حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کو مؤخر کرنے کے لیے پارٹی کی شرط مان لی ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ کل صبح کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق، کل صبح پی ایم ایس اسپتال کے ڈاکٹرز اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کی حالت کو درست طور پر جانچا جائے۔ حکومت نے یہ پیشکش اس وقت کی جب تحریک انصاف نے اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے کے لیے کچھ شرائط پیش کی تھیں، جن میں عمران خان کے طبی معائنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اس پیشکش پر پارٹی قیادت کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ پیشکش کے بعد پارٹی کی قیادت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی یا مؤخر کرے گی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا تھا، جس میں عوامی حمایت حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد سیاسی تناؤ کو کم کرنا اور پارٹی کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ پی ٹی آئی کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کا طبی معائنہ بروقت اور مناسب طریقے سے کیا جاتا ہے تو یہ ایک مثبت پیشرفت ہو سکتی ہے۔ پارٹی کی قیادت امید کر رہی ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے سیاسی صورت حال میں کچھ بہتری آئے گی۔اس صورت حال کے پس منظر میں، ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے، اور تحریک انصاف کی قیادت نے احتجاج کے ذریعے عوامی حمایت کو بڑھانے کا ارادہ کیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا حکومت کی یہ پیشکش تحریک انصاف کی جانب سے متوقع احتجاج کو مؤخر کرنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔ یہ پیشرفت ملک کی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے، جس کا اثر آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتا ہے۔
Author: صدف ابرار

حکومت نے تحریک انصاف کی شرط مان لی، عمران خان کا طبی معائنہ کل اڈیالہ جیل میں ہوگا

ایف بی آر کی سیلز ٹیکس فراڈ میں 5 گرفتاریاں
پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس فراڈ کے الزام میں اپنی گرفتاریوں میں تیزی لاتے ہوئے مختلف شہروں سے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کے زیر نگرانی کی گئیں، جن کا مقصد ملک بھر میں سیلز ٹیکس کی چوری اور دھوکہ دہی کے مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شدہ افراد میں سے 4 چیف فنانشل آفیسرز (CFOs) شامل ہیں، جو اربوں روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث ہیں۔ یہ CFOs لاہور اور فیصل آباد سے پکڑے گئے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ جعلی کاروباری چینز قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔
ایف بی آر کے مطابق، یہ گرفتار افراد ایسے گروہ کے اہم رکن ہیں جو جعلی اور ڈمی یونٹس چلا رہے تھے۔ یہ گروہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے ذریعے عوامی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہا تھا، جس کی روک تھام کے لئے ایف بی آر نے اپنے آپریشنز کو مزید فعال کیا ہے۔یہ کارروائیاں ملک بھر میں منظم مافیا کے خلاف جاری ہیں، اور ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے دھوکہ دہی کے واقعات کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ایف بی آر کے حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسے دھوکہ دہی کے کیسز کی نشاندہی کریں اور انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ ملک کے معاشی نظام کو محفوظ بنایا جا سکے۔ایف بی آر کا عزم ہے کہ وہ ملک میں سیلز ٹیکس کے نظام کو شفاف اور موثر بنائے گا اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اسد قیصر کا پی ٹی آئی کی ترقی کے لیے عزم، بانی کی صحت پر تشویش کا اظہار
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ پارٹی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ریاست کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے شریک ممالک کے رہنماوں کی آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف ایس سی او کے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہے اور تمام ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی خواہاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کے پیش نظر احتجاج کی مشروط کال دی ہے۔ اسد قیصر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر کو کم از کم بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، کیونکہ ان کے خیال میں اگر ڈاکٹر بانی سے ملاقات کرتے تو اس میں کوئی بڑی بات نہ ہوتی۔اسد قیصر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے میں دلچسپی لیتی تو یہ ایک مثبت اقدام ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کے وقار اور سلامتی کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہے۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، جس نے پارٹی میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

پی آئی اے کا فضائی میزبان ٹورنٹو میں لاپتہ، تحقیقات کا آغاز
