Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • امریکا میں ٹرمپ کی دوبارہ صدارت پر طالبان کی امیدیں

    امریکا میں ٹرمپ کی دوبارہ صدارت پر طالبان کی امیدیں

    امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت کے انتخاب کے بعد افغانستان کی طالبان حکومت نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح پیش رفت ہوگی اور اس کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہوگا۔یاد رہے کہ امریکا اور طالبان نے 2020 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے عہدِ صدارت میں عمل میں آیا تھا۔ افغان وزارت خارجہ نے مزید یہ بھی امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے سے غزہ اور لبنان میں جاری لڑائی رک سکے گی اور وہ دنیا کو جنگ و جدل سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کی ٹرمپ ٹیم سے ملاقاتیں، عمران خان کے معاملے میں ترجیح کی یقین دہانی، رؤف حسن کا انکشاف

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی ٹرمپ ٹیم سے ملاقاتیں، عمران خان کے معاملے میں ترجیح کی یقین دہانی، رؤف حسن کا انکشاف

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنماؤں رؤف حسن اور ذلفی بخاری نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے مختلف بیانات دیے ہیں، جس میں پی ٹی آئی کے کردار اور ٹرمپ کی کامیابی پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔رؤف حسن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی امریکہ میں ٹرمپ کی ٹیم سے دو یا تین میٹنگز ہو چکی ہیں، جن میں عمران خان کے معاملے کو ترجیح دینے کی ضمانت دی گئی تھی۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان میٹنگز سے متعلق ان کے پاس کوئی خاص معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی ٹرمپ کی ٹیم سے کسی براہِ راست رابطے کا کوئی امکان ہے۔ رؤف حسن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی یہ توقع نہیں رکھی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے سے عمران خان کی رہائی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے نہ تو ٹرمپ سے کوئی خاص امیدیں وابستہ کی تھیں اور نہ ہی ایسا کچھ توقع کیا تھا۔” انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی خاص رابطہ نہیں تھا، بلکہ پی ٹی آئی نے عدلیہ، پارلیمان اور پُرامن احتجاج کے ذریعے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ رؤف حسن کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کبھی بھی ٹرمپ کے حوالے سے کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی۔
    واضح رہے کہ امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں تمام 50 ریاستوں کی پولنگ کے نتائج کے مطابق ری پبلکنز کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی ہے، اور انہوں نے ڈیموکریٹس کی امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ٹرمپ کی کامیابی کو ایک بڑی جیت اور جمہوریت کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ٹرمپ کی کامیابی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے کہ ان کی قیادت میں عالمی سطح پر امن و خوشحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے مسائل پر مثبت پیشرفت ہوگی۔رؤف حسن اور ذلفی بخاری کے بیانات نے پی ٹی آئی کی جانب سے ٹرمپ کے حوالے سے غیر رسمی حمایت کو واضح کیا ہے، تاہم ان کے مطابق پارٹی نے ٹرمپ سے کوئی خاص سیاسی مفادات نہیں جڑے ہیں۔

  • ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کہیں گے، خواجہ آصف

    ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کہیں گے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اسٹیبلشمنٹ ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے۔خواجہ محمد آصف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکا میں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت موجود ہے جو پاکستان سے زیادہ طاقتور ہے، اور ٹرمپ کے حالیہ انتخاب کو امریکی عوام کی مرضی کے مطابق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبات سامنے آنے کے باوجود، وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ٹرمپ اس مطالبے کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ "ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کہیں گے، ہمیں 15 سے 20 دن تک انتظار کرنا چاہیے کہ اس پر ٹرمپ کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔” خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اس وقت تک عالمی سیاست اور تعلقات میں امریکا کے مفادات کو اہمیت دی جاتی ہے، اور اگر امریکی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے جنگیں جاری رہیں تو اس میں پاکستان کی کوئی حصہ داری نہیں ہو سکتی۔
    وزیر دفاع نے اس موقع پر لبنان اور فلسطین میں امریکا کی سربراہی میں جاری جنگوں کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ٹرمپ جنگوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز کے ذریعے اس پر مزید راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جنگوں میں مداخلت جاری رکھے گا، تو پاکستان بھی اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ کوئی بھی خود مختار ملک اپنے تعلقات کو ایک شخص کے لیے خراب نہیں کرے گا، اور اس کی سیاست میں داخلی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔خواجہ محمد آصف نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلی شکست پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ "ٹرمپ نے اپنی ہار کے بعد کیپٹل ہل پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکا میں سیکڑوں افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں۔” وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی سیاست اور ان کے فیصلے ہمیشہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کرتے ہیں، اور پاکستان ان فیصلوں کو بڑی احتیاط سے دیکھ رہا ہے۔

  • سپریم کورٹ میں دو اہم اجلاس متوقع

    سپریم کورٹ میں دو اہم اجلاس متوقع

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئندہ دو روز کے دوران دو اہم اجلاس منعقد ہوں گے۔پہلا اجلاس 7 نومبر کو انسداد دہشت گردی عدالتوں (اے ٹی سی) کے انتظامی ججز کے متعلق ہوگا، جس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کریں گے۔ اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کے انتظامی ججز کو عمل درآمد رپورٹس کے ہمراہ طلب کیا گیا ہے تاکہ عدالتوں کے انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔دوسرا اجلاس 8 نومبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کا ہوگا، جس کی صدارت بھی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کریں گے۔ اس اجلاس میں اہم قانونی اور عدالتی امور پر بات چیت کی جائے گی۔یہ اجلاس عدلیہ کے اہم فیصلوں اور عدلیہ کے انتظامی امور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، اور ان کی حیثیت پاکستان کے عدلیہ نظام میں اہمیت کی حامل ہو گی۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات

    ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم بات چیت کی گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق، سعودی ولی عہد نے جنرل عاصم منیر کا ریاض میں استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کیا۔ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور جنرل عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع کا جائزہ لیا اور ان میں مزید بہتری لانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور سعودی حکام نے بھی شرکت کی، جو ملاقات میں دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیتے رہے۔
    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ دلچسپی کے متعدد امور پر بھی بات کی، جن میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون، اور اقتصادی تعلقات کے مزید مواقع شامل تھے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہش مند ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعلقات کی نوعیت میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ آپس میں مشاورت کو بڑھائیں گے اور علاقائی اور عالمی سطح پر مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔

  • کامران مرتضیٰ کا سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرنے پر سخت اعتراض

    کامران مرتضیٰ کا سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرنے پر سخت اعتراض

    جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر اور سینئر قانون دان کامران مرتضیٰ نے سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرنے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کیا جائے، تو اس کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، ورنہ اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔کامران مرتضیٰ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو اس کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے، اگر ایسی کوئی وجہ نہیں تو پھر اس پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ نہیں ہیں بلکہ سینئر جج ہیں، اور یہ اصطلاح بھی خود ہم نے شامل کی تھی۔ "اگر ہم سربراہ کی اصطلاح استعمال کرنے لگیں، تو پھر عدالت کے اندر عدالت اور ریاست کے اندر ریاست کا تصور ابھرتا ہے، جو کہ ہمارے آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
    کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ ہماری تشویش یہی تھی کہ سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز نہ کیا جائے، لیکن حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ درست نہیں ہے۔” انہوں نے اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران کئی مرتبہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ چیف جسٹس کے معاملات سمیت سنیارٹی کے اصول کو مدنظر رکھا جائے گا۔
    اس حوالے سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ یقین دہانی اعظم نذیر تارڑ نے کرائی تھی؟ تو ان کا جواب تھا، "آپ نام کو چھوڑیں، میں نے کبھی کسی کے بارے میں اس طرح سے بات نہیں کی تھی، اور مجھے پارٹی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ بند کمروں کی باتیں باہر نہ کھل کر بیان کریں۔” کامران مرتضیٰ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ منصور علی شاہ سینئر جج ہیں اور انہیں ہی چیف جسٹس کے منصب پر مقرر کیا جائے گا۔کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سنیارٹی کا اصول صرف اس صورت میں نظرانداز کیا جا سکتا ہے جب کوئی شخص سینئر ہو، لیکن اس کے پاس اس عہدے کی اہلیت نہ ہو یا اس میں دیگر خامیاں موجود ہوں۔ "اگر آپ اس اصول کو نظرانداز کرتے ہیں، تو یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے، اور اس سے ادارے کمزور ہوں گے۔
    آئینی بینچ کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "فی الحال یہ بینچ صرف 60 دن کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بینچ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اگر 60 دن میں بینچ کے کسی ممبر پر اعتراض آ گیا تو حکومتی اکثریت اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے فیصلہ بدل سکتی ہے۔” ان کے مطابق یہ ایک غلط رویہ ہے جو آئینی تبدیلی کے عمل کو متاثر کرے گا۔سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بھی کامران مرتضیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ "یہ فیصلہ جن اداروں کے لیے کیا گیا ہے، ان کے لیے یہ مسائل پیدا کرنے والی بات ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتائج آئینی اصولوں کے خلاف جا سکتے ہیں، اور یہ ملک کے اداروں کی آزادگی اور خود مختاری پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف کی کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے چینی سفارتخانے کا دورہ کر کے کراچی میں چینی شہریوں پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے چینی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات وزیراعظم کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔چینی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، "میں چینی شہریوں پر کراچی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرنے اور زخمیوں کی صحت کی معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ سے ملنے آیا ہوں۔” وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس حملے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرے گی اور انہیں سخت سزا دلوائے گی۔

    انہوں نے مزید کہا، "میں خود اس عمل کی نگرانی کر رہا ہوں اور چینی شہریوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔” وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے چینی شہریوں کی صحت میں بہتری آ رہی ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ "چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے، اور چینی شہریوں پر حملہ پاک چین برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔چینی سفیر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم واقعے کے ذمہ داران کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔وزیراعظم کے ہمراہ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن رضا نقوی، اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

  • ہمیں کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ علیمہ خان

    ہمیں کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ علیمہ خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بھائی کی قید اور موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے عوام کے ووٹ کے چوری ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کا حل اب سڑکوں پر عوام کی طاقت سے ہوگا۔علیمہ خان نے کہا، "فیصلہ اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ایک منظم جماعت ہے جس میں واضح قیادت موجود ہے، اور ہمارے قومی اسمبلی کے اراکین (ایم این ایز) اور صوبائی اسمبلی کے اراکین (ایم پی ایز) موجود ہیں۔ ان کے مطابق، قیادت جلد ہی فیصلہ کرے گی کہ احتجاج کس طرح منظم کیا جائے گا اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کیا ہوگا۔
    جب غیر ملکی مداخلت اور سیاست میں بیرونی اثرات پر سوال اٹھایا گیا تو علیمہ خان نے واضح طور پر کہا، "ہمیں کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ کوئی غیر ملکی ملک ہمیں بتائے کہ پی ٹی آئی کے بانی کو رہا کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام اور قیادت کو خود کرنا چاہیے، نہ کہ بیرونی قوتوں کی مداخلت سے۔علیمہ خان نے ڈیلز اور مذاکرات کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا، ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ ڈیل کی باتیں کون کر رہا ہے۔ اگر ہمیں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے تو ہمیں کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی سیاسی جدوجہد کو صرف پاکستانی عوام کے فیصلوں سے حل کرنا چاہیے۔

  • امریکی یہودیوں کی اکثریت نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ

    امریکی یہودیوں کی اکثریت نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ

    واشنگٹن: اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتخابات میں اکثریت امریکی یہودی ووٹرز نے ڈیموکریٹ امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 79 فیصد امریکی یہودی ووٹرز نے کملا ہیرس کو ووٹ دیا، جبکہ صرف 21 فیصد یہودی ووٹرز نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہودی ووٹرز کی طرف سے کچھ حد تک حمایت ملی تھی۔ 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ نے 30 فیصد یہودی ووٹ حاصل کیے، جبکہ 2016 کے انتخابات میں یہ تعداد 24 فیصد تھی۔ یہ واضح کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہودی ووٹرز کے رجحانات میں تبدیلی آئی ہے اور وہ ڈیموکریٹس کی طرف زیادہ مائل ہوئے ہیں۔
    یہودی تاریخ کا ڈیٹا جمع کرنے والی یہودی ورچوئل لائبریری نے بھی حالیہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی یہودیوں کی اکثریت نے ڈیموکریٹس کے امیدوار کی حمایت کی۔ یہودی ورچوئل لائبریری کے اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کو یہودی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جو ان کے سابقہ ​​حمایتی رجحانات کو نمایاں طور پر تبدیل کرتی ہے۔انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مرتبہ یہودی ووٹرز کے ڈیموکریٹس کی طرف جھکاؤ پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی یہودیوں کے مفادات کا دفاع نہیں کر رہی، اس کے باوجود یہودی ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو ہی ترجیح دی۔یہودی ووٹرز کے رجحانات میں اس تبدیلی کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں، جن میں داخلی اور بین الاقوامی پالیسیز اور ڈیموکریٹس کے نظریات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہودی کمیونٹی کا ڈیموکریٹس کی طرف یہ رجحان امریکا کے آئندہ انتخابات میں بھی نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

  • امریکا کا ہائپر سونک میزائل کا تجربہ: ٹرمپ کی جنگوں کے خاتمے کی یقین دہانی

    امریکا کا ہائپر سونک میزائل کا تجربہ: ٹرمپ کی جنگوں کے خاتمے کی یقین دہانی

    امریکا نے 2024 کے صدارتی انتخاب سے قبل ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے اس کی فوجی تیاریوں اور عالمی سطح پر امریکی سلامتی کے عزم کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تجربہ کئی سال پہلے شیڈول کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد ایٹمی جنگ کے حوالے سے امریکا کی تیاریوں کو اجاگر کرنا تھا۔امریکی فوج نے منٹ مین تھری انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا تجربہ وینڈر برگ اسپیس فورس بیس، کیلیفورنیا سے کیا۔ اس میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتار 15 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، اور یہ تقریباً 4000 میل دور شمالی بحرالکاہل میں واقع کوجلن ایٹول تک پہنچا۔ حکام کے مطابق، یہ تجربہ امریکی فوج کے عالمی سطح پر کسی بھی مقام کو زیادہ سے زیادہ 30 منٹ میں نشانہ بنانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
    یہ تجربہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح کے فوراً بعد آیا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد جنگوں کا خاتمہ ہے اور وہ کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بیان عالمی سطح پر امریکا کے امن و استحکام کی جانب اشارہ کرتا ہے۔اس تجربے کا بنیادی مقصد دنیا کو امریکا کی جنگی تیاریوں کی نوعیت اور طاقت کا احساس دلانا تھا۔ اسپیس لانچ ڈیلٹا تھرٹی کے وائس کمانڈر کرنل بریان ٹائٹس نے دی میٹرو کو بتایا کہ اس تجربے کا آغاز ‘گارجینز اینڈ ایئرمین’ کے اہم ہفتے سے ہوا، جو امریکا کی فوجی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔ کرنل ٹائٹس نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ مزید دو میزائل تجربے ویسٹرن رینج سے شیڈول کیے گئے ہیں۔یہ تجربہ ایک بار پھر امریکا کے ایٹمی اور دفاعی پروگرام کے حوالے سے اس کے عزم کا مظہر ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس کا مقصد عالمی سطح پر امریکا کی قوت کا ایک اور اظہار تھا، تاکہ دنیا کو اس کی فوجی تیاریوں اور پراعتمادی کا پتا چلے۔