Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، اسد قیصر

    ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک خدا نخواستہ خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات صوابی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ قوانین کو جمہوریت کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔اسد قیصر نے حکومت کے نئے قانون پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا، جس کے تحت کسی بھی شخص کو شک کی بنیاد پر تین ماہ تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس قانون کو "جنگل کا قانون” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسا نظام قائم کر دیا گیا ہے جہاں شہریوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، "اس ملک کو انہوں نے بنانا ریپبلک بنا دیا ہے، اس ملک میں جنگل کا قانون ہے، کیا اس طرح ملک میں زندگی بسر ہو سکتی ہے؟
    سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے اقدامات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اسد قیصر کے مطابق، "بلاول اور نواز شریف نے عدالتوں کا جنازہ نکال دیا، عدالت اب عدالت نہیں رہی۔” انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ جمہوریت کے اصول ہیں جس پر یہ دونوں رہنما بات کرتے ہیں؟اسد قیصر نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں خانہ جنگی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ملک خدا نخواستہ خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی وحدت اور امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اسد قیصر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ "اس ملک کے حقیقی مالک عوام ہیں، اور یہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ "یہ حکومت آپ کو ہضم نہیں کرنے دے گی اور کہا کہ "جنگ آپ نے شروع کی تھی، ختم ہم کریں گے۔

  • مچھروں کو بہرا کرنے سے ڈینگی بخار کا پھیلاؤ روکنے کی امید

    مچھروں کو بہرا کرنے سے ڈینگی بخار کا پھیلاؤ روکنے کی امید

    ماہرین نے کہا ہے کہ مچھروں کو قوتِ سماعت سے محروم کرکے ڈینگی، زرد بخار اور زیکا جیسے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ نئی تحقیق ایک اہم پیش رفت ہے جس میں سائنس دانوں نے trpVa پروٹین کو نشانہ بنایا ہے جو مچھروں کے لیے سماعت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ڈینگی، زرد بخار اور زیکا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف تجربات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلے میں سائنس دانوں کی حالیہ تحقیق میں مچھروں کی سماعت پر فوکس کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ مچھروں کے نر اور مادہ کی ملنے والی آوازیں ہی ان کے ملاپ کا سبب بنتی ہیں، جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا امکان بڑھتا ہے۔ نر اور مادہ مچھر اپنے پروں کی خاص فریکوئنسی پر آواز پیدا کرتے ہیں، جسے نر مچھر سماعت کے ذریعے مادہ مچھروں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
    سائنس دانوں نے trpVa نامی پروٹین کو نشانہ بنایا ہے، جو مچھروں کی سماعت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ لیب میں کیے گئے تجربات میں یہ ثابت ہوا کہ جن مچھروں میں trpVa پروٹین نہیں ہوتا، وہ مادہ مچھروں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مچھروں کو قوتِ سماعت سے محروم کر دیا جائے، تو وہ دوسرے مچھروں سے میل جول کرنے میں ناکام رہیں گے، جس سے ان کی نسل کشی اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مچھروں کی سماعت کو مکمل طور پر روک دیا جائے تو ان کی افزائشِ نسل میں رکاوٹ آئے گی، اور نتیجتاً ڈینگی، زرد بخار اور زیکا جیسے موذی وائرس کی پھیلاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ہر سال لاکھوں انسانوں کی جانیں ان بیماریوں کے باعث جاں بحق ہوتی ہیں، اور سائنس دان اب اس کوشش میں ہیں کہ مچھروں کی افزائش روک کر ان بیماریوں کو قابو کیا جا سکے۔
    ماہرین اس کے ساتھ ساتھ نس بندی والے مچھروں کو قدرتی ماحول میں چھوڑنے کے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ایسے مچھروں کو ان علاقوں میں چھوڑا جائے گا جہاں مچھروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، تاکہ ان کی نسل کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ اس طریقے سے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے اور انسانوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن پیدا ہو سکتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ مچھروں کی قوتِ سماعت کو متاثر کرنے اور نسل کشی کے اقدامات سے عالمی سطح پر ڈینگی، زرد بخار اور زیکا جیسے بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق عالمی صحت کے میدان میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے اور اگر اس پر مزید تحقیق اور تجربات کیے جائیں تو اس کے مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔

  • حکومت کا مہنگائی روکنے کے لیے مڈل مین پر سختی کرنے کا فیصلہ: وفاقی وزیر خزانہ

    حکومت کا مہنگائی روکنے کے لیے مڈل مین پر سختی کرنے کا فیصلہ: وفاقی وزیر خزانہ

    کراچی: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کراچی میں فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مڈل مین پر سختی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دالوں اور مرغی جیسی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے، اور اس صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت عوام تک براہِ راست ریلیف پہنچانے کے عمل میں مڈل مین کو رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دے گی اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے قیمتیں قابو میں رکھی جا سکیں۔ انہوں نے مڈل مین کے کردار کو مہنگائی میں ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جائے گا تاکہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاء دستیاب ہوسکیں۔
    سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کرپشن پر قابو پانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پر قابو پانا اور شفافیت لانا حکومت کے اہم مقاصد میں شامل ہے، جس کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حکومتی اقدامات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، اور عوامی وسائل کا درست استعمال ہوگا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو دی جانے والی مراعات کو اہداف سے مشروط کرے گی، یعنی اب صنعتوں کو مراعات بغیر کسی کارکردگی کے نہیں دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام صنعتوں کو زیادہ فعال اور مؤثر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
    وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ حکومت کو ملکی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس بڑھانا پڑے گا، مگر اس کا بوجھ صنعتکاروں اور تنخواہ دار طبقے پر نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نئے ٹیکسز سے معاشی بحران کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل اکٹھے کیے جائیں گے، لیکن ان سے کم آمدنی والے طبقے اور تنخواہ دار افراد پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔سینیٹر محمد اورنگزیب کے اس خطاب کو کاروباری طبقے کی طرف سے مثبت ردعمل ملا ہے، جبکہ عوام نے بھی مڈل مین پر سختی کرنے کے حکومتی ارادے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

  • حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا

    حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا

    مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان عوام کے لیے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے، کیونکہ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ستمبر کے مہینے کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1 روپے 28 پیسے فی یونٹ کی کمی کردی گئی ہے۔سی پی پی اے (چئیرمین پاور پرچیزنگ ایجنسی) کی جانب سے 71 پیسے فی یونٹ کی کمی کی درخواست کی گئی تھی، جسے نیپرا نے منظور کرتے ہوئے صارفین کو اس ریلیف کا فائدہ دینے کی اجازت دی۔ یہ کمی نومبر کے بلوں میں صارفین تک پہنچے گی، جس سے صارفین کو توانائی کے استعمال میں مالی فائدہ حاصل ہوگا۔یہ کمی لائف لائن، پری پیڈ، کے الیکٹرک صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز پر لاگو نہیں ہوگی۔ ان صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تاہم، دیگر تمام صارفین کے لیے اس کمی کا فائدہ نومبر کے بلوں میں شامل ہوگا۔اس اقدام کا مقصد عوام پر بڑھتی ہوئی مالی بوجھ کو کم کرنا اور توانائی کے شعبے میں بہتر اصلاحات لانا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کی موجودہ لہر کو روکنے اور صارفین کے لیے ریلیف فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو   ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت سے پاک امریکا تعلقات میں بہتری کی امید

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت سے پاک امریکا تعلقات میں بہتری کی امید

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر انہیں مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اس کامیابی سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی توقع ہے۔ لاہور سے جاری ایک بیان میں مریم نواز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کے 47ویں صدر بننے پر مبارک باد دی اور انہیں مستقبل میں کامیابیاں حاصل کرنے کی دعا دی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دوبارہ صدر منتخب ہونا خطے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے، اور اس سے نہ صرف پاک امریکا تعلقات میں استحکام آئے گا بلکہ مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات سے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ ملے گا اور باہمی تجارت سمیت مختلف شعبوں میں پیشرفت ممکن ہوگی۔امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر دوبارہ عہدہ صدارت حاصل کر لیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کل 538 الیکٹورل ووٹوں میں سے 277 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کی مخالف امیدوار کملا ہیرس 226 ووٹ حاصل کر سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے انہیں امریکا کا 47واں صدر بنا دیا ہے، جو دوسری بار اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

  • اسلام آباد میں پولیس پر فائرنگ، بینک ڈکیتیوں میں ملوث ملزم سلیمان ہلاک

    اسلام آباد میں پولیس پر فائرنگ، بینک ڈکیتیوں میں ملوث ملزم سلیمان ہلاک

    اسلام آباد: تھانہ سمبل کے علاقے میں پولیس پارٹی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں حراست میں موجود بینک ڈکیتیوں میں ملوث ملزم سلیمان ہلاک ہوگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم ملزم کو برآمدگی کے لئے لے کر جارہی تھی۔ پولیس پارٹی نے جب گولڑا موڑ کے قریب پہنچنے کی کوشش کی تو ملزمان نے اچانک ان پر فائرنگ کردی۔ تاہم، پولیس جوانوں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔ ملزمان کی فائرنگ سے ملزم سلیمان شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سلیمان حالیہ بینک ڈکیتیوں میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری کے بعد متعدد کیسز میں پیش رفت ہوئی تھی۔

