Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • 26ویں آئینی ترمیم: حکومت کا مجوزہ مسودہ، اہم ترامیم اور قانونی تبدیلیاں

    26ویں آئینی ترمیم: حکومت کا مجوزہ مسودہ، اہم ترامیم اور قانونی تبدیلیاں

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ سامنے آیا ہے، جو عدالتی اور آئینی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ مسودہ 12 صفحات اور 24 نکات پر مشتمل ہے، جس میں آئین میں کئی اہم ترامیم اور نئے قوانین شامل کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ حکومت کا یہ قدم عدالتی اصلاحات اور آئینی اختیارات کے توازن کو بحال کرنے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور جوڈیشل کمیشن کے طریقہ کار میں تبدیلیاں شامل ہیں۔اس مجوزہ ترمیم کا ایک بڑا نکتہ آئینی ڈویژن کا قیام ہے، جسے نیا آرٹیکل 191 اے کے تحت متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق سپریم کورٹ میں ’’آئینی ڈویژن‘‘ بنایا جائے گا، جسے عدالتی نظام میں اہم کردار دیا جائے گا۔ آئینی ڈویژن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ آئینی اپیلوں، صدارتی ریفرنسز، اور سوموٹو نوٹس پر مقدمات کی سماعت کرے۔اس ڈویژن کے تحت سپریم کورٹ کا کوئی جج براہ راست اوریجنل اختیار سماعت یا سوموٹو مقدمات کی سماعت نہیں کرے گا۔ آئینی مقدمات میں تین رکنی بینچ آئینی ڈویژن میں سماعت کرے گا، جس میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔ آئینی اپیلوں اور صدارتی ریفرنسز کی سماعت بھی تین رکنی بینچ کرے گا، جس سے عدالتی عمل میں شفافیت اور زیادہ مستعدی کی توقع کی جا رہی ہے۔
    مجوزہ مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کا تعین جوڈیشل کمیشن کرے گا، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام صوبوں کو ججز کی تقرری میں مساوی نمائندگی ملے۔ یہ قدم اس لیے تجویز کیا گیا ہے تاکہ عدالتی اداروں میں تمام صوبوں کی شراکت داری اور انصاف کی فراہمی میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ایک اور بڑی تجویز آرٹیکل 179 میں ترمیم کے تحت پیش کی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس کی مدت کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک محدود کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس اگرچہ 65 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے بھی ریٹائر ہو سکتے ہیں۔ اس ترمیم کا مقصد عدالتی نظام میں نئے افراد کی شمولیت کو یقینی بنانا اور زیادہ متحرک عدالتی قیادت کو سامنے لانا ہے۔آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے سوموٹو اختیارات کو محدود کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ سوموٹو نوٹس یا اوریجنل جورسڈکشن کے مقدمات کی سماعت صرف آئینی ڈویژن کا تین رکنی بینچ کر سکے گا۔ اس ترمیم کا مقصد سپریم کورٹ کے سوموٹو اختیار کو ایک منظم اور واضح دائرہ کار میں رکھنا ہے، تاکہ یہ اختیار بے جا استعمال سے بچ سکے۔
    مجوزہ ترمیم میں آرٹیکل 243 میں نئی شق 5 شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور سروسز چیفس کی دوبارہ تقرری اور توسیع کو آئینی تحفظ دیا جائے گا۔ ان قوانین میں ترمیم کے بغیر رد و بدل ممکن نہیں ہوگا، اور اس مقصد کے لیے آئین میں ایک نیا آٹھواں شیڈول بھی شامل کیا جائے گا۔جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے بھی کئی اہم ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کے تحت کمیشن کے موجودہ اراکین برقرار رکھے جائیں گے، جبکہ اس میں 4 پارلیمنٹیرینز کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیشن کے ایک تہائی اراکین کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ چیئرپرسن کو اجلاس بلانے کی درخواست کر سکیں، اور چیئرپرسن کو 15 دن کے اندر اجلاس بلانے کا پابند بنایا جائے گا۔ اگر چیئرپرسن اجلاس نہ بلائے تو سیکریٹری کو 7 دن کے اندر اجلاس بلانے کا اختیار ہوگا۔آرٹیکل 63 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق دہری شہریت کے حامل افراد انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے، تاہم انہیں منتخب ہونے کے 90 دن کے اندر اپنی غیر ملکی شہریت ترک کرنا ہوگی۔ اسی طرح آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کے تحت منحرف رکن کا ووٹ بھی شمار کیا جائے گا، جس سے پارٹی وفاداری سے انحراف کرنے والے ارکان کے حقوق کو تقویت ملے گی۔
    مجوزہ آئینی ترمیم میں ایک نیا آرٹیکل 9 اے متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت صحت مندانہ اور پائیدار ماحول کو ایک بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک اہم پیشرفت ہے جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کو آئینی حیثیت دینا ہے، تاکہ مستقبل میں ماحولیات کے حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔مجوزہ مسودے کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو مدت مکمل ہونے کے بعد نئی تقرری تک 90 دن تک اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا حق دیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی دوبارہ تقرری بھی ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 111 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت صوبائی مشیروں کو اسمبلی میں خطاب کا حق دیا جائے گا۔آرٹیکل 186 اے میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ مقدمہ یا اپیل کسی دوسری ہائی کورٹ کو منتقل کر سکے، اور خود کو بھی منتقل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اس سے سپریم کورٹ کو زیر سماعت مقدمات میں زیادہ لچک اور آزادی ملے گی۔آرٹیکل 209 میں ترمیم کے تحت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سینئر ترین جج کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ ججز کو ہٹانے کی وجوہات میں ناقص کارکردگی کو بھی شامل کیا گیا ہے، اور اس کے لیے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائے گا۔
    حکومت کی طرف سے پیش کی گئی یہ آئینی ترمیم ملکی عدالتی اور آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اس مجوزہ ترمیم پر سیاسی اور عدالتی حلقوں میں بحث اور تنقید جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس ترمیم سے عدالتوں کے اختیارات میں توازن پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ ترمیم کس طرح سے نافذ ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد کس حد تک شفاف اور مؤثر ہوگا۔حکومت کا یہ اقدام کئی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ قانونی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے درمیان اس ترمیم کے اثرات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ ترامیم عدالتی نظام میں بہتری لا سکتی ہیں، جبکہ کچھ حلقوں نے ان ترامیم کو عدالتی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔حکومت نے اس مسودے کو جلد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کے بعد اس پر مزید بحث اور فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • لاہور: طالبہ سے زیادتی کی من گھڑت خبر پھیلانے والا ملزم فیصل شہزاد رہا

    لاہور: طالبہ سے زیادتی کی من گھڑت خبر پھیلانے والا ملزم فیصل شہزاد رہا

    لاہور میں ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے نجی کالج کی طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی من گھڑت خبر پھیلانے کے الزام میں گرفتار ملزم فیصل شہزاد کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ فیصل شہزاد کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ایف آئی اے نے ملزم کا 14 روزہ ریمانڈ طلب کیا، جو عدالت نے مسترد کر دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے اکاؤنٹ سے 13 ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، تاہم پراسیکیوشن کے پاس ان ویڈیوز کے فرانزک تجزیے کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر فیصل شہزاد کسی دیگر مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے رہا کیا جائے۔چند روز قبل سوشل میڈیا پر لاہور کے ایک نجی کالج کی طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی خبر وائرل ہوئی تھی۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پنجاب کالج کے گلبرگ کیمپس میں فرسٹ ایئر کی ایک طالبہ کو کالج کے سیکیورٹی گارڈ نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد طلبہ نے شدید احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں کئی روز تک مظاہرے جاری رہے اور دو درجن کے قریب طلبہ زخمی ہوئے۔احتجاج کرنے والے طلبہ نے الزام لگایا کہ کالج کی انتظامیہ اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور شواہد مٹانے کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
    اس واقعے کی تحقیقات کا حکم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دیا تھا۔ پولیس نے سیکیورٹی گارڈ کو بھی حراست میں لیا تھا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ اگر کسی کے پاس اس واقعے کی کوئی تفصیلات موجود ہیں تو وہ پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ تمام واقعات ایک جھوٹی کہانی کے گرد گھومتے ہیں، جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک سیاسی سازش قرار دیا اور کہا کہ یہ منصوبہ ایک مخصوص جماعت کی جانب سے بار بار انتشار پھیلانے کی کوشش کا حصہ تھا۔مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت اب اس کیس کی مدعی بن گئی ہے اور جو بھی اس معاملے میں ملوث ہوگا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔

  • اتحادی جماعتوں نے آئینی ترمیم کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی حمایت کی یقین دہانی کروا دی

    اتحادی جماعتوں نے آئینی ترمیم کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی حمایت کی یقین دہانی کروا دی

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئینی ترمیم کے معاملے پر حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو آئینی ترمیم کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا جس کی سربراہی اور اراکین کی منظوری پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی دے گی۔ اس خصوصی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین شامل ہوں گے، اور اسپیکر بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ چیف جسٹس کی تقرری کا معاملہ بھی آئینی ترمیم کا حصہ ہے، جس کے تحت چیف جسٹس کے لیے 3 یا 5 ججز کے ناموں کا پینل وزیراعظم کو بھجوایا جائے گا۔
    اجلاس میں فوجی عدالتوں کے حوالے سے بھی اراکین کو بریفنگ دی گئی، جس میں واضح کیا گیا کہ عام شہریوں کے تمام کیسز فوجی عدالتوں میں نہیں جائیں گے، بلکہ صرف فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے اور خاص طور پر دہشت گردی کے کیسز فوجی عدالتوں کے سپرد ہوں گے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آئینی ترمیم کل ایوان میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، اور ہفتے کے دن ووٹنگ کروانے کا پلان بنایا گیا ہے۔ آئینی ترمیم کے معاملے پر اتحادیوں نے وزیراعظم کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس صبح 11 بجے ہوگا۔

  • سپریم کورٹ نے 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف درخواست خارج کر دی

    سپریم کورٹ نے 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف درخواست خارج کر دی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے مجوزہ 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر درخواست کو واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیا۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران، درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف دائر درخواست واپس لی جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا اور کہا کہ "آپ کی خدمات صرف درخواست واپس لینے کے لیے لی گئی ہیں، جبکہ یہ درخواست چھ وکلاء نے دائر کی تھی، جو خود بھی کہہ سکتے تھے کہ وہ واپس لینا چاہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی خدمات باضابطہ طور پر لی گئی ہوں گی۔چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ "آپ صرف اعتراضات کے خلاف اپیل واپس لے رہے ہیں یا اصل درخواست بھی؟” جس پر وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ وہ درخواست اور اعتراضات کے خلاف اپیل دونوں واپس لے رہے ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف درخواست کو واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیا۔
    دوران سماعت، چیف جسٹس نے عابد زبیری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کی ایک اور درخواست بھی تھی، مگر میں نے اسے سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے کہ اب وہ درخواست بعد میں لگے۔” اس پر ایڈووکیٹ حامد خان نے ان کی مہربانی کا شکریہ ادا کیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عابد زبیری سمیت پاکستان بار کونسل کے چھ ممبران نے مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف درخواست دائر کی تھی، جب کہ بلوچستان بار کونسل کی جانب سے بھی اس معاملے پر درخواست دائر کی گئی تھی۔
    یہ آئینی ترامیم مختلف قانونی اصلاحات کا حصہ ہیں، جو کہ ملک کی قانونی اور سیاسی نظام میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد مختلف قانونی نظاموں کو بہتر بنانا اور عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ تاہم، ان کے خلاف قانونی چیلنجز نے عوامی بحث و مباحثہ کو بھی جنم دیا ہے، جو آئینی ترامیم کی ضرورت اور افادیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔آئینی ترامیم کے بارے میں مزید معلومات اور ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں آگاہی ضروری ہے تاکہ عوام اور وکلاء برادری اس معاملے کی درست تفہیم حاصل کر سکیں۔

