Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے اہم ملاقات

    سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے اہم ملاقات

    راولپنڈی : سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر ایئر مارشل راؤپ راجا پاکسے نے پاکستان کے جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔دورے کے دوران ایئر مارشل راؤپ راجا پاکسے نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے اہم ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افواج نے خطے میں امن اور استحکام کے لئے جو کردار ادا کیا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔
    ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، جس میں مشترکہ مشقیں، تربیت اور عسکری ٹیکنالوجی میں اشتراک کو مزید بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ایئر مارشل راؤپ راجا پاکسے نے کہا کہ سری لنکا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دفاعی شعبے میں تعاون کے ذریعے دونوں ممالک اپنے سکیورٹی اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں۔جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک سری لنکا کے ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لئے پُرعزم ہے، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
    دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین مختلف عسکری امور پر بھی گفتگو ہوئی اور مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسعت دینے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    اس اہم ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید تقویت دی ہے اور یہ اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان اور سری لنکا اپنی سلامتی اور استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات پر پابندی خود لگوائی،فیصل واوڈا

    پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات پر پابندی خود لگوائی،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات پر پابندی ان ہی کی درخواست پر لگائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی حکومت نے نہیں بلکہ خود پی ٹی آئی کی قیادت کے کہنے پر عائد کی تھی۔ سینیٹرفیصل واوڈا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ملاقات تو انہیں کرنی ہی نہیں تھی، کیونکہ یہ جو پابندی لگائی گئی تھی، وہ پی ٹی آئی کے کہنے پر ہی لگائی گئی کہ ہمیں ملاقات کے لیے اجازت نہ دلاؤ۔ جب عمران خان ہم سے باہر نکلنے کے لیے کہتے ہیں تو ہمارے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے 62 امریکی سینیٹرز کا خط منگوا کر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید دوریاں پیدا کردی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب یہ خود اس سے فائدے اٹھائیں گے، انہوں نے عمران خان اور ان کی سیاست کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔
    بشریٰ بی بی کی رہائی کے حوالے سے سوال پوچھے جانے پر فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر یہ رہائی کسی ڈیل کے تحت نہیں ہوئی تو پھر بنی گالہ میں کئی ہفتوں سے جاری رنگ و روغن اور درخت لگانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے مزید کہا، "وہاں صاف صفائی ہو گئی ہے۔” سینیٹر واوڈا نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ڈیل کی تفصیلات کیا ہیں، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی رہائی ابھی ممکن نہیں ہے۔ "ان کے خلاف کئی کیسز موجود ہیں، اور کسی کو نہیں معلوم کہ ان کے خلاف کون سے کیسز اندر پڑے ہیں۔
    ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "جنرل (ر) فیض حمید نو مئی کے واقعات اور ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے عمران خان کے سر ڈال رہے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے نتیجے میں فیض حمید کو سزا بھی ملے گی اور کورٹ مارشل بھی ہوگا۔ فیصل واوڈا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ "عمران خان کے وزیر مراد سعید ارشد شریف کے قتل کے کیس میں کیوں غائب ہیں؟ کیوں دو سال میں ان کی ایک جھلک بھی سامنے نہیں آئی؟جب سینیٹر واوڈا سے 27ویں ترمیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ "میں نے 26ویں ترمیم سے پہلے ہی 27ویں ترمیم کی بات کی تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ "27 کے بعد مزید 28 اور دیگر ترامیم بھی آئیں گی۔”

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جمعہ کا پبلک ڈے منسوخ کر دیا،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جمعہ کا پبلک ڈے منسوخ کر دیا،

