اسلام آباد: روسی فیڈریشن کونسل کی اسپیکر ویلنٹنینا میتویآنکو نے پاکستان کا 3 روزہ کامیاب دورہ مکمل کر کے وطن واپس روانہ ہوگئیں۔ 27 اکتوبر کو پاکستان پہنچنے والی روسی اسپیکر نے اپنے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق، اور چیئرمین سینٹ سے ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بات چیت کی گئی۔اپنے دورے کے دوران روسی اسپیکر نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ، صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقاتوں میں اقتصادی، تجارتی، اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقاتوں میں پاکستانی اور روسی حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ توانائی، تجارت، اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے۔ ویلنٹنینا میتویآنکو نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے، اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔روسی اسپیکر نے 28 اکتوبر کو پاکستانی سینٹ کے اجلاس سے خصوصی خطاب بھی کیا۔ خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
دورے کے آخری روز انہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) کی آرٹ گیلری کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستانی فنکاروں کے مختلف فن پارے دیکھے۔ ویلنٹنینا میتویآنکو نے پاکستانی ثقافت اور آرٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فن دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔روسی فیڈریشن کونسل کی اسپیکر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیشرفت ثابت ہوا ہے، جس سے نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو بھی مزید تقویت ملے گی۔
Author: صدف ابرار

روس اور پاکستان کے تعلقات میں نیا سنگ میل: اسپیکر ویلنٹنینا میتویآنکو کا کامیاب دورہ

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی توقع
اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ چند روز میں کمی متوقع ہے، جس کے باعث عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔ کمپنیز کے ذرائع کے مطابق یکم نومبر 2024ء سے اگلے 15 دن کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ساڑھے 3 روپے تک کی کمی کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل، اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً ساڑھے 3 روپے کی کمی متوقع ہے۔ اس خبر نے عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو روزمرہ کی زندگی میں ان مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حتمی تعین 31 اکتوبر 2024ء تک کے عالمی نرخوں میں اتار چڑھاؤ سے جڑا ہوا ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں استحکام یا کمی آتی ہے تو اس کا اثر پاکستان میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا عوام کی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا، خاص طور پر نقل و حمل کے شعبے میں۔ عوامی ردعمل میں کہا گیا ہے کہ یہ کمی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔اس حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے، جب کہ حکومت کی جانب سے بھی باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کی بیماری کی خبریں، نیویارک ٹائمز کا انکشاف
نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای شدید بیماری میں مبتلا ہیں، جس کے بعد ان کی جانشینی کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خامنہ ای کے دوسرے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای، کو ممکنہ طور پر جانشین مقرر کیا جا سکتا ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی اہم عسکری تنظیم پاسداران انقلاب کور کو سپریم لیڈر کے جانشین کے تقرر کے عمل میں مشاورتی کردار حاصل ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سپریم لیڈر کے جانشین کے معاملے پر پاسداران انقلاب کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ ایران میں پاسداران انقلاب ایک مضبوط ادارے کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی شمولیت اس معاملے کو مزید اہم بناتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مئی میں سابق صدر سید ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت کے بعد مرشد اعلیٰ کے جانشینی کے مسئلہ پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ سید ابراہیم رئیسی کو مرشد اعلیٰ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کی شہادت نے ایران کی سیاسی اور عسکری حلقوں میں جانشینی کے موضوع کو ایک نیا رخ دیا ہے۔یاد رہے کہ آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای نے جون 1989 میں امام سید روح اللّٰہ خمینی کے انتقال کے بعد سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا تھا اور اس وقت سے وہ اس منصب پر فائز ہیں۔ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے مختلف داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا کیا اور خطے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار کی تیاری کے قریب پہنچ چکا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کی جانب سے یورینیم کی مطلوبہ مقدار کو افزودہ کرنے کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے، جس سے ایران کو چند ہفتوں میں بم بنانے کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس پیشرفت کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف ممالک ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت موقف اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں ،ایران میں سپریم لیڈر کی ممکنہ جانشینی اور جوہری پیشرفت کی خبروں کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آسکتے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام پر مزید دباؤ، عالمی پابندیوں میں اضافہ اور علاقائی صورتحال پر اثرات جیسی پیشرفت کا امکان ہے۔
