راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے پارٹی کے 5 اہم رہنما آج اڈیالہ جیل میں ملاقات کریں گے تاکہ آئینی ترمیمی مسودے پر مشاورت کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا یہ وفد صبح 8 بجے اڈیالہ جیل پہنچے گا اور عمران خان سے ملاقات کرے گا۔ملاقات کے ایجنڈے میں پارٹی کی جانب سے پیش کیا جانے والا آئینی ترمیمی مسودہ سرفہرست ہوگا، جس پر بانی چیئرمین سے حتمی رائے لی جائے گی۔ اس ملاقات کے دوران ترمیمی مسودے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و فکر کیا جائے گا، جس کے بعد آئینی مسودے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس 5 رکنی وفد میں پی ٹی آئی کے اہم قانونی اور آئینی ماہرین شامل ہوں گے، جن میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، علی ظفر، سلمان اکرم راجہ اور حامد رضا شامل ہیں۔ یہ تمام افراد عمران خان کے قریبی مشیران سمجھے جاتے ہیں اور پارٹی کے اندرونی اور قانونی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔آئینی ترمیمی مسودے پر ہونے والی یہ مشاورت پارٹی کے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے لیے انتہائی اہم تصور کی جا رہی ہے۔ یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ پارٹی اس ترمیم کے ذریعے موجودہ سیاسی اور قانونی بحران کا کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عمران خان کے جیل میں قید ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت ان سے براہ راست مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ تمام اہم فیصلے ان کی رہنمائی میں کیے جا سکیں۔
Author: صدف ابرار

پی ٹی آئی کے 5 رہنما آج اڈیالہ جیل میں عمران خان سے آئینی ترمیمی مسودے پر مشاورت کریں گے

بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات آج متوقع
اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آج ایک بار پھر 26 ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری حیدرآباد سے واپسی کے بعد مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر پہنچیں گے، جہاں دونوں رہنما آئینی ترمیم کے مسودے پر مشاورت کریں گے۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمان، پی ٹی آئی سے ہونے والی حالیہ ملاقات پر بھی بلاول بھٹو کو اعتماد میں لیں گے، جبکہ آئینی مسودہ پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔یہ ملاقات آئندہ انتخابات اور پارلیمانی معاملات کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ 26 ویں آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے مستقبل کی قانون سازی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اپٹما نے ایف بی آر کے سیلز ٹیکس فراڈ کے الزامات مسترد کر دیے
اسلام آباد: آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے لگائے گئے سیلز ٹیکس فراڈ کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اپٹما کے سیکرٹری جنرل شاہد ستار کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے خلاف لگائے گئے الزامات ناقص ڈیٹا پر مبنی ہیں اور ان سے صنعت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔شاہد ستار نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ درست ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیہ کرے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی تعمیل کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس فراڈ کے الزامات بے بنیاد ہیں اور اس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
اپٹما نے ایف بی آر کو سیلز ٹیکس ڈیٹا کے دوبارہ جائزے کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے تاکہ اس معاملے کو درست انداز میں حل کیا جا سکے۔ شاہد ستار نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی رپورٹ کے باعث ہونے والے نقصان پر وضاحت درکار ہے، کیونکہ غلط الزامات سے نہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر بلکہ ملکی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندگان نے زور دیا کہ ایسی رپورٹس کی وجہ سے کاروبار میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس سے معیشت کے اہم شعبے کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔
وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات، 26ویں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں اہم ملاقات کی جس میں مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں آئینی ترمیم کے حوالے سے اہم پیش رفت اور قانونی پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کو منظور کرانے سے متعلق تفصیلات کا جائزہ لیا اور اس کے حتمی مسودے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ آئینی ترمیم کا مقصد ملک میں جمہوری عمل کو مزید مستحکم کرنا اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے متفقہ قانون سازی کو جمہوریت کی کامیابی اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لیے کلیدی قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی ترمیمات کا مقصد عوامی نمائندگی کو بہتر بنانا اور ملکی آئین کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہونا چاہیے تاکہ ریاست کے تمام ستون مضبوط اور ہم آہنگ رہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کی آراء کو سراہا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مجوزہ آئینی ترامیم کا نفاذ جمہوریت کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ قانون سازی کو مکمل اتفاق رائے کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں منظور کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں، اور اس ترمیم کے ذریعے ملکی آئین میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائی جائیں گی جو مستقبل میں ملک کی جمہوری نظام کو مزید فعال اور مستحکم بنائیں گی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، قانون سازی کے دیگر امور اور عوامی مفادات سے جڑے مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ملکی استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت مختلف آئینی اور قانونی اصلاحات کے لیے سرگرم ہے، اور 26ویں آئینی ترمیم کا معاملہ موجودہ سیاسی تناظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا گھر سیاسی رابطوں کا مرکز، پی ٹی آئی اور حکومتی وفود کی اہم ملاقاتیں
اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کا گھر ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں اور رابطوں کا مرکز بن گیا ہے، جہاں آج ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے رہنما ملاقات کے لیے پہنچے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا وفد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے پہنچا، جبکہ حکومتی وفد بھی مولانا کے گھر پہنچ گیا، جس نے ان رابطوں کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے وفد میں سینئر قانونی ماہرین شامل ہیں، جن میں حامد خان، علی ظفر، اور سلمان اکرم راجہ شامل ہیں۔ یہ ملاقات آئینی ترمیم کے حوالے سے ہو رہی ہے، جس کا مسودہ پی ٹی آئی کو پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس ملاقات کے بعد پی ٹی آئی وفد کو عشائیہ بھی دیا۔
اسی دوران حکومتی وفد بھی مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچا، جس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور نوید قمر شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات جاری ہے اور اس ملاقات میں اہم آئینی اور سیاسی معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔مولانا فضل الرحمان کا گھر اس وقت سیاسی رابطوں کا گڑھ بن چکا ہے جہاں نہ صرف پی ٹی آئی اور حکومتی نمائندگان موجود ہیں بلکہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ ملاقاتیں ملک کی سیاسی صورتحال میں اہم پیشرفت کا عندیہ دے رہی ہیں، اور آئندہ آنے والے دنوں میں مزید سیاسی تبدیلیاں متوقع ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے عشائیے کے دوران پی ٹی آئی کے وفد اور مولانا کے درمیان آئینی مسودے پر تفصیلی گفتگو جاری ہے، جس کا مقصد ترمیم کے حوالے سے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
آئینی ترمیم پر جے یو آئی اور پی ٹی آئی حکومت سے بات کیوں کر رہی ہیں؟حافظ نعیم الرحمان
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اس ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم صرف حکومت کو فائدہ پہنچائے گی اور عدلیہ پر حکومتی گرفت مضبوط کرنے کا باعث بنے گی۔حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کا مقصد ایک مرضی کی عدلیہ اور اپنے پسند کے چیف جسٹس کی تقرری ہے، جو غیر جمہوری عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اپنے کھیل میں سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرے، لیکن جے یو آئی اور پی ٹی آئی کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بننے دیا جائے، اور پھر آئین میں کسی قسم کی ترمیم یا اصلاحات کی بات کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں ترمیم کا مقصد محض حکومت کو فائدہ پہنچانا ہے اور یہ عدلیہ کے ادارے کے آزادانہ کام میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔جماعت اسلامی کے سربراہ نے جے یو آئی اور پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کے ساتھ اس ترمیم پر بات کرنے کے بجائے اسے مکمل طور پر مسترد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کو حکومت کے سیاسی مفادات کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے اور عدلیہ کی خودمختاری کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔حکومت نے ایک مجوزہ آئینی ترمیم پیش کی ہے جس کے تحت چیف جسٹس کی تقرری کے عمل میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام حکومت کو عدلیہ پر مزید کنٹرول دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا شہید کانسٹیبل کو خراج عقیدت، ڈرگ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنے کا عزم
وفاقی وزیرداخلہ اور انسداد منشیات کے سربراہ محسن نقوی نے راولپنڈی کے تھانہ روات کی حدود میں منشیات فروشوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل احسان کیانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ "کانسٹیبل احسان کیانی نے اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا بلند رتبہ حاصل کیا”، اور پنجاب پولیس کے بہادر سپوت کی قربانی کو سراہا۔محسن نقوی نے ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ڈرگ مافیا کے خلاف جاری کارروائی کو "جہاد” قرار دیا اور کہا کہ "اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رہے گی”۔ انہوں نے کہا کہ "ہم پنجاب کے بہادر سپوت، شہید کانسٹیبل احسان کیانی کو سلام پیش کرتے ہیں اور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ڈرگ مافیا کے خلاف ہمارا کریک ڈاؤن مسلسل جاری رہے گا۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں منشیات کے پھیلاؤ اور اس کے معاشرتی اور سیکیورٹی اثرات پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ نقوی کے یہ الفاظ حکومت کے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے اور ان بہادر افسران کو خراج تحسین پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، جو اپنے فرض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
لوگوں کو تشدد پر اکسانے سے زلفیں بکھیرنے تک پی ٹی آئی ورکر
پی ٹی آئی ٹک ٹاکر سارہ خان ایک فرضی کہانی کو بیان کرتے ہوئے ایک ہی پس منظر اور لباس میں دکھائی دیتی ہیں، سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنی ہے۔ ویڈیو میں پہلے وہ لاہور واقعے کی ایک جھوٹی کہانی سنا رہی ہیں اور اس کے بعد، بالکل مختلف موڈ میں، بھارتی گانے پر رقص کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ دونوں ویڈیوز پر ہزاروں لائیکس اور فالوورز ہونے کے باوجود، عوام کی جانب سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ایک ہی جوڑا، ایک ہی بیک گراؤنڈ
ایک سانس میں فرضی بیٹی کی فرضی کہانی
دوسری سانس میں۔۔۔
ہم زُلفیں تو بکھرا ئیں
اور پھر اُن دونوں ویڈیوز پر ہزاروں لائیکس اور لاکھوں فالوورزایسی زہریلی یُوتھنوں کے جھوٹے پروپیگنڈوں کو کب ختم کرے گی یہ حکومت؟
— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) October 18, 2024
یہ ویڈیوز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپیگنڈے اور غیر ذمہ دارانہ مواد کو پھیلایا جا رہا ہے۔ سارہ خان کی جانب سے ایک حساس موضوع پر غلط بیانی کر کے عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی، جبکہ دوسری ویڈیو میں وہ ایک مختلف انداز میں نظر آتی ہیں جو ان کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔لوگ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے اس طرح کے زہریلے پروپیگنڈوں کے خلاف سخت کارروائی کرے، تاکہ عوام کو گمراہ کرنے والے جھوٹے بیانات اور اشتعال انگیز مواد کو روکا جا سکے۔
پی ایم ڈی سی نے چاروں صوبوں میں میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے روک دیئے
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا عمل روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام سندھ اور اسلام آباد کی ہائیکورٹس کے حالیہ احکامات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔پی ایم ڈی سی نے اس سلسلے میں ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ داخلوں کا عمل ہائیکورٹس کے حتمی فیصلے تک موخر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں، پی ایم ڈی سی نے چاروں صوبوں کی میڈیکل کالجز کی مجاز یونیورسٹیز کو مراسلہ ارسال کیا ہے تاکہ وہ داخلوں کی کارروائی بند کر دیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں 21 اکتوبر سے شروع ہونے والے داخلے بھی اس حکم کی زد میں آئیں گے، اور دیگر صوبوں میں بھی ایم بی بی ایس و بی ڈی ایس کے داخلے روک دیئے گئے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں میڈیکل تعلیم کے نظام میں بہتری لانے کے لئے کئی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ہائیکورٹس کی جانب سے دیے گئے احکامات کے بعد، پی ایم ڈی سی نے طلبہ اور والدین کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا ہے تاکہ داخلوں کے عمل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔مستقبل میں داخلوں کے حوالے سے مزید معلومات ہائیکورٹس کے حتمی فیصلے کے بعد فراہم کی جائیں گی۔ طلبہ اور والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ اور متعلقہ یونیورسٹیز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کا بغور جائزہ لیں۔ یہ اقدام نہ صرف طلبہ کی تعلیم پر اثرانداز ہوگا بلکہ میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈالے گا۔ طلبہ کی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے یہ ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، اور انہیں مزید معلومات کا انتظار کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھا سکیں۔
26ویں آئینی ترمیم: حکومت کا مجوزہ مسودہ، اہم ترامیم اور قانونی تبدیلیاں
اسلام آباد: حکومت کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ سامنے آیا ہے، جو عدالتی اور آئینی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ مسودہ 12 صفحات اور 24 نکات پر مشتمل ہے، جس میں آئین میں کئی اہم ترامیم اور نئے قوانین شامل کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ حکومت کا یہ قدم عدالتی اصلاحات اور آئینی اختیارات کے توازن کو بحال کرنے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور جوڈیشل کمیشن کے طریقہ کار میں تبدیلیاں شامل ہیں۔اس مجوزہ ترمیم کا ایک بڑا نکتہ آئینی ڈویژن کا قیام ہے، جسے نیا آرٹیکل 191 اے کے تحت متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق سپریم کورٹ میں ’’آئینی ڈویژن‘‘ بنایا جائے گا، جسے عدالتی نظام میں اہم کردار دیا جائے گا۔ آئینی ڈویژن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ آئینی اپیلوں، صدارتی ریفرنسز، اور سوموٹو نوٹس پر مقدمات کی سماعت کرے۔اس ڈویژن کے تحت سپریم کورٹ کا کوئی جج براہ راست اوریجنل اختیار سماعت یا سوموٹو مقدمات کی سماعت نہیں کرے گا۔ آئینی مقدمات میں تین رکنی بینچ آئینی ڈویژن میں سماعت کرے گا، جس میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔ آئینی اپیلوں اور صدارتی ریفرنسز کی سماعت بھی تین رکنی بینچ کرے گا، جس سے عدالتی عمل میں شفافیت اور زیادہ مستعدی کی توقع کی جا رہی ہے۔
مجوزہ مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کا تعین جوڈیشل کمیشن کرے گا، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام صوبوں کو ججز کی تقرری میں مساوی نمائندگی ملے۔ یہ قدم اس لیے تجویز کیا گیا ہے تاکہ عدالتی اداروں میں تمام صوبوں کی شراکت داری اور انصاف کی فراہمی میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ایک اور بڑی تجویز آرٹیکل 179 میں ترمیم کے تحت پیش کی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس کی مدت کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک محدود کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس اگرچہ 65 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے بھی ریٹائر ہو سکتے ہیں۔ اس ترمیم کا مقصد عدالتی نظام میں نئے افراد کی شمولیت کو یقینی بنانا اور زیادہ متحرک عدالتی قیادت کو سامنے لانا ہے۔آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے سوموٹو اختیارات کو محدود کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ سوموٹو نوٹس یا اوریجنل جورسڈکشن کے مقدمات کی سماعت صرف آئینی ڈویژن کا تین رکنی بینچ کر سکے گا۔ اس ترمیم کا مقصد سپریم کورٹ کے سوموٹو اختیار کو ایک منظم اور واضح دائرہ کار میں رکھنا ہے، تاکہ یہ اختیار بے جا استعمال سے بچ سکے۔
مجوزہ ترمیم میں آرٹیکل 243 میں نئی شق 5 شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور سروسز چیفس کی دوبارہ تقرری اور توسیع کو آئینی تحفظ دیا جائے گا۔ ان قوانین میں ترمیم کے بغیر رد و بدل ممکن نہیں ہوگا، اور اس مقصد کے لیے آئین میں ایک نیا آٹھواں شیڈول بھی شامل کیا جائے گا۔جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے بھی کئی اہم ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کے تحت کمیشن کے موجودہ اراکین برقرار رکھے جائیں گے، جبکہ اس میں 4 پارلیمنٹیرینز کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیشن کے ایک تہائی اراکین کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ چیئرپرسن کو اجلاس بلانے کی درخواست کر سکیں، اور چیئرپرسن کو 15 دن کے اندر اجلاس بلانے کا پابند بنایا جائے گا۔ اگر چیئرپرسن اجلاس نہ بلائے تو سیکریٹری کو 7 دن کے اندر اجلاس بلانے کا اختیار ہوگا۔آرٹیکل 63 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق دہری شہریت کے حامل افراد انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے، تاہم انہیں منتخب ہونے کے 90 دن کے اندر اپنی غیر ملکی شہریت ترک کرنا ہوگی۔ اسی طرح آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کے تحت منحرف رکن کا ووٹ بھی شمار کیا جائے گا، جس سے پارٹی وفاداری سے انحراف کرنے والے ارکان کے حقوق کو تقویت ملے گی۔
مجوزہ آئینی ترمیم میں ایک نیا آرٹیکل 9 اے متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت صحت مندانہ اور پائیدار ماحول کو ایک بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک اہم پیشرفت ہے جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کو آئینی حیثیت دینا ہے، تاکہ مستقبل میں ماحولیات کے حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔مجوزہ مسودے کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو مدت مکمل ہونے کے بعد نئی تقرری تک 90 دن تک اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا حق دیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی دوبارہ تقرری بھی ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 111 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت صوبائی مشیروں کو اسمبلی میں خطاب کا حق دیا جائے گا۔آرٹیکل 186 اے میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ مقدمہ یا اپیل کسی دوسری ہائی کورٹ کو منتقل کر سکے، اور خود کو بھی منتقل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اس سے سپریم کورٹ کو زیر سماعت مقدمات میں زیادہ لچک اور آزادی ملے گی۔آرٹیکل 209 میں ترمیم کے تحت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سینئر ترین جج کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ ججز کو ہٹانے کی وجوہات میں ناقص کارکردگی کو بھی شامل کیا گیا ہے، اور اس کے لیے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائے گا۔
حکومت کی طرف سے پیش کی گئی یہ آئینی ترمیم ملکی عدالتی اور آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اس مجوزہ ترمیم پر سیاسی اور عدالتی حلقوں میں بحث اور تنقید جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس ترمیم سے عدالتوں کے اختیارات میں توازن پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ ترمیم کس طرح سے نافذ ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد کس حد تک شفاف اور مؤثر ہوگا۔حکومت کا یہ اقدام کئی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ قانونی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے درمیان اس ترمیم کے اثرات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ ترامیم عدالتی نظام میں بہتری لا سکتی ہیں، جبکہ کچھ حلقوں نے ان ترامیم کو عدالتی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔حکومت نے اس مسودے کو جلد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کے بعد اس پر مزید بحث اور فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔









