وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کو صدر آصف علی زرداری کے پاس بھیج دیا ہے، جس کی توثیق ہو چکی ہے۔ اس ترمیم کے نفاذ کے بعد پاکستان کی عدلیہ میں چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ 26 اکتوبر کے قریب آنے والی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے تناظر میں نئے چیف جسٹس کی تقرری کے بارے میں متعدد سوالات ابھرتے ہیں۔26 ویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت، چیف جسٹس کی تقرری کے عمل میں پارلیمانی کمیٹی کا کردار مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ ترمیم کی رو سے موجودہ چیف جسٹس کی نامزدگی اب 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی، جس میں قومی اسمبلی کے آٹھ اور سینیٹ کے چار ارکان شامل ہوں گے۔ اس ترمیم کی ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے 14 روز قبل اس کی نامزدگی کی جائے گی، جب کہ موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے تین روز پہلے اس کا نام سامنے آئے گا۔ 25 اکتوبر کو قاضی فائز عیسیٰ کی مدت مکمل ہوگی، اور 26 اکتوبر کو نئے چیف جسٹس کو عہدے کا حلف اٹھانا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی لیڈرز سے نام طلب کر لیے ہیں۔ اس کمیٹی کے ارکان کا انتخاب اور اس کا مؤثر کردار نئے چیف جسٹس کی تعیناتی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر کی صورت میں نئے چیف جسٹس کی نامزدگی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ کمیٹی کا کردار یہ بھی ہوگا کہ وہ چیف جسٹس کی نامزدگی کے لیے تین سینئر ترین ججز کا پینل وزارت قانون سے طلب کرے گی، جن میں سے ایک کا انتخاب کیا جائے گا۔ یہ تمام عمل پارلیمانی کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے بعد مکمل ہوگا، جس میں اکثریتی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔نئی آئینی ترمیم کے تحت، چیف جسٹس کی مدت تین سال ہوگی، جب کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 65 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص 64 سال کی عمر میں چیف جسٹس بنتا ہے تو وہ 65 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جائے گا۔ اگر کسی جج کی عمر 60 سال ہے تو وہ 63 سال کی عمر میں ریٹائر ہوگا، اور اس کے عہدے کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع نہیں ہوگی۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا قاضی فائز عیسیٰ، جن کی ریٹائرمنٹ 25 اکتوبر کو ہو رہی ہے، آئینی ترامیم کے نفاذ کے بعد عہدے کی مدت میں دو سال کی توسیع کے اہل ہیں۔ اس سوال پر وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ عمر کی آخری حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، لہذا چیف جسٹس کی تعیناتی میں عمر کی حد 65 سال ہی برقرار رہے گی۔یہ آئینی ترمیم نہ صرف چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کرتی ہے، بلکہ سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کے لیے بھی کمیشن کے قیام کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ 12 رکنی کمیشن میں چیف جسٹس، پریزائیڈنگ جج اور سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل، اور سپریم کورٹ کا 15 سالہ تجربہ رکھنے والا وکیل بھی کمیشن کا حصہ ہوگا۔یہ ضروری ہوگا کہ سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے شخص پاکستانی ہو، اور اس کے پاس ہائی کورٹ کے جج کے طور پر پانچ سال کا تجربہ یا 15 سال تک ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا وکیل ہونے کی شرط پوری کرنی ہوگی۔ یہ قوانین یقینی بناتے ہیں کہ صرف تجربہ کار اور اہل افراد ہی سپریم کورٹ کے ججز کے طور پر خدمات انجام دیں۔
خصوصی پارلیمانی کمیٹی کب اور کیسے تشکیل پائے گی؟
نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کا عمل پیچیدہ ہے۔ صدر پاکستان کے دستخط کے بعد جب 26 ویں ترمیم کو گزیٹ آف پاکستان میں شامل کیا جائے گا، تو اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی تمام پارلیمانی سربراہوں کو خط لکھ کر امیدواروں کے نام طلب کرے گا۔ اس کے بعد کمیٹی کی تشکیل ہوگی، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں نئے چیف جسٹس کے نام پر کب تک اتفاق رائے قائم کرتی ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق، چونکہ نئے چیف جسٹس کی تقرری میں وقت بہت کم رہ گیا ہے، اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پارلیمانی کمیٹی جلدی میں کسی نام پر متفق ہو جائے گی یا نہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف عدالت کے مستقبل کے لیے اہم ہوگا بلکہ ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی اثر ڈالے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اس آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ایک تقریر میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ترمیم عام آدمی کو فوری اور آسان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات اور انا سے بالاتر ہو کر بہترین قومی مفاد میں آگے بڑھنا چاہیے۔
26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کی عدلیہ میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ یہ آئینی ترامیم نہ صرف چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار کو بہتر بناتی ہیں بلکہ مستقبل کی عدلیہ کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوں گی۔ نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کے عمل کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے درمیان جلدی میں اتفاق رائے کا ہونا ضروری ہے، تاکہ عدلیہ کی مستحکم کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کی پیشرفت دیکھنا اہم ہوگا، جو کہ ملک کی عدلیہ اور سیاسی منظرنامے دونوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
Author: صدف ابرار

آئینی ترمیم کی منظوری اور نئے چیف جسٹس کی تقرری: اہم تبدیلیاں، چیلنجز اور آئندہ کے امکانات

کرنٹ اکاؤنٹ میں 310 فیصد بہتری: ستمبر 2024 میں 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا سرپلس
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ستمبر 2024 میں 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے سرپلس کے ساتھ دو ماہ کی مسلسل بہتری کے بعد 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، یہ بہتری اس وقت سامنے آئی ہے جب ستمبر 2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 21 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ میں 310 فیصد بہتری آئی ہے۔ اگست 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے سرپلس کی سطح پر تھا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کی معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔ مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سالانہ 92 فیصد کم ہوا ہے۔ اس سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ 9 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے خسارے میں رہا، جب کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ 1.24 ارب ڈالر تھا۔
یہ ترقی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں نتائج دے رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو ممکن ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کی معیشت میں مزید بہتری آئے اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں یہ بہتری درحقیقت درآمدات میں کمی، برآمدات میں اضافے، اور ریمیٹنس کی بہتر آمد کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ اگرچہ معیشت کی موجودہ حالت میں بہتری کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، تو ملک کی مالی حالت میں مزید استحکام آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
نئی آئینی ترمیم کے تحت پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری میں نمائندگی کا طریقہ کار تبدیل
پاکستان میں حالیہ آئینی ترمیم نے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کی تشکیل میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت اس کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی کا طریقہ کار مکمل طور پر تبدیل ہو گیا ہے، جس سے عدلیہ میں ججز کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور توازن کی امید کی جا رہی ہے۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق، نئی آئینی ترمیم کی روشنی میں اب پارلیمانی کمیٹی میں نمائندگی کا نظام متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ کمیٹی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی تعداد ان کی پارلیمانی طاقت کے مطابق ہوگی، جس سے ایک بہتر توازن قائم ہو گا۔نئے طریقہ کار کے مطابق، مسلم لیگ ن کو کمیٹی میں سب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہوگی، جس کے تحت یہ جماعت قومی اسمبلی سے تین اور سینیٹ سے ایک رکن کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے قومی اسمبلی سے دو اور سینیٹ سے ایک رکن کی نمائندگی مختص کی گئی ہے۔اسی طرح سنی اتحاد کونسل کو بھی قومی اسمبلی سے دو اور سینیٹ سے ایک رکن شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید برآں، ایم کیو ایم اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کو بھی کمیٹی میں نمائندگی حاصل ہوگی، تاہم یہ دونوں جماعتیں اپنے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کے ذریعے اپنی نمائندگی کریں گی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق، مختلف جماعتوں سے نام موصول ہونے پر فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس عمل سے واضح ہوتا ہے کہ نئی تشکیل کا عمل تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا تاکہ ججز کی تقرری میں کسی بھی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت عدلیہ میں اصلاحات کی خواہاں ہے اور ججز کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور متوازن نمائندگی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ ملنے کی امید بھی کی جا رہی ہے، جس سے قومی مفاد میں فیصلے کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔یہ نئی آئینی ترمیم اور اس کے تحت ہونے والی تبدیلیاں ملکی سیاست میں ایک اہم پیشرفت کا سبب بن سکتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ملک میں عدلیہ کی آزادی اور اس کے کردار پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت اور پارلیمان دونوں ہی ملکی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کا پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل
خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔ 16 اکتوبر کو پیش کیا گیا یہ بل پانچ روز بعد واپس لے لیا گیا اور اس کی جگہ ترمیم شدہ بل ایوان سے منظور کیا گیا۔پولیس ترمیمی بل 2024 کے مطابق، پولیس میں تعیناتیاں اور تبادلے خیبر پختونخوا حکومت کے قواعد وضوابط 1985 کے تحت ہونے تھے۔ مجوزہ بل میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ آئی جی پولیس اپنی مرضی سے ڈی پی اوز کی تعیناتی نہیں کرسکتے تھے۔ اگر وزیر اعلیٰ چاہتے، تو وہ تعیناتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے اپنے اختیارات آئی جی کو تفویض کرسکتے تھے۔بل کے تحت گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے افسران کی تعیناتی اور تبادلے کا اختیار آئی جی کے پاس دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، ایک انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لانے کی تجویز دی گئی تھی، جسے پولیس افسران کو سزائیں دینے کا اختیار دیا جانا تھا۔ یہ اتھارٹی چھ ممبران پر مشتمل ہونا تھی۔
مجوزہ بل کے تحت گریڈ 18 سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس تھا۔ تاہم، خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے یہ بل واپس لینے کا فیصلہ کیا۔یہ پیشرفت صوبے میں پولیس کے نظام کی اصلاحات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس بل میں پولیس افسران کی تعیناتیوں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس ترمیم شدہ بل کے ذریعے پولیس اصلاحات کے عمل کو کس طرح آگے بڑھائے گی۔حکومت کے اس اقدام سے صوبے کے عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اس بل کی واپسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بلوں کی بار بار واپسی سے پولیس کے نظام میں تبدیلیوں کی رفتار سست ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ حکومت کو پولیس کی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر کی تحقیقات، سوشل میڈیا پیج کا پردہ فاش
لاہور کے ایک نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر پھیلانے کے معاملے پر بنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی منظر عام پر آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ خبر سوشل میڈیا پر اسی روز پھیلائی گئی جب ایک نئے سوشل میڈیا پیج کی تخلیق کی گئی، جس نے جلد ہی ہلچل مچادی۔ذرائع نے بتایا کہ یہ سوشل میڈیا پیج ایک طالبہ کی جانب سے تخلیق کیا گیا، جس نے زخمی لڑکی کے بارے میں معلومات کو مبینہ طور پر زیادتی کے واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ یہ اقدام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، جس کے نتیجے میں کالج میں افراتفری پھیل گئی۔تحقیقات میں شامل ایف آئی اے کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اس سوشل میڈیا پیج سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے مجموعی طور پر 950 سے زائد سوشل میڈیا پیجز کی نشاندہی کرلی ہے، جو اس معاملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نجی کالج کے طلباء کو دیگر کالجز کی تنظیموں نے احتجاج کے لیے اکسایا۔ اس احتجاج کے دوران، نجی کالج کے کیمپس نمبر 10 میں والدین کی آڑ میں کچھ شرپسند افراد داخل ہوئے، جنہوں نے گرلز کالج میں توڑپھوڑ کی۔ اس دوران، توڑپھوڑ کرنے والے افراد نے چہروں پر ماسک لگائے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے ان کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔حکومتی ذرائع نے اس معاملے کی سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات میں تیزی لائیں اور ان تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں جو اس واقعے میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، متاثرہ طالبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
عادل بازئی کو نااہل قرار دینے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو خط
اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے منحرف رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کو نااہل قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے پارٹی سے انحراف اور آئینی ترمیم کے لیے ووٹ نہ دینے پر عادل بازئی کے خلاف ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔عادل بازئی نے حالیہ آئینی ترمیم کے موقع پر ایوان سے غیر حاضری اختیار کی اور ووٹ دینے سے گریز کیا تھا، جس پر پارٹی قیادت نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے مطابق، عادل بازئی نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کی، جسے پارٹی ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی سمجھا گیا۔
پارٹی صدر نواز شریف کی جانب سے ریفرنس ملنے کے بعد، اسپیکر ایاز صادق نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے عادل بازئی کو نااہل قرار دینے اور انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے فوری طور پر ڈی سیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسپیکر نے اپنے خط میں کہا کہ عادل بازئی کے عمل نے ان کی پارٹی وفاداری کو مشکوک بنا دیا ہے، اس لیے انہیں مزید رکن قومی اسمبلی رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔عادل بازئی کی جانب سے اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جس سے ان کی سیاسی وابستگیوں پر سوال اٹھے تھے۔یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور وفاداری کا معاملہ شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور سیاسی جماعتیں آئینی ترامیم اور قانون سازی کے حوالے سے اپنے اراکین کی مکمل حمایت چاہتی ہیں۔اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ الیکشن کمیشن اسپیکر قومی اسمبلی کے اس خط پر کیا ردعمل دیتا ہے اور عادل بازئی کی رکنیت کے حوالے سے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے آئین کو مکمل کیا، شازیہ مری
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مثبت سوچ اور گفتگو کے ذریعے اہم قومی امور کو حل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ شازیہ مری نے یہ بیان کراچی سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دیا، جس میں انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے کسی کی سیاسی وفاداری کو تبدیل کیے بغیر اس ترمیم کی منظوری حاصل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں جمیعت علمائے اسلام (فضل) اور آزاد ارکان کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا۔ بلاول بھٹو نے واضح کیا تھا کہ وہ "لوٹوں” کا ووٹ نہیں لیں گے اور نہ ہی لیا۔
شازیہ مری نے اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پی پی پی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے اپنے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے گئے آئین کو مکمل کرنے کا عزم کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آئینی عدالت کی تشکیل شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خواب تھا، جس کی تکمیل بلاول بھٹو نے کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔شازیہ مری نے بلاول بھٹو کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا اور قومی مسائل کے حل کی راہیں ہموار ہوں گی۔ پی پی پی کی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی بلاول بھٹو کی رہنمائی میں پارٹی اپنے عزم کے مطابق عوام کی خدمت کرتی رہے گی۔
ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی میں ناکامی، پی ٹی اے کی ڈیڈ لائن گزر گئی
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے دی گئی تاریخ گزر جانے کے باوجود ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔ کئی شہروں کے صارفین اب بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ڈاؤن لوڈنگ، اپ لوڈنگ، ڈاکومنٹس بھیجنے، اور وائس نوٹس بھیجنے میں تاخیر جیسے مسائل شامل ہیں۔آن لائن کاروبار کرنے والے افراد خاص طور پر اس صورتحال سے متاثر ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ کی بار بار معطلی نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر منحصر کاروباری افراد نے بتایا کہ انٹرنیٹ سروس کے خراب ہونے سے ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، اور وہ اپنے کاروبار کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔موبائل ڈیٹا پر انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں تاخیر نے سوشل میڈیا صارفین کو بھی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ لوگوں کو پیغامات بھیجنے اور سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ملک بھر میں تقریباً دو ماہ سے انٹرنیٹ سروس میں بار بار خلل پڑ رہا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے صارفین مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ کی غیرمستقل دستیابی نے ان کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 20 اکتوبر تک انٹرنیٹ سروس سے متعلق تمام تکنیکی پیچیدگیاں اور خرابیاں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن اس تاریخ کے گزر جانے کے باوجود انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔ پی ٹی اے کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس سے صارفین کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مسلسل تاخیر سے نہ صرف کاروباری طبقہ بلکہ عام صارفین بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے کے فوری حل کے لیے پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگ پی ٹی اے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے اور صارفین کو انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرے۔
اسد قیصر اور علی امین گنڈاپور کی جانب سے پارٹی وفاداریوں کی تبدیلی پر کڑی تنقید
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے حالیہ سیاسی کشیدگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن سینیٹرز اور ایم این ایز نے اپنے ضمیر کا سودا کیا اور ووٹ فروخت کیا، وہ تمام غدار ہیں اور ان کی پارٹی رکنیت فوری طور پر معطل کی جانی چاہئے۔ اسد قیصر نے یہ بیان 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جاری کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے غیر آئینی طریقے سے پاس کیا گیا ہے۔اسد قیصر نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ "کل اندھیرے میں اس آئینی ترمیم کو غیر آئینی طریقے سے منظور کیا گیا، یہ ترمیم غیر اخلاقی ہے اور اداروں کے درمیان مزید محاز آرائی کا سبب بنے گی۔ اس ترمیم کو اتنی جلدی پاس کرانے کی کیا ضرورت تھی؟” انہوں نے مزید کہا کہ "سب جانتے ہیں کہ ووٹ کو غیر آئینی طور پر خریدا گیا، ووٹ کی عزت کرنے والوں نے خود ووٹ کی بے حرمتی کی۔ ممبران پیسوں کے عوض بک گئے، پارلیمنٹ کی بے توقیری ہوئی، اور چادر اور چار دیواری کی پامالی ہوئی۔”اسد قیصر نے بلاول بھٹو زرداری کو بھی مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ "کیا یہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ "ممبران کو خرید کر اور ان کی بہن بیٹیوں کو ڈرا دھمکا کر یہ ترمیم پاس کرائی گئی۔” ان کا کہنا تھا کہ "بکنے والوں نے پارٹی کے ساتھ ساتھ بانی پی ٹی آئی اور قوم سے بھی غداری کی ہے، اور قوم ان غداروں سے خود حساب لے گی۔”
دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسد قیصر کے بیانات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وفاداریاں بدلنے والوں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا، "جنہوں نے اپنی وفاداریاں بدلیں، ہم ان سے حساب لیں گے۔ یہ اتنی آرام سے ہضم نہیں ہونے دیا جائے گا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ "جعلی مینڈیٹ والی حکومت نے عدلیہ پر حملہ کیا اور مرضی کے بندے بٹھا کر فیصلے کرنے کی کوشش کی۔ رات کے اندھیرے میں ایک غیر آئینی اقدام کیا گیا، جو صرف اشرافیہ کو فائدہ دینے کے لیے کیا گیا۔” انہوں نے یقین دلایا کہ "آج رات تک نام آجائیں گے اور کسی بندے کو نہیں چھوڑا جائے گا۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے چار ایم این ایز نے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس سے پارٹی میں اندرونی کشمکش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا تھا کہ مزید ایم این ایز بھی غداری کے لئے تیار تھے، جو پارٹی کے لیے تشویش کی بات ہے۔ اسد قیصر اور علی امین گنڈاپور کے بیانات پارٹی کے اندر جاری اختلافات اور وفاداری کی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں، جو آنے والے دنوں میں پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
مریم نواز کا پارلیمنٹ کی بالادستی کا عزم: آئینی ترمیم کو عوامی مفاد کی ترجیح قرار دیا
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حالیہ بیان میں پارلیمنٹ کو بالادستی اور خود مختاری کا حق دلانے کا عزم کیا ہے، اور کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے حوالے سے مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی قائدین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے سیاست کے بجائے ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی ہے، اور پارلیمنٹ کو بالادستی اور خود مختاری کا حق دلایا ہے۔مریم نواز نے مزید وضاحت کی کہ یہ ترمیم ایک حفاظتی دیوار کی مانند ہے تاکہ کوئی بھی آئین، پارلیمنٹ، حکومتوں اور اداروں کی وقار کے ساتھ من مانی نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "1973 کے آئین کی خالق جماعتوں نے ایک بار پھر دستور پاکستان کو بہتر اور مضبوط بنانے کا تاریخی کردار ادا کیا ہے۔”
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اس ترمیم میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر عوامی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے عدلیہ کا وقار، ساکھ اور کردار بہتر ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئینی ترمیم کے نتیجے میں صرف وہ جج آئیں گے، جو آئین اور عوام کے حقوق کے پاسدار ہوں گے۔مریم نواز نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف کے سیاسی وژن کو بھی سلام پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کوشاں ہے۔یہ بیان مریم نواز کی جانب سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں وہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی کوششوں کو نمایاں کر رہی ہیں۔ ان کے اس عزم سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔









