اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئندہ دو روز کے دوران دو اہم اجلاس منعقد ہوں گے۔پہلا اجلاس 7 نومبر کو انسداد دہشت گردی عدالتوں (اے ٹی سی) کے انتظامی ججز کے متعلق ہوگا، جس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کریں گے۔ اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کے انتظامی ججز کو عمل درآمد رپورٹس کے ہمراہ طلب کیا گیا ہے تاکہ عدالتوں کے انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔دوسرا اجلاس 8 نومبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کا ہوگا، جس کی صدارت بھی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کریں گے۔ اس اجلاس میں اہم قانونی اور عدالتی امور پر بات چیت کی جائے گی۔یہ اجلاس عدلیہ کے اہم فیصلوں اور عدلیہ کے انتظامی امور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، اور ان کی حیثیت پاکستان کے عدلیہ نظام میں اہمیت کی حامل ہو گی۔
Author: صدف ابرار

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات
ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم بات چیت کی گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق، سعودی ولی عہد نے جنرل عاصم منیر کا ریاض میں استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کیا۔ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور جنرل عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع کا جائزہ لیا اور ان میں مزید بہتری لانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور سعودی حکام نے بھی شرکت کی، جو ملاقات میں دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیتے رہے۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ دلچسپی کے متعدد امور پر بھی بات کی، جن میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون، اور اقتصادی تعلقات کے مزید مواقع شامل تھے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہش مند ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعلقات کی نوعیت میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ آپس میں مشاورت کو بڑھائیں گے اور علاقائی اور عالمی سطح پر مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔
کامران مرتضیٰ کا سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرنے پر سخت اعتراض
جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر اور سینئر قانون دان کامران مرتضیٰ نے سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرنے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کیا جائے، تو اس کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، ورنہ اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔کامران مرتضیٰ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو اس کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے، اگر ایسی کوئی وجہ نہیں تو پھر اس پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ نہیں ہیں بلکہ سینئر جج ہیں، اور یہ اصطلاح بھی خود ہم نے شامل کی تھی۔ "اگر ہم سربراہ کی اصطلاح استعمال کرنے لگیں، تو پھر عدالت کے اندر عدالت اور ریاست کے اندر ریاست کا تصور ابھرتا ہے، جو کہ ہمارے آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ ہماری تشویش یہی تھی کہ سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز نہ کیا جائے، لیکن حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ درست نہیں ہے۔” انہوں نے اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران کئی مرتبہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ چیف جسٹس کے معاملات سمیت سنیارٹی کے اصول کو مدنظر رکھا جائے گا۔
اس حوالے سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ یقین دہانی اعظم نذیر تارڑ نے کرائی تھی؟ تو ان کا جواب تھا، "آپ نام کو چھوڑیں، میں نے کبھی کسی کے بارے میں اس طرح سے بات نہیں کی تھی، اور مجھے پارٹی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ بند کمروں کی باتیں باہر نہ کھل کر بیان کریں۔” کامران مرتضیٰ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ منصور علی شاہ سینئر جج ہیں اور انہیں ہی چیف جسٹس کے منصب پر مقرر کیا جائے گا۔کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سنیارٹی کا اصول صرف اس صورت میں نظرانداز کیا جا سکتا ہے جب کوئی شخص سینئر ہو، لیکن اس کے پاس اس عہدے کی اہلیت نہ ہو یا اس میں دیگر خامیاں موجود ہوں۔ "اگر آپ اس اصول کو نظرانداز کرتے ہیں، تو یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے، اور اس سے ادارے کمزور ہوں گے۔