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ایک اور فضائی میزبان، محسن رضا، ٹورنٹو میں مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ پیر کو پیش آیا جب محسن رضا کو کراچی آنے والی پرواز پی کے 784 پر رپورٹ کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق، وہ ہوٹل میں موجود نہیں تھے اور یہ انکشاف پرواز کے لیے رپورٹ نہ کرنے کے بعد ہوا۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کی گمشدگی کا معاملہ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹورنٹو میں کم از کم 12 فضائی میزبانوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جو کہ ایئرلائن کی ساکھ کے لیے تشویشناک ہیں۔ پی آئی اے کے پاسپورٹ جمع کرانے کی پالیسی، جو فضائی میزبانوں کی سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، اس معاملے میں کوئی مثبت نتائج نہیں دے سکی۔
پی آئی اے کے ترجمان نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ قومی ایئرلائن کی انتظامیہ نے محسن رضا کے لاپتہ ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، اگر کسی بھی عملے کے فرد کے خلاف تحقیقات میں کوئی قصور ثابت ہوا تو ایئرلائن قوانین کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، جس میں ملازمت سے برخاستگی بھی شامل ہو سکتی ہے۔یہ واقعہ پی آئی اے کے لیے ایک اور چیلنج ہے، کیونکہ کمپنی کو پہلے ہی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ایئرلائن کے حکام نے اس صورتحال کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی میزبانوں کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے اور ایئرلائن کی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔
حکومتی سطح پر بھی اس معاملے کا نوٹس لیا جا رہا ہے اور پی آئی اے کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں اور عوامی تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس واقعے نے ایئرلائن کے اندرونی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں، اور عوام کی جانب سے بھی اس معاملے میں شفافیت کی توقع کی جا رہی ہے۔ پی آئی اے کے مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایئرلائن اپنی داخلی پالیسیوں کو مضبوط بنائے اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کرے۔
بلوچستان: بی ایل اے کا دکی کی کوئلہ کانوں سے بھتہ وصولی کا انکشاف
بلوچستان کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبد الرحمان کھیتران نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) دکی کی کوئلہ کانوں سے روزانہ 40 لاکھ روپے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات سوموار کے روز بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ حالیہ دنوں میں لورالائی ڈویژن میں دہشت گردی کے واقعات میں 50 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے 50 مرغیاں بھی حلال کردی جائیں تو گاؤں میں کہرام مچ جاتا ہے، لیکن یہاں یومیہ ایک شخص کا قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں حکومتی سنجیدگی کی مثال یہ ہے کہ واقعہ کے بعد صرف ڈی سی اور ڈی پی او کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں گڈ گورننس کی کمی ہے اور بی ایل اے صوبے میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دہشت گرد تنظیم نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ان عناصر کو بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ موسی خیل میں کالعدم تنظیموں کا کیمپ موجود ہے، لیکن اس کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے، بصورت دیگر یہ تنظیمیں خود فیصلے کرنے کی جرات کر سکتی ہیں۔وزیر نے انکشاف کیا کہ دکی کی کوئلہ کانوں سے وصول ہونے والا بھتہ روزانہ 40 لاکھ روپے ہے، جو کہ جناح روڈ پر واقع ایک نجی بینک میں کالعدم تنظیم کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ کے سٹہ نالے کے اطراف اور گائے خان چوک پر بھی کالعدم تنظیم کے کارندے بھتہ وصول کرتے ہیں۔
یہ انکشافات اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کی لہر نے لوگوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کی جانب سے اس طرح کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے، بلکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔
بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے سندھ کے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے امداد کا آغاز
سندھ حکومت نے سبز انقلاب کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے چھوٹے کاشتکاروں کی امداد کے لیے بینظیر ہاری کارڈ کا اجراء کردیا ہے۔ اس منصوبے کا افتتاح چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جب کہ سندھ کابینہ نے 23 ستمبر 2024 کو اس کے اجراء کی منظوری دی تھی۔ہاری کارڈ کا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو مالی مدد فراہم کرنا اور ان کے زراعتی کاروبار کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بینظیر ہاری کارڈ کے لیے 14 لاکھ 4 ہزار 422 چھوٹے کاشتکاروں کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں 72 فیصد کاشتکار ایک سے ساڑھے 12 ایکڑ تک زمین کے مالک ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بینظیر ہاری کارڈ کے تحت رجسٹرڈ کاشتکاروں کو فوری نقد امداد اور نرم شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، معیاری بیجوں، کھاد اور گندم کی سرکاری خریداری میں کارڈ ہولڈرز کو ترجیح دی جائے گی۔ زرعی مشینری، سولر ٹیوب ویلز اور کھیتوں کی صفائی میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ انتہائی چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے زرعی کاروبار کے لیے قرضے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، فصلوں کی انشورنس کا انتظام کیا جائے گا اور قدرتی آفات کی صورت میں ٹارگٹڈ امداد بھی دی جائے گی۔
کاشتکاروں کو مالی امداد کی فراہمی کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 12 ایکڑ والے کاشتکاروں کو ایک سے 2 ہزار روپے فی ایکڑ نقد امداد ملے گی، جبکہ 25 ایکڑ سے زیادہ والی زمین کے مالکان کو 500 سے 1000 روپے فی ایکڑ مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، ہاری کارڈ کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ متعلقہ سطح پر اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ڈویژنل سطح پر ڈویژنل کمشنر کمیٹیوں کے سربراہ ہوں گے۔ وزارتی کمیٹی اس کارڈ کے اجراء کے عمل کی نگرانی کرے گی۔یہ اقدام سندھ حکومت کی جانب سے زراعت کے شعبے کو مستحکم کرنے اور چھوٹے کاشتکاروں کی معیشت کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے، جس سے نہ صرف کاشتکاروں کی مالی حالت میں بہتری آئے گی بلکہ سندھ کے زراعتی نظام کو بھی فروغ ملے گا۔ اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ سندھ کے زراعتی شعبے میں ایک نیا دور شروع ہوگا، جو نہ صرف مقامی بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
بھارت کا کینیڈا سے اپنے ہائی کمشنر اور دیگر سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ
نئی دہلی: بھارت نے حالیہ سفارتی تنازع کے پیش نظر کینیڈا سے اپنے ہائی کمشنر اور دیگر سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کینیڈا نے سکھ علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی تحقیقات میں بھارتی اہلکاروں کے شامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے اس صورتحال کے تناظر میں نئی دہلی میں کینیڈا کے ناظم الامور کو طلب کیا۔ بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ انہیں کینیڈا کی موجودہ حکومت پر بھارتی سفارتکاروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے حوالے سے مکمل اعتماد نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا کہ تمام سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے کہا، "ہمیں کینیڈا کے موجودہ حکام پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ ہمارے سفارتکاروں کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں گے۔ اس لیے ہم نے انہیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔” مزید برآں، بھارت نے ہردیپ نجر کے قتل کے معاملے میں کینیڈا کے فیصلے پر جوابی اقدامات اٹھانے کا حق بھی محفوظ رکھا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جی20 اجلاس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران ہردیپ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹس کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ٹروڈو نے کہا، "ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی ایجنٹ اس واقعے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان بین الاقوامی سطح پر کشیدگی کا باعث بن گیا ہے، خاص طور پر جب کہ کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کی جانب سے بھارت کے خلاف ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ہردیپ سنگھ نجر، جو سکھ علیحدگی پسندوں کے ایک اہم رہنما تھے، کو 18 جون 2023 کو کینیڈا کے ایک گوردوارے کے سامنے قتل کیا گیا تھا۔ ان کے قتل کے بعد کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کے ردعمل کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔
اس واقعے کے بعد بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں عالمی سطح پر بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں بات چیت کی راہیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کی جانب سے بھارتی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہروں اور بھارت کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید نے اس معاملے کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے، اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی نئی لہر متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا یو ٹرن ، عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر مارچ کی دھمکی
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں ضرور شرکت کریں گے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اسلام آباد جانے کی بنیادی وجہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہا، "عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہماری تشویش جائز ہے، اور اسی تشویش کے پیش نظر ہم اسلام آباد جارہے ہیں۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ پورا ہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے مزید وضاحت کی کہ وہ حالیہ جرگے کی مصروفیات کے باعث پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، لیکن وہ پارٹی کے ہر فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "کچھ لوگوں کی جانب سے بیٹھ کر بیانیہ بنایا جاتا ہے، لیکن ہم تمام فیصلے پارٹی قیادت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کریں گے۔علی امین گنڈاپور نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دے کر تحریک انصاف کو احتجاج پر مجبور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ان کی بہن، ڈاکٹرز، یا پارٹی قائدین کی ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر انہیں اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔
قبل ازیں پشاور میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو 15 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ اجلاس میں تحریک انصاف کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سمیت دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے انتظامات اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ اس مقصد کے لیے پارٹی قائدین اور منتخب عوامی نمائندوں کو مختلف ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے اس احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں 15 اکتوبر کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ "اسلام آباد کی حدود میں کسی غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔” وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایس سی او اجلاس کے موقع پر کوئی احتجاج یا لاک ڈاؤن نہیں ہوسکتا، اور اس کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہوتی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم اجلاس کے دوران کسی بھی ممکنہ رکاوٹ یا ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر سخت سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے بعد حکومت کو سکیورٹی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔
فخر زمان کو بابر اعظم سے متعلق بیان پر پی سی بی کا شوکاز نوٹس جاری
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹر فخر زمان کو بابر اعظم کے حوالے سے دیے گئے بیان پر شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فخر زمان کو سلیکشن پالیسی پر سوشل میڈیا کے ذریعے کی جانے والی تنقید کے باعث یہ نوٹس دیا گیا۔ فخر زمان کا یہ عمل بورڈ کے نظم و ضبط کے قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب انگلینڈ کے خلاف دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچوں کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان کیا گیا۔ اس اسکواڈ میں بابر اعظم کو شامل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ باضابطہ طور پر ان کو آرام دینے کا فیصلہ بتایا گیا تھا۔ تاہم، فخر زمان نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک منفی پیغام دینے کا عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم جیسے اہم کھلاڑی کو اسکواڈ سے باہر رکھنا نہ صرف ایک غلط فیصلہ ہے بلکہ یہ ٹیم کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
فخر زمان کے اس بیان پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے فوری نوٹس لیا اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی کہ وہ اپنی اس تنقید کی وضاحت پیش کریں۔ بورڈ کے قوانین کے تحت کھلاڑیوں کو سلیکشن پالیسی یا ٹیم سے متعلق فیصلوں پر عوامی سطح پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو بورڈ کے اصولوں اور ضوابط کی پابندی کرنی چاہیے۔ فخر زمان کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹیم انگلینڈ کے خلاف اہم سیریز کھیلنے جا رہی ہے اور اس قسم کے بیانات ٹیم کے مورال پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ بورڈ اس قسم کے معاملات میں کھلاڑیوں کو خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے رویے کا جائزہ لینے کے لیے مزید کارروائی کا بھی امکان رکھتا ہے۔
اگرچہ فخر زمان کی طرف سے ابھی تک کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیان کو ٹیم کے حق میں قرار دیتے ہیں اور ان کا مقصد بابر اعظم جیسے سینئر کھلاڑی کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ تاہم، پی سی بی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کھلاڑیوں کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے اندرونی ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے نہ کہ عوامی پلیٹ فارمز کا۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ فخر زمان اس شوکاز نوٹس کا جواب کس طرح دیتے ہیں اور کیا وہ اپنی سوشل میڈیا پر کی گئی تنقید پر معذرت کریں گے یا اس پر قائم رہیں گے۔
پنجاب: موسم سرما کے لیے سرکاری سکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے سردیوں کے موسم کے پیش نظر سرکاری اسکولوں کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سردیوں میں اسکول صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلیں گے، جبکہ طلبہ کو چھٹی 2 بج کر 45 منٹ پر ہوا کرے گی۔ جمعہ کے روز اسکول میں چھٹی کا وقت دوپہر 12 بج کر 45 منٹ ہوگا۔دو شفٹوں میں کام کرنے والے اسکولوں کے لیے بھی نئے اوقات کار کا تعین کر دیا گیا ہے۔ پہلی شفٹ کے اسکول روزانہ صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلیں گے اور چھٹی کا وقت 12 بج کر 45 منٹ ہوگا۔ تاہم جمعہ کے روز پہلی شفٹ کے لیے چھٹی کا وقت دوپہر 12 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری شفٹ کا آغاز دوپہر 1 بجے سے ہوگا اور یہ اسکول شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے، جمعہ کے روز دوسری شفٹ دوپہر 2 بجے شروع ہوگی اور شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
اساتذہ کے لیے بھی حاضری کے نئے اوقات کار کا اعلان کیا گیا ہے۔ اساتذہ کو ہر روز صبح 8 بج کر 30 منٹ پر اسکول میں حاضر ہونا ہوگا اور وہ طلبہ کے بعد دوپہر 3 بجے چھٹی کریں گے۔ یہ نئے اوقات کار موسمِ سرما کی تعطیلات تک نافذ العمل رہیں گے، تاکہ طلبہ اور اساتذہ دونوں سرد موسم میں سہولت کے ساتھ اپنے تعلیمی عمل کو جاری رکھ سکیں۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ یہ اقدام سردیوں کے دوران طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر سہولت فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے طلبہ اور اساتذہ دونوں کو شدید سرد موسم میں آسانی میسر آئے گی، جبکہ تعلیمی معیار بھی برقرار رہے گا۔