چوہدری شجاعت حسین نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے نئے چیف آرگنائزر کا اعلان کیا
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی کو ملک بھر میں فعال بنانے کے لئے ڈاکٹر محمد امجد کو پارٹی کا مرکزی چیف آرگنائزر مقرر کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ (ق) نے اپنی تنظیم نو اور فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ڈاکٹر محمد امجد کی تقرری کا مقصد پارٹی کے ناراض کارکنوں کو منانا، تنظیم سازی کو فروغ دینا، اور پارٹی کی مختلف ونگز کو متحرک کرنا ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ڈاکٹر امجد کو بیرون ملک پارٹی کی تنظیم نو کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ عالمی سطح پر پارٹی کی موجودگی کو مضبوط کیا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ق) ایک بانی جماعت ہے، اور اسے بھرپور انداز میں فعال کرنا ہر عہدے دار اور کارکن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی قریبی روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔چوہدری شجاعت حسین نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی ڈائیلاگ ہی ملکی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومنتخب چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد امجد اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے پارٹی کے پیغام، منشور، اور پروگرام کو نہ صرف کارکنوں بلکہ عام آدمی تک بھی مؤثر طریقے سے پہنچانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔یہ اقدام مسلم لیگ (ق) کی جانب سے ایک نئے عزم کے تحت سامنے آیا ہے، جس کا مقصد پارٹی کو عوامی مسائل کے حل کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنا ہے۔ سیاسی حالات کی موجودہ پیچیدگیوں کے پیش نظر، یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے اور پارٹی کے مستقبل کی حکمت عملی کے لئے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران کے خلاف اسرائیلی حملے میں روس کا S-300 میزائل ڈیفینس سسٹم تباہ
تہران: معروف امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل” نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کا روس سے فراہم کردہ S-300 میزائل ڈیفینس سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ سسٹم روس کے جدید ترین S-400 کی پچھلی نسل کا نمائندہ تھا، اور اس کی تباہی ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے پاس موجود تمام میزائل ڈیفینس سسٹم، بشمول S-300، اب ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اس کی بنیاد پر، یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے، جس سے اس کے فوجی نظام کی حفاظت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران نے اسرائیلی حملے کے نتائج کو بیان کرنے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لیا ہے۔ حکام نے زیادہ تر معاملات پر خاموشی اختیار کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہیں۔ ایرانی فوج کے سربراہ نے صرف یہ کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے دو صحرائی علاقوں میں راڈارز کو نشانہ بنایا اور کچھ شہری علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی۔
"وال اسٹریٹ جرنل” کی رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے ایران کی میزائل بنانے والی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کی بحالی میں ایران کو کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس سے ایران کی میزائل کی پیداوار کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جو کہ اس کی فوجی حکمت عملی کے لیے اہم ہے۔رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ ایران کی ایٹمی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ اسرائیلی قیادت نے اس ہدایت کی پاسداری کرتے ہوئے ایٹمی اور تیل کی تنصیبات کو واضح طور پر نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے، جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی سلامتی کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔اس سلسلے میں ایران کی جانب سے روس کے فراہم کردہ میزائل ڈیفینس سسٹم کی تباہی کے حوالے سے باضابطہ ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اس حملے کے جواب میں کہا تھا کہ ایران اسرائیلی حملے کا "منہ توڑ جواب” دے گا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی فوجی حکمت عملی میں سختی لانے کے لیے تیار ہے۔یہ تمام واقعات خطے میں جغرافیائی سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اور ایران کی دفاعی حکمت عملی اور جوابی کارروائیوں کا اندازہ لگانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
برٹش ایئرویز نے نیویارک اور برطانیہ کے اہم ہوائی اڈے کے درمیان پروازیں 2025 تک منسوخ کردیں
برٹش ایئرویز نے نیویارک اور برطانیہ کے ایک بڑے ہوائی اڈے کے درمیان تمام پروازیں 2025 تک منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایئر لائن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک سنگین مسئلے کی وجہ سے کیا گیا ہے، جس کا فوری حل ممکن نہیں ہے۔ برٹش ایئرویز نے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ یہ معاملہ جلد حل ہونے کا امکان نہیں ہے اور مسافروں کو متبادل پروازوں یا سفری منصوبوں پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایئرلائن نے اس اقدام کی وجہ تفصیل سے بیان نہیں کی تاہم یہ عندیہ دیا ہے کہ یہ کوئی عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی مشکل ہے جس کے حل میں وقت لگ سکتا ہے۔
