پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، بیرسٹر علی ظفر، نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر گروپ کی سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں کامیابی یہ تاثر دے گی کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکلا نے 26ویں آئینی ترمیم کو قبول کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حامد خان گروپ کے بجائے عاصمہ جہانگیر گروپ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے وکلا کی تحریک میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، بیرسٹر علی ظفر نے شیر افضل مروت کی جانب سے منحرف اراکین کی تعداد کے بارے میں دی گئی معلومات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا، "21 کا نمبر شاید درست نہ ہو، لیکن یہ یقینی ہے کہ کافی لوگ موجود تھے جو اس وقت تیار تھے اور ہمیں اطلاع ملی تھی کہ وہ 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔”بیرسٹر علی ظفر نے اس بات پر زور دیا کہ جن اراکین نے ووٹ ڈالے ہیں، وہ نااہل قرار دیے جائیں گے، کیونکہ یہی آرٹیکل 63 اے کہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "ان کے خلاف کارروائی ہوگی، اور جنہوں نے ووٹ نہیں ڈالے، انہیں شوکاز نوٹس ملیں گے۔ اگر ان کی صفائی قابل قبول نہ ہوئی تو ان کو پارٹی سے نکالنے کا نوٹس دیا جا سکتا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بشریٰ بی بی کی رہائی کسی ڈیل کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان کے دو کیسز باقی ہیں: ایک توشہ خانہ کیس اور دوسرا القادر کیس، جن میں ضمانت کا فیصلہ آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس کیس کو ختم کرنے کے حوالے سے درخواست دی گئی ہے۔علی ظفر نے وضاحت کی کہ 26ویں آئینی ترمیم کو اسی بینچ کے سامنے چیلنج کرنا جو اس ترمیم کے نتیجے میں قائم ہوا ہے، ایک بڑا مسئلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا، "آپ اسی بینچ کے سامنے کہیں گے کہ آپ غیر آئینی ہیں۔” تاہم، انہوں نے یقین دلایا کہ مشاورت جاری ہے اور اس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اس ترمیم کو چیلنج کرنا ہے یا نہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں، بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ ستائیسویں اور اٹھائیسویں آئینی ترمیم لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے خاتمے کی ترمیم پر حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا منصوبہ ہے۔بیرسٹر علی ظفر کی یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں آئینی اصلاحات اور سیاسی تحریکوں پر بحث جاری ہے، اور ان کے خیالات اس اہم معاملے میں ایک نئے پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں۔
Author: صدف ابرار

عاصمہ جہانگیر گروپ کی کامیابی سے وکلا تحریک میں مزید مشکلات آئیں گی،بیرسٹر علی ظفر

پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان دو طرفہ اقتصادی تعاون میں اضافے پر اتفاق
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان دو طرفہ ملاقات کا انعقاد ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو فورم کے 8ویں ایڈیشن کے دوران ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خادم حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی صحت و تندرستی کی دعا کی۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے معاملات میں پاکستان کی حمایت کی ہے۔ شہباز شریف نے سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے اپنے وفد کی پرتپاک مہمان نوازی پر بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کی دور اندیش قیادت نے پاکستان کے کلیدی پالیسی مقاصد سے ہم آہنگ سعودی وژن 2030 کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری پر زور دیا، جس کے تحت تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی قیادت میں حالیہ دورے کا ذکر کیا، جس میں مختلف مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے تھے، جن کے ذریعے پاک سعودی معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری اسرائیلی جارحیت پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں بے پناہ تباہی ہوئی ہے۔ اس معاملے پر دونوں رہنما نے انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔اس ملاقات کے نتیجے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مزید گہرائی اور وسعت کی توقع کی جا رہی ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی بلندیاں: اکتوبر میں 9,749 پوائنٹس کا اضافہ
