میں امریکی پالیسی کی سمت کے تعین میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اسرائیل کو خطے میں اپنے اتحادی کی حیثیت سے ہر ممکن حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو ایران کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ حملے کے جواب میں اسرائیل نے 26 اکتوبر کو ایران کے خلاف میزائل حملے کیے تھے، جن میں ایران کے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایران نے دو فوجی اہلکاروں کی شہادت کا اعلان کیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا ہے، اور ان حملوں نے ایران کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹس میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران 5 نومبر کو اسرائیلی جارحیت کا جواب دیتا ہے تو اس کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ امریکا کے ساتھ بھی تعلقات میں مزید بگاڑ آ سکتا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ کچھ یورپی ممالک نے ایران اور امریکا کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے، لیکن حالیہ واقعات کے بعد یہ کوششیں مشکل نظر آتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو خطے میں نئے تنازعے کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا، جو عالمی امن کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے خطے میں خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایران کو دی جانے والی وارننگ اور اسرائیل کی حمایت کا اعلان خطے میں طاقت کے توازن کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ ایران کا ممکنہ ردعمل نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے عالمی طاقتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کشیدگی کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ خطے میں مزید تنازعے سے بچا جا سکے۔ -

پاک بحریہ نے خلیج عدن میں 23 ایرانی ماہی گیروں کی جا نیں بچائیں
پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے خلیج عدن میں ایک ہنگامی امدادی کارروائی کے دوران 23 ایرانی ماہی گیروں کی جانیں بچائیں۔ یہ اقدام ایک اہم مہم کے تحت کیا گیا، جو بحری جہازوں کی حفاظت اور انسانی جانوں کی بچت کے لیے پاک بحریہ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، پی این ایس ذوالفقار اس وقت ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولنگ پر تھا جب اسے ایرانی کشتی کی جانب سے ہنگامی مدد کی کال موصول ہوئی۔ ایرانی کشتی اپنی بندرگاہ سے تقریباً 1200 ناٹیکل میل کی دوری پر تھی، جہاں ایک رکن کے شدید زخمی ہونے اور کشتی کے انجن کے خراب ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
پی این ایس ذوالفقار کے عملے نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیا اور امدادی کارروائی کے لئے روانہ ہوا۔ جہاز کے عملے نے متاثرہ کشتی کے قریب پہنچ کر ایرانی ماہی گیروں کو طبی امداد فراہم کی۔ زخمی رکن کو فوری طبی امداد دینے کے ساتھ ساتھ، عملے نے کشتی کے انجن کی مرمت بھی کی تاکہ ایرانی ماہی گیر اپنی کشتی کے ذریعے محفوظ طریقے سے واپس جا سکیں۔آئی ایس پی آر نے مزید وضاحت کی کہ پی این ایس ذوالفقار کی یہ کارروائی نہ صرف انسانی ہمدردی کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پاک بحریہ کے عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ سمندر میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کے وقت متاثرہ بحری جہازوں کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک بحریہ بین الاقوامی پانیوں میں سلامتی اور انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو نہایت سنجیدگی سے لیتی ہے۔
یہ امدادی کارروائی پاک بحریہ کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انسانیت کی خدمت کے عزم کی ایک اور مثال ہے، جس نے عالمی سطح پر بحریہ کے کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس واقعے نے ایران اور پاکستان کے درمیان بحری تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ -

صدر مملکت آصف علی زرداری دبئی میں حادثے کا شکار، پاؤں فریکچر ہوگیا
دبئی: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری دبئی ائیرپورٹ پر ایک حادثے کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا پاؤں فریکچر ہوگیا ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ گزشتہ رات اس وقت پیش آیا جب صدر زرداری جہاز سے اتر رہے تھے۔ترجمان کے مطابق، صدر آصف زرداری کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کا چیک اپ کرنے کے بعد ان کے پاؤں پر پلاستر کردیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر زرداری کے پاؤں پر 4 ہفتے کے لئے پلاستر کیا گیا ہے۔
صدر زرداری کو ہسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے تاکہ وہ جلد صحتیاب ہوسکیں۔یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب صدر زرداری اہم دورے پر دبئی پہنچے تھے، جہاں ان کی صحت کی بحالی کی دعا کی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں ان کی جلد صحت یابی کی امید کی جا رہی ہے، اور عوامی اور سیاسی شخصیات کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔صدر زرداری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان کی صحت کے لئے دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ جلد اپنی سرگرمیوں میں واپس آئیں گے۔ -

پی بی اے کے نئے عہدیداروں کا اعلان، میاں عامر محمود چیئرمین منتخب
کراچی: پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے سال 2024-25 کے نئے عہدیداروں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پی بی اے کے سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں کیا گیا جو کہ 25-2024 کو شہر قائد کراچی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ٹی وی اور ریڈیو کیٹگری سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھرپور شرکت کی۔اجلاس میں میاں عامر محمود کو چیئرمین پی بی اے منتخب کیا گیا۔ میاں عامر محمود کا تعلق دنیا میڈیا گروپ اور پنجاب گروپ سے ہے، جہاں وہ چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی انتخابی کامیابی سے پی بی اے کی قیادت میں ایک نیا دور شروع ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔اجلاس کے دوران دیگر اہم عہدوں پر بھی انتخابات ہوئے۔ ڈان نیوز کے سی ای او شکیل مسعود کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال کو سینئر وائس چیئرمین کی ذمہ داری سونپی گئی۔
جیو نیوز کے سی ای او ابراہیم رحمان کو وائس چیئرمین اور آج ٹی وی کے احمد زبیری کو جوائنٹ سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ اسی طرح کے ٹی این کے اختر قاضی کو فنانس سیکرٹری منتخب کیا گیا۔پی بی اے کی جنرل باڈی نے تین نئے بورڈ ارکان کا بھی انتخاب کیا، جن میں نیو نیوز کے چوہدری عبدالرحمان، مہران ٹی وی کے غلام نبی مورائی، اور ڈسکور پاکستان کے قیصر رفیق شامل ہیں۔ یہ انتخابات پی بی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ملکی میڈیا کے شعبے میں جدید تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ نئے عہدیداروں کی قیادت میں پی بی اے کے ارکان کے لیے ترقی اور بہتری کے نئے مواقع فراہم ہونے کی امید کی جارہی ہے۔میاں عامر محمود کے چیئرمین منتخب ہونے پر ان کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں پی بی اے میڈیا کی بہتری کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گا۔