Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • کیڈٹ عارف اللّٰہ شہید نے  لکی مروت میں دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے قربانی دی ،

    کیڈٹ عارف اللّٰہ شہید نے لکی مروت میں دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے قربانی دی ،

    لکی مروت: مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خوارج نے لکی مروت میں نماز مغرب کے دوران ایک مسجد پر حملہ کیا، جس میں پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول کے نوجوان کیڈٹ عارف اللّٰہ نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور اپنی جان قربان کرتے ہوئے نمازیوں کی جانیں بچائیں۔ 19 سالہ کیڈٹ عارف اللّٰہ اپنے آبائی شہر میں چھٹی پر موجود تھے اور اس وقت مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جیسے ہی خوارج نے مسجد پر حملہ کر کے فائرنگ شروع کی، کیڈٹ عارف اللّٰہ نے فوری طور پر جواب دیا اور نڈر ہو کر دہشتگردوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں کیڈٹ عارف اللّٰہ نے گتھم گتھا لڑائی کے بعد جام شہادت نوش کیا۔ ان کی اس بے مثال قربانی نے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور مسجد میں موجود کئی بےگناہ نمازیوں کو بچا لیا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق کیڈٹ عارف اللّٰہ کی بہادری نہ صرف ان کے عظیم جذبے کا ثبوت ہے بلکہ یہ عمل پاک فوج کے عزم کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عبادت کے دوران نہتے نمازیوں پر حملہ کرنا خوارج کی حقیقی سوچ کو عیاں کرتا ہے، جبکہ اس نوجوان کیڈٹ کا بہادرانہ اقدام دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے عزم کی دلیل ہے۔شہید کیڈٹ کے خاندان کے افراد میں ان کے والدین، چار بھائی اور چار بہنیں شامل ہیں، جبکہ ان کے بڑے بھائی بھی پاکستان آرمی میں ملک کی حفاظت کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ جوان عارف اللّٰہ کی قربانی نے نہ صرف لکی مروت بلکہ پورے پاکستان میں جذبہ حب الوطنی اور دہشتگردوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو اور تقویت دی ہے۔پاکستانی عوام اور مسلح افواج کی طرف سے کیڈٹ عارف اللّٰہ شہید کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے اور ان کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے ان کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ایسی قربانیاں قوم کے عزم کو مزید پختہ کرتی ہیں اور وطن کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے جذبے کو نئی زندگی بخشتی ہیں۔

  • علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی رہائی: پی ٹی آئی کارکنوں کا جیل کے باہر شاندار استقبال

    علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی رہائی: پی ٹی آئی کارکنوں کا جیل کے باہر شاندار استقبال

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی دونوں بہنیں، علیمہ خان اور عظمیٰ خان، کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں بہنیں تقریباً 9 گھنٹے کی قانونی کارروائی کے بعد جہلم جیل پہنچی تھیں، جہاں ان کی رہائی کے منتظر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے زبردست استقبال کیا۔ڈسٹرکٹ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے مرد و خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان کارکنوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور اپنے رہنماؤں کی حمایت میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی فیملی کے افراد بھی اس موقع پر موجود تھے، جن میں علیمہ خان کا بیٹا شہروز اور بہن نورین نیازی شامل تھے۔
    رہائی کے لمحے کو خاص بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جیل کے باہر جمع ہو کر جاندار انداز میں نعرے لگائے، جس سے اس موقع کی اہمیت اور جوش و خروش کا اندازہ ہوتا ہے۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہیں اور ان کی رہائی ان کی مضبوطی اور عزم کی علامت ہے۔جہلم جیل کے باہر سیکیورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بے چینی اور مظاہروں کے پیش نظر انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے جیل کے باہر آنے جانے والوں کی چیکنگ کی اور صورتحال پر نظر رکھی، تاکہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔
    علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی رہائی کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے انہیں شاندار خیرمقدم کیا۔ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ اپنے رہنماؤں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور ان کے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے۔یہ واقعہ پی ٹی آئی کی قیادت اور ان کے حامیوں کے لیے ایک اہم لمحہ ہے، کیونکہ حالیہ عرصے میں پارٹی کی صورتحال اور اس کے رہنماؤں کی گرفتاریوں نے پارٹی کارکنوں میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔ تاہم، علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی رہائی نے ایک نئی امید پیدا کی ہے اور پارٹی کے حامیوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • جسٹس یحییٰ آفریدی کا ظہرانہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی خدمات کا اعتراف

