Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جمعیت علمائے اسلام نے یوم تشکر منانے کا اعلان کر دیا

    جمعیت علمائے اسلام نے یوم تشکر منانے کا اعلان کر دیا

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر، جے یو آئی کل ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا اعلان کر چکی ہے۔ جے یو آئی کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لانا چاہیے کہ آئین میں اسلامی دفعات کو مزید تحفظ ملا ہے۔ترجمان کے مطابق، اس موقع پر مساجد اور مدارس میں نوافل اور دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔ آئمہ و خطبا حضرات کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عوام کو سود کی حرمت کے بارے میں آگاہ کریں۔
    یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی ہے، جس میں ربا (سود) کے خاتمے سے متعلق شق بھی شامل ہے۔ اس آئینی ترمیم کے مطابق، حکومت یکم جنوری 2028 تک سود کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کی پابند ہے۔ جے یو آئی کی جانب سے یوم تشکر منانے کا یہ اقدام ملک میں اسلامی قوانین کی حمایت اور ان کی مزید تقویت کا ایک اہم قدم ہے۔

  • نادرا نے ایف بی آر کے ساتھ امیر پاکستانیوں کا ڈیٹا شیئر کردیا

    نادرا نے ایف بی آر کے ساتھ امیر پاکستانیوں کا ڈیٹا شیئر کردیا

    نیشنل ڈیٹا بیس ریگولیٹری اتھارٹی (نادرا) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 195,000 امیر پاکستانیوں کا پرائیویٹ ڈیٹا شیئر کیا ہے، جس میں ان کے بینک اکاؤنٹس، جائیداد کی ملکیت اور لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن کی معلومات شامل ہیں۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کی کوششوں کے تحت کیا گیا ہے، خاص طور پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے دیئے گئے مطالبات کے تناظر میں۔ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق، یہ ڈیٹا ان افراد کی شناخت کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا جو اپنی ٹیکس کی ذمہ داریوں سے بچ رہے ہیں، حالانکہ ان کا طرز زندگی واضح طور پر ان کی بلند آمدنی کا پتہ دیتا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ یہ افراد اپنی قانونی ٹیکس واجبات کو پورا نہیں کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو خاطر خواہ نقصان ہو رہا ہے۔
    ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے اس ماہ کے شروع میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امیر ترین آبادی کا 5 فیصد بھی ٹیکس جمع نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق، یہ افراد نہ صرف ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں بلکہ ان کی دولت اور آمدنی کی سطح انہیں اس بات کا اہل بناتی ہے کہ وہ اپنے حصے کا ٹیکس ادا کریں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے جولائی میں ایف بی آر کو ہدایت کی تھی کہ وہ امیر افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں۔ اس ضمن میں، ایف بی آر نے نادرا کے ساتھ اس معلومات کے تبادلے کا آغاز کیا، تاکہ ان افراد کی نشاندہی کی جا سکے جو ٹیکس کی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔
    معلومات کے مطابق، حکومت کی یہ کوششیں نہ صرف قومی خزانے میں اضافے کے لیے اہم ہیں، بلکہ یہ ملک کے معاشی نظام کی اصلاح کے لیے بھی ضروری ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں اور ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ ایف بی آر کی جانب سے اس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرنے کا ارادہ ہے، جو اپنی مالی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ یہ ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد ٹیکس کی وصولی میں اضافہ اور قومی خزانے کی بحالی ہے۔