برطانیہ اور امریکہ کے درمیان روزانہ ہزاروں مسافر برٹش ایئرویز کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور یہ فیصلہ یقینی طور پر ان مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ کاروباری افراد، سیاح اور طلباء سمیت مختلف طبقے کے افراد اس پابندی سے متاثر ہوں گے۔ مسافروں کو اپنے سفری منصوبے تبدیل کرنے اور متبادل ایئر لائنز کا انتخاب کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔برٹش ایئرویز کے ایک نمائندے نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلے کے پیش نظر لیا گیا ہے، جس کا حل فوری طور پر ممکن نہیں۔ ایئر لائن نے مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تازہ ترین معلومات اور اپ ڈیٹس کے لیے برٹش ایئرویز کی آفیشل ویب سائٹ یا کسٹمر سروس سے رابطہ کریں۔
ایئرلائن کی انتظامیہ کے مطابق وہ اس مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم مسافروں کو یہ توقع رکھنی چاہیے کہ ان پروازوں کی بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔ برٹش ایئرویز کا یہ اقدام ہوابازی کی صنعت میں موجودہ چیلنجز اور مختلف ایئرلائنز کی جانب سے بڑھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ فیصلہ برٹش ایئرویز کے لیے ایک بڑا قدم ہے جو دنیا بھر میں اپنی وسیع پروازوں اور بہترین سروس کے لیے مشہور ہے۔ 2025 تک پروازوں کی منسوخی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہے اور برٹش ایئرویز کے علاوہ دیگر ایئر لائنز کو بھی ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے عدالتی ہفتے کی کاز لسٹ جاری کر دی
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کل یعنی 28 اکتوبر سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے کی کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس ہفتے عدالت عظمیٰ 28 اکتوبر سے یکم نومبر تک 968 مقدمات کی سماعت کرے گی۔ یہ عدالتی ہفتہ پاکستانی عدلیہ کے نظام میں اہمیت کا حامل ہے، جہاں مختلف مقدمات کی سماعت کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔عدالت میں پیر سے شروع ہونے والے اس عدالتی ہفتے کے دوران آٹھ مستقل بینچز مختلف مقدمات کی سماعت کریں گے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنی عدالت میں پورے ہفتے کے لیے 140 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے ہیں، جو اس بات کا عکاس ہے کہ عدالت میں مقدمات کی بڑی تعداد موجود ہے۔
عدالت کے مختلف بینچز اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں:
پہلا بینچ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل ہے، جو پورے ہفتے میں 140 مقدمات کی سماعت کرے گا۔
دوسرا بینچ: جسٹس منیب اختر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہے، جو بھی 140 مقدمات کی سماعت کرے گا۔
تیسرا بینچ: جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل ہے، جس کے سامنے بھی 140 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
چوتھا بینچ: جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شہزاد احمد خان شامل ہیں، جو پورے ہفتے میں 58 مقدمات کی سماعت کرے گا۔
پانچواں بینچ: جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہے، جو آئندہ ہفتے 140 مقدمات سنے گا۔
چھٹا بینچ: جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل ہے، جس میں بھی 140 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
ساتواں بینچ: جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ہے، جو آئندہ عدالتی ہفتے میں 140 مقدمات کی سماعت کرے گا۔
آٹھواں بینچ: جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں پر مشتمل ہے، جس کے سامنے 70 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
یہ واضح رہے کہ 27 اپریل 2024 تک سپریم کورٹ میں فیصلوں کے منتظر مقدمات کی تعداد 57 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کی بڑی تعداد موجود ہے۔ عدالتی نظام کی بہتری اور مقدمات کے جلد فیصلے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ عوام کے حقوق کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ عدالتی ہفتہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت کی مصروفیات جاری ہیں اور مختلف مقدمات کی سماعت کے ذریعے انصاف کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، چار خوارج ہلاک
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشنز کیے ہیں جن کے نتیجے میں چار خوارج ہلاک ہوگئے۔ آپریشنز شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر کے علاقوں میں کیے گئے، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائیاں کی گئیں۔آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق 24 اور 27 اکتوبر کو دو مختلف آپریشنز کے دوران ان خوارج کو نشانہ بنایا گیا۔ پہلا آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے میں کیا گیا جہاں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس آپریشن میں خارجی انصاف اللہ سمیت دو دہشت گرد موقع پر ہلاک ہوگئے۔