    جسٹس یحییٰ آفریدی کا ظہرانہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی خدمات کا اعتراف

    سپریم کورٹ کے ایک فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں دیا جانے والا ظہرانہ سرکاری خرچ پر نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس لنچ کا خرچہ خود اٹھانے کی پیشکش کی ہے، جس کے بعد میں نے اپنے ساتھی ججوں سے درخواست کی کہ وہ بھی اس ظہرانے کے لیے چندہ دے کر تعاون کریں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس شرط پر ظہرانہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ یہ کسی سرکاری خرچ پر نہیں ہوگا۔ یہ بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شخصیت میں سادگی اور شائستگی کا عنصر نمایاں ہے۔
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنی تقریر میں کہا کہ انہیں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کمی محسوس ہوگی، جو سپریم کورٹ میں ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کی موجودگی کی یاد ہمیشہ دل میں رہے گی، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو ہر معاملے میں تیار رکھا۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے قاضی فائز عیسیٰ کی شائستگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص ان سے مسکرا کر بات کرے گا تو ان کے شائستہ جوابات سے وہ جلد مانوس ہو جائے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی شخص انہیں تنگ کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ ان کے غصے کا سامنا نہیں کر پائے گا، جو کہ ان کی طاقتور شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔اس تقریب میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا یہ پیغام واضح ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ نہ صرف ایک باصلاحیت جج ہیں بلکہ ایک شائستہ اور احساس رکھنے والے انسان بھی ہیں۔ ان کے جانے کے بعد سپریم کورٹ میں ان کی کمی محسوس کی جائے گی، اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

  • نیپرا کا کراچی کے بجلی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ

    نیپرا کا کراچی کے بجلی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ

    کراچی کے بجلی صارفین کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک نئی مہنگائی کی خبر سنا دی ہے، جس کے تحت کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 3 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ جولائی 2024 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے اور اس کا اثر دسمبر 2024 کے بلز میں دیکھا جائے گا۔نیپرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فیصلہ کے الیکٹرک کی طرف سے کی گئی درخواست کے جواب میں کیا گیا ہے، جس میں جولائی کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت 3.09 روپے فی یونٹ کا اضافہ مانگا گیا تھا۔ نیپرا نے اس اضافہ کو منظور کرتے ہوئے کراچی کے صارفین کو ایک اور زوردار جھٹکا دیا ہے۔
    اس فیصلے کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کے الیکٹرک نے ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت ایک ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں 16 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست دی تھی، جس پر نیپرا 31 اکتوبر کو سماعت کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو ایک طرف تو اضافہ برداشت کرنا ہوگا جبکہ دوسری طرف کمی کی امید بھی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نیپرا نے کراچی کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہو۔ گزشتہ ماہ ہی نیپرا نے ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 74 پیسے کا اضافہ کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا، جس کی وجہ سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں کو 43.23 ارب روپے کی فراہمی تھی۔
    نیپرا نے اس مالی سال 24-2023 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے کپیسٹی چارجز میں تبدیلی، متغیر آپریشن، مینٹیننس، اضافی فروخت پر اضافی وصولی، سسٹم کے استعمال کے چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس، اور ترسیل و تقسیم کے نقصانات کی بنیاد پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے اثرات کا تعین کیا ہے۔ اس کے تحت 4323 ارب روپے کی مثبت سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی گئی ہے، جو تین ماہ یعنی ستمبر سے نومبر 2024 کے دوران تقریبا ایک روپے 74 پیسے فی کلو واٹ گھنٹہ کے یکساں نرخ پر لاگو ہوگی۔
    نیپرا نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ اضافہ لائف لائن اور پری پیڈ صارفین کے علاوہ تمام صارفین پر لاگو ہوگا، اور اس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا اثر کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی پڑے گا۔یہ اضافہ کراچی کے عوام کے لیے ایک اور معاشی چیلنج ثابت ہوگا، جس کا اثر نہ صرف ان کے ماہانہ بلز پر پڑے گا بلکہ روزمرہ کی زندگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی محسوس کیا جائے گا۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسلام آباد پولیس پر الزام: قیدی وین پر حملہ ایک ڈرامہ ہے

