Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    تربت: بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) تربت کے غیور بلوچوں کو اپنے حقوق کے لئے احتجاج کی دعوت دینے میں ناکام رہی ہے، جس نے بلوچستان کے عوام کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بی وائے سی کی جانب سے حالیہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام ماہرنگ بلوچ کے حقوق اور محرومی کے بیانیے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔احتجاج کی ناکامی کے بعد، کئی بلوچوں نے بی وائے سی کے ایجنڈے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، خاص طور پر ماہرنگ اور سمی دین کے حالیہ بیرون ملک دوروں کے بعد۔ یہ دورے کئی بلوچوں کے لئے ایک جھنجھوڑنے کا موقع بنے، جنہوں نے حقوق کے نام پر ماہرنگ کے ایجنڈے کی حقیقت کو سمجھنا شروع کر دیا۔
    بلوچستان کے لوگ، جنہوں نے طویل عرصے سے حالات کا بغور مشاہدہ کیا ہے، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ماہرنگ ہمیشہ دہشت گردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، لیکن جب یہ دہشت گرد حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کو بم دھماکوں سے تباہ کرتے ہیں تو ماہرنگ کی خاموشی اس کی دوغلی پالیسی کو واضح کرتی ہے۔اس تناظر میں، یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے ہے، جس کی قیادت غفار لانگو کی بیٹی کر رہی ہے۔ مقامی عوام نے یہ محسوس کیا ہے کہ اس تنظیم کے دہشت گردانہ اقدامات بلوچستان کی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر اپنے حقوق کے حقیقی علمبرداروں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
    ماہرنگ بلوچ کے بیانیے اور بی وائے سی کی ناکامی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا واقعی یہ تنظیمیں بلوچ عوام کے مفاد میں کام کر رہی ہیں، یا ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے؟ اس صورتحال نے بلوچوں کو ایک نئے غور و فکر کی طرف متوجہ کیا ہے، جہاں وہ اپنے حقوق اور ترقی کے حقیقی مسائل پر بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آنے والے دنوں میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی وائے سی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گی یا یہ مظاہرین کی ناکامی ایک مستقل حقیقت بن جائے گی۔

  • پی ٹی آئی نے جسٹس منصور علی شاہ کو متنازعہ بنایا، رانا ثنا اللہ کا الزام

    پی ٹی آئی نے جسٹس منصور علی شاہ کو متنازعہ بنایا، رانا ثنا اللہ کا الزام

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جسٹس منصور علی شاہ کی ساکھ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے افراد نے چار ماہ قبل بات چیت شروع کی تھی کہ "اکتوبر کا انتظار کریں، ہماری بات ہوگئی ہے، سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ میں آتے ہی ان کا دھڑن تختہ کردوں گا، رانا ثنا اللہ نے اس حوالے سے کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں میں حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "جوڈیشل اسٹرکچر میں توازن نہیں تھا، انیسویں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کو خود تعینات کرنے اور ترقی دینے کے اختیارات دیے گئے، جس سے عدلیہ میں گروپنگ اور مسائل پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق، اس گروپنگ کی وجہ سے ججز کے درمیان احترام کا فقدان ہوا، جس کے نتیجے میں فیصلوں میں باقاعدہ ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بعض صورتوں میں ایسے اسٹے جاری کیے گئے کہ حکومت اور پارلیمنٹ کا فنکشنل ہونا روکا گیا، جبکہ حکومت کی تبدیلیوں میں بھی مداخلت کی گئی”۔
    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ "پچھلے پانچ، سات سال کی داستان کے بعد پارلیمنٹ نے ایک مؤثر آئینی ترمیم کا فیصلہ کیا”۔ اس ترمیم کے ذریعے ایک بیلنس قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ آئندہ عدلیہ کے حوالے سے کوئی بھی ڈسٹربنس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خواجہ آصف کی جانب سے کی گئی بات واقعی ایسی تھی کہ کچھ ججز اکتوبر میں حکومت کو گھر بھیجنے کی باتیں کر رہے تھے؟ رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ "پی ٹی آئی ایک ایسا انتشاری ٹولہ ہے جس کی مخالفت بھی برا ہے اور حمایت بھی اچھی نہیں ،رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ "سوشل میڈیا پر ایسی کہانیاں بنتی ہیں جو حقیقت سے بعید ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس منصور علی شاہ ایک بڑے ہی آزاد جج ہیں، لیکن پی ٹی آئی والوں کی باتوں نے ایسی نامناسب صورتحال پیدا کی”۔
    رانا ثنا اللہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ "حامد رضا خان جیسے سیاسی افراد نے کہا ہے کہ وہ صرف منصور علی شاہ کو ہی قبول کریں گے، جبکہ دوسرے ججز کے بارے میں ان کا کوئی اعتقاد نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ آئینی معاملات آئینی بینچ کے پاس ہی جائیں گے، اور بینچ کی تشکیل آزاد جوڈیشل کمیشن کرے گا، کیونکہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد تمام اختیارات جوڈیشل کمیشن کے پاس منتقل ہو چکے ہیں۔رانا ثنا اللہ کے ان بیانوں نے پاکستانی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ججز کی آزادی اور عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کی طرف سے پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سیاسی اور عدلیہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی کیفیت برقرار ہے۔

  • پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے پاکستان کی طرف سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد جان سے گئے۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی خبر سن کر دل بہت دکھتا ہے۔ ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ جو لوگ اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں، وہ جلد صحت یاب ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف ترکیہ کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور ہم اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ترکیہ کے بہادر عوام اپنی ہمت اور عزم کے ذریعے دہشت گردی کو شکست دیں گے۔
    یہ حملہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہوا، جہاں دہشت گردوں نے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی حکومت نے ہمیشہ عالمی دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کا اظہار کیا ہے اور اس موقع پر بھی اس عزم کی تجدید کی ہے۔اس واقعے کے بعد، پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کے خلاف متحد ہو کر کام کرے تاکہ ایسے بزدلانہ حملوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کی بنیاد پر، یہ توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔یہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کی مخالفت میں کھڑا ہے اور اپنے ترکی دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • ملٹری تنصیبات پر حملے کے کیس ملٹری کورٹ میں چلنے چاہئیں ،خواجہ  آصف

    ملٹری تنصیبات پر حملے کے کیس ملٹری کورٹ میں چلنے چاہئیں ،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے تصدیق کی ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف ٹرائل کا آغاز ابھی نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان افراد کے کیسز جو ملٹری تنصیبات پر حملے میں ملوث ہیں، ملٹری عدالتوں میں ہی چلائے جانے چاہئیں۔خواجہ محمد آصف نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک فیض حمید کے خلاف ٹرائل کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے افراد کے کیسز کی نوعیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کا فیصلہ ملٹری کورٹ میں ہی ہو، کیونکہ یہ معاملات ملکی سیکیورٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔
    وزیر دفاع نے اس دوران مزید کہا کہ ایسے کیسز کے لیے ایک فریم ورک بنانا ضروری ہے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ کون سا معاملہ آئینی ہے اور اسے آئینی عدالتوں میں چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے حملوں میں ملوث افراد کا ٹرائل ملٹری کورٹ کے ذریعے ہی ہونا چاہیے کیونکہ یہ براہ راست ملکی سلامتی سے متعلق ہیں۔فیض حمید کے ٹرائل کے حوالے سے وزیر دفاع کی تصدیق اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں فوجی اور سول عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ ملٹری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد مختلف سطحوں پر یہ بحث کی جا رہی ہے کہ ایسے کیسز کا ٹرائل کس فورم پر کیا جائے۔ خواجہ آصف کے بیان نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ اہم نوعیت کے کیسز ملٹری عدالت میں ہی چلائے جانے چاہئیں۔یاد رہے کہ فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے خلاف مختلف الزامات سامنے آئے تھے، جن میں سیاست میں مداخلت اور دیگر معاملات شامل ہیں۔

  • بشریٰ بی بی کی رہائی عمران خان کے لیے راحت کا باعث: شیخ وقاص اکرم

    بشریٰ بی بی کی رہائی عمران خان کے لیے راحت کا باعث: شیخ وقاص اکرم

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل، شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی رہائی عمران خان کے لیے سکون کا سبب بنے گی اور ان کی ایک بڑی پریشانی دور ہو جائے گی۔ ایک نجی گفتگو کے دوران وقاص اکرم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی ایک نہتی گھریلو خاتون ہیں، اور ان سے حکومت کو بے وجہ خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بے یقینی اور خوف کی وجہ سے بشریٰ بی بی کو بغیر کسی ٹھوس کیس کے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ جن جج صاحب کو بشریٰ بی بی کی رہائی کی روبکار جاری کرنی تھی، وہ اپنے دفتر کو لاک کر کے جنازے کے بہانے غائب ہوگئے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک مضحکہ خیز اقدام قرار دیا اور کہا کہ حکومت کی طرف سے غیر سنجیدہ رویہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔
    وقاص اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے پاس بشریٰ بی بی کے خلاف کوئی نیا مقدمہ سامنے نہیں آیا اور تمام کیسز میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کا جیل سے باہر ہونا عمران خان کے لیے تسلی کا باعث ہوگا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بشریٰ بی بی رہائی کے بعد پی ٹی آئی میں کوئی فعال سیاسی کردار ادا کریں گی؟ تو وقاص اکرم نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے، نہ عمران خان کی طرف سے اور نہ ہی بشریٰ بی بی کی جانب سے۔

  • امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور سعودی ولی عہد کی ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور سعودی ولی عہد کی ملاقات

    ریاض: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ریاض میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران خطے میں جاری کشیدہ صورتحال، بالخصوص غزہ اور لبنان کے بحرانوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری عسکری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سیکیورٹی اور انسانی اثرات پر غور کیا اور ان مسائل کو حل کرنے کی مشترکہ کوششوں کا جائزہ لیا۔اس ملاقات کا بنیادی محور غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات تھے، جہاں حالیہ مہینوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اور سعودی ولی عہد نے اس حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ فریقین کو فوری طور پر جنگ بندی کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے ان تنازعات کے سیکیورٹی خدشات اور انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے مزید کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
    سعودی ولی عہد اور امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں انسانی امداد کی فراہمی کو بہتر بنانے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔ خاص طور پر غزہ میں انسانی صورت حال کے سنگین پہلوؤں پر بات چیت کی گئی، جہاں شہریوں کو خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان تنازعات کا کوئی دیرپا حل صرف سیاسی مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب اور امریکہ کی مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی تاکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔اس ملاقات سے قبل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں غزہ اور لبنان سمیت خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور تناؤ کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔یاد رہے کہ انٹونی بلنکن اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آج سعودی عرب پہنچے تھے، جہاں انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سعودی حکام سے ملاقات کی۔ ان کا یہ دورہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں امریکہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  • پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شعیب شاہین نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقرری پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے آئینی ترامیم کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ایک قابل احترام شخصیت اور بہترین جج ہیں، اور ان کی بطور جج تعیناتی پر پی ٹی آئی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، "ہمیں تو بطور جج بالکل قبول ہیں، بہت اچھے انسان ہیں، بہت اچھے جج ہیں، ہم ان کی بہت عزت کرتے ہیں، ہمارے لئے بہت قابل احترام ہیں۔
    تاہم، انہوں نے اصولی مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے ججز کی تعیناتی میں سنیارٹی کے اصول کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عدالت میں ججز کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ کسی قسم کی پسند ناپسند اور ججز کے درمیان لابنگ کی صورت حال پیدا نہ ہو۔ شعیب شاہین نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم نے انصاف کے پورے نظام کو متاثر کیا ہے۔اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی جج کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کے انتخاب میں دیگر امیدواروں کے معیار کا بغور جائزہ لیا گیا تھا اور تمام امیدوار بہترین چوائس تھے۔
    انہوں نے کہا، ہمارا کسی جج کے ساتھ کوئی ایشو نہیں تھا، تینوں امیدوار ججز کے معیار کو کمیٹی میں پرکھا گیا۔ تینوں کا موازنہ کریں تو تمام ہی زبردست چوائس تھے۔یہ بیان پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان آئینی اور قانونی امور پر پائے جانے والے اختلافات کو مزید واضح کرتا ہے، جہاں پی ٹی آئی آئینی ترامیم کے طریقہ کار اور ججز کی تعیناتی کے اصولوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ججز کے انتخاب میں شفافیت اور غیر جانبداری پر زور دیا جا رہا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے ججز کی سنیارٹی کے اصول پر مسلسل زور دیے جانے کے باوجود آئینی ترامیم کا معاملہ مستقبل میں مزید قانونی اور سیاسی مباحث کا باعث بن سکتا ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ عمرے کی ادائیگی کے لیے کل روانہ ہو نگے

    جسٹس منصور علی شاہ عمرے کی ادائیگی کے لیے کل روانہ ہو نگے

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کل (جمعرات) کو عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق وہ اس دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں ہونے والی الوداعی فل کورٹ ریفرنس اور نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ عمرے کے لیے روانہ ہوں گے اور ان کی وطن واپسی یکم نومبر کو متوقع ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں الوداعی فل کورٹ ریفرنس 25 اکتوبر کو منعقد ہوگا، جس میں نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی بھی خطاب کریں گے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی 26 اکتوبر کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان حلف اٹھائیں گے، یہ تقریب ایوانِ صدر میں منعقد ہوگی اور صدر مملکت آصف علی زرداری نئے چیف جسٹس سے حلف لیں گے۔ تقریب میں 300 مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔اس طرح جسٹس منصور علی شاہ دونوں اہم تقریبات میں شرکت سے قاصر ہوں گے۔

  • حکومت اپنا چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن چاہتی ہے،سراج الحق

    حکومت اپنا چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن چاہتی ہے،سراج الحق

    سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت یہی چاہتی ہے کہ اس کا اپنا چیف جسٹس اور اپنا الیکشن کمیشن ہو۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم منظور ہو چکی ہے اور اب اس پر کوئی واپسی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں جو فیصلے ایک بار کر لیے جاتے ہیں، وہ واپس نہیں ہوتے، چاہے چیف جسٹس تبدیل ہو یا نہ ہو۔ سراج الحق نے کہا کہ چیف جسٹس پہلے بھی ہوتے ہیں اور ان کی تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔سراج الحق نے ملکی معاشی نظام پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سودی نظام کا خاتمہ 2028 تک ممکن ہو جائے گا، اور اگر اس پر عملدرآمد ہوا تو ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بینکنگ کا نظام بہتر ہو جائے گا، اور ملکی معیشت میں واضح بہتری آئے گی۔ ان کے مطابق سودی نظام کے مکمل خاتمے سے مہنگائی، بے روزگاری، اور کرپشن جیسے مسائل کا حل ممکن ہے۔
    سابق امیر جماعت اسلامی نے اپنی جماعت کی جہدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مسائل کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے سودی نظام کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔سراج الحق نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاہدوں پر حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کچھ معاہدے ختم کیے ہیں اور مزید معاہدوں پر کام جاری ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ جب تک ان معاہدوں کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا، جماعت اسلامی مطمئن نہیں ہوگی۔سراج الحق نے نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ قانون کے مطابق ملک کی بہتری کے لیے فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا کردار ملک کی عدالتی اور قانونی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے اور انہیں امید ہے کہ نئے چیف جسٹس اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں گے۔
    سابق امیر جماعت اسلامی نے لاہور کالج واقعہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جماعت نے اس معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ نہ متاثرہ لڑکی ملی اور نہ ہی کوئی اور ثبوت سامنے آیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ واقعہ بے بنیاد تھا۔سراج الحق کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی ملک میں انصاف اور معاشی بہتری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید بھی جاری رکھے گی۔

  • لبنان کی تحریک مزاحمت حزب اللہ کے رہنما ہاشم صفی الدین کی شہادت کی تصدیق

    لبنان کی تحریک مزاحمت حزب اللہ کے رہنما ہاشم صفی الدین کی شہادت کی تصدیق

    لبنان کی معروف تحریک مزاحمت حزب اللہ نے اپنے سینئر رہنما ہاشم صفی الدین کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جو حالیہ اسرائیلی حملے میں جان کی بازی ہار گئے۔ حزب اللہ کے مطابق، ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد ان کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا تھا۔حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کی شہادت اسرائیل کے حملے کا نتیجہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہاشم صفی الدین کو شہید کیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، انہیں تین ہفتے قبل بیروت پر ہونے والے ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند کارروائی تھی۔
    ہاشم صفی الدین حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ کے قریبی رشتے دار، یعنی ان کے کزن تھے۔ یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے حسن نصر اللہ کے بعد حزب اللہ کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدیدار ہاشم صفی الدین کے قتل کی تصدیق کی ہے، جو حزب اللہ کی طاقتور قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ہاشم صفی الدین کی شہادت کے بعد، حزب اللہ کے اندر سوگ کی فضا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس واقعے کے بعد حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کوئی سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ لبنان میں اس وقت کشیدگی کا ماحول ہے، اور حزب اللہ کے رہنماؤں نے عوامی حمایت کے حصول کے لیے اس واقعے کو ایک موقع سمجھا ہے۔
    اس واقعے کے پس منظر میں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے ہاشم صفی الدین کی شہادت کے ردعمل میں ممکنہ کارروائیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ حزب اللہ کی قیادت میں آنے والی تبدیلیوں اور ممکنہ ردعمل کے حوالے سے یہ واقعہ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