Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، وضاحت طلب

    اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، وضاحت طلب

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے عدالتی وقت کے بعد جاری کردہ تحریری حکم نامے میں کئی اہم نکات کی وضاحت طلب کرلی ہے۔ عدالت نے یہ حکم اعظم سواتی کے وکیل کے نواسے کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دیے گئے بیان حلفی کی بنیاد پر جاری کیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق، اعظم سواتی کے وکیل کے نواسے نے شام ساڑھے چھ بجے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے ایک بیان حلفی جمع کرایا جس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین سے مزید وضاحت طلب کی گئی۔ ہائی کورٹ کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ اس پر اپنے کمنٹس دے سکیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے کمنٹس کل عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔
    حکم نامے کے مطابق، اعظم سواتی کے خلاف یہ مقدمات 4 اکتوبر کو درج کیے گئے تھے اور انہیں 5 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ان مقدمات کے تحت 28 اکتوبر کو جسمانی ریمانڈ جاری کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف ہے کہ جب اعظم سواتی کو 5 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تو ان کے خلاف درج ہر مقدمہ میں الگ الگ جسمانی ریمانڈ نہیں دینا چاہیے تھا۔عدالتی کارروائی میں پراسیکیوٹر جنرل کی عدم موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں حاضر نہیں ہوئے، جس پر عدالتی اہلکار کے ذریعے انہیں طلب کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ انہیں عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ اس پر عدالت نے ایڈیشنل رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ جوڈیشل انکوائری کریں کہ دو دن قبل جاری کردہ نوٹس پراسیکیوٹر جنرل تک کیوں اور کیسے نہیں پہنچ سکا۔
    اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس تحریری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ سماعت پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے کمنٹس کو عدالت کے سامنے رکھا جائے گا، جس سے عدالتی کارروائی میں مزید وضاحت ممکن ہوگی۔ عدالت کے اس حکم نے کیس کے مزید پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے، جس میں ریمانڈ کے اصولوں، عدالتی اوقات، اور قانونی تقاضوں کی باریکیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔عدالت کی جانب سے جاری کردہ یہ تفصیلی حکم آئندہ دنوں میں کیس کے مزید پیچیدہ پہلوؤں کو سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوگا اور پراسیکیوٹر جنرل کی عدم موجودگی کے حوالے سے بھی جوڈیشل انکوائری کے نتائج کو سامنے لایا جائے گا۔

  • لاہور میں گرین لاک ڈاؤن: فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات

    لاہور میں گرین لاک ڈاؤن: فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات

    لاہور: ادارہ ماحولیات پنجاب نے شہر میں بڑھتی ہوئی سموگ اور فضائی آلودگی کے پیش نظر "گرین لاک ڈاؤن” نافذ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی جانب سے اس عزم کے تحت کیا گیا ہے کہ شہریوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور آلودگی کی سطح میں کمی لائی جائے۔محکمہ ماحولیات کے ترجمان، عمران حامد شیخ، نے اس اقدام کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے مخصوص علاقوں کو ہاٹ سپاٹ قرار دیا گیا ہے، جہاں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ان ہاٹ سپاٹ ایریاز میں ڈیوس روڈ، ایجرٹن روڈ، ڈیورنڈ روڈ، کشمیر روڈ، شملہ پہاڑی سے گلشن سینیما، ایبٹ روڈ، ریلوے اسٹیشن، اور ایمپریس روڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کوئین میری روڈ اور اس کے اطراف کو بھی آلودگی والے علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق تعمیراتی کاموں پر پابندی: ان ہاٹ سپاٹ ایریاز میں تمام تعمیراتی کاموں پر مکمل طور پر پابندی عائد کی گئی ہے، تاکہ مزید دھوئیں اور مٹی کی آلودگی کو روکا جا سکے۔کمرشل جنریٹرز: کمرشل جنریٹرز کے استعمال پر بھی ان علاقوں میں پابندی ہوگی، تاکہ فضائی آلودگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔چنگ چی رکشوں کی پابندی: چنگ چی رکشوں کا ان علاقوں میں جانا سختی سے بند رہے گا، جس کا مقصد آلودگی کی سطح میں کمی لانا ہے۔اوپن باربی کیو: اوپن باربی کیو کی اجازت رات آٹھ بجے کے بعد نہیں ہوگی، تاکہ دھوئیں کی پیداوار میں کمی لائی جا سکے۔
    محکمہ ماحولیات کی جانب سے گرین لاک ڈاؤن لگانے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں ان پابندیوں اور اقدامات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ عمران حامد شیخ نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حکومت کے اس اقدام کی پاسداری کریں اور اپنی صحت کی حفاظت کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں۔یہ اقدامات اس وقت کیے جا رہے ہیں جب لاہور کی فضائی آلودگی کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو شہریوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ حکام نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کا نام تبدیل کرکے "مارگلہ ویو پوائنٹ” رکھ دیا گیا

    اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کا نام تبدیل کرکے "مارگلہ ویو پوائنٹ” رکھ دیا گیا

    اسلام آباد: اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی سربراہ رائنہ سعید نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ مونال ریسٹورنٹ کی جگہ کو اب "مارگلہ ویو پوائنٹ” کے نام سے جانا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ دو ہوٹلز، جو اس مقام پر قائم تھے، کو سپریم کورٹ کے احکامات پر گرایا گیا ہے، کیونکہ ان کی موجودگی یہاں کی قدرتی خوبصورتی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے نامناسب تھی۔رائنہ سعید نے کہا کہ "یہ جگہ بےحد جنگلی حیات سے بھرپور ہے اور اس کے تحفظ کے لئے اسے عوامی تفریحی پارک میں تبدیل کیا جائے گا۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہاں جنگلی حیات کا علاقہ چار زونز پر مشتمل ہوگا، جو مختلف نوعیت کی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مخصوص ہوں گے۔
    پریس کانفرنس کے دوران رائنہ سعید نے یہ بھی بتایا کہ بورڈ کی ممبر عمرانہ ٹوانہ اس علاقے کے لیے ایک منصوبہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "آرکیٹیکچر ڈیزائن اگلے ماہ تک مکمل ہوجائے گا۔” اس نئے پارک میں پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام بھی کیا جائے گا اور عوامی آگاہی کے لئے ایک پبلک سینٹر قائم کیا جائے گا۔رائنہ سعید نے جنگل میں آگ پر قابو پانے کے لیے ایک فائر فائٹنگ سینٹر کے قیام کی بھی خبر دی، ساتھ ہی یہ کہا کہ ایک سائنسی مینجمنٹ پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "یہاں سے کچھ فاصلے پر خیبر پختونخوا کا آغاز ہوگا اور اس کے پہلے ایک بفر زون بھی قائم کیا جائے گا۔ممبر بورڈ عمرانہ ٹوانہ نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل پارک عوام کی امانت ہوتی ہے اور اس کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ماحول کی بہتری کے لئے ایکو ماڈل بنا رہے ہیں۔” انہوں نے کلائمیٹ چینج کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم دنیا بھر کے لئے ایک اچھی مثال بننا چاہتے ہیں۔”
    رائنہ سعید نے بتایا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ 2015 میں قائم ہوا، جس کا مقصد اسلام آباد کے قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے اقدامات سے عوام کو نہ صرف تفریح کا موقع ملے گا بلکہ یہ علاقے کی ماحولیات کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔”یہ اقدامات نہ صرف اسلام آباد کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ مقامی جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہوں گے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف قطر پہنچ گئے، امیر قطر اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع

    وزیر اعظم شہباز شریف قطر پہنچ گئے، امیر قطر اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سعودی عرب کا دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد امیر قطر کی دعوت پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم کے استقبال کے لیے قطر کے وزیر مملکت برائے ثالثی امور محمد بن عبدالعزیز الخلیفی، قطر میں پاکستانی سفیر اور دیگر اعلیٰ سفارتی عملہ موجود تھا۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء خواجہ آصف، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، اور عطاء اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کریں گے، جس میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اس ملاقات کا مقصد اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مواقع میں وسعت لائی جا سکے۔
    وزیر اعظم کے شیڈول میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے وفد سے ملاقات بھی شامل ہے، جس میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جس کا مقصد پاکستانی معیشت میں قطر کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور پاکستانی اور قطری کاروباری افراد کے درمیان تجارتی مواقع کو مزید وسعت دینا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ قطر کا ایک اور اہم پہلو قطر میوزیم میں "منظر آرٹ ایگزیبیشن؛ 1940 سے اب تک پاکستان میں آرٹ اور آرکیٹیکچر” کی افتتاحی تقریب میں شرکت ہے۔ اس ایگزیبیشن کا مقصد پاکستانی فن اور تعمیرات کی تاریخی اور عصری ترقی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ اس تقریب میں پاکستانی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو بھی نمایاں کیا جائے گا اور قطری عوام کو پاکستانی آرٹ کے مختلف زاویوں سے روشناس کرایا جائے گا۔وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی جانب ایک اہم قدم ہے اور توقع ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے نئے باب کھلیں گے۔

  • ایف بی آر کا  45 شہروں میں جائیداد کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ

    ایف بی آر کا 45 شہروں میں جائیداد کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر کے 45 شہروں میں غیر منقولہ جائیداد کی سرکاری قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جائیداد کی سرکاری قیمتوں کو مارکیٹ ریٹ کے قریب تر لانا ہے، جس کے بعد یہ قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے 80 فیصد کے مساوی ہوگئی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق، جائیداد کی قیمتوں میں یہ اضافے کا اطلاق پشاور، ایبٹ آباد، فیصل آباد، گجرات اور لاڑکانہ سمیت ملک کے دیگر 45 بڑے شہروں پر ہوگا۔ ان شہروں میں جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہ راست اثر خریداروں اور فروخت کنندگان پر پڑے گا، کیونکہ ان کے لیے اب ٹیکس کی ادائیگی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد حکومت کو ٹیکس کے شعبے میں مزید آمدنی فراہم کرنا ہے تاکہ ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ یہ اضافہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام پر عمل درآمد کا حصہ ہے، جس کے تحت حکومت کو محصولات میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
    دوسری جانب ایف بی آر نے کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ سمیت 11 بڑے شہروں میں جائیدادوں کی پرانی قیمتیں برقرار رکھی ہیں۔ ان شہروں میں قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب تر ہونے کی وجہ سے مزید اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں جائیداد کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، اور مزید اضافے سے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    حکومت نے یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت کیا ہے جس کے مطابق محصولات میں اضافے کے لیے ملک کی جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کو سرکاری قیمتوں کے قریب تر لانا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جائیداد کی اصل قیمت کو کم کرکے دکھانے کی وجہ سے حکومت کو محصولات کی مد میں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، اور یہ اقدام ملکی خزانے کو بہتر بنانے کے لیے ضروری تھا۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جائیداد کی قیمتوں میں اضافے سے ٹیکس محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا، لیکن اس کے ساتھ ہی ممکنہ طور پر جائیداد کی خرید و فروخت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اضافے سے عام عوام کے لیے جائیداد خریدنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر درمیانی طبقے کے لوگوں پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ایف بی آر کے اس فیصلے کے بعد پراپرٹی ڈیلرز اور سرمایہ کاروں میں ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے یہ ایک مثبت قدم ہے، جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

  • پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ، رواں سال کا 43واں کیس سامنے آگیا

    پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ، رواں سال کا 43واں کیس سامنے آگیا

    اسلام آباد: پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال بلوچستان کے ضلع چاغی سے رپورٹ ہونے والا پولیو کا نیا کیس ہے۔ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے اس کیس کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا کہ یہ کیس وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 ہے۔ این آئی ایچ کے مطابق، یہ کیس ملک میں 2024 کا 43واں کیس ہے اور چاغی ضلع سے رپورٹ ہونے والا پہلا کیس ہے۔این آئی ایچ حکام کے مطابق، متاثرہ بچے سے حاصل کیے گئے نمونوں کی جینیاتی ترتیب کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ ذرائع اور اس کی ممکنہ منتقلی کے راستوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ چاغی سے سامنے آنے والا یہ پہلا کیس پورے صوبے میں پولیو وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کی علامت ہے اور پولیو کے خلاف موجودہ حفاظتی تدابیر اور ویکسینیشن مہمات کی کامیابی پر سوالات اٹھاتا ہے۔
    این آئی ایچ کے اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان میں پولیو کیسز کی تعداد ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اب تک بلوچستان سے 22 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں پولیو وائرس کے حوالے سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔ سندھ سے 12 کیسز، خیبرپختونخوا سے 7 کیسز، پنجاب اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ پاکستان میں پولیو وائرس کے خلاف بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہمات جاری ہیں، جن کا مقصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو اس خطرناک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومتی اور بین الاقوامی تنظیموں کی مدد سے ویکسینیشن کی مہمات مسلسل جاری ہیں، مگر حالیہ کیسز اس بات کا اشارہ ہیں کہ کچھ علاقوں میں یہ مہمات ابھی بھی موثر نتائج دینے میں ناکام ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان جیسے دور دراز اور غیر محفوظ علاقوں میں مہمات کو مزید موثر اور وسیع پیمانے پر انجام دینے کی ضرورت ہے۔
    ماہرین کے مطابق، پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات میں ویکسینیشن میں رکاوٹیں، سماجی مسائل، بچوں کو بروقت حفاظتی قطرے نہ پلانا اور عوامی آگاہی کی کمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دور دراز علاقوں میں ویکسینیشن ٹیموں تک رسائی میں مشکلات اور بعض جگہوں پر سیکیورٹی کے مسائل بھی شامل ہیں، جو ویکسینیشن مہمات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حالیہ کیسز نے ملک میں پولیو کے خلاف جنگ کی کامیابی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ صحت کے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو حفاظتی قطرے پلوانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں اور ان علاقوں میں جہاں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔ حکومت پاکستان اور صحت کے بین الاقوامی ادارے ملک سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف (UNICEF) سمیت دیگر عالمی ادارے پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

  • وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری،

    وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری،

    اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، ملک میں معاشی صورتحال میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی 44 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ معیشت کی بحالی میں مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مہنگائی 6.9 فیصد پر آگئی، جو ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح ہے۔ وزارت خزانہ نے ملکی معیشت میں بحالی کے مختلف عوامل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں معاشی استحکام کی جانب مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔رپورٹ میں ان عوامل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو معاشی استحکام میں معاون ثابت ہوئے ہیں، جن میں سب سے اہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.03 ارب ڈالر کی قسط کا ملنا ہے۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ **آئی ایم ایف کی قسط سے ملکی معیشت کو تقویت ملی ہے**۔ اس کے علاوہ، شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کانفرنس میں شمولیت سے کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس سے کاروبار اور مارکیٹ کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق معاشی استحکام میں بیرونی عوامل بھی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ ترسیلات زر میں 38.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے حجم 8.78 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ برآمدات میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بدولت برآمدات کا مجموعی حجم 7.49 ارب ڈالر رہا۔ اس کے علاوہ، غیرملکی سرمایہ کاری میں 70.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جس سے سرمایہ کاری کا حجم 90 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 7.61 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جہاں 78.4 فیصد اضافہ ہوا اور انڈیکس 90 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا ہے۔
    وزارت خزانہ نے رپورٹ میں ٹیکس ریونیو میں ہونے والے اضافے کا بھی ذکر کیا ہے۔ جولائی تا ستمبر ٹیکس ریونیو میں 25.5 فیصد اضافہ ہوا، جس سے 2563 ارب روپے جمع کیے گئے ہیں۔ نان ٹیکس ریونیو میں بھی 20.8 فیصدکا اضافہ ہوا، جس کا حجم 341 ارب روپے رہا۔ تاہم، ابتدائی دو ماہ میں مالی خسارہ 4.3 فیصد بڑھا اور اس کا حجم 841 ارب روپے تک پہنچ گیا۔رپورٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 92 فیصد کمی کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے، جس کی بدولت خسارہ 9 کروڑ 80 لاکھ ڈالر پر آگیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہونے والی یہ کمی معیشت کے استحکام کے لئے خوش آئند ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں ڈالر کا ریٹ 280.29 روپے سے کم ہو کر 277.62 روپے پر آ گیا ہے، جو مقامی کرنسی کی قدر میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔وزارت خزانہ کی اس رپورٹ کے مطابق اگلے چند مہینوں میں پاکستانی معیشت پائیدار بحالی کے سفر پر گامزن رہے گی۔

  • پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ،  نئی جے آئی ٹی تشکیل

    پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ، نئی جے آئی ٹی تشکیل

    پنجاب حکومت نے لاہور کے ایک نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیر مصدقہ خبر پھیلانے کے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر طالبہ کی ماں ہونے کا دعویٰ کرنے والی خاتون کے خلاف قانونی کارروائی تیز کردی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب نے معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے جے آئی ٹی قائم کر دی ہے، جو اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے سوشل میڈیا پر خود کو لاہور کی طالبہ کی ماں ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ لاہور کے نجی کالج میں زیادتی ہوئی ہے۔ اس دعوے نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا، تاہم بعد میں سامنے آیا کہ یہ دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ اس جھوٹے دعوے کے باعث طالبہ کی ساکھ اور امن و امان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جس پر لاہور کی گلبرگ پولیس نے اس خاتون کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
    پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) اس خاتون کے دعوے کے پیچھے موجود محرکات اور ارادوں کی تحقیق کرے گی۔ اس ٹیم کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ خاتون کے اس عمل کے ممکنہ نتائج اور اس کے پھیلائے جانے والے غیر تصدیق شدہ معلومات کی نوعیت کو جانچ سکے۔ جے آئی ٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ خاتون کے خلاف قانونی کارروائی کے علاوہ اس پر کوئی اور اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت پیغام دیا جا سکے۔ اس تفتیش کے دوران ٹیم کو خاتون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مواصلاتی ریکارڈ کا معائنہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ کیا یہ اقدام کسی منظم گروہ کا حصہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی ذاتی مقصد تھا۔
    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کئی صارفین نے جھوٹی خبروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، عوام نے اس کیس کو حساس قرار دیتے ہوئے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اس نوعیت کی اطلاعات کو فوری طور پر مستند ذرائع سے تصدیق کیے بغیر پھیلانے سے گریز کیا جائے تاکہ معاشرے میں افراتفری سے بچا جا سکے۔پنجاب حکومت نے اس کیس کو مثال بنانے کی ٹھان لی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے جھوٹے اور من گھڑت دعوے پھیلانے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد اس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی اور مستقبل کے لیے ایک جامع لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا، جس میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات شامل ہوں گے۔پنجاب حکومت کی طرف سے اس اقدام کو نہ صرف قانونی اور سماجی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک اہم قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کا خواب، عدل، مساوات اور فلاح پر مبنی ریاست ہے، وزیر اعلی کے پی

    بانی پی ٹی آئی کا خواب، عدل، مساوات اور فلاح پر مبنی ریاست ہے، وزیر اعلی کے پی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ریاست مدینہ کے تصور پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاست مدینہ کے اصولوں کی بات کی ہے اور موجودہ صوبائی حکومت اسی خواب کو حقیقت بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ پشاور میں وزیر اعلیٰ سے متحدہ علماء بورڈ کے اراکین نے ملاقات کی، جس میں بورڈ کے قیام کے مقاصد، اس کی موجودہ کارکردگی اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ملاقات کے دوران علی امین گنڈاپور نے متحدہ علماء بورڈ کے قیام کو ایک مثبت اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ میں تمام مکاتب فکر کے علماء کو شامل کیا گیا ہے جو کہ صوبے میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے نہایت اہم ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ متحدہ علماء بورڈ نے صوبے میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جو کہ قابل تعریف ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ سماجی برائیوں اور مختلف بیماریوں سے متعلق آگاہی پھیلانے میں بھی علماء بورڈ کا کردار نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق بورڈ کی سرگرمیاں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے اور معاشرتی ترقی میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔علی امین گنڈاپور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبائی حکومت متحدہ علماء بورڈ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اسے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست مدینہ کے اصولوں پر مبنی ایک منصفانہ اور مساوی حکومت کا قیام علمائے کرام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا خواب ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں عدل و انصاف، مساوات، اور فلاح و بہبود کو اولین حیثیت حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور علماء کی رہنمائی میں اسلامی اصولوں کے مطابق اصلاحات کو فروغ دے گی۔

  • الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں کمی،  عالمی سطح پر ای وی انقلاب مشکلات کا شکار

    الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں کمی، عالمی سطح پر ای وی انقلاب مشکلات کا شکار

    الیکٹرک گاڑیاں (EVs) کو ماحولیاتی مسائل کے حل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جنہیں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم، اس "الیکٹرک انقلاب” میں حالیہ مہینوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی تین بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے، اور عوام کی طرف سے الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے گرم جوشی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔الون مسک کی کمپنی ٹیسلا، جسے الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے، نے بھی فروخت میں کمی کا سامنا کیا ہے۔ کمپنی کی چوتھی سہ ماہی 2023 میں 484,500 گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی تھی، تاہم پہلی سہ ماہی 2024 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 386,800 رہ گئی۔چین کی کمپنی BYD، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرتی ہے، نے بھی رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں فروخت میں کمی دیکھی ہے۔
    پہلی سہ ماہی 2024 میں کمپنی نے 300,000 سے کچھ زیادہ گاڑیاں فروخت کیں، جو کہ پچھلی چوتھی سہ ماہی 2023 کے 526,000 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔جرمنی کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ووکس ویگن کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ چوتھی سہ ماہی 2023 میں کمپنی نے 239,500 الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں، تاہم پہلی سہ ماہی 2024 میں یہ تعداد کم ہو کر 136,400 ہو گئی۔ حالانکہ، دوسری سہ ماہی 2024 میں فروخت دوبارہ بڑھ کر 180,800 تک پہنچ گئی۔ووکس ویگن نے فروخت میں اس کمی کے سبب تین فیکٹریوں کو بند کرنے اور ملازمین کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کے عمل میں سست رفتاری کی عکاسی کرتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف عوام کی دلچسپی اور فروخت میں طویل مدتی اضافے کے باوجود، حالیہ عرصے میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے، جو کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی چیلنجز اور مستقبل کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی افادیت پر سوالات اٹھا رہی ہے۔