دوسرا آپریشن ضلع خیبر میں انجام دیا گیا جہاں مزید دو خوارج ہلاک جبکہ تین زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے۔ یہ آپریشن خفیہ اطلاعات پر مبنی تھا اور دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کی گئی تاکہ ان کے ممکنہ حملوں کو روکا جا سکے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے خوارج سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ یہ خوارج نہ صرف اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے بلکہ ملک میں بدامنی پھیلانے کے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا تھے۔آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرکے امن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی غیر متزلزل پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے اس بات کا اعادہ کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو چھپنے کی کوئی جگہ نہیں دی جائے گی، اور وہ عناصر جو ملک میں امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ملک بھر میں امن کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز کی ان قربانیوں کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ عوام نے ان کارروائیوں کو دہشت گردوں کے خلاف حکومت کی مضبوط پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے فورسز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔یہ حالیہ آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں امن دشمن عناصر کے خلاف اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں اور ملک میں دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے نومنتخب چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی نے حالیہ واقعے میں سپریم کورٹ کی مسجد میں نماز کے دوران ان کی تصویر بنانے والے یوٹیوبر کو روکنے میں ناکامی پر سپریم کورٹ کے ایس پی سیکیورٹی کا فوری طور پر تبادلہ کر دیا۔ یہ قدم چیف جسٹس کی جانب سے سیکیورٹی معاملات میں کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہ کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ کی مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔ نماز کے دوران جب انہوں نے سلام پھیرا تو ایک یوٹیوبر نے ان کی تصویر لے لی۔ اس حرکت پر چیف جسٹس نے فوری طور پر سپریم کورٹ کے سیکیورٹی کے انچارج، ایس پی سیکیورٹی، سے وضاحت طلب کی اور ان کی موجودگی سے متعلق دریافت کیا۔ اس موقع پر اطلاع ملی کہ ایس پی سیکیورٹی کسی میٹنگ میں مصروف تھے۔
چیف جسٹس نے یوٹیوبر کی اس حرکت کو سیکیورٹی کی شدید غفلت قرار دیتے ہوئے ایس پی سیکیورٹی کا فوری تبادلہ کرانے کا حکم جاری کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی سیکیورٹی میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی ناقابلِ قبول ہے اور ایسے واقعات مستقبل میں کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ اس واقعے کے بعد نئے تعینات کیے گئے ایس پی سیکیورٹی نے فوری طور پر سپریم کورٹ کی سیکیورٹی کے امور سنبھال لیے ہیں اور عدالت عظمیٰ کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ ایسی کوئی کوتاہی پیش نہ آئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق، سپریم کورٹ کے ماحول میں کسی بھی قسم کی تصویرکشی کی اجازت نہیں ہوتی، خاص طور پر جب عدالت کے اعلیٰ عہدیدار موجود ہوں۔ یوٹیوبر کی اس حرکت پر چیف جسٹس کے سخت اقدام کو عدالتی امور میں سیکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی: اہم رہنماؤں کو نظر انداز کرنے کا انکشاف
پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس، جس کی صدارت بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کی، حال ہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ بیرون ملک مقیم پارٹی رہنماؤں کو، جو عمران خان کی رہائی کے بارے میں سخت مؤقف رکھتے ہیں، مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اہم رہنماؤں قاسم سوری، شہباز گل، اور زلفی بخاری کو دعوت ہی نہیں دی گئی، جس کی وجہ ان کی جانب سے بانی چیئرمین کی رہائی پر پیش کردہ سخت مؤقف تھی۔ یہ اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر ایک اہم ملاقات کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود تھے، اور ان دونوں نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں شریک رہنما عمر ایوب نے بتایا کہ وہ ورچوئل اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اس سے اجلاس کی کارروائی لیک ہو سکتی ہے۔ آج کا اجلاس ورچوئل نہیں تھا، مگر عمر ایوب نے مختصر وقت کے لیے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے دوران، فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فردوس شمیم نقوی نے تجویز پیش کی کہ پارٹی کی تنظیم سازی کا عمل ازسر نو کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ "ایسے لوگ پارٹی عہدوں پر ہیں جو ان عہدوں کے لائق نہیں ہیں۔” حلیم عادل شیخ نے اس تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے اختلافی مؤقف پیش کیا۔بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اجلاس میں بانی چیئرمین عمران خان کا پیغام رہنماؤں تک پہنچایا، جس میں انہیں موجودہ سیاسی صورتحال پر آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی آئندہ احتجاج سے متعلق ایک نئی حکمت عملی تیار کرے گی، جس کا مقصد پارٹی کے موجودہ حالات اور رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا ہے۔ اجلاس کی کارروائی نے واضح کیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات میں اختلافات اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں آئندہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔یہ اجلاس پی ٹی آئی کے مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کی بات آتی ہے۔









