پنجاب کے شہر میانوالی میں پولیس نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران 10 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ یہ کارروائی ملاخیل کے علاقہ مکڑوال میں کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات پر 10 سے 15 دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق، یہ آپریشن ڈی پی او میانوالی کی قیادت میں کیا گیا، جس میں پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں 10 خوارجی دہشت گرد مارے گئے، جبکہ آپریشن کے دوران پولیس کے تمام افسران اور جوان محفوظ رہے۔
پنجاب کے آئی جی، نے اس کامیابی پر ڈی پی او میانوالی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ پنجاب پولیس ہر وقت الرٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر دم لیں گے۔ڈی پی او میانوالی نے بھی اس موقع پر کہا کہ "ہماری پولیس امن دشمن عناصر کا اسی طرح جواں مردی سے مقابلہ کرتی رہے گی۔” ان کا یہ بیان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔یہ آپریشن اس وقت ہوا جب ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی کوششیں بڑھا دی ہیں، اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں عوامی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
Author: صدف ابرار
-

پنجاب: میانوالی میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن، 10 خوارجی ہلاک
-

اسلام آباد: بی این پی کے سابق ایم پی اے اختر نواز لانگو گرفتار
اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) اختر نواز لانگو کو اسلام آباد پولیس نے انسداد دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی تھانہ سیکریٹریٹ کی پولیس ٹیم نے کی، جو بی این پی کے سیکریٹری خزانہ بھی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جوائنٹ سیکریٹری سینیٹ جمیل احمد کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔مقدمے کی ایف آئی آر کے متن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اختر مینگل اور دیگر پانچ افراد نے مسلح ہو کر سینیٹ ہال میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ ملزمان نے سیکیورٹی اسٹاف کو دھکے دیتے ہوئے ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سینیٹ ہال میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ واقعہ سینیٹ کی کاروائی کے دوران پیش آیا، جب بی این پی کے رہنماؤں نے سینیٹ ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس کارروائی نے نہ صرف سینیٹ کی سیکیورٹی کی نگرانی کرنے والوں کے لئے مشکلات پیدا کیں، بلکہ اس واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کی۔اختر نواز لانگو کی گرفتاری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور ایسے واقعات کے ذریعے سیاسی ماحول میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں مزید قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، اور بی این پی کے رہنماؤں نے اس کارروائی پر شدید تنقید کی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی ہمیشہ سے صوبے کے حقوق اور مسائل کے حل کے لئے سرگرم رہی ہے، اور اس واقعے نے پارٹی کے حامیوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد، بی این پی کے دیگر رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی طور پر انتقام لے رہی ہے۔مزید اطلاعات کے لئے بی این پی کے رہنماؤں کی جانب سے کسی بھی رسمی بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جب کہ عدالت کے سامنے پیشی کے دوران قانونی پہلوؤں پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
-

وزیراعظم سے نئے کمیونٹی و لیبر ویلیفئر اتاشیوں کی ملاقات
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں نئے تعینات ہونے والے کمیونٹی و لیبر ویلیفئر اتاشیوں سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے ان کی ذمہ داریوں اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔وزیراعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ "مجھے اطمینان ہے کہ آپ لوگوں کا تقرر ایک انتہائی شفاف عمل کے ذریعے ہوا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اتاشیوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ "سمندر پار پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں جن کی بدولت اربوں ڈالرز کا قیمتی زرمبادلہ پاکستان پہنچتا ہے۔” انہوں نے نوتعینات افسران کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان کے مفادات کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں اور بیرون ملک پاکستان کا تشخص اجاگر کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔
وزیراعظم نے افسران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری لانے کے حوالے سے بھی مواقع تلاش کرنے چاہیے۔ ملاقات کے دوران نوتعینات افسران نے وزیراعظم کو اپنے متعلقہ سٹیشنز کے حوالے سے اپنے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔یہ ملاقات پاکستانی مشنز کے اندرونی امور کو بہتر بنانے اور سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وزیراعظم کے اس عزم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کی مدد کے لیے بھرپور اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ -

سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے اہم ملاقات
راولپنڈی : سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر ایئر مارشل راؤپ راجا پاکسے نے پاکستان کے جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔دورے کے دوران ایئر مارشل راؤپ راجا پاکسے نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے اہم ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افواج نے خطے میں امن اور استحکام کے لئے جو کردار ادا کیا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، جس میں مشترکہ مشقیں، تربیت اور عسکری ٹیکنالوجی میں اشتراک کو مزید بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ایئر مارشل راؤپ راجا پاکسے نے کہا کہ سری لنکا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دفاعی شعبے میں تعاون کے ذریعے دونوں ممالک اپنے سکیورٹی اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں۔جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک سری لنکا کے ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لئے پُرعزم ہے، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین مختلف عسکری امور پر بھی گفتگو ہوئی اور مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسعت دینے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس اہم ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید تقویت دی ہے اور یہ اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان اور سری لنکا اپنی سلامتی اور استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔ -

پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات پر پابندی خود لگوائی،فیصل واوڈا
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات پر پابندی ان ہی کی درخواست پر لگائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی حکومت نے نہیں بلکہ خود پی ٹی آئی کی قیادت کے کہنے پر عائد کی تھی۔ سینیٹرفیصل واوڈا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ملاقات تو انہیں کرنی ہی نہیں تھی، کیونکہ یہ جو پابندی لگائی گئی تھی، وہ پی ٹی آئی کے کہنے پر ہی لگائی گئی کہ ہمیں ملاقات کے لیے اجازت نہ دلاؤ۔ جب عمران خان ہم سے باہر نکلنے کے لیے کہتے ہیں تو ہمارے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے 62 امریکی سینیٹرز کا خط منگوا کر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید دوریاں پیدا کردی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب یہ خود اس سے فائدے اٹھائیں گے، انہوں نے عمران خان اور ان کی سیاست کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔
بشریٰ بی بی کی رہائی کے حوالے سے سوال پوچھے جانے پر فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر یہ رہائی کسی ڈیل کے تحت نہیں ہوئی تو پھر بنی گالہ میں کئی ہفتوں سے جاری رنگ و روغن اور درخت لگانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے مزید کہا، "وہاں صاف صفائی ہو گئی ہے۔” سینیٹر واوڈا نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ڈیل کی تفصیلات کیا ہیں، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی رہائی ابھی ممکن نہیں ہے۔ "ان کے خلاف کئی کیسز موجود ہیں، اور کسی کو نہیں معلوم کہ ان کے خلاف کون سے کیسز اندر پڑے ہیں۔
ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "جنرل (ر) فیض حمید نو مئی کے واقعات اور ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے عمران خان کے سر ڈال رہے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے نتیجے میں فیض حمید کو سزا بھی ملے گی اور کورٹ مارشل بھی ہوگا۔ فیصل واوڈا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ "عمران خان کے وزیر مراد سعید ارشد شریف کے قتل کے کیس میں کیوں غائب ہیں؟ کیوں دو سال میں ان کی ایک جھلک بھی سامنے نہیں آئی؟جب سینیٹر واوڈا سے 27ویں ترمیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ "میں نے 26ویں ترمیم سے پہلے ہی 27ویں ترمیم کی بات کی تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ "27 کے بعد مزید 28 اور دیگر ترامیم بھی آئیں گی۔” -

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جمعہ کا پبلک ڈے منسوخ کر دیا،
پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے جمعہ کے روز ہونے والے پبلک ڈے کو منسوخ کرتے ہوئے اپنے کارکنان اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر جلسے کی تیاری کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک مختصر پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ جمعہ کا دن عموماً عوامی ملاقات کے لیے مخصوص ہوتا ہے، لیکن اس جمعہ کو ملاقات نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے جمعہ کو عوام سے ملاقات کی جائے گی۔گنڈاپور نے اپنے پیغام میں کارکنان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور آنے کی زحمت نہ کریں اور جلسے کی تیاری پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا، "آپ سب کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ سی ایم ہاؤس پشاور آنے کی زحمت نہ کریں اور جلسے کے لیے تیاری کریں۔
ایک مختصر میڈیا ٹاک کے دوران، وزیراعلیٰ نے 26 ویں آئینی ترمیم کو وفاقی حکومت کی من پسند ترمیم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، "پی ٹی آئی اس بار پورے پاکستان کو بند کرے گی۔ یہ حکومت آئین کو بار بار توڑ رہی ہے اور اس کے خلاف ہم مکمل بندوبست کر چکے ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے پارٹی قائدین اور کارکنان کو 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور احتجاج کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں وہ احتجاج کے حوالے سے آگاہ کریں گے اور عمران خان کی ہدایت پر تاریخ کا اعلان کریں گے۔پارٹی قیادت نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج یا دھرنے کے لیے کارکنان کو نکالنا مشکل ہو گا۔ اس تناظر میں، علی امین گنڈاپور نے بڑے شہروں اور اضلاع میں ضلعی قیادت کی نگرانی میں احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ گنڈاپور احتجاج کے لیے تیاریوں کے حوالے سے پارٹی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے پورے پاکستان میں بھرپور احتجاج کے لیے انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کارکنان کو زیادہ سے زیادہ نکلنے کی ترغیب دی ہے۔ -

اقوام متحدہ کا چارٹر خطے میں انسانی حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا ہے، اسحاق ڈار
اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان جاری کیا، جس میں عالمی برادری کی انصاف کے حصول اور معاشرتی ترقی کی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس دن کو اس بات کی یاد دہانی قرار دیا کہ دنیا بھر میں امن، انسانی حقوق اور ترقی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر خطے میں جنگ کی مخالفت اور انسانی حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ عالمی برادری کو امن کے قیام کے لئے مضبوطی سے کام کرنا ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حفاظت اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا خاتمہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ عالمی برادری کو یو این سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے ضروری ہیں، بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی اہم ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ایک ممبر کی حیثیت سے، خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے قیام کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ اسحاق ڈار کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان عالمی مسائل میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر خارجہ کے اس بیان نے اس بات کو واضح کیا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق، انصاف، اور امن کی بنیاد پر مستقبل کی تعمیر میں سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ دنیا میں حقیقی تبدیلی لا سکیں۔ -

وزیراعظم کے حکم پر افسران کا غیر ملکی دورہ منسوخ
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری افسروں کے غیرملکی تعلیمی دورے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور کے 121ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء کا طے شدہ غیرملکی تدریسی دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئیں کہ مستقبل میں بھی نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور کے تحت کوئی غیرملکی اسٹڈی دورہ ترتیب نہ دیا جائے۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری وسائل کا درست اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ ملک کے محدود وسائل کا بہترین طریقے سے استعمال ہو سکے۔
واضح رہے کہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور نے 121ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء کے لیے ایک غیرملکی تدریسی دورہ شیڈول کیا تھا، تاہم وزیراعظم کے فیصلے کے بعد یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، موجودہ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ملکی خزانے پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے اور افسران کو مقامی سطح پر تربیت کے مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ یہ اقدام قومی پالیسی کے تحت مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور غیرضروری اخراجات کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس فیصلے کے ذریعے سرکاری اداروں کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے گی اور افسران کی تربیت کے لیے ملکی وسائل اور تعلیمی اداروں کو زیادہ فعال بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک کو سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے اور حکومت کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ -

بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان: عوام کے لیے خوشخبری
اسلام آباد: مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری آئی ہے۔ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، بجلی کی قیمتوں میں اگست کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 86 پیسے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے۔یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کی توانائی کی تقسیم کار کمپنی (سی پی پی اے) نے بجلی کی قیمتوں میں 57 پیسے فی یونٹ کی کمی کی درخواست کی تھی۔ اب یہ فیصلہ عوامی بجلی کے بلوں میں نظر آئے گا۔ صارفین کو یہ ریلیف اکتوبر کے بلوں میں فراہم کیا جائے گا۔ جو صارفین اکتوبر کے بل وصول کر چکے ہیں، انہیں یہ ریلیف نومبر کے بلوں میں ملے گا۔
یہ کمی لائف لائن، پری پیڈ، کے الیکٹرک صارفین، اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر لاگو نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قیمتیں ویسی ہی رہیں گی جیسی پہلے تھیں۔بجلی کی قیمتوں میں اس کمی کی خبر نے عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر ہے۔ عوامی حلقے اس کمی کو مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں اور اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے اقدامات جاری رہیں گے تاکہ عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جا سکے۔یہ اقدام حکومت کی جانب سے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے، اور اس کا اثر معاشی حالات میں بہتری کی صورت میں نظر آ سکتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ -

ایف بی آر نے ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں تبدیلیوں کا اعلان کر دیا
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 237 میں نئی ترامیم متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کے سسٹم کو مزید فعال بنانا ہے۔ ان نئی ترامیم کے تحت ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کو ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس نئے طریقہ کار سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے بعد فوری طور پر ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہونے کی سہولت حاصل ہوگی۔ یہ تبدیلی ریئل ٹائم ایکیوریسی کو بہتر بنانے اور ٹیکس کمپلائنس میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
ترمیم کے تحت، وہ ٹیکس دہندگان جو ٹیکس سال 2024 کے لیے اپنے انکم ٹیکس گوشوارے مقررہ تاریخ تک، یا دی گئی کسی توسیع کے اندر جمع کرائیں گے، انہیں فوری طور پر ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، مقررہ یا توسیعی تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 182A کے تحت سرچارج کی ادائیگی کے ذریعے بھی ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہونے کی اجازت ہوگی۔پرانے سسٹم کے تحت ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کو ہر سال مارچ میں اپڈیٹ کیا جاتا تھا، جسے اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت، انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے پر ٹیکس دہندہ کو فوری طور پر ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے ذریعے پراسس مزید مؤثر ہوگا اور ٹیکس کمپلائنس میں بہتری آئے گی۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم ان کی آپریشنز کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کے اپ ڈیٹس کے لیے زیادہ متحرک طریقہ اختیار کر کے، ایف بی آر ٹیکس دہندگان اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس نئی تبدیلی کے بعد، امید کی جا رہی ہے کہ ٹیکس دہندگان کو ایف بی آر کے ساتھ زیادہ مؤثر طور پر کام کرنے میں مدد ملے گی، جس سے قومی خزانے میں اضافے اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جا سکے گا۔