Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیر اعظم شہباز شریف قطر پہنچ گئے، امیر قطر اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع

    وزیر اعظم شہباز شریف قطر پہنچ گئے، امیر قطر اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سعودی عرب کا دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد امیر قطر کی دعوت پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم کے استقبال کے لیے قطر کے وزیر مملکت برائے ثالثی امور محمد بن عبدالعزیز الخلیفی، قطر میں پاکستانی سفیر اور دیگر اعلیٰ سفارتی عملہ موجود تھا۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء خواجہ آصف، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، اور عطاء اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کریں گے، جس میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اس ملاقات کا مقصد اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مواقع میں وسعت لائی جا سکے۔
    وزیر اعظم کے شیڈول میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے وفد سے ملاقات بھی شامل ہے، جس میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جس کا مقصد پاکستانی معیشت میں قطر کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور پاکستانی اور قطری کاروباری افراد کے درمیان تجارتی مواقع کو مزید وسعت دینا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ قطر کا ایک اور اہم پہلو قطر میوزیم میں "منظر آرٹ ایگزیبیشن؛ 1940 سے اب تک پاکستان میں آرٹ اور آرکیٹیکچر” کی افتتاحی تقریب میں شرکت ہے۔ اس ایگزیبیشن کا مقصد پاکستانی فن اور تعمیرات کی تاریخی اور عصری ترقی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ اس تقریب میں پاکستانی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو بھی نمایاں کیا جائے گا اور قطری عوام کو پاکستانی آرٹ کے مختلف زاویوں سے روشناس کرایا جائے گا۔وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی جانب ایک اہم قدم ہے اور توقع ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے نئے باب کھلیں گے۔

  • ایف بی آر کا  45 شہروں میں جائیداد کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ

    ایف بی آر کا 45 شہروں میں جائیداد کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر کے 45 شہروں میں غیر منقولہ جائیداد کی سرکاری قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جائیداد کی سرکاری قیمتوں کو مارکیٹ ریٹ کے قریب تر لانا ہے، جس کے بعد یہ قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے 80 فیصد کے مساوی ہوگئی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق، جائیداد کی قیمتوں میں یہ اضافے کا اطلاق پشاور، ایبٹ آباد، فیصل آباد، گجرات اور لاڑکانہ سمیت ملک کے دیگر 45 بڑے شہروں پر ہوگا۔ ان شہروں میں جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہ راست اثر خریداروں اور فروخت کنندگان پر پڑے گا، کیونکہ ان کے لیے اب ٹیکس کی ادائیگی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد حکومت کو ٹیکس کے شعبے میں مزید آمدنی فراہم کرنا ہے تاکہ ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ یہ اضافہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام پر عمل درآمد کا حصہ ہے، جس کے تحت حکومت کو محصولات میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
    دوسری جانب ایف بی آر نے کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ سمیت 11 بڑے شہروں میں جائیدادوں کی پرانی قیمتیں برقرار رکھی ہیں۔ ان شہروں میں قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب تر ہونے کی وجہ سے مزید اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں جائیداد کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، اور مزید اضافے سے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    حکومت نے یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت کیا ہے جس کے مطابق محصولات میں اضافے کے لیے ملک کی جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کو سرکاری قیمتوں کے قریب تر لانا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جائیداد کی اصل قیمت کو کم کرکے دکھانے کی وجہ سے حکومت کو محصولات کی مد میں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، اور یہ اقدام ملکی خزانے کو بہتر بنانے کے لیے ضروری تھا۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جائیداد کی قیمتوں میں اضافے سے ٹیکس محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا، لیکن اس کے ساتھ ہی ممکنہ طور پر جائیداد کی خرید و فروخت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اضافے سے عام عوام کے لیے جائیداد خریدنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر درمیانی طبقے کے لوگوں پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ایف بی آر کے اس فیصلے کے بعد پراپرٹی ڈیلرز اور سرمایہ کاروں میں ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے یہ ایک مثبت قدم ہے، جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

  • پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ، رواں سال کا 43واں کیس سامنے آگیا

    پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ، رواں سال کا 43واں کیس سامنے آگیا

    اسلام آباد: پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال بلوچستان کے ضلع چاغی سے رپورٹ ہونے والا پولیو کا نیا کیس ہے۔ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے اس کیس کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا کہ یہ کیس وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 ہے۔ این آئی ایچ کے مطابق، یہ کیس ملک میں 2024 کا 43واں کیس ہے اور چاغی ضلع سے رپورٹ ہونے والا پہلا کیس ہے۔این آئی ایچ حکام کے مطابق، متاثرہ بچے سے حاصل کیے گئے نمونوں کی جینیاتی ترتیب کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ ذرائع اور اس کی ممکنہ منتقلی کے راستوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ چاغی سے سامنے آنے والا یہ پہلا کیس پورے صوبے میں پولیو وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کی علامت ہے اور پولیو کے خلاف موجودہ حفاظتی تدابیر اور ویکسینیشن مہمات کی کامیابی پر سوالات اٹھاتا ہے۔
    این آئی ایچ کے اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان میں پولیو کیسز کی تعداد ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اب تک بلوچستان سے 22 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں پولیو وائرس کے حوالے سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔ سندھ سے 12 کیسز، خیبرپختونخوا سے 7 کیسز، پنجاب اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ پاکستان میں پولیو وائرس کے خلاف بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہمات جاری ہیں، جن کا مقصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو اس خطرناک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومتی اور بین الاقوامی تنظیموں کی مدد سے ویکسینیشن کی مہمات مسلسل جاری ہیں، مگر حالیہ کیسز اس بات کا اشارہ ہیں کہ کچھ علاقوں میں یہ مہمات ابھی بھی موثر نتائج دینے میں ناکام ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان جیسے دور دراز اور غیر محفوظ علاقوں میں مہمات کو مزید موثر اور وسیع پیمانے پر انجام دینے کی ضرورت ہے۔
    ماہرین کے مطابق، پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات میں ویکسینیشن میں رکاوٹیں، سماجی مسائل، بچوں کو بروقت حفاظتی قطرے نہ پلانا اور عوامی آگاہی کی کمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دور دراز علاقوں میں ویکسینیشن ٹیموں تک رسائی میں مشکلات اور بعض جگہوں پر سیکیورٹی کے مسائل بھی شامل ہیں، جو ویکسینیشن مہمات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حالیہ کیسز نے ملک میں پولیو کے خلاف جنگ کی کامیابی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ صحت کے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو حفاظتی قطرے پلوانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں اور ان علاقوں میں جہاں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔ حکومت پاکستان اور صحت کے بین الاقوامی ادارے ملک سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف (UNICEF) سمیت دیگر عالمی ادارے پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

  • وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری،

    وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری،

    اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، ملک میں معاشی صورتحال میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی 44 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ معیشت کی بحالی میں مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مہنگائی 6.9 فیصد پر آگئی، جو ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح ہے۔ وزارت خزانہ نے ملکی معیشت میں بحالی کے مختلف عوامل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں معاشی استحکام کی جانب مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔رپورٹ میں ان عوامل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو معاشی استحکام میں معاون ثابت ہوئے ہیں، جن میں سب سے اہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.03 ارب ڈالر کی قسط کا ملنا ہے۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ **آئی ایم ایف کی قسط سے ملکی معیشت کو تقویت ملی ہے**۔ اس کے علاوہ، شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کانفرنس میں شمولیت سے کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس سے کاروبار اور مارکیٹ کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق معاشی استحکام میں بیرونی عوامل بھی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ ترسیلات زر میں 38.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے حجم 8.78 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ برآمدات میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بدولت برآمدات کا مجموعی حجم 7.49 ارب ڈالر رہا۔ اس کے علاوہ، غیرملکی سرمایہ کاری میں 70.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جس سے سرمایہ کاری کا حجم 90 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 7.61 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جہاں 78.4 فیصد اضافہ ہوا اور انڈیکس 90 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا ہے۔
    وزارت خزانہ نے رپورٹ میں ٹیکس ریونیو میں ہونے والے اضافے کا بھی ذکر کیا ہے۔ جولائی تا ستمبر ٹیکس ریونیو میں 25.5 فیصد اضافہ ہوا، جس سے 2563 ارب روپے جمع کیے گئے ہیں۔ نان ٹیکس ریونیو میں بھی 20.8 فیصدکا اضافہ ہوا، جس کا حجم 341 ارب روپے رہا۔ تاہم، ابتدائی دو ماہ میں مالی خسارہ 4.3 فیصد بڑھا اور اس کا حجم 841 ارب روپے تک پہنچ گیا۔رپورٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 92 فیصد کمی کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے، جس کی بدولت خسارہ 9 کروڑ 80 لاکھ ڈالر پر آگیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہونے والی یہ کمی معیشت کے استحکام کے لئے خوش آئند ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں ڈالر کا ریٹ 280.29 روپے سے کم ہو کر 277.62 روپے پر آ گیا ہے، جو مقامی کرنسی کی قدر میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔وزارت خزانہ کی اس رپورٹ کے مطابق اگلے چند مہینوں میں پاکستانی معیشت پائیدار بحالی کے سفر پر گامزن رہے گی۔

  • پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ،  نئی جے آئی ٹی تشکیل

    پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ، نئی جے آئی ٹی تشکیل

    پنجاب حکومت نے لاہور کے ایک نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیر مصدقہ خبر پھیلانے کے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر طالبہ کی ماں ہونے کا دعویٰ کرنے والی خاتون کے خلاف قانونی کارروائی تیز کردی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب نے معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے جے آئی ٹی قائم کر دی ہے، جو اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے سوشل میڈیا پر خود کو لاہور کی طالبہ کی ماں ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ لاہور کے نجی کالج میں زیادتی ہوئی ہے۔ اس دعوے نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا، تاہم بعد میں سامنے آیا کہ یہ دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ اس جھوٹے دعوے کے باعث طالبہ کی ساکھ اور امن و امان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جس پر لاہور کی گلبرگ پولیس نے اس خاتون کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
    پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) اس خاتون کے دعوے کے پیچھے موجود محرکات اور ارادوں کی تحقیق کرے گی۔ اس ٹیم کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ خاتون کے اس عمل کے ممکنہ نتائج اور اس کے پھیلائے جانے والے غیر تصدیق شدہ معلومات کی نوعیت کو جانچ سکے۔ جے آئی ٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ خاتون کے خلاف قانونی کارروائی کے علاوہ اس پر کوئی اور اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت پیغام دیا جا سکے۔ اس تفتیش کے دوران ٹیم کو خاتون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مواصلاتی ریکارڈ کا معائنہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ کیا یہ اقدام کسی منظم گروہ کا حصہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی ذاتی مقصد تھا۔
    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کئی صارفین نے جھوٹی خبروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، عوام نے اس کیس کو حساس قرار دیتے ہوئے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اس نوعیت کی اطلاعات کو فوری طور پر مستند ذرائع سے تصدیق کیے بغیر پھیلانے سے گریز کیا جائے تاکہ معاشرے میں افراتفری سے بچا جا سکے۔پنجاب حکومت نے اس کیس کو مثال بنانے کی ٹھان لی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے جھوٹے اور من گھڑت دعوے پھیلانے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد اس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی اور مستقبل کے لیے ایک جامع لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا، جس میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات شامل ہوں گے۔پنجاب حکومت کی طرف سے اس اقدام کو نہ صرف قانونی اور سماجی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک اہم قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کا خواب، عدل، مساوات اور فلاح پر مبنی ریاست ہے، وزیر اعلی کے پی

    بانی پی ٹی آئی کا خواب، عدل، مساوات اور فلاح پر مبنی ریاست ہے، وزیر اعلی کے پی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ریاست مدینہ کے تصور پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاست مدینہ کے اصولوں کی بات کی ہے اور موجودہ صوبائی حکومت اسی خواب کو حقیقت بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ پشاور میں وزیر اعلیٰ سے متحدہ علماء بورڈ کے اراکین نے ملاقات کی، جس میں بورڈ کے قیام کے مقاصد، اس کی موجودہ کارکردگی اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ملاقات کے دوران علی امین گنڈاپور نے متحدہ علماء بورڈ کے قیام کو ایک مثبت اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ میں تمام مکاتب فکر کے علماء کو شامل کیا گیا ہے جو کہ صوبے میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے نہایت اہم ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ متحدہ علماء بورڈ نے صوبے میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جو کہ قابل تعریف ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ سماجی برائیوں اور مختلف بیماریوں سے متعلق آگاہی پھیلانے میں بھی علماء بورڈ کا کردار نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق بورڈ کی سرگرمیاں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے اور معاشرتی ترقی میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔علی امین گنڈاپور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبائی حکومت متحدہ علماء بورڈ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اسے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست مدینہ کے اصولوں پر مبنی ایک منصفانہ اور مساوی حکومت کا قیام علمائے کرام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا خواب ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں عدل و انصاف، مساوات، اور فلاح و بہبود کو اولین حیثیت حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور علماء کی رہنمائی میں اسلامی اصولوں کے مطابق اصلاحات کو فروغ دے گی۔

  • الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں کمی،  عالمی سطح پر ای وی انقلاب مشکلات کا شکار

    الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں کمی، عالمی سطح پر ای وی انقلاب مشکلات کا شکار

    الیکٹرک گاڑیاں (EVs) کو ماحولیاتی مسائل کے حل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جنہیں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم، اس "الیکٹرک انقلاب” میں حالیہ مہینوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی تین بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے، اور عوام کی طرف سے الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے گرم جوشی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔الون مسک کی کمپنی ٹیسلا، جسے الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے، نے بھی فروخت میں کمی کا سامنا کیا ہے۔ کمپنی کی چوتھی سہ ماہی 2023 میں 484,500 گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی تھی، تاہم پہلی سہ ماہی 2024 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 386,800 رہ گئی۔چین کی کمپنی BYD، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرتی ہے، نے بھی رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں فروخت میں کمی دیکھی ہے۔
    پہلی سہ ماہی 2024 میں کمپنی نے 300,000 سے کچھ زیادہ گاڑیاں فروخت کیں، جو کہ پچھلی چوتھی سہ ماہی 2023 کے 526,000 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔جرمنی کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ووکس ویگن کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ چوتھی سہ ماہی 2023 میں کمپنی نے 239,500 الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں، تاہم پہلی سہ ماہی 2024 میں یہ تعداد کم ہو کر 136,400 ہو گئی۔ حالانکہ، دوسری سہ ماہی 2024 میں فروخت دوبارہ بڑھ کر 180,800 تک پہنچ گئی۔ووکس ویگن نے فروخت میں اس کمی کے سبب تین فیکٹریوں کو بند کرنے اور ملازمین کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کے عمل میں سست رفتاری کی عکاسی کرتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف عوام کی دلچسپی اور فروخت میں طویل مدتی اضافے کے باوجود، حالیہ عرصے میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے، جو کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی چیلنجز اور مستقبل کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی افادیت پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

  • شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی قیادت پر اعتماد کا بحران، احتجاجی حکمت عملی تبدیل کرنے پر زور

    شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی قیادت پر اعتماد کا بحران، احتجاجی حکمت عملی تبدیل کرنے پر زور

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے پارٹی قیادت اور کارکنوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ پارٹی کو اپنی احتجاجی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور جلسوں کے بجائے دھرنوں کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ ان کی آواز حکومت تک مؤثر طریقے سے پہنچائی جا سکے۔شیر افضل مروت نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی لاکھوں لوگوں کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر جمع کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو حکومت پارٹی بانی کی رہائی کے مطالبے کو سنجیدگی سے لے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے احتجاجات میں عوامی حمایت اور سوشل میڈیا پر تحریک کی کمی ہے اور ہمیں کوئی متبادل پلان، بی یا سی، تیار نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کا احتجاج ایک دن کا ہوتا ہے جس میں کارکنان شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور پھر احتجاج ختم کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں، انہیں احتجاجات میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مروت نے علی امین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے سرکاری فرائض پر توجہ دیں اور عوامی احتجاجات سے دور رہیں۔
    شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ انہوں نے 9 مئی سے 11 اپریل تک مختلف احتجاجی سرگرمیوں میں اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ انہوں نے اپنی شرکت کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ وہ مقررہ مقامات پر وقت پر پہنچ جاتے تھے لیکن پارٹی کی طرف سے بار بار تاریخوں کا اعلان اور پھر احتجاجات کو مؤخر کرنا کارکنان کے لیے باعث مایوسی ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فواد چوہدری پارٹی قیادت کے قریب آنے کی کوشش میں ہیں لیکن ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شیر افضل مروت نے مزید انکشاف کیا کہ جہلم میں پی ٹی آئی کارکنان نے لکھ کر دیا ہے کہ اگر فواد چوہدری کو پارٹی میں شامل کیا گیا تو وہ پارٹی چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے فواد چوہدری کو "فارغ آدمی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی موجودگی پارٹی کارکنان کے درمیان اختلافات کو بڑھا رہی ہے۔شیر افضل مروت کے ان بیانات نے پارٹی قیادت اور کارکنوں کے درمیان اختلافات اور عدم اعتماد کی صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے۔

  • وزیرِاعظم شہباز شریف کا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر کو مبارکباد

    وزیرِاعظم شہباز شریف کا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر کو مبارکباد

    اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر میاں رؤف عطا اور انڈیپنڈنٹ گروپ (عاصمہ جہانگیر گروپ) کے سربراہ احسن بھون کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے بعد اسلام آباد رجسٹری میں ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوا، جس کے غیر حتمی نتائج کے مطابق، میاں رؤف عطا نے 350 ووٹ حاصل کیے، جبکہ حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار منیر کاکڑ نے 331 ووٹ لیے۔وزیرِاعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ نومنتخب صدر اور بار کے دیگر عہدیداران وکلا کی فلاح و بہبود کے مشن کو جاری رکھیں گے اور وکلا برادری آئینی ترمیم پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وکلا برادری کے تمام ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے میاں رؤف عطا کی صورت میں بہترین قیادت کا انتخاب کیا۔ وزیرِاعظم نے یقین دلایا کہ نومنتخب عہدیداران وکلا کے مسائل کے حل اور اہم قانونی معاملات میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

  • سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات: عاصمہ جہانگیر گروپ کی برتری

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات: عاصمہ جہانگیر گروپ کی برتری

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ غیرحتمی نتائج کے مطابق، انڈیپنڈنٹ گروپ (عاصمہ جہانگیر گروپ) نے ایک بڑی برتری حاصل کی ہے۔ لاہور کے غیرحتمی نتائج کے مطابق، عاصمہ جہانگیر گروپ کے صدارتی امیدوار رؤف عطا نے 558 ووٹ حاصل کیے، جبکہ حامد خان گروپ کے منیر کاکڑ نے 484 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح، رؤف عطا نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ملتان میں بھی نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں عاصمہ جہانگیر گروپ کے میاں محمد رؤف عطا نے 125 ووٹ لیے، جبکہ حامد خان گروپ کے منیر کاکڑ نے 85 ووٹ حاصل کیے، جس کے نتیجے میں انڈیپنڈنٹ گروپ نے 40 ووٹوں کی لیڈ سے میدان مار لیا۔
    اسلام آباد میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے، تاہم غیرحتمی نتائج کے مطابق، میاں محمد رؤف عطا نے 190 ووٹ لے کر برتری حاصل کی، جبکہ پروفیشنل گروپ کے منیر کاکڑ نے 160 ووٹ حاصل کیے۔خیبرپختونخوا میں بھی عاصمہ جہانگیر گروپ کے صدارتی امیدوار میاں محمد رؤف عطا نے کلین سوئپ کیا، خاص طور پر پشاور کے پانچ پولنگ اسٹیشنز پر انہوں نے 44 ووٹ کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ پشاور میں، رؤف عطا نے 127 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ حامد خان گروپ کے منیر کاکڑ کو 123 ووٹ ملے، جس کے نتیجے میں میاں محمد رؤف نے صرف 3 ووٹوں کی لیڈ سے فتح حاصل کی۔بنوں سے بھی عاصمہ جہانگیر گروپ کے میاں محمد رؤف عطا نے 21 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ حامد خان گروپ کے منیر کاکڑ 10 ووٹ حاصل کر سکے۔
    ایبٹ آباد میں میاں رؤف عطا نے 7، بنوں میں 11، ڈی آئی خان میں 14، سوات میں 8 اور پشاور کے پولنگ اسٹیشن سے 4 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔
    ڈیرہ اسماعیل خان سے میاں محمد رؤف عطا نے 25 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ حامد خان گروپ کے منیر کاکڑ کو 11 ووٹ ملے۔ سوات میں بھی عاصمہ جہانگیر گروپ کے میاں محمد رؤف عطا نے 20 ووٹ اور منیر کاکڑ نے 12 ووٹ حاصل کیے۔حیدرآباد سے بھی غیرحتمی نتائج کے مطابق، عاصمہ جہانگیر گروپ کے میاں محمد رؤف عطا نے 50 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ منیر کاکڑ نے 34 ووٹ حاصل کیے، جس کے نتیجے میں انہیں 16 ووٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ان انتخابات کے غیرحتمی نتائج میں عاصمہ جہانگیر گروپ کی برتری واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، اور مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ نتائج قانونی برادری میں سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم لمحہ ہیں اور آئندہ کے انتخابات کے لیے ایک نیا عزم پیش کرتے ہیں۔