اسلام آباد: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے آج کاروباری دن میں ایک اور مثبت کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں 100 انڈیکس 518 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 90,864 پر بند ہوا۔ یہ انڈیکس کی تاریخ میں سب سے بلند اختتامی سطح ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔اکتوبر کا مہینہ پی ایس ایکس کے لیے شاندار ثابت ہوا ہے، جس میں انڈیکس نے 9,749 پوائنٹس کا زبردست اضافہ دیکھا۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر مالیاتی اور معاشی استحکام کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی بدولت سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی۔آج کے کاروباری دن میں 100 انڈیکس 908 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، جس نے دن کے دوران نئی بلند ترین سطح 91,358 پوائنٹس تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کی بدولت سرمایہ کاروں میں ایک نئی جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی، جو اسٹاک مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج تقریباً 60 کروڑ 28 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 28 ارب 20 کروڑ روپے رہی۔ یہ تجارتی حجم مارکیٹ کی سرگرمی کا ایک مضبوط اشارہ ہے، جو واضح کرتا ہے کہ سرمایہ کار مارکیٹ کے امکانات میں مثبت تبدیلیوں کے منتظر ہیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 26 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 11,764 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار مارکیٹ کی مضبوط بنیادوں اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مظہر ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ اقتصادی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری نے پی ایس ایکس کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اقتصادی استحکام کے اقدامات اور مالیاتی ریفارمز نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے، جس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، اگر یہ مثبت رجحان برقرار رہتا ہے تو پی ایس ایکس میں مزید تیزی کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ مختلف سیکٹرز، خاص طور پر بینکنگ، توانائی، اور ٹیکنالوجی اسٹاکس پر مرکوز رہے گی، جو مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے آج ایک نئی بلند ترین سطح پر بند ہوکر سرمایہ کاروں میں جوش و خروش کی لہر دوڑادی ہے۔ اکتوبر میں 9,749 پوائنٹس کا اضافہ اور 100 انڈیکس کی بلند ترین اختتامی سطح اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں مستقبل کے لیے امید کی کرن موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو ان ترقیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا، جو کہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کی ایک مضبوط علامت ہے۔
افغان ناظم الامور کی پاکستان سے سکیورٹی تعاون کی اپیل
پاکستان میں تعینات افغان ناظم الامور مولوی سردار شکیب نے حالیہ دنوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے سکیورٹی مسائل پر شکایات ہیں، مگر افغانستان کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ غیر ریاستی عناصر کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور خطے میں امن و استحکام کی خواہش رکھتے ہیں۔مولوی سردار شکیب نے وضاحت کی کہ "ہماری پالیسی انتہائی واضح ہے، ہم غیر ریاستی عناصر کی حمایت نہیں کرتے۔” انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کو قائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کچھ غیر ریاستی عناصر افغان سرزمین سے دراندازی کر رہے ہیں، جو پاکستان کے لیے سکیورٹی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اقتدار میں آئے تین برس کی انتہائی قلیل مدت ہوئی ہے اور ہم وسطی و جنوبی ایشیا میں رابطے کا ذریعہ بننا چاہتے ہیں۔” افغان ناظم الامور نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے موجودہ چینلز کی اہمیت ہے، جو دونوں ممالک کے لیے سکیورٹی اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔مولوی سردار شکیب کی اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ افغان حکومت اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے، خاص طور پر سکیورٹی کے حوالے سے۔ ان کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم کیا جا سکے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ برقرار ہے، اور دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی اور تعاون کے مسائل پر بات چیت کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت: پاکستان کے معاشی استحکام کا عزم
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب میں دو روزہ عالمی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان میں معاشی استحکام ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے دوران پاکستان کی ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہونے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ عوام کی خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ "سعودی عرب اور دوست ملک کے تعاون سے پاکستان میں معاشی استحکام ممکن ہوا ہے۔ ہم علم پر مبنی معیشت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، اور مل کر مشترکہ مستقبل اور ترقی کا سفر طے کرسکتے ہیں۔” انہوں نے سعودی عرب کے فرما روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد کی ترقی کے ویژن کی تعریف کی اور عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد پر انہیں مبارکباد پیش کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ "نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی ترقی کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انقلاب ہے جسے ہمیں اپنانا ہوگا۔
