Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی آئی اے کی نجکاری میں حکومت کو شرمندگی کا سامنا: صرف ایک بولی موصول

    پی آئی اے کی نجکاری میں حکومت کو شرمندگی کا سامنا: صرف ایک بولی موصول

    اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے طویل انتظار کے بعد صرف ایک بولی موصول ہوئی، جس سے حکومت کو ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بلیو ورلڈ سٹی، جو کہ ایک ریئل اسٹیٹ ڈیویلپمنٹ کمپنی ہے، نے پی آئی اے کے 60 فیصد شیئرز کے لیے 10 ارب روپے کی بولی دی، جو کہ حکومت کی جانب سے طے کردہ ریزرو قیمت 85 ارب 3 کروڑ روپے سے بہت کم ہے۔

    تقریب کا آغاز اور بلیو ورلڈ سٹی کی بولی
    اسلام آباد کی ایک نجی وکیل میں تقریب منعقد کی گئی، جہاں پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والی چھ کمپنیوں میں سے صرف بلیو ورلڈ سٹی نے ہی بولی لگائی۔ اس موقع پر بولی کے عمل کے حوالے سے وضاحت کی گئی کہ پہلے 14 اگست کو بولی کے عمل میں توسیع کی گئی، پھر دیگر میٹرز کو شامل کرنے کے لیے مزید وقت دیا گیا، لیکن آخر کار صرف ایک ہی بولی موصول ہوئی۔حکومت نے بلیو ورلڈ سٹی کو 10 ارب روپے کی بولی بڑھانے کے لیے 30 منٹ کا وقت دیا، لیکن کمپنی نے اپنی بولی میں اضافہ کرنے سے انکار کر دیا۔ سعد نذیر، چیئرمین بلیو ورلڈ سٹی، نے واضح کیا کہ 85 ارب روپے میں تو نئی ایئرلائن کھڑی کی جا سکتی ہے، اور اگر پی آئی اے کو اس قیمت پر نہیں بیچا جا سکتا تو وہ اسے خود ہی چلائیں۔یہ صورتحال حکومتی حکمت عملی پر سوال اٹھاتی ہے، کیونکہ صرف ایک بولی موصول ہونے نے پورے نجکاری کے عمل کو ناقص قرار دیا۔ اب یہ معاملہ نجکاری کمیشن کے پاس جائے گا، جہاں فیصلہ کیا جائے گا کہ بلیو ورلڈ سٹی کی بولی قبول کی جائے یا اس عمل کو منسوخ کیا جائے۔
    PIA boli
    نجکاری کے وعدے اور حقائق
    حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بڑے دعوے کیے تھے، لیکن عملی طور پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پی آئی اے میں حصص کے لیے 6 گروپس کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، لیکن ان میں سے صرف بلیو ورلڈ سٹی نے ہی بولی دی۔ اس ناکامی نے حکومت کے وعدوں کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے اور عوامی توقعات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔دوران تقریب، سرکاری ٹی وی نے براہ راست بولی کے عمل کی کوریج کی، جبکہ نجی میڈیا کو کوریج سے منع کیا گیا۔ یہ صورتحال معلومات کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھاتی ہے۔ عوام اور میڈیا کی جانب سے مکمل معلومات فراہم نہ کرنے کے باعث حکومتی عمل پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔
    اب حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے سخت فیصلے کرے۔ اگر بلیو ورلڈ سٹی کی بولی قبول نہیں کی جاتی تو پی آئی اے کی حالت میں بہتری کے امکانات مزید کم ہو جائیں گے۔ اس تمام صورتحال نے نہ صرف قومی ایئر لائن کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیش کیا ہے۔ اگر حکومت نے اس چیلنج کا درست انداز میں سامنا نہ کیا تو یہ ایک اور ناکام نجکاری کی کہانی بن جائے گی۔

  • وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا خیبرپختونخوا میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا خیبرپختونخوا میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے گورنمنٹ کالج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سرکاری کالجوں کی سولرائزیشن کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا، جس کا مقصد تعلیمی اداروں کی بجلی کے بل میں کمی کرنا ہے۔وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کو ملک کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طلبہ یونین کی بحالی کا یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم آپ کو سرکاری طور پر اختیار دے رہے ہیں، پاکستان پر آپ کا حق ہے، پاکستان نے آپ کو شہریت دی ہے، نوجوانوں نے ملک کا مستقبل طے کرنا ہے۔
    علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ "ہم نے ایسا نظام بنانا ہے کہ آئین و قانون کی پاسداری اور بالادستی ہو۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی 25 کروڑ آبادی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے خود مختاری حاصل کرنا ہوگی اور فیصلے خود کرنا ہوں گے ، وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی کے قید ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "حقیقی آزادی مانگنے کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ "ہماری حقیقی آزادی کی جنگ جاری ہے اور رہے گی، یہ جنگ ہم جیتیں گے۔” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ جنگ قوم اور نسلوں کی ہے اور فیصلہ کن وقت قریب ہے۔قبل ازیں، وزیراعلیٰ نے گورنمنٹ کالج پشاور میں سرکاری کالجوں کی سولرائزیشن کے منصوبے کا افتتاح کیا، جس کے تحت 80 سرکاری کالجز میں 10 کے وی اے سولر سسٹمز کی تنصیب کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اب تک 10 کالجوں کی سولرائزیشن مکمل ہو چکی ہے۔
    ایک کالج میں سولر سسٹم کی تنصیب کی کل لاگت 24 لاکھ 10 ہزار روپے ہے، جس کے نتیجے میں ہر کالج کے بجلی کے بل میں ماہانہ 55 ہزار روپے کی بچت ہو گی۔ یہ سسٹم ہر ماہ 11 سے 12 ہزار تک بجلی یونٹس کی استعمال میں کمی لائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سولر سسٹم کی لاگت کو 3 سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا۔طلبہ، اساتذہ، اور والدین نے وزیراعلیٰ کے اعلان کا خیرمقدم کیا، اور یہ اقدام تعلیمی اداروں میں بہتری کی جانب ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔ طلبہ یونینز کی بحالی کو نوجوانوں کی آواز بلند کرنے اور ان کی حقوق کی حفاظت کے لئے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

  • گلگت میں ٹرافی ہنٹنگ سیزن 2024-25 کے لیے بولی کا انعقاد

    گلگت میں ٹرافی ہنٹنگ سیزن 2024-25 کے لیے بولی کا انعقاد

    گلگت فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف کی جانب سے 2024-25 کے ٹرافی ہنٹنگ سیزن کے آغاز کے لیے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں استور مارخور، ہمالین آئی بیکس اور بلیو شیپ کے شکار کی بولیاں لگائی گئیں۔ تقریب میں ملکی و غیر ملکی ہنٹرز اور آؤٹ فٹرز نے بھرپور شرکت کی، جس نے اس ایونٹ کی اہمیت کو بڑھایا۔
    پچھلے سال کی طرح، اس سال بھی گلگت بلتستان کے لیے 4 استور مارخور، 100 ہمالین آئی بیکس اور 14 بلیو شیپ کا کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام مقامی معیشت کی بہتری اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
    استور مارخور کی بولی میں سکندرآباد سی سی ایچ اے کے لیے سب سے زیادہ بولی ایک لاکھ 7 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 3 کروڑ پاکستانی روپے) رہی۔ تانگیر سی سی ایچ اے کے لیے مارخور کی بولی بھی متاثر کن رہی، جو ایک لاکھ 6 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچی۔ہمالین آئی بیکس کی ایکسپورٹ ایبل ٹرافی کے لیے سب سے زیادہ بولی 6 ہزار700 امریکی ڈالر اور نان ایکسپورٹ ایبل ٹرافی کے لیے 18 لاکھ پاکستانی روپے کی بولی لگائی گئی۔ مقامی ہنٹرز کے لیے آئی بیکس کی بولی زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ 60 ہزار روپے رہی۔
    اسی طرح، بلیو شیپ کی ایکسپورٹ ایبل ٹرافی کے لیے سب سے زیادہ بولی 11 ہزار 200 امریکی ڈالر جبکہ نان ایکسپورٹ ایبل ٹرافی کے لیے 16 لاکھ 50 ہزار پاکستانی روپے کی بولی لگی۔ یاد رہے کہ پچھلے سال استور مارخور کے لیے ایک لاکھ 82 ہزار امریکی ڈالر کی ریکارڈ ساز بولی لگائی گئی تھی، جو کہ ٹرافی ہنٹنگ کے میدان میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ریجنل فارسٹ آفیسر شاہ گل حیات نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل شدہ آمدنی کا 80 فیصد مقامی عوام کو دیا جاتا ہے۔ عوام اپنے نمائندے خود منتخب کرتے ہیں جو اس رقم کی شفاف تقسیم کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ آمدنی تعلیم، صحت اور کمیونٹی منصوبوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جس سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوتا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ مقامی کمیونٹیز ان کی حفاظت اور افزائش نسل میں حصہ لیتی ہیں۔ اس طرح، ٹرافی ہنٹنگ کمیونٹی اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔یہ ایونٹ نہ صرف ٹرافی ہنٹنگ کے شوقین افراد کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی سے مقامی عوام کو فوائد ملتے ہیں، جو کہ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مثبت تبدیلیاں لاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی ایک موثر حکمت عملی ہے، جو کہ گلگت بلتستان کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

  • انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

    انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان بھر میں انکم ٹیکس گوشواروں کے جمع کرانے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 30 اکتوبر 2024 تک تقریباً 50 لاکھ افراد نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، جس سے ٹیکس کی مد میں 126 ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کی گئی ہے۔ایف بی آر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ٹیکس سال 2024 میں پاکستان بھر میں 49 لاکھ 93 ہزار 970 افراد نے اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ گزشتہ سال، 30 اکتوبر 2023 تک صرف 27 لاکھ 15 ہزار 185 افراد نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے، جس کے ساتھ ٹیکس کی مد میں 67 ارب 73 کروڑ 40 لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے۔
    2024 کے ٹیکس سال میں نہ صرف گوشواروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹیکس وصولی کی رقم میں بھی خاطرخواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق، 30 اکتوبر 2024 تک جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کے ساتھ 126 ارب 52 کروڑ 30 لاکھ روپے وصول کیے گئے ہیں، جو کہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً دگنی رقم ہے۔ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سال 19 لاکھ 21 ہزار 490 افراد نے اپنے گوشواروں میں اپنی سالانہ آمدنی کو زیرو (نل فائلر) ظاہر کیا ہے۔ یہ تعداد ٹیکس دہندگان کے مجموعی گوشواروں کا تقریباً 38 فیصد بنتی ہے، جو ملک میں انکم ٹیکس کے نظام میں موجود چیلنجز کو ظاہر کرتی ہے۔
    ٹیکس کے نظام میں بہتری اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے لیے ایف بی آر اور حکومت کی جانب سے مختلف اصلاحات کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس سال کے ٹیکس گوشواروں کی تعداد اور جمع شدہ ٹیکس میں اضافہ ٹیکس نظام میں عوامی شرکت میں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، زیرو آمدنی گوشوارے جمع کرانے والے افراد کی بڑی تعداد بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے ایف بی آر مزید اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق، انکم ٹیکس گوشواروں میں اضافہ ملک کی معاشی استحکام کے لیے مثبت علامت ہے، لیکن زیرو آمدنی گوشوارے اور ٹیکس چوری کے مسئلے کو حل کیے بغیر ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینا مشکل ہو سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے اس بات کو سراہا ہے کہ ایف بی آر نے اس سال ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آسانیاں فراہم کی ہیں، جس سے زیادہ لوگوں نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔
    حکومت اور ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق، آئندہ سالوں میں ٹیکس بیس کو مزید وسیع کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیٹا اینالسس اور آڈٹ کے عمل میں بہتری لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ زیرو آمدنی ظاہر کرنے والے نل فائلرز کے معاملات کی چھان بین کرنے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ٹیکس سال 2024 کے ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، تاہم مستقبل میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام کو مستحکم اور فعال بنایا جا سکے۔

  • بلوچستان حکومت کا ہندو سرکاری ملازمین کے لیے دیوالی پر تین روزہ تعطیل کا اعلان

    بلوچستان حکومت کا ہندو سرکاری ملازمین کے لیے دیوالی پر تین روزہ تعطیل کا اعلان

    کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے ہندو سرکاری ملازمین کے لیے دیوالی کے موقع پر تین روزہ خصوصی تعطیل کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک ہندو ملازمین کو عام تعطیل دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ہندو برادری کو ان کے مذہبی تہوار دیوالی کی خوشیوں میں شریک کرنا اور انہیں سہولت فراہم کرنا ہے۔بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ تعطیل صرف ہندو سرکاری ملازمین کے لیے ہوگی اور وہ 31 اکتوبر، 1 اور 2 نومبر کو اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے کے لیے دفتر سے چھٹی کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو بلوچستان میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں کا بھی قبل از وقت اجراء یقینی بنایا ہے۔ 24 اکتوبر کو ہی انہیں تنخواہیں جاری کر دی گئی ہیں تاکہ وہ دیوالی کی تیاریوں میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کریں اور اپنے تہوار کو پورے جوش و خروش کے ساتھ منا سکیں۔بلوچستان حکومت کے اس فیصلے کا ہندو برادری نے خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے صوبے میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ اس اقدام کو بلوچستان میں مختلف برادریوں کے درمیان رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جو حکومت کی جانب سے ایک مثبت قدم ہے۔بلوچستان میں اس سے قبل بھی مختلف مذہبی اور ثقافتی مواقع پر خصوصی تعطیلات دی جاتی رہی ہیں، مگر ہندو برادری کے لیے دیوالی کی تین روزہ چھٹی ایک غیرمعمولی فیصلہ ہے جس سے صوبے میں اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور ان کے مذہبی حقوق کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

  • محکمہ پاسپورٹ نے رولز میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا

    محکمہ پاسپورٹ نے رولز میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا

    اسلام آباد: محکمہ پاسپورٹ نے عوام کی سہولت کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاسپورٹ رولز میں اہم ترمیم کی ہے، جس کے تحت اب پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ کے لیے اپنے مستقل یا موجودہ پتہ کے مطابق درخواست دینے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق، شہری پاکستان کے کسی بھی شہر سے پاسپورٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے، جس سے ملک کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر افراد کے لیے آسانی پیدا ہوگی۔ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ مصطفیٰ جمال قاضی نے اس ترمیم کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ شہریوں کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسی کے تحت بہت سے لوگ اپنے شناختی کارڈ پر موجود پتہ کی وجہ سے پاسپورٹ بنوانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ اس ترمیم سے لوگوں کو نہ صرف اپنے شناختی کارڈ کے ایڈریس کی بندش سے نجات ملے گی بلکہ کسی بھی شہر سے پاسپورٹ حاصل کرنے میں آسانی ہو گی۔
    محکمہ پاسپورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں تمام علاقائی دفاتر کو نئی پالیسی کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری اب کسی بھی علاقائی دفتر میں جا کر پاسپورٹ کے لیے درخواست دے سکتا ہے اور اسے اپنے شناختی کارڈ کے ایڈریس کی بنیاد پر انکار نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، پاسپورٹ کے عملے کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ درخواست گزاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ اس نئے نظام کے مطابق شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ نے اس اقدام کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے خاص طور پر ایسے افراد کو فائدہ پہنچے گا جو دیگر شہروں میں ملازمت، تعلیم، یا کسی دوسرے مقصد کے لیے رہائش پذیر ہیں اور پاسپورٹ بنوانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ شہریوں کی مشکلات کو دور کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے اور اس سے ہر فرد کو اپنے شہر یا علاقے کی قید سے آزاد ہو کر پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
    محکمہ پاسپورٹ کے اس فیصلے کو عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اب شناختی کارڈ پر ایڈریس کی قید سے نجات حاصل کر کے پاسپورٹ کے حصول کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا ہے۔ عوامی نمائندوں اور شہری حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف پاسپورٹ کے عمل کو تیز اور آسان بنایا گیا ہے بلکہ مختلف شہروں میں رہنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے یکساں سہولت فراہم کی گئی ہے۔اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ کے لیے متعلقہ پتہ کی قید سے آزاد کر دیا گیا ہے، جس سے ملک بھر کے افراد مستفید ہو سکیں گے اور پاسپورٹ کے حصول کے عمل میں تیزی آئے گی۔

