Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ایم کیو ایم کی  آئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کے فیصلے میں تاخیر

    ایم کیو ایم کی آئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کے فیصلے میں تاخیر

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے مجوزہ آئینی ترامیم کی حمایت یا مخالفت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک عشائیے میں، جس کا اہتمام گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کیا تھا، ایم کیو ایم کے اراکین نے اپنی تحفظات کا اظہار کیا۔ عشائیے میں ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیمی پیکج سے شہری سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد کے عوام کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ عوام کے مسائل کی حل میں بڑی سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی کیوں نظر نہیں آتی۔ اجلاس میں یہ بات واضح ہوئی کہ اراکین اسمبلی اپنے سیاسی فیصلوں میں سندھ کے عوام کی بہتری کو سب سے مقدم رکھیں گے۔ اس کے علاوہ، ایم کیو ایم کی قیادت نے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید ملاقاتوں کے بعد آئینی ترمیمی پیکج کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
    ایم کیو ایم کے اراکین نے کہا کہ سندھ کے عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں اور انہیں سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کو زیادہ ترجیح دے رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔ایم کیو ایم کی قیادت اب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید بات چیت کے بعد آئینی ترمیمی پیکج کے حوالے سے حتمی موقف اختیار کرے گی۔ اراکین اسمبلی کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں صرف سیاسی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم کے اراکین نے واضح کیا کہ وہ عوامی مفادات کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بناتے ہوئے ہی آئینی ترمیمی پیکج پر فیصلہ کریں گے۔ اس صورتحال میں، ایم کیو ایم کی جانب سے آئندہ کی حکمت عملی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری: آئینی ترمیمی بل شامل نہیں

    وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری: آئینی ترمیمی بل شامل نہیں

    وفاقی حکومت نے 17 اکتوبر کو ہونے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا ہے، جس میں آئینی ترمیمی بل شامل نہیں کیا گیا۔ سینیٹ کے اجلاس میں کمیٹی رپورٹس اور متعدد بل منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق، آئینی ترمیمی بل اس میں شامل نہیں ہے۔ اجلاس کے دوران مختلف کمیٹی رپورٹس اور دوسرے بلز پیش کیے جائیں گے، جن کی منظوری کے لیے بحث کی جائے گی۔ اسی طرح، قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں بھی آئینی ترمیمی بل کو شامل نہیں کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، پارلیمانی ذرائع نے بتایا ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے ہونے کے بعد سپلیمنٹری ایجنڈا جاری کیا جائے گا۔ حکومت نے عدالتی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے درمیان ترمیمی مسودے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔
    دوسری جانب، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سینیئر سیاسی قیادت سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن بھی آئینی ترمیم کے معاملے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ادھر پاکستان تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے 18 اکتوبر کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اس کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

  • پاکستان: ساڑھے 5 کروڑ شہریوں کا موبائل ڈیٹا "اسکائی نیٹ” کی نگرانی میں

    پاکستان: ساڑھے 5 کروڑ شہریوں کا موبائل ڈیٹا "اسکائی نیٹ” کی نگرانی میں

    ایک نئی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے ساڑھے 5 کروڑ شہریوں کا موبائل ڈیٹا محفوظ نہیں ہے، اور یہ نظام کی نگرانی کا شکار ہے۔ اس کا انکشاف اسرائیل کے معروف عسکری تاریخ دان اور مصنف یووال نووا ہاراری کی نئی کتاب "Nexus” میں کیا گیا ہے۔ ہاراری کے مطابق، "اسکائی نیٹ” نامی مصنوعی ذہانت کا سسٹم پاکستان کے موبائل فون نیٹ ورک کی بڑے پیمانے پر نگرانی کرتا ہے اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون شخص ممکنہ طور پر دہشت گرد ہو سکتا ہے۔یہ کتاب بتاتی ہے کہ 2014 اور 2015 میں امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) نے اسکائی نیٹ نامی ایک جدید نظام کو متعارف کرایا، جو لوگوں کی آن لائن تحریروں، سفری ریکارڈز، اور سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر "مشتبہ دہشت گردوں” کی فہرست تیار کرتا ہے۔ یہ نظام اس قدر طاقتور ہے کہ یہ بڑی تعداد میں ڈیٹا جمع کرکے ممکنہ خطرات کی شناخت کرتا ہے۔
    امریکہ کی سی آئی اے اور NSA کے ایک سابق ڈائریکٹر کے مطابق، یہ نظام نہ صرف مشتبہ افراد کی شناخت میں استعمال ہوتا ہے بلکہ امریکہ اس معلومات کی بنیاد پر لوگوں کی زندگی کا خاتمہ کرنے میں بھی ملوث ہے۔ اسکائی نیٹ کی نگرانی اور انحصار کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے، کیونکہ یہ نظام ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔سابق امریکی انٹیلیجنس اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے 2013 میں جو معلومات لیک کیں، ان کے مطابق، امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں نے دنیا کی سب سے بڑی سم کارڈ بنانے والی کمپنی کو ہیک کرکے اس کی تمام سمز کا ڈیٹا، خفیہ کوڈز، اور اینکرپشن کیز چوری کیں۔ اس کے نتیجے میں، ان خفیہ ایجنسیوں کو موبائل فونز تک مکمل رسائی حاصل ہو گئی، جو شہریوں کی پرائیویسی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔یہ صورتحال پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہریوں کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کے خدشات کو بڑھاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں احتیاط برتنا ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ عوامی سطح پر اس مسئلے پر مزید آگاہی پیدا کی جائے تاکہ شہری اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے آواز اٹھا سکیں۔