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسلام آباد پولیس پر الزام: قیدی وین پر حملہ ایک ڈرامہ ہے

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، علی امین گنڈاپور، نے اسلام آباد پولیس کے حالیہ اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سنگجانی میں قیدی وین پر حملہ ایک "ڈرامہ” ہے۔
    ایک بیان میں، گنڈاپور نے اس بات پر زور دیا کہ جعلی حکومت اور اسلام آباد پولیس آئے روز جعلی ڈرامے کر رہی ہیں، اور انہیں یہ غیر قانونی حرکات بند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترنول کے ایس ایچ او نے خود اپنے ہاتھوں سے وین کے شیشے توڑے اور پریزن وین کے تالے توڑنے کے بعد قیدیوں کو نیچے کھڑا کیا۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، "بار بار آپ کو تنبیہ کر رہا ہوں کہ ملک کے اندر لاقانونیت کا راج قائم کردیا گیا ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ایک وزیر، ایم پی اے، اور دیگر ورکرز کی ضمانت آج ہوئی ہے، اور یہ ڈرامہ اس بات کا بہانہ تھا کہ یہ لوگ فرار ہو رہے ہیں۔گنڈاپور کے اس بیان نے اسلام آباد پولیس کی کارروائیوں پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے لاقانونیت کے خلاف آواز بلند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

  • امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا کراچی میں پاک امریکا باہمی تجارت کو فروغ دینے کا عزم

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا کراچی میں پاک امریکا باہمی تجارت کو فروغ دینے کا عزم

    کراچی: امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ بات امریکی قونصلیٹ کراچی کے شعبہ پبلک ڈپلومیسی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہی گئی ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق، امریکا اور پاکستان کے درمیان سات دہائیوں پر محیط طویل المدتی شراکت داری قائم ہے، جس کا دائرہ صحت، تعلیم، توانائی، معاشی ترقی اور سیکیورٹی جیسے شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے گزشتہ سالوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور مربوط معاشی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔امریکا اور پاکستان کے درمیان سرمایہ کاری کے شعبے میں ماحول دوست توانائی، پائیدار زراعت، اور صحت عامہ میں تپ دق کے کنٹرول کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکا پاکستان گرین الائنس اور عوامی روابط کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بھی اہم اقدامات کر رہا ہے۔
    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کراچی میں 22 سے 25 اکتوبر تک فریئر ہال کی تاریخی ثقافتی ورثے کی بحالی کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر کے امریکی سفیر کے فنڈ برائے ثقافتی تحفظ (AFCP) منصوبے کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب کے دوران انہوں نے کہا، "یہ نادر منصوبہ امریکی قونصلیٹ اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی کی شراکت داری سے پایہ تکمیل کو پہنچا ہے، جو واضح طور پر ان تمام کاوشوں کی نمائندگی کرتا ہے جو امریکا اور پاکستان مل کر کرتے آئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فریئر ہال 2002 کے دھماکے میں متاثر ہوا تھا اور اس کی بحالی دونوں ممالک کے تعلقات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتی ہے۔
    امریکی سفیر بلوم نے تپ دق کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو مزید تقویت دینے کے لیے سندھ حکومت کو 5 جدید تشخیصی موبائل گاڑیاں اور 3 موبائل ایکسرے مشینیں فراہم کیں۔ یہ آلات یوایس ایڈ پروگرام کے تحت فراہم کیے گئے تاکہ دور دراز علاقوں میں تپ دق کی تشخیص و علاج میں بہتری لائی جا سکے۔اس دوران، امریکی سفیر نے ایک مقامی فوڈ پراسیسنگ کمپنی نیوٹریلو کا دورہ بھی کیا، جسے یو۔ایس۔ایڈ کے انویسٹمنٹ پروموشن ایکٹیویٹی (آئی۔پی۔اے) پروگرام کے تحت تعاون حاصل ہے۔ اس پروگرام کا مقصد امریکی معاونت سے پاکستان میں کاروباری مواقع اور روزگار کی مد میں نئے رجحانات کو فروغ دینا ہے۔کراچی میں قیام کے دوران، سفیر بلوم نے انسانی حقوق کے ماہرین سے ملاقات کی اور مذہبی آزادی و محنت کشوں کے حقوق جیسے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران، امریکی بزنس کونسل کے ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ ایک عشائیے میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ثانیہ عاشق جبین کو معاون خصوصی مقرر کر دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ثانیہ عاشق جبین کو معاون خصوصی مقرر کر دیا

