Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی ریٹائرمنٹ: سپریم کورٹ میں نئے سربراہ کے ممکنہ نام

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی ریٹائرمنٹ: سپریم کورٹ میں نئے سربراہ کے ممکنہ نام

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جمعہ 25 اکتوبر کو اپنے عہدے کی معیاد پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان کے بعد سینیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر جسٹس منصور علی شاہ، دوسرے پر جسٹس منیب اختر، اور تیسرے پر جسٹس یحیٰی آفریدی ہیں۔ ان تینوں میں سے کسی ایک کی بطور نئے چیف جسٹس نامزدگی کی توقع ہے۔تینوں امیدواروں کا تعلق ایچیسن کالج لاہور سے ہے۔ حالیہ برسوں میں، سپریم کورٹ کے کئی فیصلے تنازعات کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر سابق چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کے دور میں۔ ان کے بعد جسٹس عمر عطاء بندیال کے دور میں عدلیہ کے اندرونی مسائل کی افشا ہوئی، جس نے عدلیہ کی ساکھ متاثر کی۔
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پر حکومت کی جانب سے دائر ریفرنس نے بھی داخلی خلفشار میں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجے میں، ان کا دور کئی متنازع فیصلوں، جیسے فیض آباد دھرنا کیس اور آرٹیکل 63 اے کی تشریح، کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ نئے ممکنہ چیف جسٹس کے نام :
    Mansoor Ali Shah
    جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ 28 نومبر 1962 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج سے حاصل کی اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 15 ستمبر 2009 کو لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور بعد میں مستقل جج کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ماحولیات کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے، جن میں مریم نواز کو وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کی چیئرپرسن شپ سے ہٹانے کا فیصلہ شامل ہے۔
    sc
    جسٹس یحیٰی آفریدی
    جسٹس یحیٰی آفریدی 1965 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بھی ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2010 میں پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر خدمات شروع کیں، اور بعد میں 2018 میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ وہ مختلف اہم مقدمات میں شامل رہے، بشمول ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس۔

    جسٹس منیب اختر
    جسٹس منیب اختر کا تعلق لاہور سے ہے اور انہوں نے 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 2018 میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تقرری پائی، اگرچہ ان پر سینیارٹی کے حوالے سے تنقید بھی ہوئی۔ انہوں نے حال ہی میں آرٹیکل 63 اے سے متعلق متنازع فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

    توقع کی جارہی ہے کہ چیف جسٹس کی تبدیلی کے ساتھ سپریم کورٹ میں نئے دور کا آغاز ہوگا، جس میں ممکنہ طور پر پچھلے تنازعات کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

  • سبھی کمپرومائز ہیں:حنیف عباسی کی تحریک انصاف کے اراکین پر کڑی تنقید

    سبھی کمپرومائز ہیں:حنیف عباسی کی تحریک انصاف کے اراکین پر کڑی تنقید

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے قومی اسمبلی میں ایک تقریر کے دوران تحریک انصاف کے تمام ارکان اسمبلی کو "کمپرومائز” قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کے رہنما عوام کو دھوکہ دینے کے لیے خیالی کہانیاں سناتے ہیں۔حنیف عباسی نے اپنی بات چیت کے دوران کہا، "یہ ہر الزام ویگو ڈالے پر لگا دیتے ہیں، اور یہ الف لیلیٰ کی کہانیاں سناتے ہیں۔ عمر ایوب کے دادا نے ویگو ڈالے کو متعارف کروایا۔” ان کا اشارہ تحریک انصاف کے کچھ ارکان کی جانب تھا جو انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    حنیف عباسی نے مزید کہا کہ "تحریک انصاف کے 70 کے 70 لوگ کمپرومائز ہیں۔ ایسے لوگ جب درس دیتے ہیں تو ہمارا خون کھولتا ہے۔” ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "جو جتنا زیادہ بولتا ہے، اتنا ہی اس کا سفید کپڑوں والوں سے تعلق ہے۔حنیف عباسی کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی سیاسی صورتحال میں کشیدگی جاری ہے، اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے بیان نے اسمبلی میں بحث و مباحثے کا نیا باب کھول دیا ہے، جس میں مختلف جماعتوں کے ارکان اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ حنیف عباسی کے اس سخت بیان کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما بھی جواب دینے کے لیے میدان میں آئیں گے، جس سے سیاسی محاذ آرائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

  • پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس تعیناتی کمیٹی اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس تعیناتی کمیٹی اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے حوالے سے اسپیکر چیمبر میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ یہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی مشاورت کی جا رہی ہے۔اجلاس کی تفصیلات کے مطابق، اسپیکر نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کو مذاکراتی عمل کے لیے بلایا، جس پر 4 رکنی کمیٹی نے بیرسٹر گوہر سے درخواست کی کہ وہ کمیٹی میں شامل ہوں۔ کمیٹی کے ارکان نے کوشش کی کہ وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو منانے میں کامیاب ہو جائیں، تاہم وہ اس کوشش میں ناکام رہے۔بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ ان کی سیاسی کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ وہ پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اجلاس کا وقت قریب آیا، جو کہ وقفہ کے بعد ساڑھے 8 بجے شروع ہونے والا ہے۔ یہ اجلاس خاص طور پر نئے چیف جسٹس کے انتخاب کے لیے بلایا گیا ہے، جو کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی قیادت کے لیے اہم ہے۔
    پی ٹی آئی کی قیادت موجودہ سیاسی ماحول میں فعال کردار ادا نہیں کرنا چاہتی، جو کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات میں عدم دلچسپی کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
    پی ٹی آئی کے اس فیصلے نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی قیادت کے تعین کے لیے یہ ایک اہم مرحلہ ہے۔ اسپیکر اور دیگر کمیٹی کے اراکین اب اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا پی ٹی آئی کی عدم موجودگی کے باوجود اجلاس کو کامیابی سے جاری رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔
    حالیہ واقعات نے یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ آیا پی ٹی آئی آئندہ آنے والے سیاسی فیصلوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی یا مزید پسپائی اختیار کرے گی۔

  • خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس: سنی اتحاد کونسل کا بائیکاٹ

    خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس: سنی اتحاد کونسل کا بائیکاٹ

    اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل نے ججز کی تقرری کے سلسلے میں قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے ممبران نے کمیٹی میں شرکت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا تھا، اور اس فیصلے سے اسپیکر کے چیمبر میں ہونے والی میٹنگ میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔کمیٹی نے احسن اقبال، رعنا انصار، راجہ پرویز اشرف اور کامران مرتضیٰ پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بنائی، جسے سنی اتحاد کونسل کے ممبران سے ملاقات کرکے انہیں اجلاس میں شرکت کے لیے قائل کرنے کا کہا گیا۔ ذیلی کمیٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی درخواست کی، جس کے نتیجے میں اسپیکر کے چیمبر میں سنی اتحاد کونسل کے ممبران اور ذیلی کمیٹی کے ممبران کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں بیرسٹر گوہر نے بھی شرکت کی اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ بتایا۔
    خیال رہے کہ نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پہلے ہی ساڑھے 8 بجے تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان کی نامزدگی کے لیے کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا، جو اب ساڑھے 8 بجے دوبارہ ہوگا۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا بند کمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم 5 میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بائیکاٹ کے باوجود سنی اتحاد کونسل کے تین ارکان کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں۔ اجلاس میں علی ظفر، بیرسٹر گوہر اور حامد رضا کی نشستیں بھی رکھی گئیں، جبکہ تمام 12 اراکین کی نیم پلیٹس بھی لگائی گئی تھیں۔اجلاس میں موجود دیگر اراکین میں راجہ پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ، رعنا انصار، احسن اقبال، شائشتہ پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ، اور خواجہ آصف شامل تھے۔
    اجلاس میں آج ہی نئے چیف جسٹس پاکستان کی تقرری کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، حکومت نے اصل آئینی پیکیج کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، جس کے تحت آئینی عدالت نہیں، بلکہ ایک بنچ تشکیل دیا جائے گا، اور چیف جسٹس کا تقرر تین سینئر ترین ججز میں سے ہوگا۔ اجلاس کے بائیکاٹ اور سنی اتحاد کونسل کے انکار نے اس اہم معاملے پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں اس صورتحال کا کس طرح مقابلہ کرتی ہیں۔

  • مولانا فضل الرحمان کا اسد قیصر سے رابطہ: نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی درخواست

    مولانا فضل الرحمان کا اسد قیصر سے رابطہ: نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی درخواست

    جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد قیصر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے سلسلے میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے متعلق گفتگو کی۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اسد قیصر سے بات چیت کے دوران زور دیا کہ وہ اپنے ارکان کو نئے چیف جسٹس کی تقرری کے سلسلے میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے کہیں۔ یہ کمیٹی اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے جب موجودہ چیف جسٹس کی مدت ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے، اور نئے چیف جسٹس کی تقرری کے عمل کو شفاف اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
    نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے تشکیل دی گئی 12 رکنی خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 5 میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے تین ارکان، علی ظفر، بیرسٹر گوہر، اور حامد رضا، نے شرکت نہیں کی، جس سے کمیٹی کی تشکیل میں عدم تعاون کا عندیہ ملتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مولانا فضل الرحمان نے اسد قیصر سے مشاورت کے لیے کچھ وقت مانگ لیا، تاکہ وہ پارٹی کے ارکان کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کر سکیں۔اجلاس میں راجا پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ، رعنا انصار، احسن اقبال، شائستہ پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ، اور خواجہ محمد آصف جیسے اہم رہنما موجود تھے، جو نئے چیف جسٹس کی تقرری کے اہم فیصلے کرنے کے لیے متفقہ طور پر کوششیں کر رہے ہیں۔
    اجلاس کا انعقاد رات ساڑھے آٹھ بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا، جس کے بعد اب امید کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان جلد ہی اس معاملے پر اپنی شرکت کو یقینی بنائیں گے۔ یہ کمیٹی موجودہ سیاسی ماحول میں نئے چیف جسٹس کی تقرری کے حوالے سے ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے، جس کی کامیابی سے پارلیمانی روایات کو مزید تقویت ملے گی۔یہ رابطہ اور اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان نئے چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے میں ایک باہمی اتفاق رائے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسد قیصر اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اس گفتگو کی بنیاد پر امید کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہونے کے لیے تیار ہوں گے، جو کہ قومی انصاف کے نظام میں اہم کردار ادا کرنے والا ہے۔یہ تمام سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی سیاست میں بہتری کی امیدیں ابھی بھی زندہ ہیں، اور اس سلسلے میں مختلف جماعتیں مل کر کام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • شیر افضل مروت کا  ڈی چوک پر احتجاج کے لیے ایک لاکھ لوگوں کی شرکت کی درخواست

    شیر افضل مروت کا ڈی چوک پر احتجاج کے لیے ایک لاکھ لوگوں کی شرکت کی درخواست

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر ایک لاکھ سے زائد پاکستانی ان کے ساتھ ڈی چوک پر احتجاج کے لیے نکلیں تو عمران خان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔ شیر افضل مروت نے اپنے پیغام میں کہا، "نو مئی سے لے کر آج تک ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس دوران ہمیں مار کھانے میں کافی تربیت ہوگئی ہے۔” انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ احتجاج کو احتجاج کمیٹی کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ سب مل کر اپنی آواز بلند کر سکیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ "میں خود ایسے کسی احتجاج کا حصہ نہیں بننا چاہوں گا جس میں مجھے یہ یقین نہ ہو کہ احتجاج کا آغاز اور اختتام ہماری مشاورت کے مطابق ہوگا۔”
    شیر افضل مروت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر احتجاج کا انعقاد احتجاج کمیٹی کی وساطت سے کیا گیا تو وہ خود اس میں شریک ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج نہ صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں کے حق میں ہوگا بلکہ یہ عمران خان کی رہائی کے لیے بھی ایک اہم قدم ہوگا۔شیر افضل مروت کی یہ باتیں اس وقت سامنے آئیں جب ملک میں سیاسی حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ مروت کی اس اپیل سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی طاقت پر یقین رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس احتجاج میں شریک ہو۔احتجاج کا مقام ڈی چوک متوقع طور پر ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا، جہاں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کی امید ہے۔ مروت کی یہ اپیل عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

  • بھارت کا پاکستان کی BRICS میں شمولیت کے لیے حمایت کا اعلان

    بھارت کا پاکستان کی BRICS میں شمولیت کے لیے حمایت کا اعلان

    بھارت نے رواں ہفتے ہونے والے BRICS (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے 2024 سربراہی اجلاس میں پاکستان کی تنظیم میں شمولیت کے لیے باضابطہ طور پر اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیشرفت جنوبی ایشیائی خطے میں دو بڑے حریفوں کے درمیان غیر معمولی سفارتی تعاون کی علامت ہے۔”South Asia Index” کی جانب سے جاری کی گئی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، بھارت نے BRICS سربراہی اجلاس میں پاکستان کی شمولیت کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اجلاس رواں ہفتے روس میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں اہم عالمی اقتصادی اور سیاسی امور زیر بحث آئیں گے۔
    یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب BRICS اپنی رکنیت میں توسیع کے لیے کام کر رہا ہے، تاکہ عالمی سطح پر مزید ممالک کو شامل کرکے تنظیم کے اثر و رسوخ کو بڑھایا جا سکے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کی شمولیت کے لیے حمایت کرنا دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کے باوجود ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔BRICS تنظیم کے لیے پاکستان کی شمولیت نہ صرف پاکستان کے لیے اقتصادی اور سفارتی مواقع میں اضافہ کرے گی بلکہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون اور استحکام کے امکانات کو بھی مضبوط کر سکتی ہے۔اب تمام نظریں 2024 کے BRICS سربراہی اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں عالمی رہنما اس اہم پیشرفت پر تبادلہ خیال کریں گے اور پاکستان کی شمولیت کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

  • 26ویں آئینی ترمیم: عوام کے مفاد میں، پی ٹی آئی کے 90 فیصد اعتراضات دور ہوئے، عطا تارڑ

    26ویں آئینی ترمیم: عوام کے مفاد میں، پی ٹی آئی کے 90 فیصد اعتراضات دور ہوئے، عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 26ویں آئینی ترمیم کی اہمیت پر زور دیا، جو حال ہی میں پارلیمان سے منظور ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر یقین دلایا کہ یہ ترمیم عوام کے مفاد میں ہے اور اس کے تمام قانونی پہلوؤں کو مکمل طور پر پورا کیا گیا ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں تمام قانونی عوامل کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم پر اتفاق رائے کے حصول کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، اور تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ان کی جماعت کے 90 فیصد اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں۔وزیر اطلاعات نے مزید وضاحت کی کہ اس آئینی ترمیم پر کام دو سے ڈھائی ماہ تک جاری رہا، جبکہ مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ تھا کہ اس ترمیم کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بعد ایوان میں پیش کیا جائے۔
    عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبران کے اصرار پر دو شقیں آئینی ترمیم سے نکالی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ترمیم سے متعلق کچھ ارکان کے اغواء کے حوالے سے جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا گیا ہے اور یہ کہ تحریک انصاف خود ایک اندرونی انتشار کا شکار ہے۔
    وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے اراکین نے آئینی ترمیم کے مسودے پر مذاکرات کیے تھے اور اگر ان کی پارلیمانی پارٹی کا کوئی رکن ہے تو اسے اپنی جماعت کی میٹنگ میں شرکت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا ایک گروہ پارلیمنٹ میں فعال ہے جبکہ دوسرا گروہ باہر ہے، اور انہیں اپنی داخلی دھڑے بندیوں کو پارلیمنٹ کے معاملات میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ عطا تارڑ نے آخر میں کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی جماعت کے معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ 26ویں آئینی ترمیم کا براہ راست فائدہ عام عوام کو پہنچے گا۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ یہ آئینی تبدیلیاں ملک کی سیاسی استحکام کے لئے ایک مثبت قدم تصور کی جا رہی ہیں۔

  • پنجاب میں گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر جرمانہ عائد کرنے کی منظوری

    پنجاب میں گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر جرمانہ عائد کرنے کی منظوری

    لاہور: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جن میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر جرمانہ بڑھانے کے لیے صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں ترمیم کی منظوری بھی شامل ہے۔ یہ اجلاس وزیراعلیٰ کی قیادت میں ہوا، جس میں صوبے میں ماحولیاتی آلودگی اور گاڑیوں کی غیر معیاری حالت کی روک تھام کے لیے کئی اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر چلنے والی گاڑیوں پر پہلے نوٹس دیا جائے گا اور اس کے بعد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہ اقدام پنجاب میں ٹریفک قوانین کو بہتر بنانے اور شہریوں کی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔کابینہ نے انفورسمنٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ پلاسٹک مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام کی بھی منظوری دی۔ ان کمیٹیوں کو غیر معیاری پلاسٹک بیگ بنانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا اور انہیں جرمانہ کرنے کی بھی اجازت دی جائے گی۔ اس کے ذریعے صوبے میں پلاسٹک کی آلودگی کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
    اجلاس میں معیاری اور ماحول دوست پلاسٹک بیگ بنانے والی فیکٹری کی رجسٹریشن اور تجدید کی فیس میں کمی کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، 310 انوائرنمنٹ انسپکٹر بھرتی کرنے، ان کے لیے اسٹینڈرڈ یونیفارم فراہم کرنے اور 250 ای بائیکس خریدنے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ ماحولیاتی نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔کابینہ نے پنجاب ایگزامینیشن، کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسسمنٹ اتھارٹی کے قیام کی بھی منظوری دی اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ صوبے میں طلبہ کو جلد لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔ اس ضمن میں سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم کی منظوری بھی دی گئی، جس کا مقصد طلبہ کی تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔صوبائی کابینہ نے چھوٹے کسانوں کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ کی بھی منظوری دی۔ اس اقدام سے چھوٹے کسانوں کو مالی مدد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی زراعت کی سرگرمیوں کو بہتر بنا سکیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں ہندو اور سکھ بھائیوں کے فیسٹیول کارڈ کے اجراء کی تجویز بھی پیش کی۔ اس کے تحت بابا گرونانک کے جنم دن اور دیوالی کے موقع پر 2200 خاندانوں کو 10 ہزار روپے دیے جائیں گے، جو کہ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔یہ فیصلے پنجاب کی حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عوامی بہبود اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے میں سنجیدہ ہے۔

  • محسن نقوی کی استنبول انٹرنیشنل ایکسپو 2024ء میں شرکت، ترک حکام سے اہم ملاقاتیں

    محسن نقوی کی استنبول انٹرنیشنل ایکسپو 2024ء میں شرکت، ترک حکام سے اہم ملاقاتیں

    استنبول: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے استنبول میں منعقدہ انٹرنیشنل ایکسپو 2024ء میں شرکت کی، جہاں انہیں ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے خوش آمدید کہا۔ اس بین الاقوامی تقریب کا افتتاح وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر ممالک کے مندوبین کی موجودگی میں ہوا۔ ایکسپو کا مقصد دوست ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا اور تجارتی و تکنیکی مہارتوں کا تبادلہ کرنا تھا۔محسن نقوی نے افتتاحی تقریب کے دوران چیف آف دی ترکش جنرل اسٹاف جنرل میٹن گورک سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران محسن نقوی نے جنرل میٹن گورک کو ایکسپو کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ یہ ایکسپو باہمی اقتصادی اور تکنیکی تعلقات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
    جنرل میٹن گورک نے اس موقع پر پاکستان کی شرکت کو سراہا اور وفاقی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ بین الاقوامی ایکسپو میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے تشریف لائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شرکت اس اہم تقریب میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے ایکسپو میں مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید آلات اور مشینری کا معائنہ کیا۔ خاص طور پر پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے اسٹال پر خصوصی توجہ دی، جہاں پاکستانی دفاعی آلات اور ٹیکنالوجی کی نمائش کی گئی۔ محسن نقوی نے پاکستانی اسٹال کے منتظمین سے ملاقات کی اور ایکسپو میں موجود پاکستانی مصنوعات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی جدید مشینری اور آلات دیکھ کر فخر محسوس ہو رہا ہے۔
    اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا، "انٹرنیشنل ایکسپو 2024ء ایک اہم پلیٹ فارم ہے جو دوست ممالک کے درمیان معاشی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان ہمیشہ اس قسم کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکے۔وفاقی وزیر کی ایکسپو میں شرکت نے پاکستان کی دفاعی صنعت اور تکنیکی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد دی، جبکہ ترکیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