اسلام آباد: سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے حالیہ آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں نے ایک متفقہ کوشش کے ذریعے اس عمل کو مکمل کیا، جس سے جمہوری اقدار کی فتح کا پیغام دیا گیا ہے۔اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ آئینی ترامیم کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو نیشنل اسمبلی کی نگرانی میں کام کر رہی تھی، تاہم سینیٹ کے ارکان کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا تاکہ مکمل اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمیٹی کی 16 میٹنگز ہوئیں، جن میں مختلف ایشوز کو زیر بحث لایا گیا، جن میں اہم آئینی اصلاحات بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل میں تمام جماعتوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی، اور کوئی اہم نکتہ چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک شفاف عمل تھا، اور آخرکار تمام جماعتوں کی مشاورت سے ترامیم کا مسودہ کمیٹی میں پیش کیا گیا۔اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آئینی ترامیم کا عمل انتقامی کارروائی نہیں بلکہ ملک کی بہتری کے لیے اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر جمیعت علمائے اسلام (ف)، کی شمولیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی طرف سے بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ترامیم کے عمل کے دوران تحریک انصاف کی جانب سے کچھ مطالبات پیش کیے گئے تھے، جن کو کمیٹی نے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی حتمی رائے کے احترام میں تمام جماعتوں نے مل کر اس عمل کو آگے بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کا یہ عمل 18 سال پرانا ایجنڈا تھا، جو آج مکمل ہوا۔ انہوں نے اس موقع پر وفاقی حکومت کی بھی تعریف کی، جس نے اس ایجنڈے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینی ترامیم کا مقصد عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ہے، اور اس کے لیے قانونی نظام میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔انہوں نے سینیٹ میں موجود تمام ارکان اور پارلیمانی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیمی عمل میں تمام جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا اور ملک کی بہتری کے لیے ایک ساتھ کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے بعد اب پارلیمنٹ کے پاس مزید قوانین بنانے کا موقع ہے، جن سے عام آدمی کو انصاف اور سہولت فراہم کی جا سکے گی۔سینیٹر اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ ان ترامیم کی بدولت ملک میں آئینی اصلاحات کا سفر جاری رہے گا، اور جلد ہی ملک کے عوام کو اس کے ثمرات نظر آئیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس دعا کے ساتھ کیا کہ اللہ تعالیٰ اس نیک مقصد میں کامیابی عطا کرے۔
Author: صدف ابرار

آئینی ترامیم کی متفقہ کوشش، جمہوریت کی فتح،سینیٹر اسحاق ڈار

26 ویں آئینی ترمیم : محسن نقوی کی وزیر اعظم شہباز شریف کو فون پر مبارکباد
اسلام آباد: سینیٹ آف پاکستان میں 26 ویں آئینی ترمیم کے بل پر شق وار ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ اس بل کی پہلی شق کو دوتہائی اکثریت سے منظور کیا گیا، جس کے بعد وزیر داخلہ محسن رضا نقوی نے فون کے ذریعے وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارک باد دی۔یہ بل عدلیہ کے نظام میں ناگزیر اصلاحات کے لیے پیش کیا گیا ہے، جس کے حوالے سے وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کئی ماہ تک مشاورت اور محنت کی۔ اس اہم مسودہ پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے بلاول بھٹو زرداری، جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین ہیں، اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اہم کردار ادا کیا۔بل کی تیاری کے دوران وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر سرکردہ افراد، جن میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں، نے وقتاً فوقتاً اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔ ان کی مسلسل کوششوں کی بدولت یہ بل پارلیمنٹ کے قانون سازی کے مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
سینیٹ کے اس اجلاس میں مختلف جماعتوں کے اراکین نے بھی اس ترمیم کی حمایت کی، جسے عدلیہ کی اصلاحات کے لیے ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس بل کے ذریعے عدلیہ کے نظام میں بہتری لانے کے لیے اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جو کہ ملک میں عدلیہ کی فعالیت اور شفافیت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔امید کی جا رہی ہے کہ سینیٹ میں اس بل کی کامیاب منظوری کے بعد، یہ قومی اسمبلی میں بھی پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی منظوری کے لیے مزید بحث و مباحثہ کیا جائے گا۔ اس طرح کی آئینی اصلاحات کا مقصد پاکستان کی عدلیہ کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا ہے، تاکہ عوام کو فوری اور منصفانہ انصاف فراہم کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک ہونے کی افواہوں کی تردید