  • بین اسٹوکس کی غیر موجودگی میں ان کے گھر چوری کی واردات

    بین اسٹوکس کی غیر موجودگی میں ان کے گھر چوری کی واردات

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کے گھر میں چوری کی ایک واردات اس وقت ہوئی جب وہ پاکستان میں موجود تھے، جہاں ان کی ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہے۔ یہ چوری ان کے ڈرہم کاؤنٹی میں واقع گھر میں ہوئی، جس کے بعد اسٹوکس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے عوام سے مدد طلب کی۔بین اسٹوکس نے اپنے پیغام میں بتایا کہ 17 اکتوبر کی شام کو کچھ مسلح افراد، جنہوں نے ماسک پہن رکھے تھے، ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ چوروں نے جیولری، قیمتی اشیاء اور ذاتی استعمال کی کئی اہم چیزیں چوری کر لیں۔ اسٹوکس نے کہا کہ کچھ چیزیں ان کی اور ان کے خاندان کی جذباتی اہمیت رکھتی تھیں، اور وہ ان کی واپسی کے لیے عوام کی مدد کے منتظر ہیں۔چوری کے وقت، اسٹوکس کی اہلیہ اور دو چھوٹے بچے گھر پر موجود تھے۔ بین اسٹوکس نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کے اہل خانہ کو جسمانی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم اس واقعے نے ان پر ذہنی طور پر اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ ایک انتہائی خوفناک تجربہ تھا، اور یہ جان کر دل کو سکون ملا کہ میرے اہل خانہ محفوظ ہیں۔”
    چوری کی اس واقعے کے بعد، بین اسٹوکس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس بارے میں کوئی معلومات ہیں تو وہ ڈرہم کانسٹیبلری سے رابطہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چوری ہونے والی چند اشیاء کی تفصیلات بھی جاری کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر ان لوگوں کی تلاش میں مدد مل سکے۔بین اسٹوکس نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مدد کا بھی شکریہ ادا کیا، اور بتایا کہ چوری کے وقت ان کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے پولیس نے غیر معمولی اقدامات کیے تھے۔ "پولیس اب بھی ان چوروں کی تلاش کے لیے دن رات کام کر رہی ہے، اور میں ان کی محنت کو سراہتا ہوں۔اس واقعے نے نہ صرف اسٹوکس کے خاندان کو متاثر کیا بلکہ ان کے مداحوں اور کرکٹ کی دنیا میں بھی تشویش پیدا کی۔ اسٹوکس کی اپیل کے بعد، امید کی جارہی ہے کہ عوامی مدد سے اس چوری کی واردات میں ملوث افراد کو جلد پکڑا جائے گا۔

  • حکومت اور اپوزیشن نے جوڈیشل کمیشن کے لیے نامزدگیاں کردی

    حکومت اور اپوزیشن نے جوڈیشل کمیشن کے لیے نامزدگیاں کردی

    اسلام آباد: پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے دو دو ارکان کی نامزدگی کردی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے بلاول بھٹو زرداری اور عرفان صدیقی کو جبکہ اپوزیشن نے شبلی فراز اور عمر ایوب کو نامزد کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو قومی اسمبلی سے اور مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی کو سینیٹ سے نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سے قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور سینیٹ سے قائد حزب اختلاف شبلی فراز کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔
    یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حال ہی میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔ اسپیکر کی جانب سے نام مانگنے کا یہ اقدام جوڈیشل کمیشن کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا۔واضح رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد وزارت قانون و انصاف نے وضاحت کی تھی کہ آرٹیکل 175 اے شق 2 کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان 13 ممبران پر مشتمل ہوگا۔ جوڈیشل کمیشن اپنے پہلے اجلاس میں آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی بینچز تشکیل دے گا، جس میں نامزد ججز میں سے سب سے سینئر جج آئینی بینچز کا سربراہ ہوگا۔
    وزارت قانون و انصاف کے مطابق، آرٹیکل 175 اے شق 2 اور آرٹیکل 175 اے شق 3D کے تحت کمیشن کا کوئی فیصلہ کسی رکن کی عدم حاضری یا خالی اسامی پر باطل نہیں ہوگا، جو کہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔اس نامزدگی کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عمل جلد مکمل ہوگا، جو پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔

  • لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کا مقدمہ درج

    لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کا مقدمہ درج

    لندن میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کے بعد پاکستان ہائی کمیشن نے اس حملے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، اس حملے میں ملوث افراد کے خلاف اسکاٹ لینڈ یارڈ میں مقدمہ درج کروایا جائے گا۔ اس مقدمے کے لیے سفارتی اختیارات کے ذریعے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو باضابطہ درخواست دی جائے گی، جس میں 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ حملے کے دوران نہ صرف قاضی فائز عیسیٰ کو نشانہ بنایا گیا بلکہ پاکستان ہائی کمیشن کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔قاضی فائز عیسیٰ، جو حال ہی میں پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں، کو لندن میں مشہور قانونی ادارے "مڈل ٹیمپل” میں بینچر بننے کی تقریب کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریب کے بعد جیسے ہی وہ باہر نکلے، پی ٹی آئی کے مظاہرین نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور گاڑی پر مکے برساتے رہے۔ مظاہرے میں پی ٹی آئی کے رہنما ملیکہ بخاری، زلفی بخاری، اور اظہر مشوانی سمیت دیگر افراد نے مظاہرین سے خطاب بھی کیا۔

    وزیر داخلہ کا سخت ردعمل
    پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے نادرا کو فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فوٹیجز کے ذریعے ان کی شناخت کی جائے اور ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث افراد کی پاکستانی شہریت بھی منسوخ کرنے کی کاروائی شروع کی جائے گی اور اس حوالے سے معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔

    پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کا بیان
    برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے سابق چیف جسٹس کے ساتھ پیش آئے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت حملے میں ملوث افراد کے خلاف مکمل قانونی کارروائی کرے گی۔ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پاکستان کی عزت و احترام کو مجروح کرتے ہیں اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند افراد کی گڑ بڑ پوری پاکستانی کمیونٹی کا موقف نہیں ہوسکتی۔واقعے پر برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں احتجاج کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا اور پاکستان سے آنے والی شخصیات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ افضل خان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی کو اپنے مسائل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اس طرح کے احتجاج سے گریز کرنا چاہیے۔رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی نے بھی قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ پیش آئے بدتمیزی کے واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ احتجاج کو تمیز اور حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کا اظہار ضروری ہے، لیکن مخالفین کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنا درست نہیں۔
    پاکستانی ہائی کمیشن نے اس واقعے کے ردعمل میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مکمل قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حوالے سے سفارتی سطح پر بھی برطانوی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔یہ واقعہ نہ صرف پاکستانی کمیونٹی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی گفتگو کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستانی حکام اور عوام اس واقعے کے حوالے سے برطانوی حکومت کے اقدامات اور برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے منتظر ہیں۔

  • وفاقی بیوروکریسی میں ترقی کا انتظار ختم: سنٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس طلب

    وفاقی بیوروکریسی میں ترقی کا انتظار ختم: سنٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس طلب

    وفاقی حکومت نے وفاقی بیوروکریسی میں گریڈ 20 اور 21 میں ترقی کے حوالے سے 14 ماہ سے زیر التوا سنٹرل سلیکشن بورڈ اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ اجلاس 25، 26 اور 27 نومبر کو کیبنٹ بلاک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔اجلاس کا مقصد افسران کی گریڈ 19 سے 20 اور 20 سے 21 میں ترقی کی سفارشات کی منظوری دینا ہے۔ سنٹرل سلیکشن بورڈ کی مرتب کردہ سفارشات کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے، جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہر افسر کی ترقی، تقرر اور تبادلے کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
    اجلاس کی صدارت چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن کریں گے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ اجلاس کا ایجنڈا اور ورکنگ پیپرز جلد جاری کیے جائیں گے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس گزشتہ 14 ماہ سے زیر التوا ہے، اور اس کا آخری اجلاس اگست 2023 میں ہوا تھا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق، سنٹرل سلیکشن بورڈ کے اجلاس کا انعقاد ہر سال دو مرتبہ لازمی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس اجلاس کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھا گیا ہے۔