  • قومی اسمبلی میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی کامیابی پر قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی کامیابی پر قرارداد منظور

    اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی دو روزہ سمٹ کے کامیاب انعقاد پر قومی اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے اس قرارداد کی پیشکش کی، جسے تمام اراکین نے سراہا۔عطا تارڑ نے قرارداد کا متن پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان صدر، وزیراعظم، نائب وزیراعظم، اور اسپیکر قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔ ایس سی او سمٹ کے کامیاب انعقاد سے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے آیا ہے، اور اس سمٹ کے ذریعے پاکستان کی تجارت کو فروغ ملے گا۔ 27 سال بعد پاکستان میں ایک بڑا ایونٹ منعقد ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایوان سمجھتا ہے کہ ایس سی او سمٹ سے پاکستان میں امن کی بحالی ہوگی۔ یہ ایوان ایس سی او کے خطے میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی، اور سلامتی کے مسائل پر اس کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔ عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ "یہ ایوان سمجھتا ہے کہ پاکستان خطے کا اہم اور متحرک ملک ہے، اور ایس سی او کانفرنس میں خطے کے مسائل پر پاکستان کا مضبوط مؤقف پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر حکومت، وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت اطلاعات، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پولیس، رینجرز، اور پاک فوج کے کردار کو بھی سراہا۔
    قرارداد کے متن میں یہ بھی شامل تھا کہ "یہ ایوان ایس سی او کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد کی سجاوٹ، مہمانوں کا خیرمقدم کرنے، اور پاکستان کا نام بلند کرنے کے لیے کیے گئے تمام حکومتی اقدامات کو سراہتا ہے۔” انہوں نے جن اداروں اور افسران نے کانفرنس کے دوران اپنے فرائض سرانجام دیے، انہیں قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا۔عطا تارڑ نے اس موقع پر اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایک سیاسی جماعت نے طلباء کے ذریعے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی، اور عوام کے سامنے یہ تمام حقائق رکھ دیے ہیں۔ ہتک عزت قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پی ٹی آئی نے کبھی برداشت نہیں دکھائی، اور ان کی تقریروں میں اسرائیلی مظالم کا ذکر کبھی نہیں ملتا۔عطا تارڑ نے کہا کہ "پی ٹی آئی نے فلسطین پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا اور ایس سی او کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی گئی۔
    وفاقی وزیر نے کہا کہ "پیپلز پارٹی کے ساتھ ہماری تلخی اور سیاسی اختلاف کی ایک تاریخ ہے، لیکن محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر سب سے پہلے نواز شریف ہسپتال پہنچے۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی کے لیڈر نے سیاسی مخالفت کو دشمنی میں بدلا۔ نواز شریف نے ہمیشہ رواداری کی سیاست کو فروغ دیا۔یہ واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا یہ اجلاس انتہائی سخت سیکیورٹی میں منعقد ہوا، جس کے دوران حکومت نے شرکاء کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے 23ویں اجلاس کی میزبانی پاکستان نے کی، جبکہ آئندہ سال یہ اجلاس روس میں ہوگا۔یہ قرارداد نہ صرف پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ اس کا مقصد خطے میں امن اور ترقی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی اجاگر کرنا ہے۔

  • آئینی ترمیم پر مشاورت جاری، حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے، خالد مقبول صدیقی

    آئینی ترمیم پر مشاورت جاری، حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے، خالد مقبول صدیقی