  • علی محمد خان کا پی ٹی آئی کے بانی کے دوبارہ آنے کا دعویٰ،

    علی محمد خان کا پی ٹی آئی کے بانی کے دوبارہ آنے کا دعویٰ،

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان دوبارہ وطن واپس آئیں گے اور ان کا سفر دوبارہ اسی جگہ سے شروع ہوگا جہاں سے "رجیم چینج” کا عمل شروع ہوا تھا۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے بتایا کہ دو ماہ بعد ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے، جس دوران انہوں نے ملک کی سیاسی صورتحال اور موجودہ حکومتی اقدامات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔علی محمد خان نے سوال اٹھایا کہ "کیا قومیں اپنے ہیروز کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ ملک کے قائد نے ہمیشہ کہا کہ ملک بھی میرا، فوج بھی میری اور ادارے بھی میرے ہیں، اور پھر بھی انہیں اس طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ جب تک خواتین کے حقوق کے بارے میں ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک کوئی بھی حکومتی ادارہ اس بات کا ذمہ دار ہو گا۔ "کیا خاتون وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہے؟ اگر آپ یہ نہیں کر رہے، تو کرسی چھوڑ دیں۔علی محمد خان نے وفاقی وزیر شہریار آفریدی اور مراد سعید کی جیل میں موجودگی کے حوالے سے بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کا جیل میں رہنا غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے، اور اس طرح کے اقدامات کو مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "جب آپ حق کے راستے پر ہوتے ہیں تو مشکلات آتی ہیں”، اور ان کا ایمان ہے کہ پی ٹی آئی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی بیرونی طاقت یا شخصیت سے امید نہیں رکھتی، بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہی امید ہے کہ پی ٹی آئی کا بانی دوبارہ واپس آئے گا اور اس کا سفر دوبارہ اسی مقام سے شروع ہوگا جہاں سے "رجیم چینج” کی سازش کا آغاز ہوا تھا۔
    علی محمد خان نے آئینی ترمیم 26 کے حوالے سے بھی بات کی، جو حالیہ دنوں میں منظور کی گئی تھی، اور اس کو فسطائیت کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کی کہ وہ آئینی ترمیم پر اپوزیشن سے مشاورت کے بغیر کیوں آگے بڑھی۔ "آپ نے پارلیمنٹ میں بحث کیوں نہیں کروائی؟ تحریک انصاف نے ہمیشہ ملکی بہتری کے لیے قانون سازی کی حمایت کی ہے، لیکن یہاں بحث کی ضرورت تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف اپنے اداروں کی مضبوطی چاہتی ہے اور پارلیمنٹ میں ایسی قانون سازی لانی چاہیے تھی جو ملک کے اداروں کو مضبوط کرے۔ انہوں نے سوال کیا کہ "سپریم کورٹ کی طاقت کو کم کیوں کیا جا رہا ہے؟ علی محمد خان نے امریکہ میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکہ میں نئی قیادت ایسا نہیں کرے گی جو موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کر رہے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا: سابق آفیسرز 70 سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیاں اپنے ساتھ لے گئے،

    خیبرپختونخوا: سابق آفیسرز 70 سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیاں اپنے ساتھ لے گئے،

    پشاور: خیبرپختونخوا میں محکمہ ایکسائز کے سابق افسران کے خلاف سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے پر سخت اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں موصولہ دستاویزات کے مطابق، مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے سابق ڈی جیز اور سیکرٹریز نے تقریباً 70 سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیاں اپنے ذاتی استعمال میں لے لی ہیں، جس پر محکمے نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔محکمہ ایکسائز کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سابق ڈی جی عاطف الرحمٰن کے پاس تین، سابق سیکرٹری ایکسائز اسلام زیب کے پاس چار، سابق ڈی جی ثاقب رضا اور عادل شاہ کے پاس بھی تین تین گاڑیاں جبکہ سابق سیکرٹری اقبال حیدر کے پاس چار گاڑیاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ڈی جی ایکسائز ظفر اسلام بھی تین گاڑیاں محکمے سے لے کر گئے ہیں۔
    دستاویزات کے مطابق دیگر آفیسرز جن میں شاہ فہد، رفیق مہمند، محمد طاہر، عبدوالی منصور، ارشد مشرف مروت، یوسف کریم، سید مظہر علی شاہ، عطا الرحمٰن، ظاہر شاہ، محمد اکبر، نسیم حان، خالد مطیع اللہ، شاہ نواز، انعام گنڈاپور، اور فضل الہی شامل ہیں، ہر ایک نے ایک ایک گاڑی اپنے قبضے میں رکھی ہوئی ہے۔محکمہ ایکسائز کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گاڑیاں واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والے آفیسرز کے گھروں پر چھاپے مارنے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ان گاڑیوں کی بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔ محکمہ ایکسائز کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ کارروائی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احکامات کے تحت کی جا رہی ہے اور سرکاری گاڑیوں کی واپسی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
    محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سرکاری وسائل کے بے جا استعمال کے خلاف سختی سے نوٹس لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار کسی بھی افسر کو سرکاری گاڑیاں اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ یہ گاڑیاں واپس لی جائیں۔محکمہ ایکسائز کی اس فوری اور سخت کارروائی نے جہاں دیگر افسران کو بھی محتاط کر دیا ہے، وہیں عوامی سطح پر بھی اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔

  • آئی ایم ایف وفد کا پاکستان کا دورہ: کارکردگی اور اقتصادی اصلاحات کا جائزہ لے گی

    آئی ایم ایف وفد کا پاکستان کا دورہ: کارکردگی اور اقتصادی اصلاحات کا جائزہ لے گی

    اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایک اہم وفد، مشن چیف ناتھن پورٹر کی قیادت میں، 11 نومبر سے 15 نومبر تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔ یہ دورہ پاکستانی معیشت کی موجودہ صورتحال اور آئی ایم ایف اسٹاف پروگرام سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق، وفد اپنے دورے کے دوران پاکستان کی اقتصادی کارکردگی اور حالیہ پیش رفت پر بات چیت کرے گا۔ خاص طور پر، وفد اس بات کا جائزہ لے گا کہ پاکستان نے اقتصادی استحکام اور اصلاحات کے حوالے سے اب تک کتنی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان کے حکام کے ساتھ مختلف اقتصادی شعبوں میں ہونے والے ترقیاتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
    تاہم، ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف وفد اس دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے پہلے جائزے پر بات چیت نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ ای ایف ایف پروگرام کا پہلا جائزہ آئندہ سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے، اور اس حوالے سے کوئی باضابطہ مشاورت یا مذاکرات فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے معاشی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم کرنا اور اصلاحاتی اہداف کے حصول میں مدد دینا ہے۔ اس پروگرام کی پہلی قسط کے بعد سے پاکستان نے اپنے مالیاتی نظام میں کئی اصلاحات کی ہیں، جن میں ٹیکس وصولی میں بہتری، سبسڈی میں کمی، اور معاشی نظم و ضبط کو فروغ دینا شامل ہیں۔
    آئی ایم ایف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، اور غیر ملکی ذخائر کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف وفد کی جانب سے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا، جو معیشت کی مضبوطی اور استحکام کی طرف حکومتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس دورے سے پاکستان اور عالمی برادری کو پاکستان کی معیشت کی صورتحال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بہتر آگاہی حاصل ہوگی۔

  • نواز شریف کی جنیوا روانگی، مریم نواز سے ملاقات اور 4 دن کا قیام متوقع

    نواز شریف کی جنیوا روانگی، مریم نواز سے ملاقات اور 4 دن کا قیام متوقع

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد، نواز شریف آج لندن سے جنیوا روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کی روانگی کے موقع پر برطانیہ میں مسلم لیگ (ن) کی اہم قیادت ایون فیلڈ ہاؤس پہنچی، جہاں پارٹی رہنما زبیر گل، شیخ عنصر، احسن ڈار، اور خرم بٹ بھی موجود تھے۔نواز شریف کے اس دورے کا مقصد اپنی صاحبزادی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات کرنا ہے، جو ان دنوں جنیوا میں موجود ہیں۔ مریم نواز اپنے طبی معائنے کے سلسلے میں جنیوا گئی ہیں اور توقع ہے کہ نواز شریف ان سے صحت کی تفصیلات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ یہ ملاقات مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہوسکتی ہے، خاص طور پر جب پاکستان میں سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔نواز شریف جنیوا میں چار دن گزاریں گے، جس کے دوران وہ اپنی بیٹی کے طبی معائنے کی تفصیلات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ ان چار دنوں کے بعد ان کی لندن واپسی متوقع ہے۔
    نواز شریف کی روانگی کے موقع پر ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر برطانیہ میں مقیم لیگی کارکنان اور قیادت کا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ زبیر گل، شیخ عنصر، احسن ڈار، اور خرم بٹ جیسے قریبی ساتھی اور پارٹی رہنما نواز شریف کے حوصلے اور عزم کو مزید بلند کرنے کے لیے موجود تھے۔نواز شریف کی جنیوا میں مریم نواز سے ملاقات اور ان کے چار دن کے قیام کو پاکستانی سیاست میں نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