  • جاتی امرا میں آئینی ترمیم پر بڑی بیٹھک، سیاسی رہنماوں کی موجودگی

    جاتی امرا میں آئینی ترمیم پر بڑی بیٹھک، سیاسی رہنماوں کی موجودگی

    جاتی امرا میں آج رات 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور کے لیے ایک اہم عشائیے کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ اس عشائیے میں ملکی سیاسی قیادت کے اہم افراد شامل ہوئے، جن میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شامل ہیں۔عشائیے کا مقصد پی پی اور جے یو آئی کے درمیان متفقہ آئینی مسودے پر حتمی اتفاق رائے قائم کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، گورنر پنجاب سلیم حیدر، اور دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے۔
    ذرائع نے بتایا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے پر حتمی مشاورت کے دوران تین بڑی جماعتوں کے درمیان مشترکہ مسودے پر اتفاق رائے کا امکان ہے۔ یہ اہم بیٹھک بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان کراچی میں اتفاق رائے کے بعد لاہور میں منعقد کی گئی ہے۔پی پی وفد میں سید نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب شامل ہیں، جبکہ جے یو آئی وفد میں اسعد محمود، سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، اسلم غوری اور دیگر رہنما شامل ہوں گے۔ ن لیگ کی جانب سے نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور پارٹی کے سینئر رہنما بھی موجود تھے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے بعد اہم سیاسی بیٹھک میں شرکت کے لیے جاتی عمرہ پہنچ گئے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مشترکہ مسودے کو 18 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق رائے ہونے کے بعد نواز شریف کو بھی آن بورڈ لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس ملاقات سے قبل، دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ ملک کی سیاسی صورت حال میں بہتری لائی جا سکے۔یہ عشائیہ ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بڑی جماعتیں مل کر آئینی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • جے یو آئی کا آئینی مسودہ بہتر، وفاق میں آئینی بینچ ضروری: سلمان اکرم

    جے یو آئی کا آئینی مسودہ بہتر، وفاق میں آئینی بینچ ضروری: سلمان اکرم

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے پیش کردہ آئینی ترمیم کا مسودہ بہت بہتر ہے، جس کے ذریعے آئینی اصلاحات کی گفتگو آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔اپنے بیان میں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر جے یو آئی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت کی وجہ سے ممکن ہے کہ ان کی جماعت کی کوششوں کے باوجود اتنی بربادی نہ ہو جتنی کہ ممکنہ طور پر پیش آ سکتی تھی۔ "مولانا کا مسودہ بہتر ہے،سلمان اکرم راجہ نے مزید وضاحت کی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ آئینی بینچ میں پانچ سینئر ججز شامل کیے جائیں تاکہ آئین کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا، "ہم پوری کوشش کریں گے کہ آئین پر حملہ نہ ہوسکے۔پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ ان کی حریف جماعتیں نئی عدالتیں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ان کے من پسند ججز تعینات کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ مقصد "چارٹر آف ڈیموکریسی” کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔
    سلمان اکرم راجہ نے ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) کانفرنس کے انعقاد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی باری تھی کہ یہ کانفرنس منعقد ہو، جو کہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ جب کشمیر کو نظر انداز کیا گیا تو اچھی گفتگو کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔پروگرام میں شریک بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آج ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے، جس میں حتمی فیصلے کیے جائیں گے اور تجاویز سے متعلق معاملات حل ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان آئینی بینچ کے قیام پر بات کر رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے صوبوں میں آئینی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے یہ بھی کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ وفاق میں آئینی عدالت ہو اور صوبوں کی سطح پر بھی آئینی بینچز موجود ہوں۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ صوبوں کی سطح تک آئینی بینچز کے قیام کے حوالے سے تقریباً سب جماعتیں راضی ہیں، مگر وفاقی سطح پر بھی آئینی عدالتیں ہونی چاہئیں۔

  • وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا جلوزئی دورہ: نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم اور سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا جلوزئی دورہ: نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم اور سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے نوشہرہ کے علاقے جلوزئی کا دورہ کیا اور نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت ایک اہم کم لاگت ہاؤسنگ سکیم کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کا مقصد صوبے میں کم آمدنی والے افراد کو معیاری رہائش فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ 150 کنال رقبے پر محیط ہے اور اس پر کل لاگت کا تخمینہ 3300 ملین روپے لگایا گیا ہے۔ اس سکیم کے تحت 1320 کم لاگت اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے، جن میں ہر اپارٹمنٹ کا کورڈ ایریا 780 مربع فٹ ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ذرائع نے بتایا کہ اس سکیم سے وہ افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے کم ہے۔ مزید برآں، ہر اپارٹمنٹ پر وفاقی حکومت کی جانب سے 3 لاکھ روپے جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے 4 لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی ہے تاکہ کم آمدنی والے افراد اس سکیم سے مستفید ہو سکیں۔
    وزیر اعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے، اور یہ کم لاگت ہاؤسنگ سکیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے نہ صرف رہائش کے مسائل حل کریں گے بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے جلوزئی ہاؤسنگ سکیم میں سپورٹس کمپلیکس کے منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھا، جس پر 17 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ سپورٹس کمپلیکس میں سکواش کورٹ، فٹ سال گراؤنڈ، مصنوعی ٹینس اور باسکٹ بال کورٹس شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ، 500 میٹر طویل جاگنگ ٹریک بھی اس کمپلیکس کا حصہ ہے۔ کھیلوں کے شوقین افراد کے لیے 8 کنال رقبہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ سینٹرل پارک کا کل رقبہ 42 کنال ہے جو کہ عوام کو تفریحی سہولتیں فراہم کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کمپلیکس کا قیام نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے اور ان کے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔جلوزئی میں اس قسم کے منصوبوں سے نہ صرف مقامی آبادی مستفید ہو گی بلکہ یہ صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک ماڈل ثابت ہوں گے۔

  • آئینی ترمیم جمہوریت کی تقویت اور قیدیوں کی مشکلات کے حل کے لیے ضروری ہے، عرفان صدیقی

    آئینی ترمیم جمہوریت کی تقویت اور قیدیوں کی مشکلات کے حل کے لیے ضروری ہے، عرفان صدیقی

    اسلام آباد: حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے مجوزہ آئینی ترمیم کے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ترمیم میں شامل کسی بھی شق کی نشاندہی نہیں کر پا رہے جو بنیادی انسانی حقوق، عوامی مفاد، آئین کی روح یا عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہو۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر صدیقی نے واضح کیا کہ یہ ترمیم نہ صرف جمہوریت کی تقویت کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے قیدیوں کی مشکلات بھی کم ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کو وہ مقام ملنا چاہیے جو کسی بھی جمہوری پارلیمانی نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔
    عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ مخالفین کی جانب سے آئینی ترمیم کو صرف دھڑا بند سیاست کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خصوصی کمیٹی کی سات میٹنگز کا ذکر کیا، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بھی سفارش یا تجویز پیش نہیں کی۔ سینیٹر صدیقی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ بعض افراد نہیں چاہتے کہ جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کی مشکلات کم ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم عوامی مفاد میں ہے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔ عرفان صدیقی کے اس بیان کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومتی جماعت آئینی ترمیم کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مایوسی یا مزاحمت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اپنی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو جمہوریت کی تقویت کے لیے ایک اہم قدم سمجھتی ہے۔

  • روسی وزیراعظم ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لئے  اسلام آباد پہنچ گئے ،

    روسی وزیراعظم ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد پہنچ گئے ،

    اسلام آباد: روسی فیڈریشن کے ڈپٹی وزیراعظم الیکسی اوورچک کے بعد، روس کے وزیراعظم میخائل ولادیمیرووچ مشہوسٹن بھی ایک بڑے وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ اہم سمجھے جانے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت اجلاس کے حوالے سے ہے، جہاں روسی وفد کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق، مشہوسٹن کے ہمراہ آنے والا وفد دو حصوں میں پاکستان پہنچا ہے، جس میں وزیراعظم، ڈپٹی وزیراعظم، اور دو سے تین دیگر وزراء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، وفد میں 58 سے زائد روسی صحافی بھی شامل ہیں جو اس اہم ملاقاتوں کی کوریج کے لیے موجود ہیں۔
    روسی وزیراعظم کے دورے کا مقصد نہ صرف ایس سی او اجلاس میں شرکت کرنا ہے بلکہ پاکستانی قیادت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ اس موقع پر میخائل مشہوسٹن کی اعلیٰ پاکستانی انتظامیہ سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جس میں باہمی تعاون، تجارت، اور سیکورٹی کے معاملات پر بات چیت ہوگی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس اور چین دونوں ایس سی او کے بانی ممالک ہیں، جنہوں نے مل کر 1996 میں شنگھائی فائیو کی بنیاد رکھی، جو بعد میں شنگھائی تعاون تنظیم کی شکل میں ترقی پذیر ہوئی۔ ایس سی او کا مقصد علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
    میخائل مشہوسٹن کا یہ دورہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی امید ہے۔ اجلاس میں شرکت کے دوران، توقع ہے کہ وہ مختلف اہم مسائل پر بات چیت کریں گے، خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور چیلنجز کے حوالے سے۔یہ دورہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے لئے اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ خطے میں ایک نئے اقتصادی اور سیاسی اتحاد کے قیام کی طرف بھی ایک قدم ہے، جس کی بنیادی حیثیت روس اور چین کے درمیان موجود مضبوط شراکت داری ہے۔

  • عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: صحت مکمل بہتر، نئی ادویات کی ضرورت نہیں

    عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: صحت مکمل بہتر، نئی ادویات کی ضرورت نہیں

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ہونے والے طبی معائنے کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی صحت مکمل طور پر بہتر ہے اور انہیں کسی نئی ادویات کی ضرورت نہیں ہے۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق، عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال کے دو ڈاکٹروں نے کیا، جنہوں نے ان کی صحت کی مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر نارمل ہے، تاہم انہیں گزشتہ پانچ روز سے بدہضمی کی شکایت تھی جس کے لیے وہ ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ مزید برآں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو گزشتہ کچھ ماہ سے ٹنی ٹس بیماری کی شکایت بھی رہی ہے، جس کے لیے وہ مخصوص دوائیں لے رہے ہیں۔

    یہ طبی معائنہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی درخواست پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد عمران خان کی صحت کی حالت کا جائزہ لینا تھا۔ طبی رپورٹ میں ان کی عمومی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ انہیں کسی نئے علاج یا اضافی میڈیکیشن کی ضرورت نہیں ہے۔دوسری جانب، پی ٹی آئی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر 15 اکتوبر کو ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی تھی۔ پارٹی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی جائے تو احتجاج کی کال واپس لے لی جائے گی۔ حکومت نے پی ٹی آئی کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ سرکاری ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ذریعے عمران خان کا معائنہ کرا دے گی۔ پی ٹی آئی نے اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے عوامی تشویش کے مدنظر لیا گیا، جبکہ ان کی صحت کی بحالی کے لئے جاری کوششوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔

  • وفاقی حکومت کا  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان

    وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان

    وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 247 روپے 3 پیسے پر برقرار رکھی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 251 روپے 29 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے نافذ العمل ہوں گی۔حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا یہ فیصلہ ملکی اقتصادی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
    اس کے علاوہ، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی شرح پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، جس کے اثرات عوام پر محسوس کیے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ملک مہنگائی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔شہریوں نے نئی قیمتوں کے حوالے سے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے، کچھ نے اسے ضروری قرار دیا ہے جبکہ دیگر نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت مزید عوامی مفاد میں اقدام اٹھائے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اثر ملک کی معیشت، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