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے جمعہ کے روز ہونے والے پبلک ڈے کو منسوخ کرتے ہوئے اپنے کارکنان اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر جلسے کی تیاری کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک مختصر پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ جمعہ کا دن عموماً عوامی ملاقات کے لیے مخصوص ہوتا ہے، لیکن اس جمعہ کو ملاقات نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے جمعہ کو عوام سے ملاقات کی جائے گی۔گنڈاپور نے اپنے پیغام میں کارکنان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور آنے کی زحمت نہ کریں اور جلسے کی تیاری پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا، "آپ سب کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ سی ایم ہاؤس پشاور آنے کی زحمت نہ کریں اور جلسے کے لیے تیاری کریں۔
    ایک مختصر میڈیا ٹاک کے دوران، وزیراعلیٰ نے 26 ویں آئینی ترمیم کو وفاقی حکومت کی من پسند ترمیم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، "پی ٹی آئی اس بار پورے پاکستان کو بند کرے گی۔ یہ حکومت آئین کو بار بار توڑ رہی ہے اور اس کے خلاف ہم مکمل بندوبست کر چکے ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے پارٹی قائدین اور کارکنان کو 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور احتجاج کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں وہ احتجاج کے حوالے سے آگاہ کریں گے اور عمران خان کی ہدایت پر تاریخ کا اعلان کریں گے۔پارٹی قیادت نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج یا دھرنے کے لیے کارکنان کو نکالنا مشکل ہو گا۔ اس تناظر میں، علی امین گنڈاپور نے بڑے شہروں اور اضلاع میں ضلعی قیادت کی نگرانی میں احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ گنڈاپور احتجاج کے لیے تیاریوں کے حوالے سے پارٹی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے پورے پاکستان میں بھرپور احتجاج کے لیے انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کارکنان کو زیادہ سے زیادہ نکلنے کی ترغیب دی ہے۔

  • اقوام متحدہ کا چارٹر خطے میں انسانی حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا ہے، اسحاق ڈار

    اقوام متحدہ کا چارٹر خطے میں انسانی حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا ہے، اسحاق ڈار

    اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان جاری کیا، جس میں عالمی برادری کی انصاف کے حصول اور معاشرتی ترقی کی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس دن کو اس بات کی یاد دہانی قرار دیا کہ دنیا بھر میں امن، انسانی حقوق اور ترقی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر خطے میں جنگ کی مخالفت اور انسانی حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ عالمی برادری کو امن کے قیام کے لئے مضبوطی سے کام کرنا ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
    اسحاق ڈار نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حفاظت اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا خاتمہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ عالمی برادری کو یو این سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے ضروری ہیں، بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی اہم ہیں۔
    انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ایک ممبر کی حیثیت سے، خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے قیام کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ اسحاق ڈار کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان عالمی مسائل میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر خارجہ کے اس بیان نے اس بات کو واضح کیا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق، انصاف، اور امن کی بنیاد پر مستقبل کی تعمیر میں سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ دنیا میں حقیقی تبدیلی لا سکیں۔

  • وزیراعظم کے حکم پر افسران کا غیر ملکی دورہ منسوخ

    وزیراعظم کے حکم پر افسران کا غیر ملکی دورہ منسوخ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری افسروں کے غیرملکی تعلیمی دورے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور کے 121ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء کا طے شدہ غیرملکی تدریسی دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئیں کہ مستقبل میں بھی نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور کے تحت کوئی غیرملکی اسٹڈی دورہ ترتیب نہ دیا جائے۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری وسائل کا درست اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ ملک کے محدود وسائل کا بہترین طریقے سے استعمال ہو سکے۔
    واضح رہے کہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور نے 121ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء کے لیے ایک غیرملکی تدریسی دورہ شیڈول کیا تھا، تاہم وزیراعظم کے فیصلے کے بعد یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، موجودہ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ملکی خزانے پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے اور افسران کو مقامی سطح پر تربیت کے مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ یہ اقدام قومی پالیسی کے تحت مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور غیرضروری اخراجات کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
    اس فیصلے کے ذریعے سرکاری اداروں کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے گی اور افسران کی تربیت کے لیے ملکی وسائل اور تعلیمی اداروں کو زیادہ فعال بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک کو سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے اور حکومت کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان: عوام کے لیے خوشخبری

    بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان: عوام کے لیے خوشخبری

    اسلام آباد: مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری آئی ہے۔ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، بجلی کی قیمتوں میں اگست کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 86 پیسے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے۔یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کی توانائی کی تقسیم کار کمپنی (سی پی پی اے) نے بجلی کی قیمتوں میں 57 پیسے فی یونٹ کی کمی کی درخواست کی تھی۔ اب یہ فیصلہ عوامی بجلی کے بلوں میں نظر آئے گا۔ صارفین کو یہ ریلیف اکتوبر کے بلوں میں فراہم کیا جائے گا۔ جو صارفین اکتوبر کے بل وصول کر چکے ہیں، انہیں یہ ریلیف نومبر کے بلوں میں ملے گا۔
    یہ کمی لائف لائن، پری پیڈ، کے الیکٹرک صارفین، اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر لاگو نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قیمتیں ویسی ہی رہیں گی جیسی پہلے تھیں۔بجلی کی قیمتوں میں اس کمی کی خبر نے عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر ہے۔ عوامی حلقے اس کمی کو مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں اور اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے اقدامات جاری رہیں گے تاکہ عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جا سکے۔یہ اقدام حکومت کی جانب سے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے، اور اس کا اثر معاشی حالات میں بہتری کی صورت میں نظر آ سکتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

  • ایف بی آر نے ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں تبدیلیوں کا اعلان کر دیا

    ایف بی آر نے ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں تبدیلیوں کا اعلان کر دیا

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 237 میں نئی ترامیم متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کے سسٹم کو مزید فعال بنانا ہے۔ ان نئی ترامیم کے تحت ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کو ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس نئے طریقہ کار سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے بعد فوری طور پر ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہونے کی سہولت حاصل ہوگی۔ یہ تبدیلی ریئل ٹائم ایکیوریسی کو بہتر بنانے اور ٹیکس کمپلائنس میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
    ترمیم کے تحت، وہ ٹیکس دہندگان جو ٹیکس سال 2024 کے لیے اپنے انکم ٹیکس گوشوارے مقررہ تاریخ تک، یا دی گئی کسی توسیع کے اندر جمع کرائیں گے، انہیں فوری طور پر ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، مقررہ یا توسیعی تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 182A کے تحت سرچارج کی ادائیگی کے ذریعے بھی ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہونے کی اجازت ہوگی۔پرانے سسٹم کے تحت ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کو ہر سال مارچ میں اپڈیٹ کیا جاتا تھا، جسے اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت، انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے پر ٹیکس دہندہ کو فوری طور پر ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے ذریعے پراسس مزید مؤثر ہوگا اور ٹیکس کمپلائنس میں بہتری آئے گی۔
    ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم ان کی آپریشنز کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ کے اپ ڈیٹس کے لیے زیادہ متحرک طریقہ اختیار کر کے، ایف بی آر ٹیکس دہندگان اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس نئی تبدیلی کے بعد، امید کی جا رہی ہے کہ ٹیکس دہندگان کو ایف بی آر کے ساتھ زیادہ مؤثر طور پر کام کرنے میں مدد ملے گی، جس سے قومی خزانے میں اضافے اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جا سکے گا۔

  • جمعیت علمائے اسلام نے یوم تشکر منانے کا اعلان کر دیا

    جمعیت علمائے اسلام نے یوم تشکر منانے کا اعلان کر دیا

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر، جے یو آئی کل ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا اعلان کر چکی ہے۔ جے یو آئی کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لانا چاہیے کہ آئین میں اسلامی دفعات کو مزید تحفظ ملا ہے۔ترجمان کے مطابق، اس موقع پر مساجد اور مدارس میں نوافل اور دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔ آئمہ و خطبا حضرات کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عوام کو سود کی حرمت کے بارے میں آگاہ کریں۔
    یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی ہے، جس میں ربا (سود) کے خاتمے سے متعلق شق بھی شامل ہے۔ اس آئینی ترمیم کے مطابق، حکومت یکم جنوری 2028 تک سود کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کی پابند ہے۔ جے یو آئی کی جانب سے یوم تشکر منانے کا یہ اقدام ملک میں اسلامی قوانین کی حمایت اور ان کی مزید تقویت کا ایک اہم قدم ہے۔

  • نادرا نے ایف بی آر کے ساتھ امیر پاکستانیوں کا ڈیٹا شیئر کردیا

    نادرا نے ایف بی آر کے ساتھ امیر پاکستانیوں کا ڈیٹا شیئر کردیا

    نیشنل ڈیٹا بیس ریگولیٹری اتھارٹی (نادرا) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 195,000 امیر پاکستانیوں کا پرائیویٹ ڈیٹا شیئر کیا ہے، جس میں ان کے بینک اکاؤنٹس، جائیداد کی ملکیت اور لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن کی معلومات شامل ہیں۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کی کوششوں کے تحت کیا گیا ہے، خاص طور پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے دیئے گئے مطالبات کے تناظر میں۔ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق، یہ ڈیٹا ان افراد کی شناخت کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا جو اپنی ٹیکس کی ذمہ داریوں سے بچ رہے ہیں، حالانکہ ان کا طرز زندگی واضح طور پر ان کی بلند آمدنی کا پتہ دیتا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ یہ افراد اپنی قانونی ٹیکس واجبات کو پورا نہیں کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو خاطر خواہ نقصان ہو رہا ہے۔
    ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے اس ماہ کے شروع میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امیر ترین آبادی کا 5 فیصد بھی ٹیکس جمع نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق، یہ افراد نہ صرف ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں بلکہ ان کی دولت اور آمدنی کی سطح انہیں اس بات کا اہل بناتی ہے کہ وہ اپنے حصے کا ٹیکس ادا کریں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے جولائی میں ایف بی آر کو ہدایت کی تھی کہ وہ امیر افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں۔ اس ضمن میں، ایف بی آر نے نادرا کے ساتھ اس معلومات کے تبادلے کا آغاز کیا، تاکہ ان افراد کی نشاندہی کی جا سکے جو ٹیکس کی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔
    معلومات کے مطابق، حکومت کی یہ کوششیں نہ صرف قومی خزانے میں اضافے کے لیے اہم ہیں، بلکہ یہ ملک کے معاشی نظام کی اصلاح کے لیے بھی ضروری ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں اور ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ ایف بی آر کی جانب سے اس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرنے کا ارادہ ہے، جو اپنی مالی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ یہ ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد ٹیکس کی وصولی میں اضافہ اور قومی خزانے کی بحالی ہے۔

  • سعودی عرب میں پاکستانی شہری سمیت سات افراد کے سر قلم،

    سعودی عرب میں پاکستانی شہری سمیت سات افراد کے سر قلم،

    ریاض: سعودی عرب میں منشیات اور قتل کے جرائم میں ملوث سات افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔ بدھ کو دی گئی سزاؤں کے بعد رواں سال سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 236 ہوگئی ہے، جو کہ ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے رپورٹ کیا کہ سزائے موت پانے والے افراد میں سے پانچ افراد منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ سعودی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ جنوبی صوبے عسیر میں یمن سے تعلق رکھنے والے چار شہریوں، یحییٰ لطف اللہ، علی عاذب، احمد علی، اور سالم نہاری، کو حشیش کی اسمگلنگ کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ پاکستانی شہری بھی اسی الزام کے تحت سر قلم کی سزا پانے والوں میں شامل تھا۔ ان واقعات کے بعد منشیات کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 71 ہوگئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اپنے سخت مؤقف پر کاربند ہے۔
    سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے ایمفیٹامائن سے تیار ہونے والی منشیات "کیپٹاگون” کی اسمگلنگ کا بڑا ہدف بن چکا ہے، جو زیادہ تر شام اور لبنان جیسے جنگ زدہ علاقوں سے آتی ہے۔ سعودی حکام نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے گزشتہ برس ایک وسیع پیمانے پر انسداد منشیات مہم کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت چھاپے اور گرفتاریاں کی گئیں۔ یہ مہم خاص طور پر دو سال قبل سزائے موت پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد زیادہ شدت اختیار کرگئی، جس کے بعد سعودی عرب میں منشیات کے اسمگلرز کے خلاف سزاؤں پر تیزی سے عملدرآمد ہونے لگا۔ سعودی وزارت داخلہ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے سخت اقدامات کے بغیر منشیات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔سزاؤں میں قتل کے جرم میں ملوث دو سعودی شہریوں کے بھی سر قلم کیے گئے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق یہ سزائیں قتل کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے دی گئیں اور مدعا علیہان کو تمام قانونی عمل اور اپیلوں کا حق دیا گیا تھا۔
    سعودی عرب میں سزائے موت پر عملدرآمد کے بارے میں عالمی سطح پر تنقید جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، خاص طور پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے سعودی عرب میں سزائے موت کے زیادہ استعمال کو غیر ضروری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2023 میں چین اور ایران کے بعد سعودی عرب وہ تیسرا ملک تھا جہاں سب سے زیادہ قیدیوں کو سزائے موت دی گئی۔سعودی حکومت کا مؤقف ہے کہ سزائے موت امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری ہے اور ہر کیس میں قانونی چارہ جوئی کے مکمل عمل کے بعد ہی سزاؤں پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کے مطابق ایسے سخت قوانین اور سزائیں ملک میں امن و امان اور جرائم کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