Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ کوئی چیف جسٹس قبول نہیں،حامد خان

    جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ کوئی چیف جسٹس قبول نہیں،حامد خان

    ملک بھر کے وکیل رہنماؤں نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، جسے ماورائے آئین اور عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔ سینئر وکیل حامد خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ آئینی ترمیم قابل قبول نہیں اور تمام وکلا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسے ہر صورت میں روکا جائے گا۔حامد خان نے مزید کہا کہ صرف جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں چیف جسٹس کو قبول کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں ایک نیشنل ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جیسی کہ 2002 اور 2007 میں بنائی گئی تھی۔ انہوں نے احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ وکلا 25 اکتوبر کو یوم نجات منائیں گے۔
    کوئٹہ میں وکیل رہنما علی احمد کرد نے کہا کہ وکلا ایکشن کمیٹی 26 اکتوبر کے بعد ایک اجلاس میں اپنی حکمت عملی کا اعلان کرے گی اور آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سڑکوں پر "دمادم مست قلندر” ہوگا، جو وکلا کی مزاحمت کی ایک علامت بنے گا۔راحب بلیدی نے دیگر وکلا سے اپیل کی کہ جو لوگ اس ترمیم کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ ان کی تحریک میں شامل ہو جائیں۔ لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ اب دفاع کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالتوں میں آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو وکلا سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔
    اس کے علاوہ، وکیل رہنما لطیف کھوسہ اور عابد زبیری نے بھی آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وکلا اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے۔ یہ تحریک وکلا کی اجتماعی قوت کو اجاگر کرتی ہے اور آئینی ترمیم کے خلاف ایک واضح اور مضبوط مزاحمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ ملک گیر تحریک وکیل برادری کی جانب سے آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک بڑی کوشش سمجھی جا رہی ہے، جس میں وکلا کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ یہ تحریک آئینی ترمیم کے خلاف عوامی رائے کو منظم کرنے اور قانونی نظام میں شفافیت کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب

    وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ہوگا۔ اس اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، جو حالیہ دنوں میں مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔اجلاس میں خصوصی طور پر 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جائے گا، جس کا مقصد قومی معاملات میں شفافیت اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والے قانونی اور انتظامی تبدیلیوں کی روشنی میں حکومت کی حکمت عملی اور آئندہ کے اقدامات کا تعین کیا جائے گا۔
    اجلاس میں شرکت کرنے والے وزراء اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ وزارتوں کی طرف سے جمع کردہ رپورٹس اور سفارشات کے ساتھ حاضر ہوں تاکہ کابینہ کے اجلاس میں بحث کی جا سکے۔یہ اجلاس ملک کی سیاسی گرانڈ اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں ممکنہ حکومتی اقدامات اور عوامی بہبود کے لیے موثر فیصلوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں کابینہ کا یہ اجلاس ملک کی ترقی اور عوامی مفاد کے لیے نئے لائحہ عمل کا تعین کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد عوامی مفاد میں اہم فیصلوں کا اعلان کیا جا سکتا ہے، جو ملک کی سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے مثبت اثرات مرتب کریں گے۔

  • فریب زدہ اسمبلی سے آئینی ترمیم کے خلاف وکلا باہر نکلیں گے، سلمان اکرم راجہ

    فریب زدہ اسمبلی سے آئینی ترمیم کے خلاف وکلا باہر نکلیں گے، سلمان اکرم راجہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے فریب زدہ اسمبلی سے آئینی ترمیم کے خلاف وکلا کے باہر نکلنے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت پوری سپریم کورٹ کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہے اور اپنی مرضی کے ججز کو لگانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے ایک خوفناک صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح عدلیہ کا وجود صرف نمائشی بن کر رہ جائے گا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے جس نظام کی بنیاد رکھی ہے، اس پر ہمیں شدید اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ "فارم 47 کی پارلیمان” ہے اور بے شرمی سے لوگوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آئینی ترمیم ہماری تاریخ کا سیاہ دھبہ ہے۔ اگر جسٹس منصور علی کو چیف جسٹس اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو آئینی بینچ کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے، تو یہ ایک اچھی بات ہوگی۔
    ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے خلاف پورے ملک کو باہر نکلنا چاہیے، کیونکہ یہ صرف کسی ایک جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ سیاسی نہیں ہے اور وکلا کو فریب زدہ اسمبلی سے ہونے والی ترمیم کے خلاف سڑکوں پر آنا چاہیے۔سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ انہیں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ایک پینل کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ آئینی بینچ کے لیے پانچ سے سات سینئر ججز کے نام پیش کیے جائیں گے، لیکن مولانا نے ہائی کورٹ میں بینچ کے قیام کو مان لیا، جس پر وہ مایوس ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں آئینی ترمیم کے حوالے سے بحث و مباحثہ جاری ہے، اور پی ٹی آئی اس مسئلے پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • 26ویں آئینی ترمیم نافذ: چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا آغاز

    26ویں آئینی ترمیم نافذ: چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا آغاز

    اسلام آباد: صدر مملکت کے دستخط کے بعد 26ویں آئینی ترمیم باضابطہ طور پر آئین کا حصہ بن گئی ہے، جس کے ساتھ ہی ملک کے نئے چیف جسٹس پاکستان کی تعیناتی کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین شامل ہوں گے۔ سینیٹ سے مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایک ایک رکن کو کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی سے مسلم لیگ ن کو 3، پیپلز پارٹی کو 2، تحریک انصاف کو 2، اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو 1 نشست دی گئی ہے۔ اس طرح کمیٹی میں حکومت کے پاس 8 جبکہ اپوزیشن کے پاس 4 نشستیں ہوں گی۔خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے لیے مختلف جماعتوں نے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر لیا ہے۔ سینیٹ سے مسلم لیگ ن کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ، پیپلز پارٹی کی طرف سے نوید قمر اور فاروق ایچ نائیک، اور جے یو آئی کی جانب سے کامران مرتضیٰ کو کمیٹی کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اپوزیشن میں تحریک انصاف نے بیرسٹر علی ظفر کو نامزد کیا ہے۔
    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے خط موصول ہونے کے بعد مسلم لیگ ن نے خواجہ آصف، احسن اقبال اور شائستہ پرویز کے نام دیے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے راجا پرویز اشرف کو نامزد کیا ہے۔ تحریک انصاف نے بیرسٹر گوہر اور حامد رضا خان کو کمیٹی کے لیے منتخب کیا ہے، جبکہ ایم کیو ایم نے رعنا انصار کو اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔گزشتہ رات پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی، نے 26ویں آئینی ترمیم کو کثرت رائے سے منظور کیا۔ سینیٹ میں 65 ارکان نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 4 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ قومی اسمبلی میں 225 ارکان نے ترمیم کے حق میں اور 12 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے دو دو ارکان نے بھی اس ترمیم کی حمایت کی، جبکہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 4 ارکان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
    26ویں آئینی ترمیم کے تحت تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کا اہم ترین کام چیف جسٹس کی تعیناتی ہوگا۔ کمیٹی کو دو تہائی اکثریت سے چیف جسٹس کا انتخاب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اور اس وقت حکومت کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے۔ترمیم کے مطابق، موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مدت ملازمت ختم ہونے سے کم از کم 3 دن پہلے نیا چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں کے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے، جن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔اس آئینی ترمیم کے ذریعے ملک میں عدالتی نظام کے اہم ترین عہدے پر پارلیمانی نگرانی اور نمائندگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ترمیم کے حق میں دونوں ایوانوں میں بھاری اکثریت کے ساتھ ووٹ دیے گئے، جس سے اس بات کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتیں ملک کے عدالتی نظام میں مزید شفافیت اور جامعیت لانے کے حق میں ہیں۔صدر مملکت آصف زرداری کے دستخطوں کے بعد ترمیم باقاعدہ طور پر آئین کا حصہ بن گئی ہے، اور اب پارلیمانی کمیٹی جلد از جلد نئے چیف جسٹس کی تقرری کے عمل کا آغاز کرے گی۔

  • سینیٹ اجلاس کل سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، 4 نکاتی ایجنڈا جاری

    اسلام آباد: سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، جس کا 4 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں اہم قومی اور بین الاقوامی معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔ ایجنڈے میں اہم موضوعات شامل کیے گئے ہیں، جن میں سندھ طاس معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس سرفہرست ہے۔ اس معاہدے پر نظرثانی اور مستقبل میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنا ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور اس پر سینیٹ میں تفصیلی بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ صدارتی خطاب پر تشکر کی تحریک بھی اجلاس کے ایجنڈا کا حصہ ہوگی۔ یہ تحریک اس خطاب کی اہمیت اور حکومتی پالیسیوں پر عوامی حمایت کا اظہار کرنے کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔
    اجلاس میں دیگر اہم امور بھی زیر بحث آئیں گے، جن کا تعلق ملکی قانون سازی اور پارلیمانی سرگرمیوں سے ہے۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ممکنہ اختلافات پر سخت بحث ہونے کی توقع ہے، کیونکہ یہ معاملہ پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کی تقسیم کے اہم نکات کو مدنظر رکھتا ہے۔واضح رہے کہ سینیٹ کے اس اجلاس کو حکومت کی آئندہ پالیسیوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس دوران ملک کے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور بین الاقوامی معاہدوں پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔

  • 26ویں آئینی ترامیم منظور نہیں، منظور کرائی گئی ہیں،اختر مینگل

    26ویں آئینی ترامیم منظور نہیں، منظور کرائی گئی ہیں،اختر مینگل

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی-مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے 26ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ترامیم منظور کی نہیں گئیں، بلکہ ان کو منظور کرایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا۔اختر مینگل نے بتایا کہ آئینی ترامیم کے آخری دنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انہیں کال موصول ہوئی۔ مینگل کے مطابق انہوں نے بلاول کو بتایا کہ ایک طرف آپ کے لوگ ہمارے لوگوں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، ان کی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں، اور ان کے بچوں کو ہراساں کر رہے ہیں، تو ایسے حالات میں ہم آپ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلاول نے ان سے پوچھا کہ یہ سب کون کر رہا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ سب آپ ہی معلوم کریں، کیونکہ سندھ میں آپ کی حکومت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں آپ کی حکومت کے تحت ایک سینیٹر کے گھر کے سامنے ایک گاڑی سادہ لباس میں 24 گھنٹے موجود ہے، جس کے باعث خوف و ہراس کی صورتحال ہے۔
    مینگل نے کہا کہ بلاول نے انہیں ایک ڈرافٹ بھیجا، لیکن انہوں نے اس میں دلچسپی نہیں لی کیونکہ یہ معاملہ انتہائی ٹینشن کا تھا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ان کے سینیٹر قاسم رونجھو کو ہر ہفتے شفاء ہاسپٹل میں ڈائیلاسز کے دوران ووٹ دینے کے لئے دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، نسیمہ احسان کے شوہر کو بھی دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی، اور انہیں ایک سیف ہاؤس میں لے جا کر چار گھنٹے تک پریشرائز کیا گیا۔اختر مینگل نے دونوں سینیٹرز کو استعفے کی ہدایت کے بارے میں کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور اگر کوئی پارٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے نوٹس کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج انہیں آئینی ترمیم کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے، تو کل کو کسی اور مقصد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے یہ بیانات بلوچستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں سیاسی معاملات کس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں۔

  • آئی سی سی اجلاس: چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تیاریوں پر اطمینان، پاکستان دورے کی دعوت

    آئی سی سی اجلاس: چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تیاریوں پر اطمینان، پاکستان دورے کی دعوت

    دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا تین روزہ اجلاس اختتام پذیر ہوا، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیمپئنز ٹرافی 2025 کے انتظامات اور تیاریوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے بعد آئی سی سی بورڈ نے ان تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے اجلاس میں چیمپئنز ٹرافی 2025 کے حوالے سے اہم بریفنگ دی اور آئی سی سی بورڈ ممبران کو تیاریوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین پی سی بی نے آئی سی سی حکام کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ خود اسٹیڈیمز اور دیگر انتظامات کا جائزہ لے سکیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن سمیت تمام تیاریوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور یہ تمام کام مقررہ وقت پر مکمل کرلیے جائیں گے۔ چیئرمین محسن نقوی نے اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی کہ پاکستان اس بڑے ایونٹ کے لیے بہترین انتظامات کرے گا۔
    چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تیاریوں پر آئی سی سی بورڈ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں اسٹیڈیمز کی بحالی، سکیورٹی انتظامات، اور دیگر ضروری اقدامات تیزی سے جاری ہیں اور ٹورنامنٹ کو کامیاب بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ 2025 کے فروری اور مارچ میں پاکستان میں ہونے کا شیڈول ہے، جس کے لیے پی سی بی بھرپور تیاری کر رہا ہے۔تین روزہ اجلاس کے دوران دیگر اہم امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں آئی سی سی چیئر اور انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹر کی میعاد کو تین سال تک بڑھانے کی سفارش کی گئی، جب کہ آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی میں اسکاٹ ویننک کو فل ممبر کا نمائندہ اور اسکاٹ ایڈورڈز کو ایسوسی ایٹ ممبر کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔اجلاس میں آئی سی سی کے اعلیٰ عہدیداروں نے پی سی بی کی تیاریوں کی ستائش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ چیمپئنز ٹرافی 2025 پاکستان میں ایک شاندار کرکٹ ایونٹ ثابت ہوگا۔

  • خیبر پختونخوا میں جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا میں جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت نے جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد انسانی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی صحت کو بھی یقینی بنانا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں وزیر لائیو اسٹاک، فضل حکیم، نے جانوروں کی بیماریوں کے تدارک کے لیے ایک اہم بل ایوان میں پیش کیا۔ یہ بل متعدد محکموں کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کیا گیا، جو کہ ایک ہم آہنگی اور مشترکہ کوشش کا مظہر ہے۔بل کے مطابق، ایک 13 رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک کریں گے۔ یہ کمیٹی جانوروں کی 16 بیماریوں کا جائزہ لے گی اور ان کے تدارک کے لیے مخصوص مقامات کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کا مقصد یہ بھی ہوگا کہ وہ دیگر متعلقہ محکموں کو مرحلہ وار آگاہی فراہم کرے، تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
    مجوزہ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ مختلف اضلاع اور علاقوں میں ویٹرنری آفیسرز تعینات کیے جائیں گے، جو بیمار جانوروں کی نگرانی کریں گے۔ ویٹرنری آفیسرز کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ بیمار جانوروں اور ان کے فارموں کو تحویل میں لے کر جرمانہ عائد کریں، اور بیمار جانوروں کے گوشت، دودھ اور دیگر مصنوعات کو تلف کر سکیں۔بل کے مطابق، ویٹرنری آفیسرز بیمار جانوروں کے مالکان پر 20 ہزار روپے تک کا جرمانہ عائد کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد جانوروں کی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کو بھی محفوظ بنانا ہے۔وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم نے اس قانون سازی کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل نہ صرف جانوروں کی صحت کی بہتری کے لیے اہم ہے، بلکہ اس سے انسانوں کی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی آگاہی اور تعاون کے بغیر یہ اقدامات مؤثر نہیں ہو سکتے، اور اس لیے عوام سے درخواست کی کہ وہ اپنے جانوروں کی صحت کے حوالے سے ہر ممکن احتیاط کریں۔یہ قانون سازی خیبر پختونخوا میں جانوروں اور انسانوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جو کہ نہ صرف موجودہ صورتحال کو بہتر بنائے گی بلکہ مستقبل میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی روکے گی۔

  • اسپیکر ایاز صادق کی پارلیمانی صحافیوں کی بہترین رپورٹنگ پر خراج تحسین

    اسپیکر ایاز صادق کی پارلیمانی صحافیوں کی بہترین رپورٹنگ پر خراج تحسین

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر پارلیمانی صحافیوں کو بہترین رپورٹنگ پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ انہوں نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان (پی آر اے پی) کی نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے دوران صحافیوں نے نہایت ذمہ داری اور دقت کے ساتھ رپورٹنگ کی ہے۔ایاز صادق نے کہا کہ پریس گیلری پارلیمان کا ایک اہم جزو ہے، جس کا کردار قانون سازی کی تفصیلات عوام تک پہنچانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی صحافیوں نے ہمیشہ عوام میں پارلیمان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا ہے اور ان کی رپورٹنگ نے عوام کو پارلیمانی عمل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے پارلیمان میں ہونے والی قانون سازی کے دوران ایسی ہی قابل ستائش رپورٹنگ جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی آر اے پی کی یہ کاوشیں نہ صرف پارلیمانی عمل کے لیے اہم ہیں بلکہ صحافیوں کے پیشہ ورانہ وقار کو بھی بلند کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر صحافیوں نے نظم و ضبط کے ساتھ کام کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ہے، جو پاکستانی صحافت کے معیار کی عکاس ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ذاتی معالجین تک رسائی کی درخواست: سماعت کل متوقع

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ذاتی معالجین تک رسائی کی درخواست: سماعت کل متوقع

    بانی پی ٹی آئی، عمران خان، نے اپنے ذاتی معالجین کو طبی معائنے کے لیے رسائی فراہم کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ درخواست کل ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی جائے گی۔ درخواست کے مطابق، عمران خان کے ذاتی معالجین، جن میں ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان، اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی شامل ہیں، کو 15 اکتوبر 2024 کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی گئی۔ بانی پی ٹی آئی کی عمر 72 سال ہے اور وہ سابق وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی صحت کا معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالجین ان کی میڈیکل ہسٹری سے بخوبی واقف ہیں، اور انہیں پندرہ روزہ شیڈول کے مطابق چیک اَپ کے لیے اجازت دی جائے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر ثمینہ نیازی اور ایک ای این ٹی ڈاکٹر کو فوری طور پر معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
    اس درخواست میں چیف کمشنر اسلام آباد اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عمران خان کی صحت کے حوالے سے یہ کیس ان کی طبی خدمات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر جب وہ ایک انتہائی اہم سیاسی شخصیت ہیں۔یہ معاملہ سیاسی تناؤ اور عدالتی نظام میں صحت کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئے پہلو کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی صحت کی ضروریات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ کل ہونے والی سماعت میں مزید حقائق اور تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، جو بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان کے حقوق کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