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوجوان ایم پی اے ثانیہ عاشق جبین کو محکمہ اسپیشل ایجوکیشن کے لیے اپنا معاون خصوصی مقرر کردیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت پنجاب کے سروس اینڈ جنرل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کیبنٹ ونگ نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے مطابق ثانیہ عاشق کو محکمہ اسپیشل ایجوکیشن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب اسپیشل اسسٹنٹس آرڈیننس 2002 کے سیکشن 3 کے تحت اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ثانیہ عاشق کو اسپیشل ایجوکیشن کے لیے معاون خصوصی مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری نوجوان لیڈر کو حکومت میں زیادہ متحرک کردار دینے کے عزم کا عکاس ہے، جس سے حکومت کے اسپیشل ایجوکیشن سیکٹر میں کارکردگی کو مزید فروغ ملے گا۔
    ثانیہ عاشق نے 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بطور ایم پی اے پنجاب اسمبلی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے مریم نواز کے ساتھ مختلف سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں کام کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں وزیراعلیٰ پنجاب کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ثانیہ عاشق کی تقرری سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بہتری آئے گی اور خصوصی بچوں کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافہ ہوگا۔یاد رہے کہ ثانیہ عاشق نے پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری حاصل کی ہے، جس سے وہ صحت اور تعلیمی شعبوں میں بھرپور مہارت رکھتی ہیں

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ارکان اسمبلی کو ضروری اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لینے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ارکان اسمبلی کو ضروری اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لینے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسمبلی کے ارکان کو روٹی، آٹا، اور دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایت ایک ملاقات کے دوران دی گئی، جس میں سرگودھا کے رکن صوبائی اسمبلی منور حسین اور سیالکوٹ کے رکن پنجاب اسمبلی محمد فیض نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔مریم نواز نے اس ملاقات میں ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبوں اور سی ایم انیشیٹو کی مسلسل مانیٹرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں روٹی اور آٹا سب سے سستا ملتا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعلیٰ نے روٹی اور آٹے کے نرخ میں کمی اور استحکام کے لیے سیاسی اور انتظامی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی۔
    وزیراعلیٰ مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب میں عوامی خدمت کا ایک مثالی معیار قائم کیا جائے گا، اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک باقاعدہ قیمت کنٹرول کا نظام اور علیحدہ محکمہ قائم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگائی کی وجہ سے پہنچنے والی معاشی تکلیف کا ازالہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔اس موقع پر ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو اپنے متعلقہ حلقوں کے مسائل اور عوامی ضروریات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی فلاح کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کی تعریف کی اور کاشتکاروں کے لیے کیے گئے تاریخی اقدامات پر وزیراعلیٰ کو خراج تحسین پیش کیا۔یہ اقدامات پنجاب حکومت کی جانب سے عوامی مسائل کے حل اور معاشی بہتری کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ ہدایت اور اقدامات عوامی فلاح کے لیے ایک مثبت اقدام ہیں، جو لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں کمی، سالانہ بنیادوں پر افراط زر کی شرح 15.15 فیصد پر برقرار

    ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں کمی، سالانہ بنیادوں پر افراط زر کی شرح 15.15 فیصد پر برقرار

    اسلام آباد: ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سالانہ افراط زر کی شرح 15.15 فیصد تک پہنچ گئی۔ وفاقی ادارہ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 13 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کچھ اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا، جس نے مجموعی طور پر مہنگائی میں معمولی کمی میں کردار ادا کیا۔ اس ہفتے کی رپورٹ کے مطابق ٹماٹر، لہسن، مونگ کی دال، انڈے، آلو، گھی، لکڑی اور سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب، چکن، پیاز، گڑ، گندم کا آٹا، ماش کی دال، چینی، دال چنا، چاول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ نے عمومی مہنگائی پر کچھ اثر ڈالا، مگر زیادہ تر اشیاء کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر رہیں۔
    سالانہ بنیادوں پر اہم غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق گندم کا آٹا 32 فیصد، مرچ 20 فیصد، اور کوکنگ آئل کی قیمت میں 9 فیصد کمی ہوئی ہے۔ چاول کی قیمت میں 8 فیصد، چینی میں 6 فیصد، انڈوں کی قیمت میں 5.88 فیصد، گھی میں 4.74 فیصد، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 17 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 13 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ مزید برآں، چھوٹے صارفین کیلئے بجلی کے ریٹ میں 20.32 فیصد کی کمی کی گئی ہے، جس سے چھوٹے کاروبار اور گھریلو صارفین کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی امید ہے۔
    دوسری جانب، سالانہ بنیاد پر مختلف اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دال چنا 82 فیصد، پیاز 50 فیصد، چکن 39 فیصد، دال مونگ 37 فیصد اور خشک دودھ 25 فیصد مہنگا ہوچکا ہے۔ بیف کی قیمت میں بھی 23 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ غیر غذائی اشیاء میں گیس کی قیمت میں 570 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، جبکہ کپڑے اور جوتوں کی قیمتوں میں 12 سے 17 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بنیادی ضروریات کی فراہمی عوام کے لیے دشوار ہو رہی ہے، خاص طور پر ان اشیاء کی قیمتیں جن کا تعلق روزمرہ کی زندگی سے ہے، جیسے کہ گیس، کپڑے اور جوتے۔
    ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں یہ معمولی کمی وقتی ہے، اور آئندہ مہینوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم، چاول اور گھی کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے کم آمدنی والے طبقے کو وقتی طور پر فائدہ ہوسکتا ہے، مگر جب تک مستقل بنیادوں پر افراط زر کی روک تھام کے اقدامات نہیں کیے جاتے، عوام کی مشکلات میں کمی ممکن نہیں۔ اس رپورٹ میں تفصیلات کے مطابق حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ افراط زر کی شرح کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ عوامی توقعات بھی یہی ہیں کہ مہنگائی کو قابو میں لایا جائے اور بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں عوام کی پہنچ میں رکھی جائیں۔

  • سنگجانی قیدیوں کی وینز پر حملہ: عطاء تارر نے پی ٹی آئی کو ملوث قرار دیا

    سنگجانی قیدیوں کی وینز پر حملہ: عطاء تارر نے پی ٹی آئی کو ملوث قرار دیا

    اسلام آباد: وفاقی وزیر عطاء تارر نے حالیہ سنگجانی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک منظم حکومتی سازش قرار دیا جس کا مقصد قیدیوں کو آزاد کرانا اور ریاست کے قانونی نظام کو چیلنج کرنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک ایم پی اے کے صاحبزادے سمیت دیگر افراد کی گرفتاری ہوئی ہے، جبکہ پولیس نے دو گاڑیاں، چار افراد، اور دو ہیکرز کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔یہ واقعہ سنگجانی ٹول پلازہ کے قریب اس وقت پیش آیا جب پولیس کے مطابق 82 ملزمان کو عدالت سے واپس اٹک جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ چار گاڑیوں میں سوار حملہ آوروں نے ٹول پلازہ کے قریب قیدیوں کی تین وینز کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد ملزمان کو آزاد کرانا تھا۔ وفاقی وزیر عطاء تارر نے اس واقعے کو ماضی میں پی ٹی آئی کے دیگر تشدد پسندانہ رویوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان کی "تشدد کی سیاست” کا حصہ ہے۔ عطاء تارر نے کہا کہ "پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاست کے قوانین اور اداروں کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حملے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ملزمان کو فرار کروایا جائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نقصان پہنچایا جائے۔
    وفاقی وزیر نے کہا کہ حملہ آوروں نے باقاعدہ تیاری کے بعد اس کارروائی کو انجام دیا اور یہ کہ وہ مکمل اسلحے سے لیس تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے اس منصوبے میں شامل افراد کی ایک تاریخ رہی ہے، جس میں انہوں نے فوج اور دیگر ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے مزید کہا، "یہ پی ٹی آئی کی تاریخ رہی ہے کہ وہ تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ ماضی میں انہوں نے فوج پر حملے کیے، پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا، اور یہاں تک کہ پی ٹی وی کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے کارکنان نے ہمیشہ ایسے اقدامات کیے ہیں جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔وفاقی وزیر عطاء تارر نے پولیس کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کر کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے 19 فرار ہونے والے ملزمان کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ اس واقعے کے دوران دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
    پولیس کے مطابق، حملہ آوروں میں شامل ایک پی ٹی آئی ایم پی اے کے صاحبزادے نے خود پولیس پر حملہ کیا اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیس نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ان حملہ آوروں کو قابو میں کیا اور اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے، جو ان ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی میں مددگار ثابت ہوگی۔عطاء تارر نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ تمام گرفتار شدہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور ان کو مثال بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی بھی فرد ایسی حرکت کی ہمت نہ کرے۔
    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس طرح کے جرائم کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ "ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کسی کو بھی ریاست کے خلاف سازش یا اس کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس میں ملوث تمام افراد کو مثالی سزائیں دی جائیں گی تاکہ مستقبل میں اس قسم کی کارروائیاں روکی جا سکیں۔وفاقی وزیر عطاء تارر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پولیس کے پاس اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس سے ملزمان کی شناخت اور ان کی حرکات کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد موجود ہیں، جس کی مدد سے ہم اس کیس میں مضبوط قانونی کارروائی کر سکیں گے۔”

    وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے ردعمل کو "ناقابل یقین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان کے خلاف حکومتی کارروائی کو روکنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو "جھوٹے بیانات” سے پرہیز کرنا چاہیے اور قانون کے سامنے اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے کارکنان نے ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت کی کوشش کی ہے، جسے ہم ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔”
    عطاء تارر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی قسم کے تشدد یا سازش کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے گی اور یہ کہ ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت تمام اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ پیغام ہم سب کو دینا چاہتے ہیں کہ ہم ریاست کے خلاف ہونے والے کسی بھی قسم کے تشدد اور بغاوت کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس ملک میں قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔وفاقی وزیر عطاء تارر کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اسے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی ایک کوشش سمجھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں اس طرح کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں امن و امان قائم رہ سکے۔