وزیر اعظم نے پاکستان میں دانش سکولز منصوبے کا ذکر کیا، جو وسائل سے محروم طلبا کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو ایک کامیاب پروگرام قرار دیا اور کہا کہ "صحت کے شعبے میں بھی پاکستانی اداروں کی نمایاں خدمات ہیں۔شہباز شریف نے انسانی ترقی کو مشترکہ اقدامات میں پنہاں قرار دیا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو کی، کہ "غزہ میں قتل و غارت روکنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ دنیاوی امن کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔وزیر اعظم کا یہ خطاب پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک مثبت اقدام کی علامت ہے اور اس کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا ہے، تاکہ ملک میں خوشحالی اور ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے،اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے یہ بات ترکیہ کے 101ویں قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ترکیہ کی حکومت اور عوام کو اس اہم موقع پر مبارکباد پیش کی۔اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کو سراہا، کہنے لگے کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، اور دونوں ملکوں کے عوام گہرے برادرانہ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے، اور دونوں ممالک کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ طور پر لڑیں گے۔
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں غزہ کے حوالے سے بھی بات کی، جہاں انہوں نے کہا کہ "ترکیہ اور پاکستان کے عوام غیرمتزلزل رشتوں میں جڑے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان فلسطینی بھائیوں کے حقوق کے لیے دنیا کے ہر فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ غزہ میں جاری مظالم روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔نائب وزیراعظم کا یہ خطاب دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی گہرائی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم کا عکاس ہے، اور انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ اپنے دوست ممالک کے ساتھ کھڑا رہے گا، خاص طور پر مشکل وقت میں۔ اس خطاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن و امان کے قیام کے لیے سرگرم عمل ہے۔
سبی : مسافر وین اور ٹرک کے تصادم میں پانچ افراد جاں بحق، 12 زخمی
بلوچستان کے ضلع سبی کے علاقے بختیار آباد میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ایک مسافر وین اور ایک مزدا ٹرک کے درمیان تصادم میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 12 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ تیز رفتاری اور اوور لوڈنگ کی وجہ سے پیش آیا، جس میں زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق، یہ مسافر وین کوئٹہ سے جیکب آباد کی طرف جا رہی تھی جب یہ حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے فوری بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر متاثرین کی مدد کی۔ مرنے والے افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
اس واقعے پر بلوچستان حکومت نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سوگوار خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ ترجمان صوبائی حکومت، شاہد رند، نے حادثے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز نے بار بار ٹرانسپورٹرز کو قوانین کی پابندی کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسافر ویگنوں میں چھتوں پر سامان کے بجائے سواریاں بٹھائی جاتی ہیں، جو کہ حادثات کا ایک بڑا سبب بنتا ہے۔ رند کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے حادثات میں انفراسٹرکچر کی خراب حالت اور غفلت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور ٹرانسپورٹ کے قوانین کی پاسداری کریں تاکہ اس طرح کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
طالبان حکومت کا ٹی وی چینلز کے لیے ریڈیو نشریات کا حکم
افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی نشریات کو صرف ریڈیائی نشریات تک محدود کر دیں۔ یہ فیصلہ حالیہ حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز کو جانداروں کی تصویروں اور ویڈیوز کی نشریات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ افغانستان کے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کے ڈائریکٹر جنرل قاری یوسف احمدی نے ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے مالکان کے ساتھ ایک ملاقات میں اس نئی پالیسی کے بارے میں وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کا حکم ہے کہ جانداروں کی تصاویر اور ویڈیوز کی نشریات جاری رکھنے والے چینلز کی نشریات بند کر دی جائیں گی۔قندھار میں، سرکاری ٹی وی کی نشریات کو پہلے ہی ریڈیو میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور اب ملک کے دیگر ٹی وی چینلز کو بھی بتدریج ریڈیائی نشریات کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ ایک سرکاری وزیر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ فیصلہ سرکاری ٹی وی تک محدود رہے گا، مگر اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ تمام ٹی وی چینلز کو اس فیصلے کے تحت پابند کیا جائے گا۔
یہ تبدیلی افغانستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے تشویشات کو بڑھا سکتی ہے۔ طالبان حکومت کے تحت، میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے۔ اس نئے فیصلے کا مقصد مذہبی احکام کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں عوامی معلومات تک رسائی میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس فیصلے پر شدید تنقید کر رہی ہیں، جس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے۔ بہت سے مبصرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے اقدامات افغانستان کے شہریوں کے حقوق کو سلب کرنے کی ایک کوشش ہیں اور اس سے عوامی آگاہی اور معلومات تک رسائی مزید محدود ہو جائے گی۔اس نئی پالیسی کے تحت، مستقبل میں ٹی وی چینلز کی نشریات میں کمی اور تبدیلیاں متوقع ہیں، جس کے اثرات ملکی ثقافتی اور سماجی زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔
روسی نائب وزیر دفاع کی آرمی چیف سے ملاقات
اسلام آباد: روسی فیڈریشن کے نائب وزیر دفاع، الیگزینڈر وی فومن نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دونوں فریقین نے دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اس موقع پر روس کے ساتھ دیرینہ روایتی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی شراکت داری دونوں ممالک کی علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ملاقات میں دہشتگردی اور خطے کی سلامتی کے اہم امور بھی زیر بحث آئے۔ اس موقع پر روسی نائب وزیر دفاع الیگزینڈر وی فومن نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کی قربانیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ عالمی سطح پر قابلِ تعریف ہے۔روسی نائب وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون سے خطے میں استحکام کی فضا پیدا ہوگی اور یہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔ دونوں فریقین نے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ تربیتی مشقوں میں اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ملاقات کے اختتام پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور روس کے تعلقات مستقبل میں مزید مستحکم اور متنوع ہوں گے۔
فیصلہ عدالتوں میں نہیں، سڑکوں پر ہوگا،سلمان اکرم راجہ
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل بیرسٹرسلمان اکرم راجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں اصل فیصلہ عدالتوں یا پارلیمان میں نہیں بلکہ عوامی طاقت سے سڑکوں پر ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیصلہ اسی وقت ہوگا جب لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر اپنا حق مانگیں گے، اور پی ٹی آئی کے حامیوں کو اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی آزادی کے لئے کب سڑکوں پر آئیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چند ہزار لوگ نکلیں گے تو حکومت باآسانی ان میں سے کچھ کو گرفتار کر لے گی اور باقی کو مار پیٹ کر منتشر کر دے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر 3 سے 4 لاکھ افراد سڑکوں پر آئیں گے تب ہی حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے گی۔
سلمان اکرم راجا نے عمران خان کی موجودہ حراست کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ انہیں 8 بائی 8 کے سیل میں بند رکھا گیا ہے اور پچھلے دس روز سے شام 6 بجے کے بعد بجلی بھی بند کر دی جاتی تھی، انہیں کسی بھی لمحے سیل سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جو سلوک عمران خان کے ساتھ کیا جارہا ہے، وہ قابل مذمت ہے اور دنیا کے کسی بھی قانون کے مطابق یہ تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق چند روز پہلے عمران خان کو ایسی خوراک دی گئی جس سے ان کی طبیعت خراب ہوئی، مگر عمران خان ثابت قدم ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔سلمان اکرم راجا نے مزید بتایا کہ حالیہ ملاقات میں عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں ورزش کے لئے سائیکل بھی دے دی گئی ہے اور اب ڈیڑھ گھنٹے تک باہر نکلنے کی اجازت مل رہی ہے۔ اس سے پہلے کی حالت کو انہوں نے عمران خان کی شخصیت پر ایک حملہ قرار دیا۔
سلمان اکرم راجا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دو دن قبل بشریٰ بی بی سے پشاور میں ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ انہیں جس جگہ پر رکھا گیا ہے وہاں چوہے موجود ہیں اور جب وہ جائے نماز پر بیٹھتی ہیں تو چوہے ارد گرد پھرتے ہیں جبکہ چھت سے پانی ٹپکتا رہتا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ عمران خان نے اپنی ملاقات میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں ثابت قدم رہیں گے۔ چاہے انہیں فوجی عدالت کا سامنا ہو یا کسی بھی قسم کی آزمائش کا، عمران خان عوام کے لئے اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔