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ، خالد مقبول صدیقی، نے آئینی ترمیم کے حوالے سے جاری مشاورت اور بات چیت کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترمیم کی نوک پلک درست کرنے کے بعد ہی یہ مسودہ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ خالد مقبول صدیقی نے ایک خصوصی گفتگو میں پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت تو موجود ہے، لیکن ابھی بھی حقیقی جمہوریت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
    اس بات چیت کے دوران ایک اہم سوال یہ بھی اٹھا کہ کیا آئینی عدالت بن رہی ہے یا آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا؟ اس کے جواب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ "بات اس سے تھوڑی سی مختلف ہو رہی ہے، دونوں چیزوں سے بیچ کی کوئی چیز ہو رہی ہے، اسی کو فائنل کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "بیچ کی چیز” سے مراد ایسی ترامیم ہیں جو عدالت کے لیے قابل قبول ہوں گی اور ان کے بہت سے فیصلوں کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال میں بھی شفافیت پیدا کریں گی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی ترمیمات کی ضرورت ہے تاکہ قانونی نظام میں بہتر تبدیلیاں لائی جا سکیں اور عدالتیں بھی ان ترامیم سے مطمئن ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے نہ صرف عدالتی نظام میں بہتری آئے گی بلکہ ملک کی سیاسی صورت حال میں بھی مثبت تبدیلیاں ہوں گی۔
    خالد مقبول صدیقی کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں آئینی اصلاحات کے لیے سنجیدگی سے غور و خوض کیا جا رہا ہے اور اس عمل میں ایم کیو ایم کا کردار بھی اہم ہے۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان میں سیاسی استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، جو ملک کی جمہوری روایات کو مزید مستحکم کر سکتی ہیں۔

  • تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم پر اظہار تشویش

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم پر اظہار تشویش

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو نہایت حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عارضی مسئلہ نہیں ہے جو چند برسوں یا مہینوں کے لیے ہو۔اسد قیصر نے کہا کہ کمیٹی میں جو ڈرافٹ پیش کیا جا رہا ہے، اس کے پیچھے کچھ اور محرکات ہیں جن پر ہمیں تشویش ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آئینی ترمیم اس طرح کی جاتی ہے؟ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پارلیمنٹ میں اراکین پر حملے ہوئے ہیں، لیکن کیا اس کے اثرات کسی پر مرتب ہوئے ہیں؟
    انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمارے پارلیمنٹیرینز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اور انہیں لالچ دیا جا رہا ہے۔ یہ ظلم، ان کے بقول، ایک بہت ظالمانہ اقدام ہے۔ اسد قیصر نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کو قرارداد پاس کرنی چاہیے اور انہوں نے خیبرپختونخوا ہاؤس پر ہونے والے حملے کو غیر قانونی قرار دیا۔اسد قیصر نے کہا کہ کل پورے ملک میں پُرامن احتجاج کی کال دی گئی ہے، جس میں عوام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئینی ترمیم کے لیے زور زبردستی کو بند کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو 60 لوگ اغوا کیے گئے ہیں، انہیں فوری طور پر چھوڑا جائے۔اسد قیصر کی یہ بیانات اس وقت سامنے آئی ہیں جب ملک میں سیاسی صورتحال کشیدہ ہے، اور تحریک انصاف کی قیادت اپنے اراکین کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ اسد قیصر کے اس عزم نے قومی اسمبلی میں ایک نئے بحث کا آغاز کر دیا ہے جس میں آئینی ترمیم کے طریقہ کار اور سیاسی رویوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • نیپرا نے سینٹرل پاور جنریشن کمپنی پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کردیا

    نیپرا نے سینٹرل پاور جنریشن کمپنی پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کردیا

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سینٹرل پاور جنریشن کمپنی (CPGC) پر قواعد کی خلاف ورزی پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ نیپرا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ جرمانہ مخصوص قواعد کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے عائد کیا گیا ہے۔نیپرا کے مطابق، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی نے اینگرو فرٹیلائزر سے فری آف کاسٹ گیس بوسٹر کمپریسر اسٹیشن حاصل کیا، جو کہ 1.24 ارب روپے کی لاگت میں ناردرن پاور جنریشن کمپنی کو منتقل کیا گیا۔ نیپرا نے اس خرید و فروخت کے عمل کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کے باعث کمپنی کو یہ سخت سزا دی گئی ہے۔
    نیپرا کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کے سی ای او کو اس فیصلے کی ایک کاپی فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ عملدرآمد کے حوالے سے ضروری اقدامات کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی نیپرا نے کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر اندر نیپرا کے نامزد کردہ بینک میں جرمانہ ادا کرے۔یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ نیپرا بجلی کی پیداوار اور تقسیم میں شفافیت اور قواعد کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے نیپرا نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بجلی کی صنعت میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا قواعد کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی۔ یہ صورتحال نہ صرف سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کے لیے بلکہ پاکستان کی توانائی کی صنعت کے لیے بھی اہم ہے، جہاں شفافیت اور قواعد کی پاسداری کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ نیپرا کے اس اقدام سے دیگر کمپنیوں کو بھی ایک سبق ملتا ہے کہ وہ اپنے کاروباری معاملات میں مکمل شفافیت کو برقرار رکھیں۔

  • 18 اکتوبر کا جلسہ تاریخ رقم کرے گا،شرجیل میمن

    18 اکتوبر کا جلسہ تاریخ رقم کرے گا،شرجیل میمن

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں ووٹ اور نمبروں کی اہمیت اپنی جگہ، مگر اس معاملے پر باہمی اتفاق رائے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ایک گلدستہ کی طرح ہے، اور اس لیے قانون سازی کرتے وقت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ وہ گورنر خیبر پختونخوا، فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے لیے حاضر ہوئے ہیں اور انہوں نے 18 اکتوبر کے متوقع جلسے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ ماضی کے تمام جلسوں کا ریکارڈ توڑ دے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل کے جلسے میں پارٹی کا آگے کا لائحہ عمل بیان کریں گے اور وہ تمام پارٹی رہنماؤں کو ساتھ ملا کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ حکومت غریبوں کے لیے ہاؤسنگ پروجیکٹ تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ہاری کارڈ متعارف کرانے کا ذکر کیا، جس پر 20 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، اور اس کا مقصد کسانوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس کے دوران صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عصر کے بعد سڑکوں پر نکلتے ہیں اور پولیس اسٹیشن بند ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے صوبے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ہمیں چیف منسٹر ہاؤس کے پی کے میں جانا پڑا ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں لوگ مولانا فضل الرحمان کی "مس کال” کا انتظار کر رہے ہیں، اور مولانا اب ان سے چن چن کر بدلے لے رہے ہیں۔ انہوں نے 18 ویں ترمیم کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ یہ سادہ اکثریت کے ذریعے پاس نہیں ہوئی تھی، بلکہ پی پی پی نے اس کے لیے بہت محنت کی ہے، اور وہ اسی طرح کی مزید اصلاحات کی کوشش کریں گے۔ پریس کانفرنس کا مقصد 18 اکتوبر کے جلسے کی تیاریوں اور صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالنا تھا، جس میں پی پی پی کی قیادت کا عزم اور عوامی خدمت کے منصوبوں کی تفصیلات شامل تھیں۔

  • الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں کے حوالے سے اہم اجلاس بے نتیجہ ختم

    الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں کے حوالے سے اہم اجلاس بے نتیجہ ختم

    اسلام آباد (محمد اویس)الیکشن کمیشن آف پاکستان مخصوص نشستوں کے حوالے سے ایک اور اجلاس بے نتیجہ ختم کل آخری اجلاس ہوگا جس کے بعد کمیشن فیصلہ دے گا ،مخصوس نشتیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کو دیں یا قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے بل کے بعد سپیکرز قومی وصوبائی اسمبلی کے خط کے مطابق واپس ان جماعتوں کو دی جائیں جن کے ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے الیکشن کمشین میں ایک طویل ترین اجلاس بغیر نتیجے ختم ہوگیا،کل اس معاملے پر آخری اجلاس کیا جائے گا جس کے بعد کمیشن اپنا فیصلہ جاری کرئے گا ۔ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے خطوط پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کمشین کا اجلاس ہوا اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہی کل بھی اس حوالے سے اجلاس ہوگا اجلاس کے دوران قانونی ٹیم نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے اور سپیکرز کے خطوط ہر تفصیلی بریفنگ دی ذرائع کے مطابق کل بروز جمعہ مخصوص نشستوں پر آخری اجلاس ہوگا جس جس کے بعد کمشین اپنا فیصلہ جاری کرئے گا ۔