  • سعودی عرب میں پاکستانی شہری سمیت سات افراد کے سر قلم،

    سعودی عرب میں پاکستانی شہری سمیت سات افراد کے سر قلم،

    ریاض: سعودی عرب میں منشیات اور قتل کے جرائم میں ملوث سات افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔ بدھ کو دی گئی سزاؤں کے بعد رواں سال سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 236 ہوگئی ہے، جو کہ ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے رپورٹ کیا کہ سزائے موت پانے والے افراد میں سے پانچ افراد منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ سعودی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ جنوبی صوبے عسیر میں یمن سے تعلق رکھنے والے چار شہریوں، یحییٰ لطف اللہ، علی عاذب، احمد علی، اور سالم نہاری، کو حشیش کی اسمگلنگ کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ پاکستانی شہری بھی اسی الزام کے تحت سر قلم کی سزا پانے والوں میں شامل تھا۔ ان واقعات کے بعد منشیات کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 71 ہوگئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اپنے سخت مؤقف پر کاربند ہے۔
    سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے ایمفیٹامائن سے تیار ہونے والی منشیات "کیپٹاگون” کی اسمگلنگ کا بڑا ہدف بن چکا ہے، جو زیادہ تر شام اور لبنان جیسے جنگ زدہ علاقوں سے آتی ہے۔ سعودی حکام نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے گزشتہ برس ایک وسیع پیمانے پر انسداد منشیات مہم کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت چھاپے اور گرفتاریاں کی گئیں۔ یہ مہم خاص طور پر دو سال قبل سزائے موت پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد زیادہ شدت اختیار کرگئی، جس کے بعد سعودی عرب میں منشیات کے اسمگلرز کے خلاف سزاؤں پر تیزی سے عملدرآمد ہونے لگا۔ سعودی وزارت داخلہ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے سخت اقدامات کے بغیر منشیات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔سزاؤں میں قتل کے جرم میں ملوث دو سعودی شہریوں کے بھی سر قلم کیے گئے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق یہ سزائیں قتل کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے دی گئیں اور مدعا علیہان کو تمام قانونی عمل اور اپیلوں کا حق دیا گیا تھا۔
    سعودی عرب میں سزائے موت پر عملدرآمد کے بارے میں عالمی سطح پر تنقید جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، خاص طور پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے سعودی عرب میں سزائے موت کے زیادہ استعمال کو غیر ضروری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2023 میں چین اور ایران کے بعد سعودی عرب وہ تیسرا ملک تھا جہاں سب سے زیادہ قیدیوں کو سزائے موت دی گئی۔سعودی حکومت کا مؤقف ہے کہ سزائے موت امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری ہے اور ہر کیس میں قانونی چارہ جوئی کے مکمل عمل کے بعد ہی سزاؤں پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کے مطابق ایسے سخت قوانین اور سزائیں ملک میں امن و امان اور جرائم کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

  • ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    تربت: بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) تربت کے غیور بلوچوں کو اپنے حقوق کے لئے احتجاج کی دعوت دینے میں ناکام رہی ہے، جس نے بلوچستان کے عوام کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بی وائے سی کی جانب سے حالیہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام ماہرنگ بلوچ کے حقوق اور محرومی کے بیانیے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔احتجاج کی ناکامی کے بعد، کئی بلوچوں نے بی وائے سی کے ایجنڈے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، خاص طور پر ماہرنگ اور سمی دین کے حالیہ بیرون ملک دوروں کے بعد۔ یہ دورے کئی بلوچوں کے لئے ایک جھنجھوڑنے کا موقع بنے، جنہوں نے حقوق کے نام پر ماہرنگ کے ایجنڈے کی حقیقت کو سمجھنا شروع کر دیا۔
    بلوچستان کے لوگ، جنہوں نے طویل عرصے سے حالات کا بغور مشاہدہ کیا ہے، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ماہرنگ ہمیشہ دہشت گردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، لیکن جب یہ دہشت گرد حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کو بم دھماکوں سے تباہ کرتے ہیں تو ماہرنگ کی خاموشی اس کی دوغلی پالیسی کو واضح کرتی ہے۔اس تناظر میں، یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے ہے، جس کی قیادت غفار لانگو کی بیٹی کر رہی ہے۔ مقامی عوام نے یہ محسوس کیا ہے کہ اس تنظیم کے دہشت گردانہ اقدامات بلوچستان کی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر اپنے حقوق کے حقیقی علمبرداروں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
    ماہرنگ بلوچ کے بیانیے اور بی وائے سی کی ناکامی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا واقعی یہ تنظیمیں بلوچ عوام کے مفاد میں کام کر رہی ہیں، یا ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے؟ اس صورتحال نے بلوچوں کو ایک نئے غور و فکر کی طرف متوجہ کیا ہے، جہاں وہ اپنے حقوق اور ترقی کے حقیقی مسائل پر بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آنے والے دنوں میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی وائے سی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گی یا یہ مظاہرین کی ناکامی ایک مستقل حقیقت بن جائے گی۔

  • پی ٹی آئی نے جسٹس منصور علی شاہ کو متنازعہ بنایا، رانا ثنا اللہ کا الزام

    پی ٹی آئی نے جسٹس منصور علی شاہ کو متنازعہ بنایا، رانا ثنا اللہ کا الزام

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جسٹس منصور علی شاہ کی ساکھ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے افراد نے چار ماہ قبل بات چیت شروع کی تھی کہ "اکتوبر کا انتظار کریں، ہماری بات ہوگئی ہے، سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ میں آتے ہی ان کا دھڑن تختہ کردوں گا، رانا ثنا اللہ نے اس حوالے سے کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں میں حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "جوڈیشل اسٹرکچر میں توازن نہیں تھا، انیسویں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کو خود تعینات کرنے اور ترقی دینے کے اختیارات دیے گئے، جس سے عدلیہ میں گروپنگ اور مسائل پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق، اس گروپنگ کی وجہ سے ججز کے درمیان احترام کا فقدان ہوا، جس کے نتیجے میں فیصلوں میں باقاعدہ ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بعض صورتوں میں ایسے اسٹے جاری کیے گئے کہ حکومت اور پارلیمنٹ کا فنکشنل ہونا روکا گیا، جبکہ حکومت کی تبدیلیوں میں بھی مداخلت کی گئی”۔
    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ "پچھلے پانچ، سات سال کی داستان کے بعد پارلیمنٹ نے ایک مؤثر آئینی ترمیم کا فیصلہ کیا”۔ اس ترمیم کے ذریعے ایک بیلنس قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ آئندہ عدلیہ کے حوالے سے کوئی بھی ڈسٹربنس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خواجہ آصف کی جانب سے کی گئی بات واقعی ایسی تھی کہ کچھ ججز اکتوبر میں حکومت کو گھر بھیجنے کی باتیں کر رہے تھے؟ رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ "پی ٹی آئی ایک ایسا انتشاری ٹولہ ہے جس کی مخالفت بھی برا ہے اور حمایت بھی اچھی نہیں ،رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ "سوشل میڈیا پر ایسی کہانیاں بنتی ہیں جو حقیقت سے بعید ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس منصور علی شاہ ایک بڑے ہی آزاد جج ہیں، لیکن پی ٹی آئی والوں کی باتوں نے ایسی نامناسب صورتحال پیدا کی”۔
    رانا ثنا اللہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ "حامد رضا خان جیسے سیاسی افراد نے کہا ہے کہ وہ صرف منصور علی شاہ کو ہی قبول کریں گے، جبکہ دوسرے ججز کے بارے میں ان کا کوئی اعتقاد نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ آئینی معاملات آئینی بینچ کے پاس ہی جائیں گے، اور بینچ کی تشکیل آزاد جوڈیشل کمیشن کرے گا، کیونکہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد تمام اختیارات جوڈیشل کمیشن کے پاس منتقل ہو چکے ہیں۔رانا ثنا اللہ کے ان بیانوں نے پاکستانی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ججز کی آزادی اور عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کی طرف سے پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سیاسی اور عدلیہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی کیفیت برقرار ہے۔

  • پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے پاکستان کی طرف سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد جان سے گئے۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی خبر سن کر دل بہت دکھتا ہے۔ ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ جو لوگ اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں، وہ جلد صحت یاب ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف ترکیہ کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور ہم اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ترکیہ کے بہادر عوام اپنی ہمت اور عزم کے ذریعے دہشت گردی کو شکست دیں گے۔
    یہ حملہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہوا، جہاں دہشت گردوں نے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی حکومت نے ہمیشہ عالمی دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کا اظہار کیا ہے اور اس موقع پر بھی اس عزم کی تجدید کی ہے۔اس واقعے کے بعد، پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کے خلاف متحد ہو کر کام کرے تاکہ ایسے بزدلانہ حملوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کی بنیاد پر، یہ توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔یہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کی مخالفت میں کھڑا ہے اور اپنے ترکی دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • ملٹری تنصیبات پر حملے کے کیس ملٹری کورٹ میں چلنے چاہئیں ،خواجہ  آصف

    ملٹری تنصیبات پر حملے کے کیس ملٹری کورٹ میں چلنے چاہئیں ،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے تصدیق کی ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف ٹرائل کا آغاز ابھی نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان افراد کے کیسز جو ملٹری تنصیبات پر حملے میں ملوث ہیں، ملٹری عدالتوں میں ہی چلائے جانے چاہئیں۔خواجہ محمد آصف نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک فیض حمید کے خلاف ٹرائل کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے افراد کے کیسز کی نوعیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کا فیصلہ ملٹری کورٹ میں ہی ہو، کیونکہ یہ معاملات ملکی سیکیورٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔
    وزیر دفاع نے اس دوران مزید کہا کہ ایسے کیسز کے لیے ایک فریم ورک بنانا ضروری ہے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ کون سا معاملہ آئینی ہے اور اسے آئینی عدالتوں میں چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے حملوں میں ملوث افراد کا ٹرائل ملٹری کورٹ کے ذریعے ہی ہونا چاہیے کیونکہ یہ براہ راست ملکی سلامتی سے متعلق ہیں۔فیض حمید کے ٹرائل کے حوالے سے وزیر دفاع کی تصدیق اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں فوجی اور سول عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ ملٹری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد مختلف سطحوں پر یہ بحث کی جا رہی ہے کہ ایسے کیسز کا ٹرائل کس فورم پر کیا جائے۔ خواجہ آصف کے بیان نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ اہم نوعیت کے کیسز ملٹری عدالت میں ہی چلائے جانے چاہئیں۔یاد رہے کہ فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے خلاف مختلف الزامات سامنے آئے تھے، جن میں سیاست میں مداخلت اور دیگر معاملات شامل ہیں۔

  • بشریٰ بی بی کی رہائی عمران خان کے لیے راحت کا باعث: شیخ وقاص اکرم

    بشریٰ بی بی کی رہائی عمران خان کے لیے راحت کا باعث: شیخ وقاص اکرم

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل، شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی رہائی عمران خان کے لیے سکون کا سبب بنے گی اور ان کی ایک بڑی پریشانی دور ہو جائے گی۔ ایک نجی گفتگو کے دوران وقاص اکرم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی ایک نہتی گھریلو خاتون ہیں، اور ان سے حکومت کو بے وجہ خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بے یقینی اور خوف کی وجہ سے بشریٰ بی بی کو بغیر کسی ٹھوس کیس کے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ جن جج صاحب کو بشریٰ بی بی کی رہائی کی روبکار جاری کرنی تھی، وہ اپنے دفتر کو لاک کر کے جنازے کے بہانے غائب ہوگئے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک مضحکہ خیز اقدام قرار دیا اور کہا کہ حکومت کی طرف سے غیر سنجیدہ رویہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔
    وقاص اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے پاس بشریٰ بی بی کے خلاف کوئی نیا مقدمہ سامنے نہیں آیا اور تمام کیسز میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کا جیل سے باہر ہونا عمران خان کے لیے تسلی کا باعث ہوگا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بشریٰ بی بی رہائی کے بعد پی ٹی آئی میں کوئی فعال سیاسی کردار ادا کریں گی؟ تو وقاص اکرم نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے، نہ عمران خان کی طرف سے اور نہ ہی بشریٰ بی بی کی جانب سے۔

  • امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور سعودی ولی عہد کی ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور سعودی ولی عہد کی ملاقات

    ریاض: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ریاض میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران خطے میں جاری کشیدہ صورتحال، بالخصوص غزہ اور لبنان کے بحرانوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری عسکری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سیکیورٹی اور انسانی اثرات پر غور کیا اور ان مسائل کو حل کرنے کی مشترکہ کوششوں کا جائزہ لیا۔اس ملاقات کا بنیادی محور غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات تھے، جہاں حالیہ مہینوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اور سعودی ولی عہد نے اس حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ فریقین کو فوری طور پر جنگ بندی کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے ان تنازعات کے سیکیورٹی خدشات اور انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے مزید کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
    سعودی ولی عہد اور امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں انسانی امداد کی فراہمی کو بہتر بنانے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔ خاص طور پر غزہ میں انسانی صورت حال کے سنگین پہلوؤں پر بات چیت کی گئی، جہاں شہریوں کو خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان تنازعات کا کوئی دیرپا حل صرف سیاسی مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب اور امریکہ کی مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی تاکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔اس ملاقات سے قبل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں غزہ اور لبنان سمیت خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور تناؤ کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔یاد رہے کہ انٹونی بلنکن اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آج سعودی عرب پہنچے تھے، جہاں انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سعودی حکام سے ملاقات کی۔ ان کا یہ دورہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں امریکہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  • پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شعیب شاہین نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقرری پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے آئینی ترامیم کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ایک قابل احترام شخصیت اور بہترین جج ہیں، اور ان کی بطور جج تعیناتی پر پی ٹی آئی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، "ہمیں تو بطور جج بالکل قبول ہیں، بہت اچھے انسان ہیں، بہت اچھے جج ہیں، ہم ان کی بہت عزت کرتے ہیں، ہمارے لئے بہت قابل احترام ہیں۔
    تاہم، انہوں نے اصولی مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے ججز کی تعیناتی میں سنیارٹی کے اصول کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عدالت میں ججز کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ کسی قسم کی پسند ناپسند اور ججز کے درمیان لابنگ کی صورت حال پیدا نہ ہو۔ شعیب شاہین نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم نے انصاف کے پورے نظام کو متاثر کیا ہے۔اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی جج کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کے انتخاب میں دیگر امیدواروں کے معیار کا بغور جائزہ لیا گیا تھا اور تمام امیدوار بہترین چوائس تھے۔
    انہوں نے کہا، ہمارا کسی جج کے ساتھ کوئی ایشو نہیں تھا، تینوں امیدوار ججز کے معیار کو کمیٹی میں پرکھا گیا۔ تینوں کا موازنہ کریں تو تمام ہی زبردست چوائس تھے۔یہ بیان پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان آئینی اور قانونی امور پر پائے جانے والے اختلافات کو مزید واضح کرتا ہے، جہاں پی ٹی آئی آئینی ترامیم کے طریقہ کار اور ججز کی تعیناتی کے اصولوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ججز کے انتخاب میں شفافیت اور غیر جانبداری پر زور دیا جا رہا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے ججز کی سنیارٹی کے اصول پر مسلسل زور دیے جانے کے باوجود آئینی ترامیم کا معاملہ مستقبل میں مزید قانونی اور سیاسی مباحث کا باعث بن سکتا ہے۔