آئینی بینچ کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "فی الحال یہ بینچ صرف 60 دن کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بینچ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اگر 60 دن میں بینچ کے کسی ممبر پر اعتراض آ گیا تو حکومتی اکثریت اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے فیصلہ بدل سکتی ہے۔” ان کے مطابق یہ ایک غلط رویہ ہے جو آئینی تبدیلی کے عمل کو متاثر کرے گا۔سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بھی کامران مرتضیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ "یہ فیصلہ جن اداروں کے لیے کیا گیا ہے، ان کے لیے یہ مسائل پیدا کرنے والی بات ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتائج آئینی اصولوں کے خلاف جا سکتے ہیں، اور یہ ملک کے اداروں کی آزادگی اور خود مختاری پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے چینی سفارتخانے کا دورہ کر کے کراچی میں چینی شہریوں پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے چینی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات وزیراعظم کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔چینی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، "میں چینی شہریوں پر کراچی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرنے اور زخمیوں کی صحت کی معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ سے ملنے آیا ہوں۔” وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس حملے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرے گی اور انہیں سخت سزا دلوائے گی۔

انہوں نے مزید کہا، "میں خود اس عمل کی نگرانی کر رہا ہوں اور چینی شہریوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔” وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے چینی شہریوں کی صحت میں بہتری آ رہی ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ "چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے، اور چینی شہریوں پر حملہ پاک چین برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔چینی سفیر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم واقعے کے ذمہ داران کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔وزیراعظم کے ہمراہ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن رضا نقوی، اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
ہمیں کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ علیمہ خان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بھائی کی قید اور موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے عوام کے ووٹ کے چوری ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کا حل اب سڑکوں پر عوام کی طاقت سے ہوگا۔علیمہ خان نے کہا، "فیصلہ اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ایک منظم جماعت ہے جس میں واضح قیادت موجود ہے، اور ہمارے قومی اسمبلی کے اراکین (ایم این ایز) اور صوبائی اسمبلی کے اراکین (ایم پی ایز) موجود ہیں۔ ان کے مطابق، قیادت جلد ہی فیصلہ کرے گی کہ احتجاج کس طرح منظم کیا جائے گا اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کیا ہوگا۔
جب غیر ملکی مداخلت اور سیاست میں بیرونی اثرات پر سوال اٹھایا گیا تو علیمہ خان نے واضح طور پر کہا، "ہمیں کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ کوئی غیر ملکی ملک ہمیں بتائے کہ پی ٹی آئی کے بانی کو رہا کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام اور قیادت کو خود کرنا چاہیے، نہ کہ بیرونی قوتوں کی مداخلت سے۔علیمہ خان نے ڈیلز اور مذاکرات کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا، ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ ڈیل کی باتیں کون کر رہا ہے۔ اگر ہمیں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے تو ہمیں کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی سیاسی جدوجہد کو صرف پاکستانی عوام کے فیصلوں سے حل کرنا چاہیے۔
امریکی یہودیوں کی اکثریت نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ
واشنگٹن: اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتخابات میں اکثریت امریکی یہودی ووٹرز نے ڈیموکریٹ امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 79 فیصد امریکی یہودی ووٹرز نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، جبکہ صرف 21 فیصد یہودی ووٹرز نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہودی ووٹرز کی طرف سے کچھ حد تک حمایت ملی تھی۔ 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ نے 30 فیصد یہودی ووٹ حاصل کیے، جبکہ 2016 کے انتخابات میں یہ تعداد 24 فیصد تھی۔ یہ واضح کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہودی ووٹرز کے رجحانات میں تبدیلی آئی ہے اور وہ ڈیموکریٹس کی طرف زیادہ مائل ہوئے ہیں۔
یہودی تاریخ کا ڈیٹا جمع کرنے والی یہودی ورچوئل لائبریری نے بھی حالیہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی یہودیوں کی اکثریت نے ڈیموکریٹس کے امیدوار کی حمایت کی۔ یہودی ورچوئل لائبریری کے اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کو یہودی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جو ان کے سابقہ حمایتی رجحانات کو نمایاں طور پر تبدیل کرتی ہے۔انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مرتبہ یہودی ووٹرز کے ڈیموکریٹس کی طرف جھکاؤ پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی یہودیوں کے مفادات کا دفاع نہیں کر رہی، اس کے باوجود یہودی ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو ہی ترجیح دی۔یہودی ووٹرز کے رجحانات میں اس تبدیلی کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں، جن میں داخلی اور بین الاقوامی پالیسیز اور ڈیموکریٹس کے نظریات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہودی کمیونٹی کا ڈیموکریٹس کی طرف یہ رجحان امریکا کے آئندہ انتخابات میں بھی نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
امریکا کا ہائپر سونک میزائل کا تجربہ: ٹرمپ کی جنگوں کے خاتمے کی یقین دہانی
امریکا نے 2024 کے صدارتی انتخاب سے قبل ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے اس کی فوجی تیاریوں اور عالمی سطح پر امریکی سلامتی کے عزم کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تجربہ کئی سال پہلے شیڈول کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد ایٹمی جنگ کے حوالے سے امریکا کی تیاریوں کو اجاگر کرنا تھا۔امریکی فوج نے منٹ مین تھری انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا تجربہ وینڈر برگ اسپیس فورس بیس، کیلیفورنیا سے کیا۔ اس میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتار 15 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، اور یہ تقریباً 4000 میل دور شمالی بحرالکاہل میں واقع کوجلن ایٹول تک پہنچا۔ حکام کے مطابق، یہ تجربہ امریکی فوج کے عالمی سطح پر کسی بھی مقام کو زیادہ سے زیادہ 30 منٹ میں نشانہ بنانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ تجربہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح کے فوراً بعد آیا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد جنگوں کا خاتمہ ہے اور وہ کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بیان عالمی سطح پر امریکا کے امن و استحکام کی جانب اشارہ کرتا ہے۔اس تجربے کا بنیادی مقصد دنیا کو امریکا کی جنگی تیاریوں کی نوعیت اور طاقت کا احساس دلانا تھا۔ اسپیس لانچ ڈیلٹا تھرٹی کے وائس کمانڈر کرنل بریان ٹائٹس نے دی میٹرو کو بتایا کہ اس تجربے کا آغاز ‘گارجینز اینڈ ایئرمین’ کے اہم ہفتے سے ہوا، جو امریکا کی فوجی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔ کرنل ٹائٹس نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ مزید دو میزائل تجربے ویسٹرن رینج سے شیڈول کیے گئے ہیں۔یہ تجربہ ایک بار پھر امریکا کے ایٹمی اور دفاعی پروگرام کے حوالے سے اس کے عزم کا مظہر ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس کا مقصد عالمی سطح پر امریکا کی قوت کا ایک اور اظہار تھا، تاکہ دنیا کو اس کی فوجی تیاریوں اور پراعتمادی کا پتا چلے۔
ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، اسد قیصر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک خدا نخواستہ خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات صوابی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ قوانین کو جمہوریت کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔اسد قیصر نے حکومت کے نئے قانون پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا، جس کے تحت کسی بھی شخص کو شک کی بنیاد پر تین ماہ تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس قانون کو "جنگل کا قانون” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسا نظام قائم کر دیا گیا ہے جہاں شہریوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، "اس ملک کو انہوں نے بنانا ریپبلک بنا دیا ہے، اس ملک میں جنگل کا قانون ہے، کیا اس طرح ملک میں زندگی بسر ہو سکتی ہے؟
سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے اقدامات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اسد قیصر کے مطابق، "بلاول اور نواز شریف نے عدالتوں کا جنازہ نکال دیا، عدالت اب عدالت نہیں رہی۔” انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ جمہوریت کے اصول ہیں جس پر یہ دونوں رہنما بات کرتے ہیں؟اسد قیصر نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں خانہ جنگی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ملک خدا نخواستہ خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی وحدت اور امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اسد قیصر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ "اس ملک کے حقیقی مالک عوام ہیں، اور یہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ "یہ حکومت آپ کو ہضم نہیں کرنے دے گی اور کہا کہ "جنگ آپ نے شروع کی تھی، ختم ہم کریں گے۔
مچھروں کو بہرا کرنے سے ڈینگی بخار کا پھیلاؤ روکنے کی امید
ماہرین نے کہا ہے کہ مچھروں کو قوتِ سماعت سے محروم کرکے ڈینگی، زرد بخار اور زیکا جیسے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ نئی تحقیق ایک اہم پیش رفت ہے جس میں سائنس دانوں نے trpVa پروٹین کو نشانہ بنایا ہے جو مچھروں کے لیے سماعت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ڈینگی، زرد بخار اور زیکا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف تجربات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلے میں سائنس دانوں کی حالیہ تحقیق میں مچھروں کی سماعت پر فوکس کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ مچھروں کے نر اور مادہ کی ملنے والی آوازیں ہی ان کے ملاپ کا سبب بنتی ہیں، جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا امکان بڑھتا ہے۔ نر اور مادہ مچھر اپنے پروں کی خاص فریکوئنسی پر آواز پیدا کرتے ہیں، جسے نر مچھر سماعت کے ذریعے مادہ مچھروں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
سائنس دانوں نے trpVa نامی پروٹین کو نشانہ بنایا ہے، جو مچھروں کی سماعت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ لیب میں کیے گئے تجربات میں یہ ثابت ہوا کہ جن مچھروں میں trpVa پروٹین نہیں ہوتا، وہ مادہ مچھروں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مچھروں کو قوتِ سماعت سے محروم کر دیا جائے، تو وہ دوسرے مچھروں سے میل جول کرنے میں ناکام رہیں گے، جس سے ان کی نسل کشی اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مچھروں کی سماعت کو مکمل طور پر روک دیا جائے تو ان کی افزائشِ نسل میں رکاوٹ آئے گی، اور نتیجتاً ڈینگی، زرد بخار اور زیکا جیسے موذی وائرس کی پھیلاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ہر سال لاکھوں انسانوں کی جانیں ان بیماریوں کے باعث جاں بحق ہوتی ہیں، اور سائنس دان اب اس کوشش میں ہیں کہ مچھروں کی افزائش روک کر ان بیماریوں کو قابو کیا جا سکے۔
ماہرین اس کے ساتھ ساتھ نس بندی والے مچھروں کو قدرتی ماحول میں چھوڑنے کے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ایسے مچھروں کو ان علاقوں میں چھوڑا جائے گا جہاں مچھروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، تاکہ ان کی نسل کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ اس طریقے سے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے اور انسانوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن پیدا ہو سکتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ مچھروں کی قوتِ سماعت کو متاثر کرنے اور نسل کشی کے اقدامات سے عالمی سطح پر ڈینگی، زرد بخار اور زیکا جیسے بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق عالمی صحت کے میدان میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے اور اگر اس پر مزید تحقیق اور تجربات کیے جائیں تو اس کے مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
حکومت کا مہنگائی روکنے کے لیے مڈل مین پر سختی کرنے کا فیصلہ: وفاقی وزیر خزانہ
کراچی: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کراچی میں فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مڈل مین پر سختی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دالوں اور مرغی جیسی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے، اور اس صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت عوام تک براہِ راست ریلیف پہنچانے کے عمل میں مڈل مین کو رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دے گی اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے قیمتیں قابو میں رکھی جا سکیں۔ انہوں نے مڈل مین کے کردار کو مہنگائی میں ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جائے گا تاکہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاء دستیاب ہوسکیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کرپشن پر قابو پانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پر قابو پانا اور شفافیت لانا حکومت کے اہم مقاصد میں شامل ہے، جس کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حکومتی اقدامات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، اور عوامی وسائل کا درست استعمال ہوگا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو دی جانے والی مراعات کو اہداف سے مشروط کرے گی، یعنی اب صنعتوں کو مراعات بغیر کسی کارکردگی کے نہیں دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام صنعتوں کو زیادہ فعال اور مؤثر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ حکومت کو ملکی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس بڑھانا پڑے گا، مگر اس کا بوجھ صنعتکاروں اور تنخواہ دار طبقے پر نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نئے ٹیکسز سے معاشی بحران کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل اکٹھے کیے جائیں گے، لیکن ان سے کم آمدنی والے طبقے اور تنخواہ دار افراد پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔سینیٹر محمد اورنگزیب کے اس خطاب کو کاروباری طبقے کی طرف سے مثبت ردعمل ملا ہے، جبکہ عوام نے بھی مڈل مین پر سختی کرنے کے حکومتی ارادے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔