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کی موجودہ صورت حال کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے اور پارٹی مکمل طور پر متحد ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ "تحریک انصاف متحد ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ پارٹی کے 11 ممبران رابطے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "ہم نے صرف یہ کہا ہے کہ تین سے چار ممبر ہمارے رابطے میں نہیں ہیں، ہم نے ایسا نہیں کہا کہ ہمارے ممبر حکومت کو ووٹ دیں گے۔
یہ بیان سینیٹر فیصل واوڈا کے حالیہ دعوے کے جواب میں آیا ہے، جنہوں نے یہ بیان دیا تھا کہ "نمبرز 224 سے آگے جائیں گے اور یہ کہ پی ٹی آئی کا ایک طاقتور بلاک تیار ہو چکا ہے۔ سینیٹر واوڈا نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں پی ٹی آئی کا ایک مضبوط اتحاد تشکیل دیا جا رہا ہے، جو کہ حکومت کے لئے چیلنج بن سکتا ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان کے اس بیان نے پی ٹی آئی کے اندرونی اتحاد کی عکاسی کی ہے اور پارٹی کے موقف کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک انصاف اپنے اصولوں اور منشور پر قائم ہے اور کسی بھی اندرونی بحران کا شکار نہیں ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان نےآئینی ترامیم میں دانشمندانہ کردار ادا کیا ،علامہ راجا ناصر عباس
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں کردار کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ممکنہ بربادیوں کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔علامہ راجا ناصر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی کام کی کامیابی کے لیے نیت سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے، اور آئین میں ترمیم پارلیمنٹ کا آئینی حق ہے۔ تاہم، حالیہ آئینی ترامیم کے عمل میں شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں، کیونکہ ترامیم کو تیزی سے منظور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علامہ راجا ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ آئینی ترامیم کو ظلم و جبر سے کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟ اگر لوگوں کو اغوا کیا جائے اور ان پر دباؤ ڈال کر ترمیمات کی جائیں تو یہ کونسی آئینی ترامیم ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی پر دباؤ ہے تو ہمیں اس کا دفاع کرنا چاہیے، اور ایسی ترمیمات متنازع ہو جاتی ہیں جب ان میں رضا مندی اور اتفاق رائے شامل نہ ہو۔
ایم ڈبلیو ایم سربراہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے کوئی ترمیم نہیں کی جاتی، اور ترمیمات کے حوالے سے جلد بازی پر انہوں نے شدید اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اس عمل کا ساتھ نہیں دے گی تو یہ ترمیمات مزید تنازع کا شکار ہو جائیں گی۔علامہ راجا ناصر عباس نے مزید کہا کہ آئینی ترمیمات کے حوالے سے شفافیت ضروری ہے، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیوں اتنی جلدی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم مل کر بیٹھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں اور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہم چیخ رہے ہیں کہ لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے، اور کوئی اس آواز کو نہیں سنتا .انہوں نے بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں آئے اور کہا کہ وہ اپنے لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے آئے ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ راجا ناصر عباس نے مولانا فضل الرحمان کی موجودہ صورتحال میں دانشمندانہ کردار کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے بربادیوں کے امکانات کم کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے مسائل کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو مزید وقت دیا جاتا تو حالات میں مزید بہتری آ سکتی تھی۔سینیٹر علی ظفر نے بھی اس حوالے سے رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئینی ترمیمات پر رضا مندی اور اتفاق رائے نہ ہو تو آئین اپنی موت آپ مر جائے گا۔ علامہ راجا ناصر عباس نے مزید کہا کہ ترمیمات پاکستان کی خاطر کی جائیں، نہ کہ کسی فرد واحد کے مفاد میں۔علامہ راجا ناصر عباس نے عوامی نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملک کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھنا چاہیے تاکہ ملک میں آئینی و قانونی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
چیف جسٹس پاکستان کی مدت ملازمت تین سال مقرر،سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی،
اسلام آباد: سینیٹ کے اہم اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کی تمام 22 شقوں کی منظوری دے دی گئی۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ اس ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کی مدت تین سال مقرر کر دی گئی ہے۔ترمیم کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہوگی اور اس عمر کو پہنچنے پر وہ خودبخود ریٹائر ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس کی تقرری کے لیے تین سینیئر ترین ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کو پیش کیے جائیں گے، جو دو تہائی اکثریت سے نئے چیف جسٹس کی منظوری دے گی۔
اجلاس میں آرٹیکل 215 کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ممبران کی تقرری سے متعلق ترمیم بھی منظور کی گئی۔ اس کے مطابق، نئے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری تک موجودہ عہدیداران اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔اجلاس میں پی ٹی آئی کے کچھ اراکین نے واک آؤٹ کیا، لیکن بعد میں واپس آ کر ووٹ دیا۔ جے یو آئی کے پانچ اراکین نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیے، جسے حکومت کی کامیابی میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ترمیم کے حق میں 65 ووٹ پڑے، جبکہ مخالفت میں چار ووٹ آئے۔ حکومت کے پاس اس وقت سینیٹ میں 65 ممبران کی اکثریت ہے، جس سے یہ بل آسانی سے منظور ہو گیا۔ اب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے اس کی منظوری کے بعد یہ آئینی ترمیم نافذ ہو جائے گی۔وفاقی وزیر قانون نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم عدالتی اور الیکشن کمیشن کے معاملات میں اہم بہتری لائے گی، اور اس سے انصاف کے نظام میں شفافیت پیدا ہوگی۔
پی ٹی آئی کو اب کون لیڈ کرے گاِ؟ فیصل واوڈا نے اشارہ دے دیا
سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں ایک مضبوط بلاک بن چکا ہے، جس کی قیادت ایک زیرک شخصیت کے ہاتھ میں ہوگی۔ انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی، جہاں انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور آئینی ترمیم کے بارے میں اہم نکات پیش کیے۔سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا، کہ آج کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں ایک بہت مضبوط گروپ بن چکا ہے، جس کو ایک زیرک آدمی لیڈ کرے گا۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ بلاک پی ٹی آئی کو مستقبل میں مزید مضبوط اور مستحکم بنائے گا۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "میں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ پی ٹی آئی ایم کیو ایم کی طرح پی ٹی آئی پاکستان بنے گی۔”
وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے، واوڈا نے کہا کہ "نمبرز 224 سے آگے جائیں گے۔ اگر پی ٹی آئی اپوزیشن میں ہے تو کم از کم اس ترمیم کے خلاف ووٹ دینا چاہیے تھا۔” ان کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی مخالفت میں ہیں اور پی ٹی آئی کے اندر کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ "پی ٹی آئی کے لوگ پھر سے بائیکاٹ کر کے بھاگ گئے ہیں۔ قوم کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ سب ان کے منصوبے کا حصہ تھا۔” ان کے اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں اختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور وہ اس کے بارے میں اپنی جماعت کے ارکان اور عوام کو آگاہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔سینیٹر فیصل واوڈا کے اس بیان سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، جو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر واقعی ایک مضبوط بلاک تشکیل پا رہا ہے تو یہ پی ٹی آئی کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر آئندہ انتخابات کے تناظر میں۔
سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کا بل پیش، ووٹنگ کے لیے تحریک منظور
اسلام آباد: سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا گیا، جس پر ووٹنگ کے لیے تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ وزیر قانون اعظم نسیر طارق نے اس بل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ اپنی مدت پوری کر کے چلے جائیں گے، اور اس بل کے تحت 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی دو تہائی اکثریت سے نئے چیف جسٹس کے نام پر اتفاق کرے گی۔اجلاس کے دوران، مختلف ارکان نے اس بل پر اپنی رائے کا اظہار کیا، جس میں وزیر قانون نے واضح کیا کہ سینیٹ کی ترمیم کی وہ حمایت کریں گے اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی ترامیم پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا، "ہم بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے فیصلوں کو نہیں مانتے۔”
جبکہ اپوزیشن کے ارکان نے رانا ثنا اللہ اور اٹارنی جنرل کو باہر بھیجنے کا مطالبہ کیا، حکومتی ارکان نے انہیں یہاں بیٹھنے کا آئینی حق قرار دیا۔ سینٹ کے اجلاس میں، حکومتی بینچز میں پیپلز پارٹی کے 24، پی ایم ایل این کے 19، بی اے پی کے 4، اور جے یو آئی کے 5 ارکان شامل ہیں، جو کہ مجموعی طور پر 59 بنتے ہیں۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے 64 ووٹس کی ضرورت ہے، جس کا مطلب ہے کہ مزید 5 ووٹس درکار ہیں۔اجلاس کے دوران، سینٹ کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں، اور ائینی ترامیم پر ووٹنگ کا عمل جلد شروع ہونے والا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اراکین کو بیٹھنے کا حق ہے، جبکہ حکومتی ارکان نے اس بات کی وضاحت کی کہ اگر بل منظور ہوگا تو یہ ڈویژن کے ذریعے ہوگا۔یہ اجلاس اس وقت جاری ہے، اور ایوان کے اراکین اپنی نشستوں پر موجود ہیں، جب کہ سینیٹ کی گیلریاں بھی خالی کرائی جا رہی ہیں۔ 26ویں آئینی ترمیم کا یہ بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کی ووٹنگ کے عمل کی تیاری کی جا رہی ہے۔
جے یو آئی سینیٹر عطا الرحمٰن کا آئینی ترامیم پر خدشات کا اظہار
جے یو آئی (جمعیت علماء اسلام) کے سینیٹر عطا الرحمٰن نے حالیہ خطاب میں آئین میں ممکنہ ترامیم پر گہرے خدشات کا اظہار کیا، اور اس تاریخی پس منظر اور مختلف سیاسی شخصیات کے آئین کی تشکیل میں کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، "آج ہمیں اس اہم موضوع پر بات کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ جب بھی آئین میں ترامیم کی بات ہوتی ہے، جمیعت علماء اسلام کو خاص طور پر تشویش محسوس ہوتی ہے۔سینیٹر الرحمٰن نے آئینی مسودے کی تشکیل کے عمل کی یاد دہانی کرائی، جس میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر سیاسی رہنماوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، "میں ان تمام ممبران اور رہنماوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اگر ہمارا ملک آج تک محفوظ ہے تو یہ اس آئین کی وجہ سے ہے۔ اگر آج ہمارا پارلیمنٹ محفوظ ہے تو یہ بھی اس آئین کی بنیاد پر ہے۔انہوں نے کسی بھی کوشش کے خلاف خبر دار کیا کیا جو آئین میں ایسی شقیں شامل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں جو مستقبل میں ملک کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ "ماضی میں، ہمارے ملک کے اداروں اور اسٹیبلشمنٹ نے بار بار کوشش کی ہے کہ کسی طرح آئین میں ایسی چیزیں شامل کی جائیں جو اس ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکیں۔ انہوں نے حالیہ 26ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کو خدشہ ہے کہ یہ ترمیم ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
سینیٹر ن عطا الرحمن نے تسلیم کیا کہ اس ترمیم کے حوالے سے بحث ہوئی ہے، اور کچھ خطرناک عناصر کو بھی شناخت کیا گیا ہے۔ "اگر ہماری قیادت نے اس ترمیم کو سانپ سے تشبیہ دی ہے، تو یہ یقینی طور پر ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے،” انہوں نے کہا، اور احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سینیٹر عطا الرحمٰن نے اپنے ساتھی کامران مرتضیٰ اور دیگر جماعتوں کے افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ترامیم کے دوران تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ کچھ ترامیم یقینی طور پر ضروری ہیں، ایک سمجھوتہ کیا جانا چاہیے۔ "اگر میں ایک بھی ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا تو ہمیں اپنی سیاسی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے،” انہوں نے کہا، پی ٹی آئی کے اراکین کو جے یو آئی کے ساتھ تعاون کرنے کی دعوت دیتے ہوئے۔سینیٹر نے سیاسی قیدیوں کے معاملے پر بھی حکومت کے رویے پر تنقید کی۔ "ہم قیدیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کی مذمت کرتے ہیں اور یہ یقین دہانی کرتے ہیں کہ انہیں ان کے حقوق اور قانون کے تحت فراہم کردہ سہولیات ملنی چاہئیں،انہوں نے بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف جیسے سیاسی رہنماوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ترامیم کے مسائل حل کرنے میں محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ترمیم کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔سینیٹر الرحمٰن نے جے یو آئی کی طرف سے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ یہ ترمیمیں ملک کے بہترین مفاد میں ہوں۔ "ہم تمام پارلیمنٹ کے ممبران اور سیاسی کارکنوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ ہم مکمل تعاون کریں گے اور اس ترمیم کی حمایت کریں گے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی درخواست کریں گے کہ کوئی کمیاں دور کرنے کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ملک کی سالمیت کے لیے کام کر سکیں،
عدالت اپنا کام فعال طریقے سے کرے تو یہ عوام کی بہتری کے لیے ہوگا۔ سینیٹر فیصل سبزواری
سینیٹ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سینیٹر فیصل سبزواری نے بلدیاتی حکومتوں میں اصلاحات کے حوالے سے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں بلدیاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بہتری کے لیے یہ ضروری ہے کہ عدالتیں فعال طور پر کام کریں۔ انہوں نے عوامی مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، "اگر عدالت اپنا کام فعال طریقے سے کرے تو یہ عوام کی بہتری کے لیے ہوگا۔سینیٹر فیصل سبزواری نے مزید کہا کہ "عام لوگوں کے مقدمات اور اپیلیں کئی دہائیوں تک سنی نہیں جاتیں، جبکہ بعض معروف رہنماوں کی تقریروں پر فوری طور پر سو موٹو نوٹس لیا جاتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ائینی بینچوں کی تشکیل کی جائے تو یہ عوام کی فلاح کے لیے مفید ہوگا۔
ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات کے حوالے سے آئینی ترامیم پیش کیں، خاص طور پر آرٹیکل 140 کا حوالہ دیتے ہوئے۔ سبزواری نے کہا کہ آئین کے مطابق تمام صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات کرانے اور انہیں مالی، انتظامی، اور سیاسی اختیارات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، لیکن بدقسمتی سے موجودہ نظام میں یہ اختیارات موثر طریقے سے فراہم نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا، "بدقسمتی سے، کسی بھی صوبے میں جو بلدیاتی حکومتوں کا قانون لاگو ہے، انہیں وہ اختیارات نہیں دیے گئے جو آئین میں وضاحت کی گئی ہیں۔” انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ سپریم کورٹ نے جسٹس گلزار کی زیر قیادت فیصلہ دیا ہے کہ بلدیاتی نظام آئین کے تحت واضح نہیں ہے اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
فیصل سبزواری نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی طرح اہمیت دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا، "ہماری خواہش ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات کو واضح کیا جائے تاکہ یہ موثر طریقے سے کام کر سکیں۔اجلاس میں دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں، خاص طور پر مسلم لیگ نون کے وزیر قانون نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ اصلاحات عوامی مفادات کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کو ایک ساتھ مل کر اس اہم موضوع پر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر، سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا، "ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ عوامی فلاح کے لیے موثر اور فعال بلدیاتی نظام کو یقینی بنایا جائے، تاکہ لوگ براہ راست اپنی حکومت سے مستفید ہو سکیں۔
مستقبل میں عوامی مفادات کے خلاف فیصلے کرنے والے ججز کی تقرری روکی جائے گی، ایمل ولی خان
اسلام آباد: سینیٹر ایمل ولی خان نے سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خاص طور پر عدلیہ کی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ترمیمات جمہوریت کی بقا، دستور کی طاقت، اور پارلیمان کی حیثیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اصلاحات اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ مستقبل میں ایسے ججز کی تقرریاں نہ ہوں جو عوام کے مفادات کے خلاف فیصلے کرتے ہیں، جیسے کہ ثاقب نثار اور جسٹس گلزار۔ایمل ولی خان نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو ایسے ججز کی ضرورت ہے جو واقعی انصاف کے متمنی ہوں، جیسے کہ فائق عیسیٰ، نہ کہ وہ ججز جو ماضی میں متنازعہ فیصلے دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ اس ترمیم کے بعد ایسے فیصلے اور ایسے لوگ سامنے نہیں آئیں گے۔”
انہوں نے حکومت کی طرف سے ججز کی تقرری کے اختیار کی حمایت کی اور کہا کہ اگر یہ اختیار حکومت کو نہ دیا جائے تو سینٹ کے کسی چھوٹے عہدیدار کو دے دیا جائے گا۔ ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ حکومت عوام کی نمائندہ ہے، اور اس کا کام نظام کو چلانا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔سینیٹر ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس بل میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا تھا، حالانکہ وہ ہر میٹنگ میں اپنی رائے پیش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی ناتجربہ کاری اور غیرسنجیدگی کی وجہ سے اہم مسائل پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ پارٹی نہیں بلکہ ایک شخص کی مرضی ہے کہ فیصلے ہوں گے، اور یہی ان کی ناکامی کی وجہ ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر تمام پارلیمانی رہنما مل کر کام کریں تو ملک کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ایمل ولی خان نے اپنی تقریر میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہیں اور دیگر پارلیمانی رہنماؤں کو کسی بھی سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کی بہتری کے لیے اصلاحات کو نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے خاص طور پر جے یو آئی کی مثبت کردار کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات نے اس عمل میں اہمیت حاصل کی ہے۔
تقریر کے آخر میں، ایمل ولی خان نے سینیٹ میں موجود تمام رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ اس بل کی جلدی منظوری کے لیے ووٹنگ کریں تاکہ پاکستان کے عوام کو فوری طور پر فوائد حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا، "یہ وقت بحث کا نہیں بلکہ عمل کا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔یہ تقریر سینیٹ میں موجود اراکین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور اس نے جمہوری اصلاحات کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کیا۔ سینیٹر ایمل ولی خان کی یہ تقریر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت میں جمہوریت اور عدلیہ کی بہتری کے حوالے سے گہرے خدشات موجود ہیں اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔









